Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

بارش کے بعد آس پاس کے مناظر بہت واضح و شفاف نقشہ پیش کر رہے تھے۔ بارش ہونے سے قبل کی گرد آلودگی اب مٹی کیساتھ ہی کہیں گھل مل چکی تھی۔ پیڑ پودے سرتاپا سبز و شاداب نظر آنے لگے تھے، جبکہ پرندے بھی بجلی کی لمبی تاروں پر قطار در قطار بیٹھے ٹھنڈی و روح پرور ہواؤں کے رقص سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ آسمان بھی اب جی بھر کر مینہ برسانے کے بعد نارنجی رنگ میں ڈوبا ہوا تھا، حتیٰ کہ ہر منظر ہی خود میں ایک خوشگوار سی کیفیت سموئے ہوئے تھا۔ ہر شئے آنکھوں کو بھلی لگ رہی تھی۔

گھر کے سبھی افراد رات کا کھانا ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر خاموشی کے ساتھ کھا رہے تھے۔ عباد صاحب ( حازم کے والد ) بھی موجود تھے کھانے کی میز پر۔ حازم جب سے آیا تھا یہ پہلا سامنا ہوا تھا اس کا سعد صاحب سے اس نے باپ کو اپنائیت بھرے لہجے میں سلام کیا تو انہوں نے روکھے پھیکے انداز میں اس کے سلام کا جواب دیا تھا۔
زیادہ تر وہ گھر سے باہر ہی ہوتے تھے کبھی بزنس کی طرف سے تو کبھی کسی سے ملنا ملانا ابھی بھی وہ باہر سے ہی آئے تھے اور عامر صاحب کے بلاوے پر کھانے کی ٹیبل پر آئے تھے۔ ان کی دنیا الگ تھی۔ نہ کسی سے بات چیت نا ہی کسی سے مطلب اپنی سگی آل اولاد سے انہیں کوئی سروکار نہیں تھا۔ گھر میں بھی وہ زیادہ تر چپ چپ ہی رہتے تھے۔
سبھی لوگ کھانے سے فارغ ہو کر اپنی جگہ سے اٹھنے لگے تو عامر صاحب نے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔ سب نا سمجھی سے ان کی جانب دیکھتے ہوئے دوبارہ سے اپنی اپنی جگہ بر اجمان ہو گئے تھے۔
ارسلان کے والد صاحب کا فون آیا تھا۔ وہ کل صبح کی فلائٹ سے کراچی آ رہیں ہیں۔ انہوں نے ہم سے مطالبہ کیا ہے کی ارسلان اور عیشہ کی چھوٹی سی منگنی کا فنکشن رکھ لیتے ہیں؟؟
آپ لوگوں کی کیا رائے ہے؟؟ عامر صاحب جوابی کارروائی کے لئے عیشہ کی ماں و بھائی کی طرف دیکھے تھے۔ جن چہرے خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔
ویسے تو عیشہ حبیب صاحب کی بیٹی تھی۔لیکن بھائیوں میں بے پناہ محبت و جوائنٹ فیملی سسٹم ہونے کی وجہ سے وہ ساری زمیداری چھوٹے بھائی کے سپرد سونپ دیئے تھے۔۔۔ ان کے نزدیک عامر صاحب زیادہ سمجھدار و سلجھے ہوئے انسان ہیں اور ارسلان ان کے دوست کا بیٹا تھا سو انہیں نے سارے فیصلے کے حق عامر صاحب کے ہاتھ میں دے دئے تھے۔

منگی کی بات سن کر عیشہ حبیب شرماتی لجاتی کمرے میں دوڈ کر بھاگ گئی تھی۔ اس کے پیچھے سبھی مسکرا دئیے تھے۔

بھائی صاحب ہم تو تیار ہیں بلکہ ہم بھی چاہ رہے تھے بچوں کی منگنی کر دیتے ہیں اس سے پہلے کی ہم آپ سے کہتے سعود صاحب(ارسلان کے والد ) نے خود کہہ دیا تو بھلا ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟؟ صبا بیگم (عیشہ کی ماں) پر مسرت لہجے میں بولی تھیں۔
اور ہاں بھئی حازم تمہارا کیا خیال ہے؟؟؟ عامر صاحب اب اس کی طرف متوجہ ہو کر سوال پوچھے تھے جو وہاں پر کب سے خاموش بیٹھا تھا۔
مہرماہ عامر کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔ ایک پل میں ساری خوشیاں غم و غصّے میں تبدیل ہو گئی تھیں۔
وہ جلتی بھنتی اپنی چبھتی آنکھیں حازم عباس پر گاڑ دی تھی۔ جس کا اندازہ اسے بخوبی ہوا تھا۔ پر وہ اپنے تئے مہرماہ کی جانب دیکھنے سے قطعاً گریز برتا تھا۔ اور عامر صاحب کی جانب دیکھنے لگا تھا۔

اس کا یوں نظر انداز کرنا اسے گویا آگ ہی لگا دیا تھا۔ وہ جارہانہ تیوروں سمیت اس کی طرف دیکھ کر دل ہی دل سوچی تھی
بھلا اتنی عزت کیوں دی جاتی ہے اسے اس نے کرنی ہے عیشہ کی منگی جو ان کے خیالات پوچھے جا رہیں ہیں ہمممم۔۔۔۔۔
میرا کیا خیال ہے چچا جان جو آپ کو بہتر لگے!!! وہ سعادت مندی سے جواب دیا تھا۔ عامر صاحب اس کے جواب پر مطمئن ہوتے ہوئے عباد صاحب کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔
تو میں یہ پیغام دے دیتا ہوں اس ہفتے کی آخری تاریخ کو منگنی کا فنکشن رکھ لیتے ہیں۔
کیا خیال ہے سب کا؟؟؟ انہوں نے سب کی رائے لینا ضروری سمجھا تھا۔
بابا بہت ہی اچھا خیال ہے میں تو کہتی ہوں ابھی سے شاپنگ کرنا شروع کر دیتے ہیں اب دن ہی کتنے ہیں میں تو بڑا ہی خوبصورت سا جوڑا لوں گی۔۔ مہرماہ اپنی چئیر سے اٹھ کر عامر صاحب کے قریب آ کر ان کے بازوں میں اپنا ہاتھ ڈال کر معصومیت سے بولی تھی۔ اس کی باتیں سن کر سبھی ہنس دیئے تھے سوائے حازم عباس کے جو ہنسنے کے بجائے اس کے چہرے کے ایک ایک نقوش کو دل کی دنیا میں اتار رہا تھا۔ اتنا بے اختیار تو وہ کبھی نہیں تھا لیکن اس پل دل نے عجیب سے کروٹ لی تھی۔
ہاں ہاں میری گڑیا انشاللہ آپ جو چاہیں گے وہ آپ کو ملے گا۔۔ عامر صاحب اس کا سر تھپتھپا کر پیار سے بولے تھے۔
تھئنکو بابا۔۔۔۔ وہ مزید لاڈ اٹھوانے کے چکر میں تھی جبھی عامر صاحب کا فون رنگ ہوا تھا انہوں نے موبائل جیب سے نکال کر دیکھا تو سعود صاحب کی کال تھی۔ وہ کال پک کر کے چئیر سے اٹھ کر لان کی سائڈ چلے گئے تھے۔
سبھی کے چہرے پر خوشیوں کی ایک لہر دوڈ گئی تھی۔ لڑکے و لڑکیایوں سمیت گھر کے دیگر افراد اپنی اپنی تیاریوں کے متعلق بات چیت کرنا شروع کر دیئے تھے۔
ان میں اؤل نمبر پر مہرماہ عامر تھی۔ جو کان کے جھمکے سے لے کر پیر کی ہئلز تک کو لے کر ٹینشن میں تھی۔ اسے بناؤ سنگھار اچھا لگتا تھا لیکن خاص مواقعوں پر۔۔۔ اور یہ موقع اس کے لئے بہت ہی خاص تھا۔ گھر کی پہلی شادی کسی کی دیکھنا۔۔۔۔ اس کے تو پیر ہی زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔
حازم وہاں سے اکسکیوز کرتا اٹھنے لگا تھا جبھی عامر صاحب موبائل جیب میں ڈالتے ہوئے ڈائٹنگ حال میں نمودار ہوئے تھے۔
اور سب کو یہ خوشخبری سنانے لگے اسی ہفتے کی آخری تاریخ کو منگنی کا فنکشن ڈن اور یہ فنکشن گھر میں ہی ہوگا۔

واؤ کتنا مزہ آئے گا نہ ؟؟ وہ اتنا زیادہ اکساٹیڈ تھی کی اسے محسوس ہی نہیں ہوا پچھلے کچھ منٹوں سے اس پر کوئی بہت غور سے نظریں جمائے بیٹھا تھا۔

ہاں بھائی صاحب اب تو مجھے تیاری بھی شروع کر دینی چاہیے بہت کم وقت ہے۔۔۔۔ صبا بیگم تھوڑا فکرمند ہو گئی تھیں ان کی فکرمندی دیکھ آسیہ بیگم نے انہیں تسلی دی تھی۔

یہ عیشہ اندر کیوں بھاگ گئی؟؟؟ بھئی اس کی منگنی ہو رہی ہے اور وہ ہی غائب ہے؟؟ مہرماہ کا دھیان اب گیا تھا عیشہ کی طرف۔۔۔
وہ شرما گئی ہے !!! آسیہ بیگم اسے سمجھائی تھیں۔
اس میں شرمانا کیا ہے میں تو اپنی شادی پر بلکل نہیں شرماؤں گی شرط لگا لو مجھ سے !!! وہ مہرماہ عامر تھی کیا ہی چپ ہو جاتی خوشی کے مارے و یہ تک فراموش کر بیٹھی تھی کی سامنے باپ و تایا موجود ہیں
اسی کم عقلی کی وجہ سے تو وہ حازم عباس کے دل پر قابض ہو کر بیٹھی تھی۔ اسے جو دیکھتا پہلی نگاہ میں اسے معصوم کا لقب دے دیتا لیکن یہ معصومیت یہ بچپنا حازم عباس کو دیکھ کر یکسر بدل جاتا تھا۔

اچھا جو کرنا ہے کرنا اب چلو جاؤ سب لوگ اپنے کمرے اور ہاں حازم تم ذرا میرے کمرے میں آنا کچھ ضروری بات کرنی ہے تم سے۔۔۔ عامر صاحب سب کو کہتے جاتے ہوئے حازم کو پیغام دے گئے تھے۔ وہ سعادت مندی سے جی چچا جان کہتا جانے کے لئے قدم آگے بڑھا دیا۔
مہرماہ عامر اتنی زیادہ خوش تھی کی اس کا دوسری طرف دھیان ہی نہیں گیا تھا ورنہ اسکی روح بیچین ہو جاتی عامر صاحب کو حازم عباس سے کیا بات کرنی تھی۔

♥️♥️♥️♥️

وہ کھانے سے فارغ ہو کر سیدھا عیشہ کو ڈھونڈتی اس کے کمرے میں آئی تھی جہاں وہ بیڈ پر بیٹھ کر من ہی من میں اپنے ہونے میاں کا سوچ سوچ کر مسکرائے جا رہی تھی۔
مہرماہ اس کو شرماتا ہوا دیکھ اپنا سر پیٹتے ہوئے دوپٹہ گلے سے گلابی دوپٹہ نکال کر بیڈ پر پھینکی تھی اور اس کے بیڈ پر تقریباً کودنے والے انداز میں بیٹھتے ہوئے دھیمے لہجے میں اس کو چھیڑتی سرگوشیانہ بھرے لہجے میں پوچھی تھی۔
مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا تم اتنا کیوں شرما رہی ہو؟؟ مجھے یہ بتاؤ ارسلان میاں سے بات کرنی ہے؟؟ تھوڑا انڈر اسٹینڈنگ کے لئے!!!
اس کی باتیں سن کر عیشہ نے اپنے کانوں کو ہاتھ ہی لگا لیا تھا۔ اگر پکڑی جاتی تو بھلا کیا جواب دیتی۔
کیسی باتیں کر رہی ہو مہرماہ اگر چچا جان کو پتہ چل گیا تو؟؟
ارے کسی کو نہیں پتہ چلے گا تمہیں لگتا ہے میں کسی کو بتاؤں گی ؟؟ وہ ناراضگی سے منھ پھلاتے ہوئے پوچھی تھی۔ عیشہ اس کو سمجھانے کی کوشش میں ہلکان ہوئے جا رہی تھی مگر مجال ہے وہ اپنا آگے کسی کی سنتی۔
بلاآخر عیشہ کو گھٹنے ٹیکنے ہی پڑے تھے۔ دل تو اس کا بھی چاہ رہا تھا تھوڑا بات چیت ہو جاتی ہونے والے ہیسبیڈ سے بیچاری نے صرف جب سے رشتہ طے ہوا تھا پھوٹو ہی دیکھتی آ رہی تھی مگر اب جب موقع مل رہا تھا اس کا بھی جی لالچ میں پڑ گیا تھا۔
سوچ کیا رہی ہو بتاؤ نہ بات کرنی ہے؟؟ مہرماہ بضد ہوئی تو عیشہ نے ہولے سے گردن ہاں میں ہلا دی تھی۔
واؤ وآٹ آ گرئٹ آئیڈیا۔۔ وہ خوشی کے مارے اپنی جگہ سے اچھل ہی گئی تھی عیشہ اس کے منھ پر ہاتھ رکھتی کڑی نگاہوں سے گھوری کر آس پاس کے لوگوں کا خیال کرتے ہوئے آہستہ بولنے کی منتیں کرنے لگی تھی۔
افف ایک تو تم ڈرتی بہت ہو!!! مہرماہ برا سا منھ بنا کر اس کی بزدلی کا مزاق اڑائی تھی۔

یہ سب چھوڑو جناب کا نمبر کہاں سے ملے گا؟؟ عیشہ اس کے سر پر چپت رسید کی تھی۔ وہ برا ماننے کے بجائے اپنی سیکریٹ چالاکیوں کے بارے میں اسے بتانے لگی تھی۔
تم اس کی فکر نہ کرو وہ تو میں ڈھونڈ لوں گی۔۔۔ اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے وہ اپنے خطرناک عزم کے متعلق سوچنے لگی تھی۔ نمبر نکلوانا زیادہ مشکل نہیں تھا۔ اس کے لئے وہ گویا اس کو اپنے بائیں ہاتھ کا کھیل سمجھ رہی تھی۔
ذرا احتیاط سے ہاں کسی کو بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے خاص کر حازم کو !!! عیشہ اس کی لاپروایوں سے اچھی طرح واقف تھی اسی لئے محتاط رہنے کی تنبیہہ کر رہی تھی۔
اس کا تو نام ہی مت لو میرے سامنے اور اگر اسے پتہ چل بھی جاتا ہے تو کونسا فرق پڑتا ہے؟؟ ہم کون سا اس سے ڈرتے ہیں؟؟ حازم عباس کا ذکر اس سراپا آگ لگا دیا تھا۔

اچھا اب میں چلتی ہوں اور آدھے گھنٹے کے اندر نمبر لے کر تمہارے پاس حاضر رہوں گی شرط رکھ لو۔۔ وہ گردن اکڑا کر ہتھیلی آگے کی تھی۔
اب یہ شرط ورط چھوڑو اور جاؤ بھی!!! عیشہ اس کی سامنے پھیلی ہتھیلی کو نظر انداز کرتی جانے کا بولی تھی۔
ہاں ہاں جا رہی میاں جی سے بڑا بیتاب ہو بات کرنے کے لئے؟؟؟ وہ کمرے کمرے سے جاتے جاتے اسے چھیڑنا نہیں بھولی تھی عیشہ اس کے چھیڑنے کے انداز بری طرح بلش کر گئی تھی۔

♥️♥️♥️

وہ دروازے پر کھڑا ناک کرتے ہوئے اندر آنے کی اجازت طلب کر رہا تھا۔ عامر صاحب اس کو کمرے کے باہر کھڑے دیکھ فوری طور پر اندر آنے کی اجازت دئے تھے۔
وہ جتنا بھی اپنے چچا کا سگا ہو لیکن کبھی ان کی اجازت کے بغیر کمرے کی دہلیز پار نہیں کیا تھا۔ یہ بھی اس کے مزاج خاصہ حصہ تھا۔

تمہیں اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بیٹا۔۔۔۔۔ سگا چچا ہوں میں تمہارا اور تم میرے بیٹے جیسے ہو۔۔۔ عامر صاحب اسے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے شفقت سے بولے تھے۔
جی چچا جان لیکن۔۔۔
کوئی لیکن ویکن نہیں اور میں نے تمہیں یہاں پر ایک خاص کام کے لئے بلایا ہے امید ہے تم مجھے مایوس نہیں کروگے!!!! بلکہ مجھے یقین ہے تم مجھے کبھی مایوس کر بھی نہیں سکتے۔۔ ان کے لفظوں میں ابھرتا اتنا یقین حازم عباس کو خاموش رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔ وہ سوالیہ نگاہوں سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔
جیسا کہ تمہیں معلوم ہے عیشہ کی منگنی اسی ہفتے کی آخری تاریخ کو طے پائی گئی ہے۔۔۔ تو میری خواہش ہے تم چار دن کی آفس سے مزید چھٹی لے لو اور اس منگنی کے فنکشن کو سنبھال لو کیوں کی مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے بیٹا!!! وہ جس یقین و مان سے بولے تھے حازم عباس کو کوئی جواب نہیں سوجھا تھا۔ وہ تو ڈائنگ حال میں آنے سے پہلے ہی اپنا ارادہ بدل لیا تھا پرسوں جانے کے بجائے کل ہی وآپس جانا چاہتا تھا۔ اس گھٹن زدہ ماحول میں وہ اپنے آپ کو بہت ہی اکیلا محسوس کرتا تھا۔ اب یہ مزید چار دن!!! اس کے تو حواس باختہ ہو گئے تھے۔
چچا جان گستاخی معاف لیکن چار دن؟؟؟ وہ چچا سے بے لوث محبت ہونے کے باوجود ہاں کرنے کی ہمت نہیں جٹا پا رہا تھا۔
ہاں بیٹا بس چار دن کی ہی تو بات ہے اور مجھے یہ یقین ہے تم میری بات کا مان رکھو گے۔۔۔۔ اپنی چھٹیاں مزید آگے بڑھا لو بلکہ یوں کرو ابھی اور اسی وقت آفس والوں کو فون ملاؤ اور ان سے کہو چار دن کی مزید چھٹی چاہیے!!! عامر صاحب اس کی جانب کاملہ یقین نگاہوں سے دیکھتے ہوئے فون ملانے کا حل بتانے لگے تھے۔
چچا جان ایسے چھٹیاں نہیں ملتی میں نے صرف دو دن کا لیو نوٹ دیا تھا اور۔۔۔۔۔۔ وہ اس لمحے اپنے آپ کو بہت ہی بے بس محسوس کر رہا تھا۔
حازم تم یہاں کیوں نہیں رکنا چاہتے یہ میں جانتا ہوں بیٹا۔۔۔ لیکن میں کہہ رہا ہوں تم سے۔۔۔ تم تو میری کسی بات کو نہیں ٹالتے!!! عامر صاحب اس کو کسی بھی طریقے سے قائل کرنا چاہتے تھے بقول ان کے کی وہ گھر سے دور دور رہے اور خود کو اکیلا محسوس کرے یہ چیز وہ نہیں کر سکتے تھے۔ اس کے دکھ و درد کو کسی بھی طریقے سے کم کرنے کا انہوں نے کسی سے وعدہ کیا تھا۔ اور صرف اسی وعدے کے بنا پر ہی نہیں انہیں حازم عباس بہت ہی زیادہ عزیز تھا۔
مجھے شرمندہ نہ کریں چچا جان اگر آپ کی خوشی اسی میں ہے کہ میں رک جاؤں تو میں یہ کیسے رد کر سکتا ہوں؟؟ اس کی آواز میں لغزش پیدا ہو گئی تھی۔ وہ اپنی تمام تر تکلیفوں کے باوجود عامر صاحب کو مایوس نہیں کر سکا تھا۔
مجھے یقین تھا تم کبھی انکار نہیں کروگے اسی لئے تو نہیں تم اتنے عزیز ہو مجھے۔۔
عامر صاحب حازم کا جواب سن کر شادمانی ہوتے ہوئے گلے لگا لئے تھے۔
وہ بھی اس بے لوث محبت پر مسکرا دیا تھا۔

♥️♥️♥️♥️

نمبر کا تو کہہ دیا میں نے لیکن ملے گا کیسے؟؟؟ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے بابا سے ان کا موبائل کیا بہانہ کر کے مانگوں گی؟؟؟ وہ عامر صاحب کے کمرے کے باہر چکر کاٹتے ہوئے شہادت کی انگلی دانتوں تلے دبائے پریشانی سے دل و دماغ لگا کر سوچ رہی تھی۔

ہیلو کیا پیر میں کسی جنگلی جانور نے کاٹ لیا ہے جو اس طرح چکر کاٹ کر رہی ہو؟؟؟ ضامن ہاتھ میں اپنی بلیک شرٹ جو ملازمہ کے ہاتھوں پریس کرنے کو دیا تھا وہی لے کر واپس اپنے کمرے میں جا رہا تھا جبھی اس کی نظر سامنے مہرماہ پر گئی تھی جو لگاتار دروازے کے باہر ایک پیر پر دوڑے جا رہی تھی
تم؟؟؟ تم یہاں؟؟؟
ہاں کیوں میں یہاں نہیں ہو سکتا؟؟
میرا مطلب ہے تمہیں اپنے کمرے میں ہونا چاہیے!!! یہاں کیا کر رہے ہو؟؟؟ اور ہر وقت جاسوس کی طرح میرے پیچھے لگے رہتے ہو!!! وہ کسی بھی طرح راستہ صاف کرنا چاہتی تھی یقیناً ضامن کی موجودگی میں یہ کام ہونا نا ممکن تھا۔
اوہ ہیلو مجھے تمہاری جاسوسی کے علاؤہ بھی بہت کام ہے… ویسے مہرماہ تم نہ بڑی خوشفہمیاں پال کر بیٹھی ہو۔۔۔ پہلے تو تمہیں صرف حازم لگتا تھا جو تمہاری جگہ لینے کی کوشش میں رہتا تھا پر اب میں بھی لگنے لگا ہوں؟؟؟ ضامن برا ماننے کی ایکٹنگ کیا تھا۔ جس کا مہرماہ پر دور دور تک کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔
ہاں لگتے ہو۔۔۔۔اور اب جاؤ بھی سر پر ہی سوار ہو گئے ہو۔۔۔۔ مہرماہ بغیر کوئی لحاظ کئے بری طرح اس کو لتاڑی تھی۔
اپنی اس قدر عزت افزائی پر ضامن اسے گھورتا اندر کی جانب بڑھ گیا تھا۔
اس کو جاتا ہوا دیکھ مہرماہ نے شکر ادا کیا تھا۔ اور دوبارہ سے اپنے پلان پر فوکس کی تھی۔

میں کہوں گی بابا بارش کی وجہ سے میرے موبائل میں نیٹورک نہیں ہے۔۔۔ آپ کا فون صرف پانچ منٹ کے لئے چاہیے تھا مجھے اپنی دوست عافیہ کو کال کرنی ہے!!!
ہاں یہ بہانہ سہی رہے گا۔۔۔۔۔ اسے جیسے ہی بہانہ سوجھا وہ تو مارے خوشی سے ڈانس ہی کرنے لگی تھی گویا نمبر اس کے ہاتھ میں موجود ہو ابھی وہ پوری طرح اپنی خوشی انجوائے بھی نہ کر سکی تھی کی کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور اندر سے حازم عباس نمودار ہوا تھا۔
اس کو یوں ہاتھ ہوا میں لہراتا ہوا دیکھ حازم شاکڈ ہوا تھا۔ مہرماہ کا دھیان اس کی طرف ذرا بھی نہیں گیا تھا وہ پشت حازم کے سامنے کئے کھڑی تھی جس کی وجہ اسے دیکھ نہیں سکی تھی۔
حازم ہونٹ بھنچ کر کمرے سے باہر آ کر دروازہ آہستہ سے بند کر دیا تھا اور اس کے عین سامنے آ کر کھڑا ہو گیا تھا تاکہ محترمہ کا رقص چچا جان نہ دیکھ لیں۔

اگر ڈانس کرنے کا مزید ارادہ ہو تو مہربانی کر کے اپنے کمرے میں جا کر یہ اہم فریضہ انجام دیں کیوں چچا جان کے آرام میں خلخل پڑے گا اور یہ میں برداشت نہیں کروں گا۔۔۔ سینے پر ہاتھ باندھے وہ اس کے سامنے کھڑے ہو کر سنجیدگی سے بولا تھا۔
وآٹ؟؟؟ تماری اتنی ہمت کی تم مجھے آنکھیں دکھاؤ اور میں ڈانس کروں یہ کچھ بھی کروں تم سے مطلب؟؟؟ بڑے آئے چچا جان کا خیال رکھنے والے۔۔۔ اتنا ہی خیال ہوتا نہ تو یہاں سے چلے جاتے کیوں کی یہاں رکنے کا تمہارا کوئی جواز ہی نہیں ہے!!! اور یقیناً عیشہ کی منگنی میں تو تم رہوگے نہیں آفٹر آل تمہیں کسی نے مدعو جو نہیں کیا ہوگا۔۔۔۔۔ وہ آگے سے اس کے سوال کو تڑخ کر جواب دیتی ایک پل میں اس کی عزت نفس کو مجروح کی تھی۔

آپ فکر نہ کریں لوگوں کی۔۔۔ مجھے لوگوں سے کوئی غرض ہے بھی نہیں اور آپ کی اطلاع کے لئے آپ کو بتا دوں میں یہاں اب تب تک قیام پزیر ہوں جب تک یہ منگنی کا فنکشن ختم نہیں ہو جاتا افسوس کی آپ کو ابھی اور برداشت کرنا ہے مجھے۔۔۔۔۔۔۔ حازم عباس نے اس کے منھ پر تمانچہ مارا ہو جیسے وہ جاہ جلال کی کیفیت میں کھڑی اسے چھبتی نظروں سے گھورنے کا کام انجام دے رہی تھی۔
میری طرف سے تم بھاڑ میں جاؤ۔۔۔۔۔اور آئندہ میرے سامنے آنے سے پہلے خیال کر لینا ورنہ میں تمہارا حشر نشر کر دوں گی غلیظ انسان۔۔۔۔۔وہ جب غصے میں ہوتی تھی اسے اپنے الفاظ کا رتی برابر احساس نہیں ہوتا تھا۔ جیسے اس وقت ہوا تھا۔ وہ بولنے کے در پر آتی تو بنا سوچے سمجھے بولتی جاتی۔۔۔ اس کی باتیں حازم کی برادشت سے باہر تھیں لیکن اس لڑکی کو وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ بچپن سے حازم عباس کے دل کی ملکہ بن کر بیٹھی تھی۔ وہ اتنی خاموش محبت کرتا اس سے جس کا علم اسے خود ابھی جا کر کہیں ہوا تھا۔
اسے رب سے شکوہ بھی تھا زندگی میں کوئی بہت اچھا لگا دل کے بہت قریب محسوس ہوا تھا تو وہ کوئی اور نہیں مہرماہ عامر تھی۔

ہٹو میرے سامنے سے۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ ناگواری سے بولی تھی۔ حازم اس کے راستے سے ہٹ گیا تھا۔ کھڑے رہنے کا کوئی مطلب نہیں تھا۔
وہ نفرت کی ایک نگاہ اس کی طرف اچھالتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔ غم و غصّے کی وجہ سے اس کا ذہن ماؤف ہو چکا تھا جس کام کے لئے گئی تھی؛؛؛؛ اسے اب وہ بھی نہیں یاد تھا۔
کمرے میں آ کر اس نے دروازہ دھاڑ سے بند کیا تھا جس کی آواز حازم کے کانوں میں با آسانی پہنچی تھی۔
وہ وہیں پر رک کر کئی لمحے اس بند دروازے کی جانب دیکھا تھا جہاں اس کے لئے صرف اور صرف نفرت تھی۔ غصّہ تھا۔ ناپسندیدگی و ہقارت کا ایک جہاں آباد تھا۔
وہ فضا میں ایک گہری سانس کھینچتا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔

اس کا دماغ بری طرح مہرماہ کی باتوں سے متاثر ہوا تھا یوں محسوس ہو رہا تھا کسی بھی وقت وہ اپنا آپ کھو دے گا۔ اسے کمرے کے گھٹن زدہ ماحول سے کوفت ہونے لگی تھی۔ وہ کمرے سے ملحق بالکنی کی طرف آ گیا تھا جہاں سے دیکھنے پر آسمان پورا سیاہ نظر آ رہا تھا۔ اس کی زندگی کی سیاہ راتوں کی طرح۔۔۔۔
وہ اپنی سی کیفیت میں تھا اسی پل دروازے پر کسی نے دستک دیا تھا جس کی آواز اسے بالکنی میں ہوتے ہوئے بھی بے پناہ سناٹا ہونے کی وجہ سے سنائی دی تھی۔۔۔۔ وہ آنے والے کو اجازت دیتا پھر سے آسمان کی بلندیوں کی طرف دیکھنے لگا تھا۔
ژالے کمرے میں آئی تو اسے حازم عباس کہیں نظر نہیں آیا تھا وہ ارد گرد اسے ڈھونڈتی بالکنی کی طرف آئی تھی جہاں وہ آنکھ بند کئے آسمان کی جانب سر اٹھا کر اپنے آپ کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

حازم؟؟؟ کسی نے نہایت نرمی کے ساتھ اس کا نام پکارا تھا۔ وہ اپنے نام کی پکار سن کر آنکھ کھولا تھا اس کی نظروں کے عین سامنے ژالے تھی جس کے ہاتھ میں کوفی کا ایک مئڈئم سائز کا مگ تھا۔ جو اس نے اس کی طرف بڑھایا تھا۔ حازم شکریہ کرتا اس کے ہاتھ سے مگ تھام لیا تھا۔
پریشان ہو؟؟؟ ژالے اس کی پریشانی اس کے چہرے سے نہ جانے کیسے بھانپ لی تھی۔ جبکہ وہ ہر ممکن طریقے سے اپنا دکھ اپنا ملال چھپانے کی کوشش کرتا تھا۔
نہیں !!! تم بتاؤ تم یہاں؟؟ کوئی کام تھا؟؟ وہ سادگی سے سوال کرتا کوفی کا ایک گھونٹ اندر اتارا تھا۔
اس کے سوال پر ژالے کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ سج گئی تھی۔ جسے بمشکل اس نے حازم عباس کی نظروں سے چھپایا تھا۔
نہیں ایسے ہی!!! کیا میں تمہارے کمرے میں بنا کسی کام کے نہیں آ سکتی؟؟؟ وہ جس مان سے پوچھی تھی حازم عباس اس پر خاموش ہی رہا تھا۔

خیر یہ سب چھوڑو تم عیشہ کی منگنی میں رہوگے نہ؟؟ یہ چلے جاؤ گے؟؟؟ دیکھو اگر چلے گئے نہ تو میں بہت ناراض ہوں گی۔۔۔۔ روانگی سے بولتے ہوئے ژالے کی زبان لمحے کے لئے فصلی تھی جو حازم عباس کو بھی چونکا دی تھی۔
میرا مطلب ہم سب تم سے ناراض ہو جائیں گے !!! اس نے بات کو ڈولا ڈول ہوتا دیکھ فوراً سنبھال لیا تھا۔
کوئی ناراض نہیں ہوگا!!!! اور میں کہیں نہیں جا رہا جب تک منگنی نہ ہو جائے۔۔۔۔ وہ کوفی کا ایک اور گھونٹ اندر اتارتے ہوئے ژالے کی جانب دیکھے بغیر جواب دیا تھا۔
سچ میں؟؟؟ اس کا جواب سن کر ژالے بے انتہا خوش ہوئی تھی۔ مگر اسے پختہ یقین چائیے تھا اس لئے پھر سے وہ کنفرم کرنے کے لئے پوچھی تھی۔
ہاں!!!! اس کی خوشی حازم کی سمجھ سے باہر تھی۔ وہ نارمل سے انداز میں جواب دیا تھا۔
ژالے کی تو گویا دلی مراد پوری ہو گئی تھی۔ ایک انچاہی سی امنگ اس کے دل کے نہاں خانوں میں کروٹیں لی تھیں۔
اچھا اب میں چلتی ہوں!!!! وہ خود کو قدرے نارمل رکھتے ہوئے واپسی کے لئے مڑ گئی تھی۔
اسکو جاتا ہوا دیکھ حازم عباس کے ہونٹوں پر غمگین مسکراہٹوں نے ڈیرہ جما لیا تھا۔
کوئی کسی سے ناراض نہیں ہوتا سب کہنے کی باتیں ہیں۔ وہ تلخی سے سوچتے ہوئے کوفی ایک گھونٹ اور اندر اتارا تھا۔ نیند تو اب اسے ویسے بھی نہیں آنی تھی۔ اور کل سے منگنی کے فنکشن کی تیاری بھی شروع کر دینے تھی۔

مجھ کو دھوکہ دے گیا
میرا ذوق انتخاب
جو لوگ میرے تھے ہی نہیں
وہی لوگ مجھے اچھے لگے

♥️♥️

آ