Ehde Marasim By Zariya Readelle50063 Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
رات کی تاریکی اپنے عروج پر تھی۔ ایک پُراسرار سا سنّاٹا ماحول پر عجیب سی کیفیت طاری کرتا ہوا ہر سو پھیلا ہوا تھا۔ اس خاموشی بھرے ماحول میں محض گھڑی کی ٹِک ٹِک اور جھینگروں کی آوازیں ہی گردش کر رہی تھیں۔ اس نے اضطراری کیفیت میں کروٹ بدلی مگر نیند کی آغوش میں بھی اس کا ذہن عجیب ناخوشگوار سے احساسات لئے ہوئے تھا۔
“اس کو یہاں کیوں لے آئے آپ ہاں؟ ارے خود تو اس کی وہ بدکردار ماں کسی غیر مرد کیساتھ رات کے اندھیرے میں کہیں دفع ہو گئی اور اوپر سے آپ ہمارے لئے یہ سوغات اٹھا لائے ؟ کوئی اپنی تمام تر سفاکیت سے اس کے کانوں میں چیخا تھا۔
“توبہ توبہ، ارے مجھے تو اس بات پر بھی شک ہے کہ یہ بھائی صاحب کا بیٹا ہے بھی یا نہیں۔۔۔؛؛
“خبردار، اگر کسی نے مزید زہر افشانی کی۔ یہ میرا خون ہے اور یہ تاحیات یہیں رہے گا۔ بھائی صاحب بھی وقت کے ساتھ اس کے ساتھ نارمل ہو جائیں گے۔ مزید کوئی بھی بکواس نہیں سننا چاہتا میں۔۔۔۔؛ کوئی اس کی حمایت میں زور و شور سے بول رہا تھا۔ آوازیں آپس میں گڈمڈ ہو رہی تھیں۔ نیند کی کیفیت میں بھی اسے یوں محسوس ہو رہا تھا گویا پورے کمرے میں دھواں ہی دھواں بھر گیا ہو اور اس گھٹن زدہ ماحول میں اس کی سانسوں کی تار بھی بس اپنے آخری پڑاؤ پر ہو۔ وہ ایک جھٹکے سے بیڈ پر اٹھ بیٹھا۔ وحشت زدہ نگاہوں سے اس نے اپنے چاروں سمت دیکھا اور چند لمحے اسی ناسمجھی کی کیفیت میں بیٹھے رہنے کے بعد گویا ذہن پر ایک جھماکہ ہوا اور پھر آس پاس کا منظر روشن ہوتا چلا گیا حتیٰ کہ اس کا گرد آلود ماضی بھی۔۔۔،،
اس نے شہادت کی انگلی سے ہلکے سے اپنی پیشانی چھوئی تو وہ اسے نم محسوس ہوئی۔ کمرے میں اے سی آن ہونے کے باوجود اس خنکی بھرے ماحول میں وہ اپنی اس حالت پر بیساختہ ایک شکستہ مگر استہزائیہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیل گئی۔
“حیرت، بلکہ صد حیرت ہے تم پر مسٹر حازم، اتنے برس گزر جانے کے باوجود آج بھی تم اپنی اس کیفیت پر اتنے حیران و پریشان ہو۔ جو چیز تمہارے مقدر میں ہے اسے تمہاری عادتوں میں بھی شامل ہونا چائیے۔۔۔،، پُر افسوس لہجے میں زیرلب خود سے کہتے ہوئے وہ سر جھٹک کر اٹھا اور دراز میں سے سگریٹ کا پیکٹ اور لائٹر اٹھا کر کمرے سے ملحقہ بالکنی کی جانب بڑھ گیا۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کی رات ایسے ہی سگریٹ کے دھوئیں سے نبردآزمائی کرتے ہوئے اپنی صبح کر دینے والی تھی۔
یہ جو میں ہوں زرا سا باقی ہوں
وہ جو تم تھے وہ مر گئے مجھ میں !!
میرے اندر تھی ایسی تاریکی
آ کے آسیب ڈر گئے مجھ میں !!
میں نے چاہا تھا زخم بھر جائیں
زخم ہی زخم بھر گئے مجھ میں !!
پہلے اترا میں دل کے دریا میں
پھر سمندر اتر گئے مجھ میں !!
میں وہ پل تھا جو کھا گیا صدیاں
سب زمانے گزر گئے مجھ میں !!
♥️♥️♥️♥️
شام کی چائے کا لطف لان میں بیٹھ کر سبھی لوگ لوازمات کے ساتھ انصاف کرنے میں لگے تھے_
سورج کی شعاعیں چھت سے ہوتی سیدھا لان کے دائیں طرف اپنا عکس بناتی تھی اس وقت لان ایک عجیب خوبصورت منظر پیش کرتا تھا۔
سبھی کزنز چائے کی چسکیاں لیتے ہوۓ آپس میں مزاق کر رہے تھے۔
ژالے جاوید صاحب کی صاحبزادی تھی۔ جس کے باپ کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا؛؛؛ و ماں اریبہ بیگم بھائیوں کے گھر بیٹی کو لے کر آ گئی تھیں۔ اور کچھ ہی سالوں بعد وہ بھی اسے اس دنیا میں اکیلا چھوڑ گئیں تھیں۔ لیکن اسے اس گھر میں کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی کسی نے۔ ایک بیٹی کی طرح اس کی پرورش کی گئی تھی۔
اس کے بعد حبیب صاحب کی ایک بیٹی عیشہ و ایک صاحب اولاد رمیض تھا۔
سبھی لڑکے و لڑکیاں آپس میں نہ جانے کون سی باتوں پر منھ پھاڑ قہقہ لگا رہے تھے۔ گھر کی خواتین کی محفلیں حال کمرے میں سجی تھیں۔
بھئی ہم لوگ جب ساتھ میں ایسے بیٹھتے ہیں کتنا مزہ آتا ہے ایک یہی تو دن ملتا ہے ہم لوگوں کو جو ساتھ میں اسپئنڈ کرتے ہیں۔ عیشہ پکوڑے کی پلئٹ اپنی گود میں رکھتے ہوئے مسکرا کر بولی تھی۔
اسے ہلا گلا بہت پسند تھا زیادہ تر اس کا وقت سانگ سننے میں ہی بیت جاتا تھا۔
نہیں ہم سب کے درمیان ہمارے ایک عدد کزن غیر موجود ہیں ارے حازم بھائی۔۔۔ ژالے چائے کا کپ ٹرے میں رکھ کر سب کو یاد دہانی کروائی تھی ژالے کی بات سن کر مہرماہ عامر کا ایک آدھ گرام خون خشک ہو گیا تھا غصے سے مٹھیاں بھینچتی وہ اپنا غصہ بمشکل ضبط کی تھی۔
اس انسان کا نام بھی مت لو میرے سامنے ورنہ اس کی جگہ تمہیں شوٹ کر دوں گی۔ زبان سے زہر اگلتی وہ یکدم ناگن بن گئی تھی۔ جس شخص کا نام اسے نہیں پسند تھا اس کا ذکر وہ کیونکر برداشت کرتی۔
مہرماہ آج تم بتا ہی دو اس سے اتنا کیوں چڑتی ہو چلو سمجھ میں آتا ہے گھر کے بقیہ لوگ کیوں انہیں نہیں پسند کرتے لیکن تم تو کچھ زیادہ ہی مطلب ایکسٹرا کھار کھاتی ہو ایسا کیوں؟؟؟؟ سب لوگ اس کی طرف دیکھنے لگے تھے سب کے چہرے پر ایک ہی سوال تھا۔
اس سوال پر اس کے چہرے کے نقوش تن گئے تھے وہ دانت پیستی منھ کا زاویہ بگاڑی تھی اسے چائے کی جگہ یوں لگ رہا تھا وہ زہر کا پیالہ پی رہی ہو۔
کیوں نہ جلوں اور کیا کہا تم سب نے چڑتی ہوں میں ؟؟؟
میں بتاؤں میں صرف اس سے چڑتی نہیں ہوں نفرت کرتی ہوں بے تحاشہ نفرت بابا نے ہمیشہ اس کو مجھ پر فوقیت دی ہے میرا ہر کام انہیں غلط لگتا ہے لیکن اگر یہی کام ان کا لاڈلا حازم عباس کرتا ہے تو انہیں سہی لگتا ہے۔ بچپن سے وہ میری چیزوں پر ناغ بن کر بیٹھا رہتا تھا۔ مجھے تو کبھی کبھی لگتا ہے اپنے بابا کی سگی اولاد میں نہیں وہی ہے۔ اس کے لہجے میں دنیا جہاں کی نفرت حقارت اور غصے کا ایک لاؤ تھا۔
اس کی باتیں سن کر سب نے ہی ہاں میں تائید کی تھی سوائے ژالے کے جو یہ سب سن کر مہرماہ آمیر کو فقت دیکھتی ہی رہ گئی۔
کوئی کسی سے اتنی نفرت کیسے کر سکتا ہے۔ وہ محض سوچ کر رہ گئی۔
یہ بات تو تم نے سو آنے درست کہی چچا جان اس کو ہمیشہ تم پر فوقیت دیتے ہیں نہ جانے ایسا کون سا جادو کر دیا ہے اس نے۔ رمیض نے جلتی پر نمک چھڑکا تھا۔ جو فوراً کام کیا تھا۔
تایا ابو تو اسے پوچھتے نہیں ہے بیچارا میرے ہی بابا کی ہمدردیاں سمیٹ لیتا ہے ہممم۔۔ حقارت سے کہتی وہ پلئٹ میں سے گرم پکوڑے نکال کر منھ میں رکھی تھی۔
تا دیر حازم عباس موضوع گفتگو بنا رہا ان کے درمیان اور یہ بات بھی مہرماہ کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
اب کوئی اور بھی بات کریں یہ آج اسی انسان کو ڈسکس کرنا ہے۔ اس کی برداشت سے اب باہر تھا سب کچھ۔
ہاں ہاں کیوں نہیں بلکہ اشعار کی محفل لگاتے ہیں چلو سب تیار ہو جاؤ شروع کرتے ہیں سب سے پہلے مہرماہ سے۔ رمیض نے فوراً موضوع گفتگو بدلا تھا اس پہلے کی وہ اس کا سر پھاڑ دیتی۔
وفا کے قید خانوں میں
سزائیں کب بدلتی ہیں
بدلتا دل کا موسم ہے
ہوائیں کب بدلتی ہیں
میری ساری دعائیں
تم سے ہی منسوب ہیں ہمدم
محبت اگر سچی ہو
دعائیں کب بدلتی ہیں
کوئی پا کر نبھاتا ہے
کوئی کھو کر نبھاتا ہے
نئے انداز ہوتے ہیں
وفائیں کب بدلتی ہیں
واہ مہرماہ کیا عمدہ شعر تم نے پڑھا ہے لاجواب اعلی۔۔ سب نے کھلے دل سے اس کی تعریف کی تھی اور وہ مسکرا داد وصول کرنے لگی تھی۔
اب چلو رمیض تم کوئی شعر سناؤ۔ سب لڑکیاں رمیض کی جانب دیکھنے لگی تھیں رمیض کالر جھاڑتا گردن اکڑا کر گلا صاف کر کے آنکھ بند کرتا شعر پڑھنا شروع کیا تھا۔
محبت پھول ہوتی ہے
کہو تو پھول بن جاؤں
تمہاری زندگی کا
اک حسین اصول بن جاؤں
سنا ہے ریت پر اکثر تم
چل کر مہک جاتے ہو
کہو تو اب کی بار میں
زمیں کی دھول بن جاؤں
بہت نایاب ہوتے ہیں
جنہیں تم اپنا کہتے ہو
اجازت دو کی میں بھی
اس قدر انمول بن جاؤں
واہ رمیض تم تو بڑے اچھے شاعر ہو؛؛؛ ہمیں تو یہ علم ہی نہیں تھا۔ مہرماہ سمیت سبھی لڑکیاں رمیض کی تعریف کے پل باندھ رہی تھیں اور وہ مسکراتے ہوئے اپنی تعریفیں اصول کرنے لگے۔
مجھے لگتا ہے اس شعر کے ذریعے میرے دل کا حال وہ لڑکی جان ہی جائے گی۔ نظروں کے عین سامنے بیٹھی مہرماہ کا خوبصورت چہرہ دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں سوچ کر خود ہی مسکرا دیا تھا۔
باقی سب نے بھی ایک سے بڑھ کر ایک اشعار سنائے تھے۔ خوب دیر تک یہ محفل سجی رہی رات کے نو بجے کہیں جا کر محفل کا اختتام ہوا تھا۔ سبھی افراد کھانا کھا کھا کر اپنے کمرے میں چلے گئے تھےتھکن کا شدید غلبہ ان پر طاری تھا۔
نیند تو اسے بھی بھی بہت آ رہی تھی وہ اپنے کمرے میں جانے کے لئے اٹھی تو عامر صاحب کی آواز حال کمرے سے گونجتی اس کے کانوں سے ٹکرائی تھیں۔
بیٹا بہت دن ہو گئے گھر کا چکر نہیں لگائے ایک آدھ دن فرصت نکال کر آؤ بھئی جب سے دوسرے شہر رہنے لگے ہو آتے ہی نہیں ہو۔ عامر صاحب کا خوشگواری لہجہ اس بات کو واضح کر دیا تھا دوسرے جانب کال پر کون ہے؟ وہ کھولتے ہوئے دماغ کے ساتھ دروازے کی اوٹ میں چھپ کر ان کی باتیں سننے لگی تھی۔
چچا جان انشاللہ کل میں چکر لگاتا ہوں کام تھوڑا معمول سے زیادہ تھا۔ حازم عباس آسمان میں چمکتا چاند کو غور سے دیکھتے ہوئے مسکرا کر عامر صاحب کو اطمینان دلایا تھا اس کے علم میں یہ بات واضح تھی وہ زیادہ دن گھر کا چکر نہیں لگاتا تو وہ پریشان ہو جاتے تھے۔
چلو ٹھیک ہے ہمیں انتظار رہے گا تمہاری آمد کا اپنا خیال رکھنا خدا حافظ۔۔ کال منقطع ہو گئی تھی عامر صاحب فون جیب میں ڈال کر بائیں جانب کے دروازے سے نکل کر اپنے مشترکہ کمرے کی اور بڑھ گئے تھے۔
وہ شدید غصے میں اپنی مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا حازم عباس کو آگ لگا دے۔ نفرت کا ایک الاؤ اس کے اندر پک رہا تھا۔ لیکن وہ مجبوریوں کی ماری کچھ نہیں کر سکتی تھی۔
حازم عباس تم نہیں جانتے میں تم سے کتنی شدید نفرت کرتی ہوں جو لفظوں میں کبھی بیان نہیں ہو سکتی۔ میرے بابا کو ہتھیا کر تم کیا سمجھتے ہو میرا سب کچھ ہڑپ لو گے تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ وہ سفاکیت سے سوچتی تن فن کرتی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔
♥️♥️♥️♥️
ہاں چچا جان دن تو واقعی بہت ہو گئے ہیں اس کو دیکھے چکر لگانا تو اب لازمی ہے۔ وہ سوچتے ہوئے مسکرا کر آسمان کی جانب دیکھنے لگا تھا جہاں چاند اپنے پورے شباب پر تھا۔ ٹھنڈی یخ موتر ہوائیں اس کی روح کو چھوتی گزر رہی تھی۔ وہ آنکھ بند کئے کئی لمحے اپنے اندر سکون جذب کر رہا تھا۔
یکایک مہرماہ آمیر کا عکس اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزرا تھا وہ آہستگی سے مسکرا دیا تھا۔
تجھے روز دیکھوں قریب سے
میرے شوق بھی ہیں عجیب سے
میں نے مانگا ہے بس تجھی کو
اپنے رب اور اس کے حبیب سے
میری آنکھوں میں بے بس عاجزی
میرے خواب بھی ہیں غریب سے
میرے سب دکھوں کی دوا ہو تم
ملے کیا پھر سکون طبیب سے
میں بہت ہی خوش ہوں جوڑ کر
نصیب اپنے تیرے نصیب سے
حازم عباس اپنی عمر سے پہلے بہت بڑا ہو گیا تھا جو پڑاؤ اس کی زندگی میں چل رہا تھا اس کے بہت قریبی بھی نہیں سمجھ سکتے تھے۔ زندگی نے اس سے اس کی مسکراہٹ اس کی ہنسی سب چھین لی تھی۔ اپنے اوپر سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے حازم عباس اپنی عمر سے کئی گنا زیادہ سمجھدار و حساس ہو گیا تھا۔
.
