Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

صبح صادق کا وقت ہو چلا تھا۔ سورج کی اپنے نیز پر تھی۔
موسم بھی کافی خوشگوار تھا۔
پرندوں کی⁦ چہچہاہٹ پورے آسمان کو چیرتی گھر کے در دیوار سے ٹکرا رہی تھیں۔
ناشتے کی ٹیبل پر صبح کو ڈائیٹنگ ٹیبل پر گھر کے سبھی افراد موجود تھے۔ ناشتہ کی مقدار افراد کی گنتیوں سے زائد تھیں۔
سبھی اپنی اپنی جگہ خاموشی سے بیٹھ کر ناشتہ کرنے میں مشغول تھے۔
ژالے؟؟ عامر صاحب ناشتہ سے انصاف کرتی ژالے کو مخاطب کیا تو وہ ناشتے سے ہاتھ روک کر جی چچا جان کہتی عامر صاحب کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔
کمرے سے جا کر مہرماہ کو بلا کر لاؤ۔۔۔۔۔۔ اس لڑکی کو ناشتہ نہیں کرنا کیا؟؟ عامر صاحب آملیٹ کا ایک ٹکڑا منھ میں رکھتے ہوئے ژالے سے بولے تھے۔

ان کی بات پر ناشتہ کرتے حازم کا ہاتھ لمحے کے لئے ٹھہرا تھا؛؛؛؛ اس کے سامنے رات چھت والا منظر آنکھوں کے سامنے لہرایا؛؛؛؛ اور اس کے علم میں یہ بات اچھی طرح تھی کی اسی کا غصہ نکالا جا رہا تھا کمرے میں دھرنا دے کر؛؛؛ وہ ہونٹ بھینچتا دوبارہ سے خاموشی سے ناشتے کی پلیٹ پر جھک گیا تھا۔
جی چچا جان میں جا کر دیکھتی ہوں۔ ژالے اپنی جگہ سے اٹھ کر مہرماہ کے کمرے کی جانب رخ کی تھی۔
آسیہ بیگم صبح سے اس کے کمرے کا تین سے چار بار چکر لگا چکی تھیں مگر مجال ہے وہ اپنی جگہ سے ذرا بھی ہلی ڈلی ہو۔

#

ژالے اس کا کمرہ ناک کرتی اندر آئی تھیں جہاں وہ بیڈ پر آلتی پالتی مارے تکیے کو گود میں دبوچے کسی گہری سوچ میں مبتلا تھی۔
ژالے کو کمرے میں موجود پا کر ذرا سا ٹھٹھکی تھی۔
مہرماہ تمہیں چچا جان بلا رہیں ہیں؛؛؛؛ ژالے اس کی جانب مشکوک نگاہوں سے دیکھ کر بولی تھی۔
مجھے کس لئے؟؟؟ اس کی زبان یکلخت پھسلی تھی۔
ظاہر ہے ناشتے کے لئے؛؛؛ ژالے بے نیازی سے کاندھا کر جھٹک کر بولی تھی۔
ااچھا تم چلو میں آتی ہوں؛؛؛؛ وہ تکیہ گود سے ہٹا کر بیڈ پر رکھتے ہوئے ژالے سے بولی تھی۔
اوکے؛؛؛ اس کا جواب سن کر وہ جانے کے لئے پلٹی تھی کہ اچانک سے کچھ یاد پر دوبارہ سے اس کا رخ مہرماہ کی جانب ہوا تھا۔
مہرماہ رات میں تم کہیں گئی تھی کیا؟؟؟ ژالے آنکھوں میں سوال لئے اس سے پوچھی تھی؛؛؛ اس کی بات پر مہرماہ کے کان کھڑے ہو گئے تھے۔
وہ ژالے کے سوال پر ہکا بکا ہوتی اپنی سوچوں میں گم تھی؛؛؛؛؛ کہیں مجھے کل رات حازم کے ساتھ چھت پر ژالے نے دیکھ تو نہیں لیا تھا؟؟؟ وہ گہری سوچ میں ڈوب گئی تھی جبھی ژالے کے دوبارہ بلانے پر اپنی سوچوں کی دنیا سے واپس آئی تھی۔
میں نے کچھ پوچھا ہے؛؛؛ تم رات میں اپنے روم میں نہیں تھی؛؛؛ میں آئی تھی مجھے کچھ کام تھا تم سے؛؛؛ مگر تم موجود نہیں تھی؛؛؛ ژالے نے اپنا سوال پھر سے دہرایا تو جوابن مہرماہ گلا صاف کرتی بڑی صفائی سے جھوٹ بول گئی تھی۔
نہیں میں تو کمرے میں ہی تھی؛؛؛ اوہ!!!! ہاں؛؛؛؛ میں بالکنی میں رہی ہونگی اس وقت؛؛؛؛ مہرماہ صفائی سے جھوٹ بولتی اسے کسی بھی طرح سے قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔
اچھا شائد؛؛؛؛ ژالے مشکوک نگاہ اس پر ڈالتی اسے آنے کا کہہ کر کمرے سے واپس جا چکی تھی۔
افف؛؛؛؛ کہیں ژالے کچھ غلط نہ سوچ لے میں ہرگز اس شخص کی وجہ سے اپنا دامن داغدار نہیں ہونے دوں گی؛؛؛؛ میں ابھی اور اسی وقت بابا سے بات کروں گی یہ تو وہ اس گھر میں رہے گا؛؛؛ یہ میں؛؛؛؛ وہ حازم پر لعن تعن بھیجتی سلیپر پیر میں ڈال کر کپڑے کا ہمرنگ دوپٹہ کاندھے پر ڈال کر کھلے بالوں سمیت دندناتی ڈائننگ حال کی جانب بڑھ گئی تھی۔

رات کو میرے دوست اکرم کا کراچی سے فون آیا تھا؛؛؛ وہ اپنے اکلوتے فرزند ساحل کے لئے ہماری مہرماہ کا رشتہ مانگ رہےہیں ہیں؛؛؛؛ عامر صاحب ٹیشو پیرر سے ہاتھ کی انگلیوں میں لگے پراٹھے کے تیل کو صاف کرتے ہوئے پرسکون لہجے میں یہ دھماکا کر گئے تھے۔

عامر صاحب کی بات سن کر حازم کے ہاتھ سے چمچمچ یکلخت چھوٹ کر پلیٹ میں گرا تھا۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے عامر صاحب کے دل کو چھلنی کر دینے والے الفاظ کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اس کو ایسا محسوس ہو رہا تھا؛؛؛؛ اس کا پورا جسم کانپ اٹھا ہو و سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہو چکی ہو۔ ایک لمحے میں کیسے اس کے دل کی دنیا ڈولا ہوئی تھی۔ اگر وہ بے حس لڑکی دیکھ لیتی تو اپنے اوپر رشک لرتی۔
ٹیبل پر موجود سبھی افراد گنگ سی کیفیت میں عامر صاحب کی جانب دیکھنے لگے۔ یہ بات سبھی کے لئے حیران کر دینے والی تھی۔
تو پھر آپ نے کیا کہا؟؟؟ آسیہ بیگم شوہر کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھ کر پوچھی تھیں۔
حازم کے لئے یہ وقت کسی قیامت کی مانند ثابت ہو رہا تھا۔ وہ ہونٹ کو آپس میں پیوست کئے گہری نگاہ ٹیبل پر ٹکا گیا تھا۔ اور سانسوں کی بے ہنگم ارتعاش کو نا ممکنات طریقہ سے قابو پانے کی کوشش کرنے لگا تھا۔ عامر صاحب کے ایک ہاں؛؛؛ یہ نا؛؛؛؛ اس کی زندگی کا سکون یہ تو غارت کرتیں یہ پھر سکون بخشنے والے تھیں۔
میں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کی؛؛؛؛ ہماری ایک ہی بیٹی ہے؛؛؛؛؛ ہم اس کا کہیں باہر رشتہ نہیں کرنا چاہتے؛؛؛؛ میں نے گھر میں ہی اس کا رشتہ دیکھ رہا ہے؛؛؛؛ عامر صاحب بول رہے تھے اور سبھی افراد سن رہے تھے۔
ان کی بات پر جہاں ژالے کے کان کھڑے ہوئے تھے تو وہیں پر رمیض کو خوشفہمیوں میں مبتلا ہونے میں ذرا دیر نہیں لگی تھی۔

گھر میں؟؟؟؟ گھر میں کس کے ساتھ؟؟؟ کون ہے وہ؟؟؟ ژالے کا ذہن بڑی تیزی سے کام کرنے لگا وہ اپنی سوچوں کا مرکز کبھی حازم تو کبھی رمیض پر مرکوز کر رہی تھی۔
ناشتے سے تو اس کا دل اُچاٹ ہو چکا تھا۔ وہ دھڑکتے دل کے ساتھ عامر صاحب صاحب کے بولنے کا انتظار کرنے لگی۔
مہرماہ حال کمرے کو عبور کرتی جیسے ہی ڈائیٹنگ حال میں قدم رکھی تھی۔ اس کے کان میں اپنے بابا کے الفاظ با آسانی پہنچے تھے۔

میں نے اپنی اکلوتی بیٹی کا رشتہ حازم سے کرنے کا سوچا ہے؛؛؛ حازم گھر کا لڑکا ہے اور مجھے مہرماہ کے حساب سے حازم بلکل درست لگ رہا ہے؛؛؛ مجھے امید ہے میرے اس فیصلے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا؟؟ عامر سب پر ایک طائرانہ نگاہ ڈال کر اپنی بات آرام سے کر ایک ایک شخص کی جانب نظر اٹھا کر دیکھے تھے۔
ان کی بات پر حازم کو بری طرح سے کھانسی آنے لگی تھی۔ جس پر وہ قابو پاتا ایک انجانی سے نگاہ سبھی فرد پر ڈال کر عامر صاحب کی جانب حیرانگی سے دیکھتے ہوئے گلے میں اٹکی سانس کو بجال کیا تھا۔
اس کے تو ہوش و حواس میں یہ بات کبھی کھل کر نہیں آئی تھی کی اتنی آسانی سے بنا رب کے سامنے گڑگڑائے بنا روئے مہرماہ عامر اس کے نصیب میں لکھ دی جائے گی۔
وہ حیرت کی زیادتی سمیت ان کی جانب دیکھتے ہوئے سوچا تھا۔
اتنی پردہ پوشی؛؛؛؛ آپ نے مجھے ہوا تک لگنے نہیں دی چچا جان؛؛؛ اتنا بڑا فیصلہ؛؛؛ میں حیران ہوں یہ خوش؛؛؛؛ سمجھ سے باہر ہے؛؛؛ وہ ایک ٹھنڈی آہ بھرتا خاموشی سے ہونٹ بھینچ گیا تھا۔
ل۔۔۔ل۔۔۔۔لیکن ک۔۔۔کیسے؟؟ م۔۔۔میرا مطلب مہرماہ؟؟؟ آسیہ بیگم کا تو دل ہی کانپ گیا تھا یہ دھماکا خیز خبر سن کر؛؛؛ بیٹی تو ان کی تھی ہی لاڈلی اور اپنی لاڈلی کے ساتھ اس قسم کی زیادتی کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔
سب کچھ اتنا جلدبازی میں ہوا تھا کی ان کی زبان گویا تالو سے چپک گئی ہو۔
آپ کو اگر اختلاف ہے تو؛؛؛؛ اپنے اختلافات اپنے پاس رکھیں آسیہ بیگم؛؛؛ ہمارا فیصلہ بلکل درست ہے؛؛؛ عامر صاحب دو ٹوک انداز میں بولے تھے۔
اور ہاں حازم؟؟ مجھے امید ہے تمہیں بھی کوئی اختلاف نہیں ہوگا ہمارے اس فیصلے سے؟؟ عامر صاحب اب حازم کی جانب متوجہ ہوئے تھے جو خود بھی دم بخود سا اپنی جگہ ساکن حالت میں بیٹھا تھا۔

میں نے اپنی اکلوتی بیٹی کا رشتہ حازم سے کرنے کا سوچا ہے؛؛؛ اس کے کان میں یہ الفاظ کسی سانپ و بچھو کی مانند ڈنک مار رہے تھے۔
وہ حیرتناک و گنگ سی حالت میں دروازے سے لگ کر؛؛؛؛ یہ سب باتیں کھڑی سن رہی تھی؛؛؛؛ اس کے اوپر گویا من و من پہاڑ آ گرا ہو۔

اسے اپنی سماعتوں پر قطعاً یقین نہیں آ رہا تھا کی؛؛؛ ابھی اس نے کس قسم کے الفاظ اپنے گنہگار کانوں سے سنے تھے۔
ٹھیک اس کی نظروں کے عین سامنے حازم کی کرسی لگی تھی۔ وہ نفرت و آگ بگولے کی مانند شعلہ بار نظروں سے اس کی جانب گھور رہی تھی۔ گویا آنکھوں ہی آنکھوں میں نگل جائے گی۔
اسے اپنے ساتھ یہ کوئی بھیانک قسم کا ہونے والا مزاق لگ رہا تھا۔ وہ تو بہوش ہونے کے در پہ کھڑی تھی اگر جو دروازے کو سختی سے نہ پکڑ کر کھڑی ہوتی۔
تم نے جواب نہیں دیا حازم؛؛؛ کیا تمہیں اعتراض ہے میرے اس فیصلے سے؟؟ عامر صاحب اپنی بات دوبارہ سے دہرا کر پھر سے اس کی جانب دیکھنے لگے۔

چچا جان میں!!!! میرا مطلب آپ پہلے؛؛؛؛ وہ ابھی کچھ بولتا کی اس کی نظریں سامنے کھڑی مہرماہ پر پڑی؛؛؛ اس کا چہرہ سرخ مرچ کی مانندِ تمتما رہا تھا وہ قدم بری طرح لڑکھڑائے تھے۔
وہ اپنی بات پوری کرنے کے لئے جیسے ہی منھ کھولا تھا؛؛؛ مہرماہ دندناتی سیدھا اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی گویا زندہ زمین میں چنوا دے گی۔

گھٹیا انسان ؛؛؛؛ تمہیں لگتا ہے میں تم سے شادی کروں گی؟؟ اس خوشفہمی میں تم ہو کی مہرماہ عامر تم سے شادی کرے گی؛؛؛ تمہارا اور میرا کوئی مقابلہ ہے؟؟ مہرماہ غصے سے پاگل ہوتی اس کا گریبان اپنی ہاتھوں میں پکڑ کر چینخ چینخ کر چلا رہی تھی۔
یہ سب اتنا حیرت انگیز تھا کی سبھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ آسیہ بیگم قریب آ کر مہرماہ کا ہاتھ اس کے گریبان سے چھڑانے کی کوشش کی تھیں جس کو بری طرح وہ جھٹکارتی اس کا گریبان اور بھی سختی سے دبوچی تھی۔
میں مر کر بھی تم سے شادی نہیں کروں گی؛؛؛ بلکہ میں مرنا پسند کروں گی مگر تم سے شادی؛؛؛ میں تھوکتی ہوں تم پر؛؛؛ اس کے منھ میں جو آ رہا تھا وہ بولے جا رہی تھی؛؛؛ حازم اپنا گریبان چھڑانے کی کوشش کیا تھا لیکن گرفت کافی مضبوط تھی۔
میں نفرت کرتی ہوں تم سے شدید نفرت؛؛؛؛ وہ زبان سے چنگاری اگلے جا رہی تھی؛؛؛ جبھی عامر صاحب اپنی جگہ سے آگے بڑھے تھے اور مہرماہ کا بازو پکڑ کر اپنے مقابلے کھڑا کرتے ہوئے اس کے منھ پر اپنی پانچوں انگلیاں چھاپ دیے تھے۔
ماحول میں یکدم سے سناٹا چھا گیا تھا۔
رمیض آگے بڑھ کر عامر صاحب کو روکنے کی کوشش کیا تھا و آسیہ بیگم منھ پر ہاتھ رکھے یہ سارا منظر دیکھ کر رہی تھیں۔ اس کے برعکس ژالے کے ہونٹ پر ایک کمینی سی مسکراہٹ ابھر کر آئی تھی۔

اسے اب کہیں نہ کہیں مہرماہ سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔
اور یہ بھی کاملہ یقین ہو گیا تھا کی اب تو کوئی چانس نہیں تھا کی مہرماہ حازم کی شادی ہوتی؟؟؟ جس قسم ہے حالات تھے۔

مجھے افسوس ہو رہا ہے آپ کی زبان پر؛؛؛ میری اکلوتی بیٹی ہونے کا ناجائز فایدہ بہت اٹھا لیا آپ نے؛؛؛ مگر اب نہیں؛؛؛ عامر صاحب خطرناک تیورں سمیت مہرماہ کو جھاڑے تھے۔
مہرماہ منھ کھولے اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر اپنے باپ کی جانب پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
یہ تھی اس کی حیثیت؛؛؛ یہی تھی اس کی عزت؛؛؛ ایک ایسے شخص کے لئے آج وہ اپنے باپ سے تھپڑ کھائی تھی جس کا اندازہ بھی وہ نہیں لگا سکتی تھی۔
پھر بھی اس کے ہونٹوں پر ایک باغی قسم کی مسکراہٹ رینگی تھی۔
وہ ایک قدم حازم کی جانب چل کر آگے بڑھی اور اس کی آنکھوں میں جھانک کر بغاوت سے بولی۔
اس ایک تھپڑ کی وجہ سے تم یہ مت سمجھنا کی؛؛؛؛ میں خاموش ہو جاؤں گی؛؛؛؛ یہ میں تم سے شادی کے لئے ہاں کر دوں گی؛؛؛؛ تمہاری بھول ہوگی حازم عباس بہت بڑی بھول؛؛؛ وہ دانت پر دانت جمائے ایک ایک لفظ پیس کر بولی و سب پر ایک نفرت بھری نگاہ ڈال کر الٹے قدموں سمیت اپنے کمرے کی جانب بھاگی تھی بیٹی کے پیچھے آسیہ بیگم نے بھی دوڈ لگائی تھی⁦۔

اس کے جاتے ہی عامر صاحب پاس رکھی کرسی پر تقریباً گرتے ہوئے انداز میں بیٹھے تھے۔ انہیں آج اپنی تربیت پر شرمندگی کے سوا کچھ نہیں ہو رہا تھا۔ وہ ایک شرمندگی سے بھرپور نظر حازم کی جانب ڈالے جس پر حازم ایک ٹھنڈی آہ بھرتا اپنا کالر درست کرتے ہوئے خاموشی سے ڈائننگ حال سے باہر چلا گیا تھا۔
اس کے پاس ایک لفظ نہیں تھا کی وہ کچھ بولتا۔ خوشی مل جانے سے پہلے ہی ملیا میٹ ہو چکی تھی۔ اسے تو اپنے اوپر ہنسی آ رہی تھی۔ وہ کیسے مہرماہ کو اپنے ہمسفر کی جگہ رکھ کر سوچنے لگا تھا۔

محبت ہو بھی جائے تو کبھی اظہار مت کرنا یہ دنیا سچے جذبوں کی بڑی توہین کرتی ہے

ایک ایک کر کے سبھی حال کمرے سے جا چکے تھے سوائے ژالے کے؛؛؛ جو مزے سے جوس کا گلاس لبوں سے لگائے گھونٹ گھونٹ گلے سے نیچے اتارتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔
اس کے دل کو کس قدر سکوں ملا تھا؛؛؛ مہرماہ کی باتوں سے؛؛؛ گویا ٹھنڈے پھواروں کی چھینٹیں دل و تپتے جسم پر کسی نے چھڑک دی ہو۔
تم کیا؛؛؛ میں خود کبھی نہیں ہونے دوں گی؛؛؛؛ حازم سے تمہاری شادی؛؛؛؛ کیونکہ اس سے میں محبت کرتی ہوں یہ الگ بات کہ کبھی ظاہر نہیں کیا میں نے؛؛؛؛ لیکن بہت جلد انشاللہ بہت جلد سب کچھ کھل کر سامنے آئے گا۔ وہ جوس کا گلاس ہاتھوں کی انگلیوں سے نچاتے ہوئے شاطرانہ مسکراہٹ سمیت سوچی تھی۔

#

تایا ابو اتنا غلط فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں امی؟؟ مہرماہ اور حازم کا جوڑ پی نہیں ہے کوئی؛؛؛ کمرے میں آ کر رمیض کا سر گھوم گیا تھا نیچے ہوئی ساری بکواس سے۔۔۔
وہ تو جلتے توئے پر ہی جا بیٹھا تھا۔ ابھی تو وہ اپنے اور مہرماہ کے متعلق عامر صاحب سے بات کرنے کی پلاننگ بنا رہا تھا اوپر سے اتنا بڑا طوفان اپنے آپ بیچ میں آ گیا تھا؛؛؛ جس کا کسی کے وہم و گمان بھی نہیں تھا۔

آہستہ بولو رمیض؛؛؛؛ کیا ہو گیا ہے؟؟ کوئی سن لے گا!!!! بیٹے کی بات سن کر صبا بیگم پریشانی سے فوراً پہلے جا کر دروازہ لاک کی تھیں۔
مجھے تو یہ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ؛؛؛؛ تایا ابو کو میں نہیں دکھا؛؛؛ اور حازم دکھ گیا؛؛؛ یہ جانتے ہوئے بھی کی ان کی بیٹی کس قدر حازم سے کھار کھاتی ہے؛؛؛ رمیض غصے کی حالت میں کمرے کا چکر کاٹتے ہوئے تلملا کر بولا تو نے اسے آگے سے روکنے کی کوشش کی۔

ارے تو سوچنے سے کیا ہوتا ہے؛؛؛ کونسا مہرماہ تیار ہے اور تم فکر نہ کرو؛؛؛؛ میں بھائی صاحب سے بات کروں گی اس کے متعلق؛؛؛
بھئی گھر کے بچے تم بھی ہو؛؛؛ لیکن خدا کے لئے تم کوئی تماشہ نہ کھڑا کر دینا۔۔۔۔ اس کو تسلی دیتے ہوئے صبا بیگم کسی نہ کسی طرح اسے مطمئن کرنے میں قائل ہو ہی گئی تھیں۔
اس رشتے سے تقریباً سبھی کو اعتراض تھا۔ کوئی خوش نہیں تھا۔ لیکن عامر صاحب کے سخت اصولوں کے بنا پر کسی کی بولنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
حتیٰ کی آسیہ بیگم کی بھی نہیں؛؛؛؛ ورنہ وہ تو بیٹی کے معاملے میں حد سے زیادہ وہ حساس تھیں۔ بچپن سے اس کو کسی شہزادیوں کی طرح پال پوس کر بڑا کیا تھا اب جبکہ اس کی ساری زندگی کا سوال تھا تو وہ کچھ بھی بولنے سے قاصر تھیں۔

کمرے میں آ کر وہ اندر سے دروازہ لاک کر لی تھی۔
باہر کھڑی آسیہ بیگم دروازے پر ہاتھ رکھ کر پیٹ پیٹ کر تھک چکی تھیں۔ مگر ساری کوششیں بے سود تھیں۔ وہ سیدھا بیڈ پر آ کر گری اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا سوچ سوچ کر اس کا دماغ پھٹنے کی در پہ تھا۔
اب اگلا فیصلہ کیا ہونے والا تھا۔ اگر جو اس کے حق میں نہ ہوا تو وہ تو جیتے جی مر جائے گی۔
آنے والے وقت کا سوچ کر اس کا ذہن بلکل ماؤف ہو چکا تھا۔ ابھی سے کمزوری کا احساس ہونے لگا تھا رو رو کر۔۔۔۔۔ خالی پیٹ چکر بھی آ رہیں تھے لیکن ضدی طبیعت و ہٹدھرمی کے بنا پر یہ ہرگز گوارہ نہیں تھا کہ وہ ایک نوالہ بھی منھ میں ڈالتی۔