Ehde Marasim By Zariya Readelle50063 Last updated: 8 July 2025
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Marasim
By Zariya
وہ آئینے کے سامنے کھڑا اپنے گیلے بالوں میں بالوں میں برش پھیرنے لگا تھا۔ وائٹ شرٹ پر بلیک جینز میں وہ بلا کا پرکشش و ہنڈسم لگ رہا تھا۔ اپنے لمبے چوڑے قد و قامت کی وجہ سے وہ سراپا کوئی شہزادہ لگتا تھا۔ دیکھنے والے اس کی اس پراسرار شخصیت سے امپریس ہوئے بنا نہیں رہ سکتے تھے۔ اس کے بولنے کا طریقہ لوگوں میں اسے ہمیشہ معتبر رکھتا تھا۔ حازم عباس ساری دنیا تم سے امپریس ہو سکتی ہے لیکن ایک وہ پتھر کی مورت شائد کبھی نہیں۔۔۔ یہ پھر شائد وہ تمہاری قسمت میں ہی نہیں ہے۔ محبت بھی کتنی عجیب شئے ہے ہوئی بھی تو کس سے؟؟؟ جس کو میرا نام تک سننا گوارہ نہیں ہے؛؛؛ اس کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ سج گئی تھی۔ وہ اپنا آپ ظاہر و باطن سب پر قابو پاتا گاڑی کی کیز لے کر باہر آیا تھا۔ جہاں اس کی گاڑی پورچ میں کھڑی تھی۔ وہ گاڑی پورچ سے باہر نکال کر اپنے سفر کی اور چل پڑا تھا۔ جہاں سوائے ایک ہستی کے وہاں اس کا کوئی منتطر تھا یہاں تک کی اس کا باپ بھی نہیں۔
♥️♥️♥️
عافیہ موسم تو کافی خراب ہو رہا ہے۔ میرے خیال سے اب ہمیں نکلنا چاہیے۔ وہ کالے گھنے بادلوں کو دیکھ کر پریشان ہو گئی تھی۔ کسی بھی وقت بارش ہونے کا امکان تھا۔ ٹھنڈی تیز ہوائیں چاروں اور سے بہہ رہی تھیں۔ یہاں تک کی ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی شروع ہو چکی تھی۔ ارے کچھ نہیں ہوتا!!! آرام سے چلیں گے کون سا کالج بھاگ رہا ہے؟؟ عافیہ اس کی پریشانی کو خاطر میں لائے بغیر کھانے سے انصاف کرنے لگی تھی۔
وہ بھی مرتی کیا نہ کرتی کے مصداق کھانا کھانے لگی تھی۔ لیکن کہیں نہ کہیں اسے ڈر بھی لگ رہا تھا۔ ویسے تو ڈرنے والوں کی صف میں وہ ہرگز نہیں تھی لیکن بابا جان کو جواب جو دینا پڑتا ۔ کہاں تھی؟؟ اتنی دیر کیوں ہوئی؟؟ یہ چیز اسے پریشان کر رہی تھی۔
حازم کہاں پہنچا ہے یار؟؟؟ میں کب سے تیرا اتظار کر رہا ہوں۔ کہیں راستہ بلاک تو نہیں ہو گیا؟؟ صارم نے دوسری مرتبہ کال گھمائی تھی۔ موسم بگڑتا دیکھ اسے پریشانی ہو رہی تھی۔
نہیں یار بس گاڑی پارک کر رہا ہوں ڈونٹ وری۔۔ وہ ریسٹورنٹ پہنچ کر پارکنگ ائریا میں گاڑی پارک کے کے ریسٹورنٹ کے اندر داخل ہوا تھا۔ تھوڑی سی مشقت کے بعد اسے صارم سامنے ہی بیٹھا دکھ گیا تھا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا صارم کے قریب پہنچا تھا۔ شکر ہے میرے دوست تو پہنچا تو مجھے تو فکر ہو رہی تھی کہں تو راستے میں پھنس نہ گیا ہو۔ دونوں انتہائی طرب سے ملتے ہوئے مصافحہ کر کے قریب رکھی چیر کو ذرا آگے کی اور کھسکا کر بیٹھے تھے۔ نہیں۔ الحمدللہ بس ٹریفک میں پھنس گیا تھا۔ تو سنا کیسا ہے؟؟ وہ گاڑی کی کیز ٹیبل پر رکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوا تھا اور حال و احوال پوچھنے لگا تھا۔ میں تو ٹھیک ہوں تو کیسا ہے؟؟ صارم اس کے سوال کا جواب دیتا اس کی خیر و عافیت دریافت کرنے کرنے لگا تھا۔ اس سوال پر حازم عباس کے چہرہ کا رنگ یکلخت بدل گیا تھا۔ وہ کئی لمحے سکوت کی کیفیت میں رہا بظاہر خود کو نارمل کر پانے کی جد و جہد میں ہلکان ہوئے جا رہا تھا۔ میں بھی ٹھیک ہوں اللہ کا شکر ہے۔۔ اس نے اپنے ہونٹوں پر نرم سی مسکراہٹ سجا کر جواب دے کر صارم کو مطمئن کیا تھا۔ وہ کسی بھی حوالے سے کسی کو بھی کسی بھی قسم کا شک پیدا نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔
دونوں کے درمیان یونہی گفتگو ہوتی رہی اتنے دیر میں ویٹر گرما گرم کافی کا دو مگ ٹیبل پر رکھ گیا تھا۔ باہر بوندا باندی کی جگہ تیز بارش نے لی تھی۔ ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا تھا۔ بجلی کی کڑک و سنسٹاہٹ مہرماہ کے دل کو بری طرح لرزاں رہی تھیں۔ ایسا جب بھی کبھی ہوتا تھا وہ سیدھا آسیہ بیگم کے کمرے میں ان کی گود میں چھپ کر بیٹھ جاتی تھی۔
