Ehde Marasim By Zariya Readelle50063 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
اس نے تو آج تک سنا تھا کہ حاذم ہمیشہ اکیلا رہتا ہے پھر یہ ینگ لیڈی کون تھیں۔ جو سامنے کھڑی ان کی استقبال کے لئے تیار تھیں۔
السلام علیکم بابا آپ آ گئے؛؛؛ میں نے سارے کمرے کی ڈسٹنگ کر دی ہے اور کوئی حکم ہو تو مجھے بتا دیں؟ صغریٰ بی بی کبھی حاذم کو تو کبھی حاذم کے برابر میں کھڑی اس مجسمہ بنی دلہن کو دیکھ رہی تھیں جو خود بھی ہکا بکا سی اپنی آنکھوں میں ڈھیر سارے سوال لئے انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔
بہت شکریہ صغریٰ بی؛؛؛ فلحال تو کوئی کام نہیں ہے؛؛ لیکن ان محترمہ سے پوچھ لیں ہو سکتا ہے انہیں کسی چیز کی ضرورت ہو؛؛؛ حاذم مہرماہ کی ہونق بنے چہرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صغریٰ بی سے کہا تھا۔
حاذم کی بات سن کر مہرماہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ؛؛؛ یہ خاتون ہیں کون؟؟؟ نام سے تو یہ کافی اولڈ لگ رہی تھی لیکن سامنے سے یہ اچھی خاصی ینگ لیڈی تھیں۔ کہیں حاذم نے کسی کو اپنے گھر میں قید تو نہیں کر کے رکھا ہے؟؟ مہرماہ کا دماغ تیزی سے چل رہا تھا وہ خود سے ہی تانے بانے بن کر کسی نہج پر پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی۔
سلام بی بی جی میں صغریٰ ہوں؛؛ اگر آپ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو آپ مجھے لینڈ لائن نمبر سے کال کرئیے گا میں یہیں پاس میں جو نیکسی ہے اسی میں رہتی ہوں۔ میں آپ کو چوبیس گھنٹے میسر رہوں گی۔ صغریٰ بی نے ایک ہی سانس میں اپنی خدمات پیش کیں تھیں؛؛؛ جی نہیں مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے بس مجھے میرا کمرہ دکھا دیں۔ مہرماہ کو اب زیادہ دیر کھڑا رہنا مشکل ہو رہا تھا۔ بھاری بھرکم غرارہ پہن کر وہ اپنی نازک ٹانگوں پر بمشکل کھڑی تھی اس نے فوراً سے کمرے کا پوچھا وہ جلد از جلد جا کر اپنے کپڑے چینج کرنا چاہتی تھی تاکہ اس عذاب سے جان چھوٹے۔
جبکہ حاذم خاموشی سے کھڑا تھا۔
جی بہتر بی بی جی آپ میرے ساتھ آئیے صغریٰ بی اسے ہاتھوں ہاتھ لئے اپنے پیچھے آنے کا بولی تھیں۔ مہرماہ ان کے ساتھ ہو لی؛؛ ہاں البتہ پیچھے پلٹ کر اس نے حاذم کو گھورنا ضروری سمجھا تھا جبکہ حاذم ہونٹوں کو آپس میں بھینچے دونوں ہاتھ جینز کی پاکٹ میں ڈال کر سنجیدگی سے اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
وہ منھ بسورتی غرارے کو سنبھال کر سڑھیاں چڑھ کر اوپر آئی تھی۔ صغریٰ بی اسے ایک نہایت ہی خوبصورت کمرے میں لے کر گئی تھیں۔ کمرہ بلکل صاف ستھرا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ یہاں کسی ذی روح نے کبھی پر نہ مارا ہو۔ کمرے میں قدم رکھتے ہی اسے نہایت خوبصورت خوشبو کا احساس ہوا تھا۔
یہ رہا اپ کا کمرہ؛؛؛ بی بی جی؛؛ اور آپ کا بیگ قادر نے لا کر یہاں پر رکھ دیا ہے؛؛ اس کے علاوہ آپ کو اگر کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو اپ مجھے حکم کر سکتی ہیں میں اس گھر کی ملازمہ ہوں اس لئے میں آپ مجھ سے کچھ بھی مطالبہ کر سکتی ہیں میں امید کرتی ہوں کہ آپ کو کبھی مایوس نہیں کروں گی۔
صغریٰ بی اسے اس کے بیگ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مخاطب ہوئی تھیں۔ آخر وہ وہ ان کے صاحب کی دلہن تھی۔ اس کا خیال رکھنا ان کی زمیداریوں میں سے یہ اولین زمیداری تھی۔ جب کہ وہ ابھی کمرے کا جائزہ لینے میں مصروف تھی۔ کمرہ واقعی بہت خوبصورت تھا جہازی سائز کے بیڈ کے کناروں پر گلدان رکھا ہوا تھا۔ جس میں سفید رنگ کی گلاب رکھے ہوئے تھے۔ شائد یہ خوشبو انہی گلابوں سے آ رہی تھیں۔
کمرے سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو اس کو اپنے حصار میں لے رہیں تھیں۔
بی بی جی؟؟ صغریٰ بی نے اسے ایک بار سے پھر پکارا تھا۔
جی؛؛؛؛ نہیں نہیں مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے فی الوقت میں آرام کرنا چاہتی ہوں۔ مہرماہ صغریٰ بی کی آواز پر جیسے ہوش کی دنیا میں آئی تھی۔
جی بلکل جو حکم؛؛ صغریٰ بی اجازت لے کر وہاں سے چلی گئیں۔
بنتا تو بہت شریف ہے؛؛؛ لیکن اس کو شرم نہیں آتی؟؟ گھر میں جوان عورت ساتھ رہتی ہیں۔ بھئ ملازمہ ہوگی میرے سامنے اپنے لئے نہ جانے کس حیثیت سے رکھتا ہو؟؟ وہ تین میں تیرہ جوڑنے کی کوشش میں ہلکان ہوئے جا رہی تھی۔
غرارے کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر بیڈ کی جانب آئی جہاں پر اس کا بیگ رکھا ہوا تھا۔ اس نے چین کھول کر اس میں سے چند جوڑے کپڑے رکھے تھے جس کو آتے ہوئے آسیہ بیگم نے لازماً طور پر رکھا تھا۔ کیونکہ اسے کپڑوں کی ضرورت تو لازمی ہوتی۔
اس نے بیگ کے اندر سے محض ایک جوڑا باہر نکالا تھا۔ جوڑے کو ہاتھ میں لے کر اس نے واش روم کا رخ کیا واش روم میں داخل ہونے کے بعد اسے اندازہ ہوا تھا کہ یہ واقعی کوئی لکزریز ہاؤس ہے۔ ٹاول سے لے کر نہ جانے کتنے قسم کے اجزاء رکھی تھیں۔
وہ واش بیسن کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی جہاں پر ایک بہت بڑے سائز کا شیشہ سفید وال سے لگا ہوا تھا۔ مہرماہ نے چند ٹشو پیپرز کیبنٹ سے نکال کر ہونٹوں پر لگی لپاسٹک کو صاف کیا رونے سے اس کی آنکھیں سوج گئی تھیں اس نے ٹیشو ڈسٹبن میں ڈال کر ٹیپ آن کیا پانی کے چند چھینٹوں کو منھ پر مارا پانی کی حدت محسوس ہوتے ہی اسے کچھ حد تک اپنے سینے میں جلتی آگ کی جگہ سکون محسوس ہوا۔
اسی طرح اس نے چند چھینٹے مزید مارے اور پاس میں ہی ہینگ کی گئی ٹاول سے چہرے کو سوکھایا؛؛؛ آئینے میں اسے اپنا آپ ایک بے بس اور بہت کمزور لڑکی کا وجود لگ رہا تھا یہ تو وہ مہرماہ تھی ہی نہیں جو اپنی ضد و غصّے کے آگے کسی کی نہیں سنتی تھی۔ اور آج وہی لڑکی اتنی کمزور تھی کہ اس کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ اس کی مرضی کے خلاف کر دیا گیا۔ اسے شدت سے رونا آ رہا تھا۔ وہ بے آواز پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی حتیٰ کہ اسے ہچکیاں آنا شروع ہو گئیں تھیں۔ ایک کے بعد ایک ظلم اسے رہ رہ کر یاد آ رہا تھا۔ وہ سسک سسک کر رو رہی تھی۔ اپنی بے بسی و اپنی بدقسمتی پر؛؛؛ یہ نہ انصافی آخر اس کے ساتھ ہی کیوں؟؟ وہ زمین پر بیٹھ گئی تھی۔ سر کو گھٹنوں پر جھکائے اس رونے میں مزید روانی آئی تھی۔
❣️❣️
حاذم کمرے میں آنے کے بعد پہلے شاور لیا تھا۔ طبیعت پر طاری کسل مندی کسی حد تک کافور ہو چکی تھی۔ لیکن پھر بھی اسے بہت زیادہ گھٹن محسوس ہو رہی تھی یوں لگ رہا تھا کہ زندگی کا یہی آخری مرحلہ ہے؛؛؛ اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس طرح سے ان سب چیزوں کو مینیج کرے گا۔
وہ مہرماہ کو اس حالت میں دیکھ بھی نہیں سکتا تھا۔ اور اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ شاور لینے کے بعد بالکنی کی جانب چلا آیا تھا۔ بالکنی میں اس نے سب سے پہلے ایک سگریٹ جلایا اور اس کو ہونٹوں تلے دبا کر کش لینے لگاسگریٹ کے دھوئیں کو فضا میں اڑایا تھا۔ ٹینشن اس قدر ذہن پر سوار تھی کی ایک سگریٹ سے تو کوئی کام نہیں بنتا؛؛؛ اس نے ایک کے بعد دیگر سگریٹس جلائیں ویسے تو وہ سگریٹ پینے کا عادی نہیں تھا لیکن جب ٹینشنز حد سے زیادہ گزر جائیں تو وہ مجبوراً ایک دو کش لگا ہی لیتا تھا۔
اس وقت بھی اس کے دل پر من و من بوجھ تھے۔ زندگی میں اتنی تیزی سے یہ تبدیلی آئی تھی کہ جس کو وہ ایکسیپٹ کرنے کے لئے ابھی تیار نہیں تھا۔ سگریٹ کو شہادت کی انگلیوں کے بیچ میں رکھ کر وہ گردن آسمان کی جانب اٹھا کر ابھرتے چاند کو دیکھ رہا تھا اس کا دکھ اور درد کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا سوائے اللہ تعالی کے۔ کہنے کو تو اس کی من پسندیدہ عورت اس کے نصیب میں آ چکی تھی؛؛؛ لیکن پھر بھی وہ اس سے کوسوں دور تھی اور اس دوری کو نہ تو وہ مٹا سکتا تھا اور نہ ہی مٹانے کی ہمت رکھتا تھا۔
باتوں باتوں میں خدا کو بتایا میں نے،
مجھ کو اِک شخص ضروری ہے مگر خیر۔
حاذم کو کہیں نہ کہیں یہ سوچ کر پچھتاوا ہو رہا تھا کہ وہ کہیں اس محبت کو لے کر خودغرض تو نہیں ہو گیا ہے مہرماہ کے لئے؛؛؛ لیکن اس کی بھلا کیا غلطی تھی سارا فیصلہ تو عامر صاحب نے کیا تھا۔
سگریٹس کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہا آخر وہ سوچوں کے تنگ گھیراؤ سے تھک ہار کر روم میں پھر سے آ گیا نیند تو آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ایک ہی چھت کے نیچے دونوں کے کمرے الگ الگ تھے بس ایک دیوار کا فاصلہ تھا ورنہ کیا کچھ نہیں تھا۔ مہرماہ کو الگ کمرے میں رکھنے کا فیصلہ بھی حاذم کا ہی تھا ایک کمرے میں رہ کر وہ مہرماہ کو ذہنی اذیت نہیں دینا چاہتا تھا؛؛؛ کیونکہ اس کے علم میں یہ بات اچھی طرح تھی کہ اس کے ساتھ ہونے پر مہرماہ صرف ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتی تھی؛؛؛ خوش کبھی نہیں؛؛؛ اور ابھی کوئی جواز نہیں بنتا تھا کہ وہ دونوں ایک کمرے میں رہیں۔ وہ بیڈ پر لیٹتے ہوئے آنکھ بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگا لیکن نیند تو اس سے روٹھ سی گئی تھی۔
وہ تین دن سے سویا نہیں تھا؛؛ اس کی آنکھیں سرخ لال ہو چکی تھیں جبکہ طبیعت پہ بوجھل پن کافی تھا؛؛ لیکن نیند کا کہیں اتہ پتہ نہیں تھا۔ وہ زبردستی آنکھ بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگا۔
تم تو باغات میں اڑتی ہوئی تتلی کی مثال
میں وہ پرندہ جو تعاقب میں لگا رہتا ہے
#
کافی دیر رونے کے بعد مہرماہ کی ہمت جواب دے چکی تھی۔ وہ لاچار سی دیوار کا سہارا لے کر اٹھی تھی اس کی آنکھیں رونے کی شدت سے پھول گئی تھیں۔ چہرے پر فقط ویرانیت تھی اور ان ویرانیوں کا ہر کوئی ذمہ دار تھا۔ اس نے کپڑے چینج کئے اور باہر آ گئی نیند تو اس کی آنکھوں سے بھی کافی دور تھی۔
اس کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔ اور کسی حد تک اسے بخار بھی ہو چکا تھا۔ کپڑے چینج کرنے کے بعد وہ زندہ لاش کی مانند پیر کو گھسیٹتے ہوئے بیڈ پر گری تھی بدن تھا کہ چور چور ہو رہا تھا کھڑے ہونے کی مزید تاب نہ تھی۔ آنکھیں ہنوز بند تھیں لیکن نیند پھر بھی کہیں غائب تھی۔
زندگی تیرے دیدہ تمسخر کی قسم
ہم تجھے چھوڑنے والے ہیں تماشہ نہ بنا…
#
صبح سورج کی شعاعیں آسمان کو چیرتی سفید ولا پر پوری طرح سے قابض ہو چکی تھیں۔
دن کے گیارہ بج رہے تھے۔ ملازمین اپنا کام کرنے کے ساتھ ساتھ چیومگیاں میں بھی مصروف تھے کر کسی کو حاذم کی دلہن دیکھنے کا شوق ہو رہا تھا۔
حازم کی آنکھ صبح سویرے ہی کھل گئی تھی۔
وہ فریش ہو کر ناشتے کی ٹیبل پر آیا تھا۔ٹیبل پر کئی طرح کے لوازمات سجے ہوئے تھے شائد نئی دلہن کے آنے کی خوشی میں؛؛؛ لیکن دلہن کا تو کہیں پتہ ہی نہیں تھا۔
اس نے چند لقمے ہی زہر مار کئے تھے بھوک کا تو نام و نشان نہیں تھا جب دل پر بوجھ ہو تو انسان کو کہاں بھوک و پیاس کا احساس ہوتا ہے۔ ناشتے سے فارغ ہو کر اس نے صغریٰ بی کو آواز دی اس کی اواز سن کر صغریٰ بی کچن سے نمودار ہوئی تھیں۔ اس نے صغریٰ بی سے مہرماہ کے متعلق پوچھا؛؛
خان بابا میں دو بار اوپر گئی تو دروازہ بند تھا میں نے دستک دی پھر بھی دروازہ نہیں کھلا۔ شائد ابھی تک دھی رانی سو رہی ہیں۔ صغریٰ بھی آہستگی سے بولیں۔
اچھا ٹھیک ہے میں دیکھتا ہوں آپ جائیں؛؛؛ حاذم انہیں جانے کی اجازت دے کر خود سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچا تھا۔ اس نے دیکھا تو دروازہ بند تھا اس نے ایک دو بار دروازے پہ ہاتھ رکھ کر کھٹکھٹایا لیکن اندر سے کوئی آواز نہیں آ رہی تھی۔ حاذم کو تھوڑی پریشانی ہوئی دروازہ پر ہاتھ رکھ کر اس نے پھر سے ایک دو بار اور ٹرائی کیا لیکن دروازہ ہنوز بند تھا۔
مہرماہ دروازہ کھولو؟؟ حاذم کی آواز میں پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔
آخر کچھ دیر کی مشقت کے بعد مہرماہ نے دروازہ کھول ہی دیا؛؛؛ حاذم جب تک کی کمرے میں داخل ہوتا یکدم سے مہرماہ کا سر چکرا یا و قدم لرزنے لگیں و یکلخت زمین پر گرنے ہی والی تھی کہ حاذم نے ایک بھی لمحہ ضائع کئے بغیر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا مہرماہ بل کھاتی سیدھا اس کے بازوؤں میں اپنے نازک سے وجود سمیت جھول گئی تھی۔ اس کا بخار کی تپش میں جھلستا ہوا وجود حاذم کی باہوں میں آ سمٹا تھا۔ وہ اس کے سینے سے جا لگی تھی۔ اگر جو یہ کوئی عام حالات ہوتے تو مہرماہ عامر اس کا خون کر دیتی مگر در حقیقت معاملہ یہاں اس کی بیہوشی کا تھا۔
“”حاذم کو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اس نے کسی دہکتے ہوئے تاوے پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔ مہرماہ کو ایک سو تین ڈگری بخار ہوا تھا۔ اس کی پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے تھے؛؛ وہ مہرماہ کی اس حالت کو دیکھ کر دنگ سا ہو گیا تھا۔ اس نے فوراً اس کی پشت پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے بازوؤں میں اٹھایا اور بیڈ پر لا کر آہستہ سے سلاتے ہوئے پاس رکھے تکیئے کو کھینچ کر اس کے سر کے نیچے رکھ دیا۔
مہرماہ آنکھ کھولو؛؛؛ حاذم نہایت پریشانی سے اس کے گال پر اپنا ہاتھ رکھ کر تھپتھپا رہا تھا۔ اس کا چہرہ سرخ لال ہو چکا تھا۔ بخار کی حدت سے اس کی آنکھیں بند تھیں۔ اس کے اندر اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ انکھیں کھول کر کوئی منظر دیکھ سکے۔
حاذم اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں لے کر ہلکا سا دباؤ دیا تھا۔ مہرماہ شدید بخار میں تپ رہی تھی و اس کے لب مسلسل کانپ رہے تھے۔
حاذم نے پھر ایک بھی لمحہ ضائع کئے بغیر اس کو اپنے بازوؤں کے گھیرے میں اٹھایا اور تیز قدموں سے سیڑھیاں اتر کر کیز کو ٹیبل سے اٹھاتا سیدھا پورچ میں لے کر آیا تھا؛؛؛ گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر نرم گزار سیٹ پر اسے آہستگی سے لٹا دیا؛؛؛ یہ سب دیکھ کر صغریٰ بی بھی اس کے پیچھے ہانپتی کانپتی دوڑ کر آئی تھیں۔ اس نے صغریٰ بی کو بھی گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا؛؛؛ مہرماہ کی یہ ناساز حالت دیکھ کر صغریٰ بی بھی پریشان ہو گئیں تھیں کہ آخر نئی نویلی دلہن کو کیا ہو گیا۔
حاذم سو کی سپیڈ سے گاڑی روڈ پر دوڑاتے ہوئے ہسپتال پہنچا تھا۔ اس نے ایمرجنسی وارڈ میں ڈاکٹرز کو مہرماہ کو دکھانے کا فیصلہ کیا ہاسپٹل پہنچنے کے بعد اس نے مہر ماہ کو پچھلا دروازہ کھول کر اپنے بازوؤں میں اٹھاتے ہوئے ہسپتال کے اندر لے گیا مہرماہ کی آنکھیں ویسی کی ویسی ہی بند تھیں۔ حاذم کے تو رونگٹے ہی کھڑے ہو گئے تھے۔ مہرماہ کی یہ حالت دیکھ کر وہ خود کو بہت مشکل سے ضبط کیا تھا اگر جو خدا نخواستہ مہرماہ کو کچھ ہو جاتا تو وہ چچا جان کو کیا جواب دیتا؟؟ اس کو اپنا آپ قصوروار لگ رہا تھا۔ مہرماہ کی اس حالت کا ذمہ دار وہ خود کو ٹھہرا رہا تھا اگر جو ایسا نہ ہوتا تو مہرماہ کے ساتھ یہ سب نہ ہوتا اس کا دل خون کے آنسوں رو رہا تھا۔
فوری طور پر ڈاکٹرز مہرماہ کو ایمرجنسی وارڈ میں لے کر گئے اور اس کا علاج شروع کر دئے کوریڈور کے باہر صغریٰ بھی و حاذم پریشانی حالت میں کھڑے تھے۔ حاذم کے قدم زمین پر جم سے گئے تھے وہ اپنی جگہ سے ہلنے سے ساکت تھا اگر جو ڈاکٹرز ابھی آ کر کچھ بری خبر سنا دیتے تو وہ آخر کس کو منہ دکھاتا۔
دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پیوست کئے وہ اپنی جگہ ساکت سی حالت میں بیٹھا تھا۔
آدھے گھنٹے کے بعد ڈاکٹرز کی آمد ہوئی تھی۔ حازم ان کی جانب دوڑتے ہوئے گیا اس کے دل میں ایک ہی خوف تھا کہ اگر ڈاکٹرز نے کوئی بری خبر سنا دی تو وہ تو جیتے جی مر جائے گا؛؛
خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر کیا تھا حاذم نے کہ ڈاکٹرز نے آتے ہی اس کو خوشخبری دی تھی کہ اب پیشنٹ خطرے سے باہر ہے عین وقت پر ہاسپٹل پہنچنے پر ڈاکٹرز نے سب کچھ کنٹرول میں کر لیا تھا۔ اگر ذرا سی بھی دیر ہو جاتی تو شائد کچھ نہ کچھ ہو جاتا۔
کیا میں اپنی بیوی سے مل سکتا ہوں؟؟؟ اس نے ڈاکٹر سے ملنے کے متعلق پوچھا۔
جی جی ضرور ڈاکٹرز اسے اندر جانے کا راستہ دیتے ہوئے خود کیبینئٹ کی طرف بڑھ گئے۔
حاذم بہت ہمت کر کے کوریڈور کے اندر داخل ہوا تھا۔ سامنے ہی مہرماہ کاٹ پر بے سدھ پڑی ہوئی تھی۔ گرین کلر کے پلین سوٹ میں وہ بے انتہا کی خوبصورت لگ رہی تھی؛؛ کمر تک آتے بال اس کے نہایت ہی حسین لگ رہے تھے؛؛؛ ڈرپ اس کے ہاتھوں میں لگیں تھیں۔ ہاں البتہ اس کی آنکھیں اب کھلی تھیں۔ لیکن وہ پہلے والی اور اس مہرماہ میں زمین و آسمان کا فرق تھا کمزور سا بے جان سا جسم؛؛؛ نم پلکیں؛؛؛ چہرے پر دنیا جہاں کی اداسیاں ایسا لگ رہا تھا کہ اسے کسی نے زندہ لاش بنا دیا ہو۔
اب کیسی طبیعت ہے؟؟ وہ مہرماہ کے کاٹ کے نزدیک آ کر مستحق انداز میں ہمت جٹا کر پوچھا تھا۔
اس کے سوال پر مہرماہ بلکل خاموش تھی اس نے کوئی جواب دینا ضروری نہیں سمجھا؛؛ ہاں البتہ اس کا جاہ و جلال سمٹ کر چہرے پر دوبارہ سے آ رہا تھا۔ اس شخص کے سامنا کرنا اسے ہرگز قبول نہیں تھا۔
لیکن شائد وہ اس بات کو نہیں جانتی تھی کہ اب تو ہر دن ہر رات ہر گھنٹہ ہر وقت ہر پل ہر لمحہ اسی چہرے کو دیکھنا ہے اسی چہرے کو تکنا ہے۔
مہرماہ ار یو اوکے؟؟ حازم کی آواز میں کرب بے بسی و کیا کچھ نہیں تھا جو اس بے حس لڑکی کو کچھ بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا۔
مجھے اگر آج موت آ جاتی تو میں اپنے رب کا شکر ادا کرتی کہ میرا تم سے پیچھا چھوٹ گیا؛؛؛ حاذم عباس؛؛؛ لیکن موت بھی مجھ سے شائد روٹھ گئی ہے میری بدقسمتی کی طرح۔ وہ اپنے چہرے پر جاہ و جلال سمیٹے حقارت سے بولی۔
فالتو کی بکواس مت کرو اور آئندہ میں آپ کو اس حالت میں نہ دیکھوں؛؛؛ ابھی ایک گھنٹے میں ہم گھر چلے جائیں گے؛؛ مہرماہ کے اس غصسیلے انداز پر بھی حاذم کا یہ اطمینان بھرا لہجہ اسے تپا ہی گیا تھا۔
میں کسی کے بھی گھر نہیں جاؤں گی؛؛؛ وہ میرا گھر نہیں؛؛؛ قید خانہ ہے میرے لئے مجھے آزادی چاہیے؛؛؛ اور میں تمہارے گھر میں کیوں جاؤں؟؟ تمہاری آخر میں لگتی ہی کیا ہوں؛؛ ایک کاغذی رشتے کو تم اتنا زیادہ سر پر چڑھا کر کیوں بیٹھے ہو؟؟ میں کہتی ہوں مجھے ابھی طلاق دو؛؛؛ مجھے نہیں رہنا تمہارے ساتھ اس گھٹن زیادہ ماحول میں میں مر جانا پسند کروں گی؛؛؛ لیکن جاؤں گی نہیں۔ وہ پہلے کی نسبت زیادہ تیکھے لہجے میں چینچ کر بولی تھی۔
فلحال تو یہ مرنا مارنا بعد میں ہوگا؛؛؛ پہلے آپ گھر چلیں گی؛؛؛ اس کے بعد فیصلہ ہوگا کس کو مرنا ہے؛؛ کس کو زندہ رہنا ہے ؛؛؛ ہمممم؛؛؛ گڈ گرل؛؛؛ حاذم کا وہی تمانیت بھرا لہجہ مہرماہ کو سلگا رہا تھا۔ وہ آخر اتنے ٹھنڈے لہجے میں اس سے کیسے بات کر سکتا تھا کیا وہ اس کی سچویشن نہیں سمجھ رہا ہے کہ؛؛ وہ اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی وہ اس کے ساتھ زبردستی کیوں کرنا چاہتا ہے؟؟ مہرماہ نفرت و حقارت سے چہرے کا رخ دوسری جانب پھیر لی تاکہ اس شخص کا نحوست بھرا چہرہ دیکھنے کو دوبارہ نصیب نہ ہو۔
میں ڈاکٹرز سے بات کر کے آتا ہوں؛؛ وہ سمجھ گیا تھا کہ اب وہ اسے دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔ حاذم اس کو پریشان بھی نہیں کرنا چاہتا تھا اس کے سامنے رہ رہ کر ویسے بھی اس کا آدھا خون جل جاتا تھا اور فلوقت مہرماہ کو اشد خون کی ضرورت تھی۔
حاذم ایک گہری نگاہ اس کی پشت پر ڈالتا باہر چلا گیا تھا۔
اس نے ڈاکٹر سے مل کر اس کی دواؤں و عزا کے متعلق پوچھ گچھ کیا تھا۔
مہرماہ کو ہسپتال سے چھٹی مل گئی تھی۔ ڈاکٹرز کی ہدایت پر اس کو ذہنی سکون کی ضرورت تھی۔
حاذم ڈاکٹر سے ملنے کے بعد کوریڈور میں آیا تھا۔ جہاں پہلے سے ہی صغریٰ بی موجود تھیں وہ صغریٰ بی کا ہاتھ تھام کر سہارہ لیتی اٹھنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ جسم پھوڑے کی مانند دکھ رہا تھا۔ صغریٰ بھی اسے اپنے ہاتھوں کا سہارہ دے کر بمشکل اٹھانے کی کوشش کی تھیں۔ وہ ابھی بھی دواؤں کے زیر اثر تھی اس کے اندر اتنی طاقت و ہمت نہیں تھی کی وہ اپنے پیروں پر چل سکے مگر اس کی ضد و جنون کے آگے بھلا آج تک کس کی چلی تھی۔
ابھی وہ صغریٰ بی کا ہاتھ تھام کر چند قدم ہی آہستہ آہستہ طے کر رہی تھی جبھی بیچ میں حاذم بول پڑا تھا۔
صغریٰ بی آپ یہ دوائیں پکڑے اور گاڑی تک چلیں میں دھی رانی کو لے کر آتا ہوں؛؛؛ اس نے دواؤں کا تھیلا صغریٰ بی کو پکڑایا جس کو صغریٰ بی تھامتی جو حکم خان صاحب کہتی باہر نکل گئیں۔
پیچھے مہرماہ حیرت زدہ سی صغریٰ بی کو جاتا ہوا منھ کھولے دیکھتی رہ گئی؛؛؛ اسے تو اپنے بے جان قدموں پر کھڑا رہنا مشکل ترین ثابت ہو رہا تھا وہ بے انتہا غصے کی حالت میں حاذم کی طرف دیکھی تھی۔ جو اس کے عین نظروں کے سامنے کھڑا تھا۔
اب میں کس کے ساتھ جاؤں گی؟؟؟ مہرماہ دانت پیس کر پوچھی تھی۔
اپنے شوہر کے ساتھ؛؛؛ حاذم شرارت سے کہتے ہوئے اگے بڑھ کر اس کی پشت پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے اپنی باہوں میں اٹھا لیا تھا۔ مہرماہ کے اوپر تو جیسے کسی نے بجلی گرا دی ہو۔
یہ کیا بدتمیزی ہے مجھے نیچے اتارو؛؛؛ میں تمہارا خون پی جاؤں گی؛؛ تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی؛؛؛ وہ حاذم کو نوچ کھانے کو دوڑ رہی تھی مگر حاذم بڑے اطمینان سے اس سے اپنی گود میں اٹھائے آگے کی جانب بڑھ رہا تھا؛؛؛
میں کہہ رہی ہوں مجھے نیچے اتارو؛؛؛ میں ابھی شور مچا دوں گی کہ تم میرے ساتھ ظلم کر رہے ہو؛؛؛؛ اس کے منہ میں جو آ رہا تھا وہ بولے جا رہی تھی۔
شور مچانے سے کچھ نہیں ہوگا یہاں تقریباً سبھی لوگ جانتے ہیں کہ آپ میری بیوی ہیں اور میں آپ کا شوہر؛؛؛ شوہر اور بیوی میں کوئی ظلم نہیں ہوتا؛؛؛ حاذم اس کی بات کو نظر انداز کرتا اسی طرح اپنے گود میں لئے گاڑی تک پہنچا تھا۔
مہرماہ اس کی شرٹس کے بٹن کو اپنی مٹھیوں میں بھینچے ہوئی تھی۔
یہ تو حازم عباس کا کوئی اور ہی رنگ روپ تھا۔ آخر اس نے شوہر اور بیوی کا لفظ اپنی گندی زبان سے نکالا بھی کیسے؟؟ میں تمہاری بیوی نہیں میں تمہاری دشمن ہوں اولین دشمن میں تمہیں ایسا برباد کروں گی کہ تم پچھتاؤ گے۔ مہرماہ کے دماغ کی نسیں پھٹنے کو تھیں۔
جو کرنا ہوگا بے شک کر لیجئے گا پہلے گھر پہ پہنچ جائیں سکون سے؛؛ حاذم کے بولنے کا ہمیشہ کی طرح وہی دلکش انداز غصہ تو جیسے اس شخص کو چھو کر بھی کبھی نہیں گزرا تھا۔
آس پاس آتے جاتے ہوئے لوگ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ کچھ لوگ تو آپس میں باتیں بھی کر رہے تھے مہرماہ کا چہرہ شرم سے پانی پانی ہو رہا تھا ؛؛؛ کچھ بھی تھا یہ اس کے لئے نہایت بے باک حرکت تھی۔ لیکن حاذم کو ان سب سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا تھا اس کو صرف اور صرف اس کا خیال تھا کہ اس کو صحیح سلامت گھر تک لے جانا ہے۔
واؤ واٹ آ بیوٹیفل کپل؛؛؛ ہسپتال میں کام کرتی ہوئی نرسیں منہ کھولے ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔ حاذم بلا کا جازب نظر آرہا تھا۔ اس کا عام سا حلیہ بھی لوگوں کے دلوں میں قیام کرنے کا ہنر رکھتا تھا۔
اتنا ہینڈسم بندہ؛؛؛ پاس سے ہی ایک بندی نے کومیںنٹ پاس کیا تھا۔ دکھنے میں تو وہ امیرجنسی کیس لگ رہا تھا کیونکہ اس لڑکی کی انگلیوں سے خون کے قطرے نکل رہے تھے لیکن اتنے ہینڈسم بندے کو دیکھ کر وہ اپنا زخم بھول گئی تھی۔
پانچ منٹ کا راستہ طے کر کے حاذم گاڑی تک اسے لے کر پہنچا؛؛ فرنٹ گیٹ کھول کر اسے آہستگی سے بٹھاتے ہوئے بیلٹ کو باندھا تھا۔ حاذم دراز قد کا مالک تھا جس کی بدولت مہرماہ کے گالوں پر جھولتی لٹیں اس کی کبھی پیشانی سے تو کبھی گال سے ٹچ ہو جا رہی تھیں۔ فاصلہ ان کے درمیان نہ ہونے کے برابر تھا۔ مہرماہ سانس روکے اس سارے منظر سمیت اس کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ رہی تھی؛؛؛
بیلٹ کو باندھنے کے بعد دروازہ بند کر کے وہ بھی اس کے برابر میں ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھ گیا تھا۔ جبکہ صغریٰ بی پیچھے کی سیٹ پر بیٹھیں تھیں۔ مہرماہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی آج دو دن بعد تو اس نے دن کا اجالا و کھلے آسمان دیکھے تھے۔
گاڑی یوں کی تیز رفتاری سے روڈ پر دوڈ رہی تھی۔
تقریباً کچھ وقت بیت جانے پر مہرماہ کو شدت سے پیاس کا احساس ہوا تھا۔ مگر انا کو یہ کہاں قبول تھا کہ اس ڈیول سے پانی مانگے؛؛؛ وہ مسلسل زبان کو خشک پڑتے ہونٹوں پر پھیر رہی تھی۔
پانی؟؟؟ حاذم اس کی جانب دیکھے بغیر پانی کی بوتل کو سیٹ کی سائڈ سے نکال اس کی طرف بڑھایا تھا۔
مہرماہ کو شدید حیرت کا جھٹکا لگا تھا؛؛؛ اس نے تو ایک بار بھی اس سے پانی نہیں مانگا تھا پھر اس کو کیسے پتہ کی اسے پیاس لگی ہے۔
حاذم کا ایک ہاتھ مہرماہ کی طرف تھا جبکہ دوسرا ہاتھ اسٹیرنگ پر و نظریں تو عین روڈ پر جمیں تھیں۔ پھر اس کو کیسے پتہ چلا؟؟ مہرماہ کی سوئی ابھی بھی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔
نہیں چاہیے؟؟ حاذم نے ذرا سا اس کی طرف دیکھ کر سوالیہ انداز میں پوچھا تھا۔
مہرماہ خاموشی سے کچھ بھی بولے بغیر پانی کی بوتل تھام لی تھی۔ ایک کے بعد ایک احسان اسے اس شخص سے لینے پڑ رہے تھے۔ وہ ہونق سی بنی بوتل کا ڈھکن کھول کر لبوں سے لگا کر گھونٹ گھونٹ گلے کے نیچے اتاری تھی۔ کسی حد تک پیاس بجھ گئی تھی۔ اس نے جیسے ہی ڈھکن کو بوتل پر لگانا چاہا حاذم نے اس کے ہاتھ سے بوتل لے لیا؛؛ بوتل لیتے ہوئے دونوں کی انگلیاں آپس میں مس ہوئی تھیں جس کو حاذم نے تو پتہ نہیں البتہ مہرماہ نے ضرور محسوس کیا تھا۔ وہ اپنا ہاتھ جلدی سے دوپٹے کے کونے سے صاف کی تھی گویا کوئی چھوت کی بیماری نے اسے ٹچ کر لیا ہو۔
بوتل کو لے کر حاذم اسے اپنے منھ سے لگا کر پانی پینے لگا؛؛؛ مہرماہ کا چھوٹا پانی؛؛؛ مہرماہ کے تو ہوش ہی اڑ گئے تھے جب اس نے اسے اپنا جھوٹا پانی پیتے ہوئے دیکھا تھا۔
پانی کی بوتل خالی ہو چکی تھی حاذم اس کی طرف بڑھایا تھا ڈھکن لگا دو اب؛؛؛ مہرماہ بوتل تھامتی ڈھکن لگا کر ڈیش بورڈ پر رکھ دی تھی۔
منزل اپنے راستوں کی جانب گامزن تھیں۔
کچھ دیر کی ڈرائیونگ کے بعد گاڑی ولا کے اندر داخل ہو ہی گئی تھی۔
مہرماہ آج دن کے اجالے میں اس ولا کو دیکھی تھی۔
ہممم میرے بابا کی پراپرٹی سے بنوایا ہوگا اس کی اپنی اتنی اوقات کہاں؛؟؟ وہ پھر نفرت کے ابال میں جا پہنچی تھی۔
گاڑی پورچ میں کھڑی ہو چکی تھی صغریٰ بی اتر کر اندر جا چکی تھیں۔ جبکہ وہ دونوں ابھی بھی گاڑی میں ہی بیٹھے تھے۔
حاذم اس کی جانب جھک کر بیلٹ کو جیسے ہی اتارنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔ مہرماہ نے فوراً ہاتھ کے اشاروں سے اسے روک دیا تھا۔
مجھے سیٹ بیلٹ باندھنا اور کھولنا بہت اچھے سے آتا ہے تم زیادہ فری ہونے کی کوشش مت کرو مجھ سے؛؛؛؛ وہ لفظوں کو چبا چبا کر بولی تھی۔
مئسیز مہرماہ حاذم عباس میں فری ہونے کی کوشش ہرگز نہیں کر رہا بس آپ کی مدد کر رہا ہوں؛؛ کیونکہ آپ کے ہاتھوں میں ڈرپ لگی ہوئی ہے خیر کوئی بات نہیں آپ بیشک یہ کر سکتی ہیں؛؛؛ حاذم نے نپے تلے لفظوں میں کہا۔
ہممم؛؛ وہ تمسخرانہ لہجے میں گردن اکڑا کر بیلٹ کی طرف جھکی تھی۔ اس نے جیسے ہی بیلیٹ کو ہاتھ لگایا شدید قسم کا درد اسے اپنے ہاتھوں میں محسوس ہوا تھا۔ ڈرپ لگنے کی وجہ سے وہ ہاتھوں پر ذرا سا بھی زور دیتی تو ڈرپ پر کھینچاو محسوس ہو رہا تھا۔
اس نے ایک دو بار اپنی جانب سے اور ناکام کوشش کی لیکن بے سود؛؛ اس کی سمجھ سے بالاتر تھا کہ اب کیا کرے۔ دشمن اولین سے تو وہ مدد لے نہیں سکتی تھی۔ اور ہاتھوں کے زخم اسے اپنے اوپر بے رحمی کی اجازت دے نہیں رہے تھے۔ وہ غصے سے لب کا کونا کچلنے لگی کوئی راہ راست نظر نہ آنے پر۔
اس کے برعکس حاذم اس ساری صورتحال کو بڑا لطف اندوز ہو کر دیکھ رہا تھا۔ اسے ہمیشہ سے یہ لڑکی ضدی ہونے کے ساتھ ساتھ کم عقل بھی لگتی تھی مگر آج تو کامل یقین ہو گیا تھا کہ واقعی وہ ہے ناقص عقل والی۔
مجھے گاڑی لاک بھی کرنی ہے اگر آپ کھول چکی ہیں تو بہتر ورنہ پھر میں۔۔۔۔۔حاذم مصرے کو ادھورا ہی چھوڑ دیا تھا۔
زیادہ بنو مت آج میرے ہاتھ میں ڈرپ لگی ہے ورنہ میں کھول سکتی ہوں؛؛ جھکنا تو مہرماہ عامر نے کبھی سیکھا ہی نہیں تھا۔
جی بہتر آپ بلکل کھول سکتی ہیں۔ حاذم نے آگے سے لقمہ دیا۔
اب میرا منھ کیا دیکھ رہے ہو کھولو؛؛؛ مہرماہ نے سلگتے ہوئے کہا۔
ہائے یہ مجبوری بھی کیا کیا کروا دیتی ہے انسان سے؛؛؛
کون میں؟؟ حاذم معصوم بنا تھا۔
نہیں تمہارے فرشتے؛؛؛ مہرماہ کو وہ زہر سے بھی زیادہ برا لگا تھا۔
فرشتے کو فلحال آرام کرنے دیں میں ہی یہ احسان کر دیتا ہوں؛؛؛ حاذم کا شرارت خیز لہجہ مہرماہ کے تن بدن میں آگ لگا دیا تھا۔
حاذم ذرا سا آگے بڑھ کر سیٹ بیلٹ کو ہاتھ میں لیتے ہوئے کھولنے لگا تھا۔ مہرماہ اس کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر لمبی لمبی سانس بھرنے لگی تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ سانسوں کی رفتار آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہو۔ حاذم نے ذرا سا زور دیا تو سیٹ بیلٹ کھل کر الگ ہو گیا اور ساتھ ہی ساتھ مہرماہ کا سلکی دوپٹہ بھی کاندھے سے لڑھک کر گود میں جا گرا تھا۔ مہرماہ تو گویا پلک جھپکنا ہی بھول گئی ہو جیسے؛؛؛ حاذم اس کی اس بگڑتی صورتحال کو سمجھ گیا تھا۔ وہ اس کے اتنا قریب اور وہ بغیر دوپٹے کے دونوں کی سانسیں آپس میں ٹکرا رہیں تھیں۔ حاذم نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر دوپٹہ اس کی گود میں سے اٹھا کر اس کے کاندھے پر نرمی سے رکھ دیا تھا۔ اور خود کو نارمل کر کے دوبارہ سے اس سے مخاطب ہوا۔
یاد آئیں گی غفلتیں تُم کو تمہیں دکھ نہ ہونے کا بڑا دکھ ہوگا
اب آئی تھنک گاڑی سے نیچے اتر جانا چاہیے؟ اس نے بات کو دوسرا رخ دیا تھا۔ مہرماہ یکلخت جیسے ہوش کی دنیا میں آئی تھی اس نے فوراً دوپٹے کو دونوں ہاتھوں سے درست کیا تھا۔
گھٹیا انسان حوس پرست؛؛؛ وہ حقارت سے اس کے لئے الفاظ چناؤ کرتے ہوئے دروازے کو کھولی تھی۔ حاذم فوراً اپنی سیٹ سے اتر کر اس کی طرف لپکا تھا۔
میں چل سکتی ہوں؛؛؛
آئی نو کہ آپ نہیں چل سکتیں؛؛؛ تو بیکار کی ضد کرنا چھوڑ دیں۔ حاذم نے بھی بڑی ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا تھا؛؛؛ اس کی ساری باتوں کو نظر انداز کرتا اسے گود میں اٹھا کر ولا کے اندر لایا تھا۔
اس کے اندر داخل ہونے پر سبھی ملازمین چوکنا ہو گئے تھے۔ وہ اسے بازؤں میں تھامے سڑھیاں چڑھ کر اوپر لے گیا تھا۔ لیکن یہ کہاں اسے اس کے کمرے میں لے جانے کے بجائے یہ اس کو کہاں لے جا رہا تھا؟؟
