Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

صبح صادق کا وقت ہو چلا تھا۔ آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے
موسم بھی آج کچھ گڑبڑ لگ رہا تھا۔
بارش ہونے کے آثار نظر آ رہے تھے۔
وہ صبح ناشتے سے فارغ ہو کر کالج کے لئے نکل گئی تھی۔ رمیض بھی آفس چلا گیا تھا۔
عامر صاحب و عباد صاحب آفس چلے گئے تھے۔
صبح صبح گھر یکدم خالی ہو جاتا تھا۔ کوئی کالج تو کوئی آفس۔۔
وہ ڈرائیور کے ساتھ کالج گئی تھی۔ ہفتے میں ایک دن تو اس کا چکر لگتا تھا کالج کا پڑھائی میں وہ اؤل درجے کی سست تھی۔ جیسے تیسے گریجویشن کمپلیٹ کر لیا تھا۔

مہرماہ کالج آ کر سخت بوریت کا شکار ہو رہی تھی۔ پڑھائی سے کوئی غرض تھی نہیں اسے وہ بورنگ سی شکل بنا کر لائبریری کا رخ کی تھی محض ٹائم پاس کرنے کے لئے۔

مہرماہ چلو یہاں سے شاپنگ سینٹر چلتے ہیں۔ تھوڑا سا شاپنگ کریں گے؛؛؛ اور کسی اچھے سے ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر کھانا کھائیں گے۔ مجھے تو بہت بھوک لگ رہی ہے۔
وہ لائبریری میں بیٹھی کتابوں کا مطالعہ کرنے میں محو تھی جبھی عافیہ اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔ عافیہ اس کی ایک و اکلوتی اس پورے کالج میں دوست تھی۔ دونوں کے مزاج بھی کافی ملتے جلتے تھے۔

مہرماہ عافیہ کی باتیں سن کر پریشانی سے بولی تھی۔
میں چلی تو جاؤں لیکن موسم بہت خراب ہو رہا ہے یوں لگ رہا ہے کبھی بھی بارش ہو سکتی ہے۔ وہ فکرمندی سے بولی تھی۔ دل تو اس کا بھی تھا جانے کا لیکن موسم کی خرابی کی وجہ سے اس کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔

ارے کچھ نہیں ہوتا؛؛؛
ایک گھنٹے میں واپس آ جائیں گے!!! پلیز چلو نہ۔۔۔۔عافیہ کی ضد پر اسے اٹھنا ہی پڑا تھا بھوک تو اسے بھی شدید قسم کی لگی تھی۔ موڈ خراب ہونے کی وجہ سے ڈھنگ سے ناشتہ بھی نہ کر سکی تھی۔

اچھا ٹھیک ہے چلتی ہوں۔ وہ بیگ میں کتابیں جلدی جلدی رکھ کر سڑھیاں پھلانگتی کالج کے مین گیٹ سے باہر آ گئی تھیں۔ یہ اکثر اوقات ہوتا تھا دونوں کلاسیز بنک کر کے سیر سپاٹے کے لئے نکل جاتی تھیں۔

♥️♥️♥️♥️

صارم میں نے سارے ڈاکومنٹس رکھ لئے ہیں تم ایک کام کرو کسی ریسٹورنٹ میں ٹہرو وہی پر ہم اپنا پروجیکٹ بھی ڈسکس کر لیں گے اور ملاقات بھی ہو جائے گی و تمہارے سارے ڈاکومنٹس بھی تمہیں مل جائیں گے۔ وہ فون کان سے لگائے اپنے جان سے عزیز دوست صارم کو کال کیا تھا جو پرسوں کی شام بیرون ملک سے واپس آیا تھا اس کے کچھ ڈاکومنٹس حازم کے پاس رہ گئے تھے جو اسے واپس چاہیے تھے۔

یہ سہی رہے گا!!! انفیکٹ میں خود تم سے ملنا چاہتا ہوں کافی دن ہو گیا ہے پھر میں تمہارا انتظار کرتا ہوں اور ریسٹورنٹ کا ایڈریس تمہیں میل کر دیتا ہوں۔
صارم دوسری طرف چہکا تھا۔ اسے حازم بہت عزیز تھا۔ حازم نے اس کی ایک ایک مشکل قدم پر مدد کی تھی۔ اور یہ احسان وہ کیونکر بھولتا۔
ٹھیک خدا حافظ ملتے ہیں پھر۔ وہ مسکرا کر الوداعی کلمات کہتا فون بند کر چکا تھا۔ اور تیاریوں میں مشغول ہو گیا تھا۔

حازم عباس کی تیاری مکمل ہو چکی تھی۔ کپڑے تو اس نے ایک بھی نہیں رکھے تھے۔ وہاں پر اس کے کپڑے لاتعداد پڑے تھے اس لئے کپڑے لے جانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
اس نے اپنے چند ضروری کاغذات و دیگر ضروریات کی چیزیں بیگ میں رکھ لی تھیں۔ دو دن بعد واپسی تھی۔
اسے اندر ہی اندر کہیں نہ کہیں اس بات کی خوشی بھی تھی دشمن جاں کو دیکھنے کا موقع تو ملے گا کافی دنوں سے اس نے اس کو دیکھا نہیں تھا۔
وہ واشروم سے فریش کو کر نکلا تھا اور بیڈ پر پڑی وائٹ شرٹ اٹھا کر پہننے لگا آستین کی بٹن دوسرے ہاتھ سے بند کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اسی وقت بیڈ پر پڑا موبائل رنگ ہوا تھا۔ وہ بٹن کو یونہی کھلا چھوڑ کر کال کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
دوسری جانب عامر صاحب تھے جو یقیناً اس کے آنے کے متعلق دریافت کرتے وہ کال پک کر کے موبائل کان کے پاس لے گیا تھا۔
اس کی سوچ کے عین مطابق عامر صاحب اس کے آنے کے متعلق پوچھ رہے تھے۔
چچا جان بس ابھی نکل رہا ہوں ایک امپورٹینٹ میٹنگ میں رہ گیا تھا۔ اس نے صاف گوئی سے بتایا تھا۔ عامر صاحب خوش ہوتے اسے دھیان سے آنے کا کہہ کر فون بند کر چکے تھے۔

وہ آئینے کے سامنے کھڑا اپنے گیلے بالوں میں بالوں میں برش پھیرنے لگا تھا۔
وائٹ شرٹ پر بلیک جینز میں وہ بلا کا پرکشش و ہنڈسم لگ رہا تھا۔ اپنے لمبے چوڑے قد و قامت کی وجہ سے وہ سراپا کوئی شہزادہ لگتا تھا۔ دیکھنے والے اس کی اس پراسرار شخصیت سے امپریس ہوئے بنا نہیں رہ سکتے تھے۔
اس کے بولنے کا طریقہ لوگوں میں اسے ہمیشہ معتبر رکھتا تھا۔
حازم عباس ساری دنیا تم سے امپریس ہو سکتی ہے لیکن ایک وہ پتھر کی مورت شائد کبھی نہیں۔۔۔ یہ پھر شائد وہ تمہاری قسمت میں ہی نہیں ہے۔
محبت بھی کتنی عجیب شئے ہے ہوئی بھی تو کس سے؟؟؟ جس کو میرا نام تک سننا گوارہ نہیں ہے؛؛؛ اس کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ سج گئی تھی۔
وہ اپنا آپ ظاہر و باطن سب پر قابو پاتا گاڑی کی کیز لے کر باہر آیا تھا۔ جہاں اس کی گاڑی پورچ میں کھڑی تھی۔ وہ گاڑی پورچ سے باہر نکال کر اپنے سفر کی اور چل پڑا تھا۔ جہاں سوائے ایک ہستی کے وہاں اس کا کوئی منتطر تھا یہاں تک کی اس کا باپ بھی نہیں۔

♥️♥️♥️

عافیہ موسم تو کافی خراب ہو رہا ہے۔
میرے خیال سے اب ہمیں نکلنا چاہیے۔ وہ کالے گھنے بادلوں کو دیکھ کر پریشان ہو گئی تھی۔ کسی بھی وقت بارش ہونے کا امکان تھا۔ ٹھنڈی تیز ہوائیں چاروں اور سے بہہ رہی تھیں۔ یہاں تک کی ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی شروع ہو چکی تھی۔
ارے کچھ نہیں ہوتا!!! آرام سے چلیں گے کون سا کالج بھاگ رہا ہے؟؟ عافیہ اس کی پریشانی کو خاطر میں لائے بغیر کھانے سے انصاف کرنے لگی تھی۔

وہ بھی مرتی کیا نہ کرتی کے مصداق کھانا کھانے لگی تھی۔ لیکن کہیں نہ کہیں اسے ڈر بھی لگ رہا تھا۔ ویسے تو ڈرنے والوں کی صف میں وہ ہرگز نہیں تھی لیکن بابا جان کو جواب جو دینا پڑتا ۔
کہاں تھی؟؟ اتنی دیر کیوں ہوئی؟؟ یہ چیز اسے پریشان کر رہی تھی۔

♥️♥️♥️

حازم کہاں پہنچا ہے یار؟؟؟ میں کب سے تیرا اتظار کر رہا ہوں۔
کہیں راستہ بلاک تو نہیں ہو گیا؟؟ صارم نے دوسری مرتبہ کال گھمائی تھی۔ موسم بگڑتا دیکھ اسے پریشانی ہو رہی تھی۔

نہیں یار بس گاڑی پارک کر رہا ہوں ڈونٹ وری۔۔ وہ ریسٹورنٹ پہنچ کر پارکنگ ائریا میں گاڑی پارک کے کے ریسٹورنٹ کے اندر داخل ہوا تھا۔
تھوڑی سی مشقت کے بعد اسے صارم سامنے ہی بیٹھا دکھ گیا تھا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا صارم کے قریب پہنچا تھا۔
شکر ہے میرے دوست تو پہنچا تو مجھے تو فکر ہو رہی تھی کہں تو راستے میں پھنس نہ گیا ہو۔
دونوں انتہائی طرب سے ملتے ہوئے مصافحہ کر کے قریب رکھی چیر کو ذرا آگے کی اور کھسکا کر بیٹھے تھے۔
نہیں۔ الحمدللہ بس ٹریفک میں پھنس گیا تھا۔ تو سنا کیسا ہے؟؟ وہ گاڑی کی کیز ٹیبل پر رکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوا تھا اور حال و احوال پوچھنے لگا تھا۔
میں تو ٹھیک ہوں تو کیسا ہے؟؟ صارم اس کے سوال کا جواب دیتا اس کی خیر و عافیت دریافت کرنے کرنے لگا تھا۔
اس سوال پر حازم عباس کے چہرہ کا رنگ یکلخت بدل گیا تھا۔
وہ کئی لمحے سکوت کی کیفیت میں رہا بظاہر خود کو نارمل کر پانے کی جد و جہد میں ہلکان ہوئے جا رہا تھا۔
میں بھی ٹھیک ہوں اللہ کا شکر ہے۔۔ اس نے اپنے ہونٹوں پر نرم سی مسکراہٹ سجا کر جواب دے کر صارم کو مطمئن کیا تھا۔ وہ کسی بھی حوالے سے کسی کو بھی کسی بھی قسم کا شک پیدا نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔

دونوں کے درمیان یونہی گفتگو ہوتی رہی اتنے دیر میں ویٹر گرما گرم کافی کا دو مگ ٹیبل پر رکھ گیا تھا۔
باہر بوندا باندی کی جگہ تیز بارش نے لی تھی۔ ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا تھا۔ بجلی کی کڑک و سنسٹاہٹ مہرماہ کے دل کو بری طرح لرزاں رہی تھیں۔
ایسا جب بھی کبھی ہوتا تھا وہ سیدھا آسیہ بیگم کے کمرے میں ان کی گود میں چھپ کر بیٹھ جاتی تھی۔

عافی کی بچی!!! مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے یہ اللہ میں کیا کروں؟؟ اتنی تیز بارش اوپر سے یہ بجلی کہیں مجھے ہارٹ اٹیک ہی نہ آ جائے افف اللہ میرے فون کی بیٹری بھی ڈیڈ ہو گئی ہے۔۔ وہ چئیر پر آلتی پالتی مار کر سر گھٹنے میں دئیے کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ مسلسل بولے جا رہی تھی۔

عافیہ اس کی بات سننے کے بجائے اپنے سامنے والی ٹیبل پر بیٹھے اس شخص کو آنکھ پھاڑے دیکھ رہی تھی جو خود بھی اپنے اوپر کسی کی نظروں کا تعاقب محسوس کرتا سامنے کی اور گردن اٹھا کر دیکھا تھا۔
حازم عباس کو یوں لگ رہا تھا بجلی آسمان میں نہیں سیدھا اس کے دماغ پر آ گری ہو۔ مہرماہ کو سامنے دیکھ کر وہ بری طرح کنفیوز ہوا تھا۔ اور اس کے ساتھ اس لڑکی کو دیکھ کر جو ابھی مسلسل اسے ہی دیکھے جا رہی تھی۔

مہرماہ وہ لڑکا تمہارا کزن نہیں ہے؟؟ عافیہ نے شہادت کی انگلی سے حازم کی جانب اشارہ کیا تھا۔ جو ایک نا معقول حرکت تھی۔
اس کی باتوں پر توجہ دینے کے بجائے وہ لگاتار باہر دیکھے جا رہی تھی اور مسلسل دعاؤں کا ورد کر رہی تھی تاکہ بارش رکے تو وہ گھر جا سکے۔
مہرماہ یار دیکھو نہ وہ تمہارا کزن ہی لگ رہا ہے؟؟ عافیہ اس کا بازو جھنجھوڑ کر سامنے کی جانب اس کو اشارہ کی تھی۔ وہ غم و غصے کی حالت کیا ہے ؟؟ کہتی سامنے کی طرف دیکھی تھی جہاں حازم عباس ٹانگ پر ٹانگ جمائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
مہرماہ عامر کے چہرے کی ہوائیاں ہی اڑ گئی تھیں۔ وہ ہکا بکا منھ کھولے اسے دیکھ رہی تھی جو اب اس کے بجائے صارم کی کسی بات کا جواب دے رہا تھا۔ لیکن گا ہے بگا ہے نگاہیں سامنے بھی مرکوز تھیں۔

اتنی دیر میں عافیہ کا ڈرائیور بھی آ گیا تھا اسے ایمرجنسی میں گھر جانا پڑ گیا تھا اس کے ڈیڈ کی طبیعت خراب ہو گئی تھی وہ شرمندگی کا اظہار کرتی اس سے ایکسکیوز کرتی مین دروازے سے باہر جا چکی تھی جہاں اس کی گاڑی سمیت اس کا ڈرائیور ا انتظار کر رہا تھا۔
افف میرے اللہ یہ شخص یہاں؟؟ یہ تو یقیناً بابا کو جا کر بتائے گا!!! وہ بجائے شکر کرنے کے ایسی نازک حالت میں حازم عباس کا اچانک مل جانا دوسرے ہی پریشانی میں مبتلا ہو گئی تھی۔

صارم میرے خیال سے تجھے اب جانا چاہیے ابھی تجھے ایم بی سی بھی جانا ہے بارش تھوڑا تھمی ہے نکل جا ورنہ پھر پھنس جائے گا!!! وہ نا چاہتے ہوئے بھی صارم کو جانے کا سجھاو دے رہا تھا۔
اس کی موجودگی میں یقیناً وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اس کی بھی ایک خاص وجہ مہرماہ عامر کی زبان تھی جو کچھ بھی کروا سکتی تھی اس لڑکی سے کچھ بھی اخذ کیا جا سکتا تھا۔

ہاں تو سہی کہہ رہا ہے !! مجھے اب نکلنا چاہیے اچھا پھر میں چلتا ہوں خدا حافظ اور ہاں یار گھر کا چکر ضرور لگانا امی بھی تمہیں پوچھ رہیں تھیں۔ صارم اس کے گلے لگ کر چند ادھر ادھر کی باتیں کر کے الوداعی کلمات ادا کرتا ریسٹورنٹ سے باہر جا چکا تھا۔

ریسٹورنٹ میں صرف یکا دکا ہی لوگ نظر آ رہے تھے۔ جو باتیں کرنے میں سرے سے مگن تھے۔

مہرماہ چہرے پر کسی بھی قسم کا کوئی اتار چڑھاؤ لائے بغیر حالات کا سامنا کرنے کی ہمت باندھ رہی تھی۔

حازم اس کا چہرہ دیکھ کر اس کی حالت سے بخوبی واقف تھا اسے بجلی سے کس قدر ڈر لگتا ہے گھر میں بھی وہ بارش کے وقت زیادہ تر کمرے میں چھپ کر یہ چچی جان کو پکڑ کر بیٹھی رہتی تھی۔

اب چلیں یہ رات بھی یہی گزارنے کا ارادہ ہے؟؟؟ بغیر کسی سوال و جواب کے چہرے پر سنجیدگی کا تاثر لئے وہ تحمل سے اس سے پوچھا تھا۔ اس بیوقوف لڑکی سے کچھ بھی پوچھنا سراسر اپنی عزت افزائی کے علاؤہ کچھ نہیں تھا۔

نہیں میں ڈیڈ کو کال کر دوں گی جب بارش پوری طرح تھم جائے گی تو ڈرائیور آ جائے گا مجھے تمہاری ضرورت نہیں ہے۔ ضدی و ہٹدھرم تو وہ شروع سے تھی مگر اس وقت وہ حازم عباس کو سراسر بیوقوف لگ رہی تھی۔
میرے پاس زیادہ وقت نہیں چچا جان کی کال مجھے دو سے زائد مرتبہ آ چکی ہے وہ آپ کے متعلق بھی پریشان ہیں آپ کا فون آف ہے لہذا انہیں مزید پریشان کرنے کے بجائے ساتھ میں چلیں !!!
ویسے بھی یہاں زیادہ دیر رکنا غیر مناسب کو
ہوگا۔ وہ تمام تر عاجزی سمیت اس کی سمت دیکھا تھا۔ جو طیش کے عالم میں بھپری بیٹھی تھی اور اس پل کو پیہم کوسے جا رہی تھی جس پل یہاں آنے کا پلان بنائی تھی۔

مہرماہ ؟؟ کوئی معقول جواب نہ ملنے پر اس نے آہستگی سے اس کا نام پکارا تھا۔ اس کی آواز میں جو شدت تھی وہ اس مغرور لڑکی کو کبھی سمجھ میں نہیں آ سکتی تھی۔

میرا نام بھی مت لو اپنی زبان پر اور کیا سمجھتے ہو تم یوں مجھے اچانک مل گئے میرا فون بھی ڈیڈ ہے!!!
اللہ نے تمہیں فرشتہ بنا کر بھیجا ہے میرے لئے؟؟ تو یہ تمہاری سب سے بڑی بھول ہوگی۔۔۔ وہ ہمیشہ کی طرح خود سے مطلب نکال کر زبان سے زہر اگل رہی تھی۔

اس کی باتیں جو حازم عباس کو سر تاپا آگ لگا دیتی۔۔۔ لیکن ایسا نہیں تھا وہ مہرماہ عامر تھی اس کی زندگی کی سب سے قیمتی شئے جو اسے پندرہ سال کی ہی عمر سے ہی اچھی لگنے لگی تھی۔

میں ہمیشہ یاد رکھوں گا کی یہ میری بھول ہوگی…. اگر میں نے ایسا کچھ بھی سوچنے کی حماقت کی تو۔۔۔ کیا اب چلیں؟؟؟ وہی صبر وہی تحمل جو ہمیشہ سے اس کے چہرے پر عیاں ہوتا تھا۔
ویسے تو وہ سب کی ہی باتوں کا اسی طرح جواب دیتا تھا لیکن مہرماہ عامر کی بات ہی کچھ اور تھی۔ اس کے معاملے میں وہ اور بھی زیادہ نرمی اختیار کر جاتا تھا۔

اور یہ بل کون پے کرے گا؟؟؟ میرے پاس پیسے نہیں ہیں تم کر دو پے گھر جا کر لوٹا دوں گی تمہارے پیسے زیادہ پریشان مت ہونا ۔۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی اسے اس کی مدد لینی پڑی تھی عافیہ جلدی جلدی میں بل ہے کرنا ہی بھول گئی تھی۔

ٹھیک ہے آپ گاڑی میں جا کر بیٹھیں میں بل پے کر کے آتا ہوں۔۔ وہ اسے گاڑی کی کیز تھماتا ہاتھ کے اشارے کانچ کے اس پار کھڑی گاڑی کی جانب اشارتاً کون سی گاڑی ہے بتاتا کاؤنٹر کی جانب بڑھ گیا تھا۔
بارش بھی تھم چکی تھی و بجلیوں کی گرج کس حد تک کم ہو گئی تھی وہ کنپکپاتے جسم کے ساتھ باہر آئی تھی اور اس کی بتائی ہوئی گاڑی کے قریب آ کر کیز کے ذریعے گاڑی انلاک کر کے اندر بیٹھ گئی تھی اسے یوں لگ رہا تھا وہ نرم گزار گدی پر نہیں بلکہ کانٹوں پر بیٹھی ہو۔
غصے اسے اپنے آپ پر آ رہا تھا۔ خود کو لعنت و ملامت کئیے نہیں تھک رہی تھی۔ بہت ہی مشکل و ضبط و کے ساتھ و حازم عباس کی گاڑی میں بیٹھی تھی کوئی اور وقت و حالات ہوتے تو وہ لات مار کر گزر جاتی۔ لیکن فلحال اس کی مجبوری تھی۔
چند منٹوں بعد حازم اسے دور سے آتا دکھائی دیا تھا۔ جہاں اس کی شکل و برداشت نہیں کر سکتی تھیں وہیں اس کے برابری میں بیٹھنا اسے کسی موت سے کم نہیں لگ رہا تھا۔

حازم گاڑی کے پاس پہنچ کر ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھتے ہوئے اس کی جانب دیکھا تھا جو ہر چیز سے ناز و بنیاز کھڑی سے باہر بھیگی سڑکوں کو دیکھ رہی تھی۔ ہر چیز میں ایک نکھار پیدا ہو گیا تھا۔ ہوائیں ابھی بھی اسی طرح بہہ رہی تھیں۔
اسے ہلکی ہلکی ٹھنڈ بھی محسوس ہو رہی تھی۔ لیکن غم و غصے کی وجہ سے کچھ بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا۔

حازم دل ہی دل میں شکر کرتا گاڑی اسٹارٹ کر کے روڈ پر دوڈانے لگا تھا۔
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔بس کھڑکی کھلی ہونے کی وجہ سے باہر کا شور ہی اندر کے ماحول میں کھنکی پیدا کر رہا تھا۔ حازم عباس کے علم میں یہ بات اچھی طرح تھی مہرماہ عامر اندر ہی اندر کس جنگ سے لڑ رہی ہے۔

گاڑی کی اسپئڈ بہت زیادہ تھی۔ وہ ہمیشہ سے فاسٹ ڈرائیو کا عادی تھی۔
تھوڑا دھیرے چلا لو گاڑی!!! تمہیں مرنے کا شوق ہوگا مجھے نہیں!!! آدھا گھنٹے کے بعد وہ بولی بھی تو کیا حازم عباس بے ساختہ ہونٹوں کو آپس میں بھینچ کر رہ گیا۔
جی!! وہ آہستہ سے کہتا اسپئڈ کو کم کر دیا تھا۔
کیا جی؟؟ اتنے تم کوئی شریف نہیں ہو اور بات سنو!! بابا کو جا کر تو تم لازمی بتاؤ گے یہ بات…. یہ چیز میرے علم میں اچھی طرح ہیں۔۔۔ تو بہتر یہی ہوگا میرے سامنے یہ اچھائی کا چولا اتار پھینکو کیونکہ میں بابا والا نہ تو دماغ اور نہ ہی و آنکھیں رکھتی ہوں جسے تم بیوقوف بنا سکو۔ غصے سے لال پیلی ہوتی وہ لفظوں کو چبا چبا کر ادا کر رہی تھی۔ ایک لمحے کو حازم عباس کا چہرہ اہانت کے احساس سے سرخ ہو گیا تھا اگلے ہی لمحے وہ خود کو نارمل کر لیا تھا۔

آپ بجائے اپنے اس فعل پر نادم ہونے کے اس قسم کی فضول باتیں کر رہی ہیں؟؟؟ چچا جان کی غیر حاضری میں آپ کالج کے نام پر کہاں گئی تھیں۔ اس نے نہ تو اسے کوئی طعنہ دیا تھا اور نہ ہی کوئی طنز بلکہ اسے آگے کے لئے باور کرا رہا تھا اس کی جگہ کوئی بھی ہو سکتا تھا کتنا بڑا ائیشو بن جاتا۔

کیوں؟؟ میں کیوں ہوں نادم!!! تمہاری ماں کو بھاگتے ہوئے ندامت محسوس نہیں ہوئی اور میں ایک ریسٹورئنٹ میں بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوئے ندامت محسوس کروں وہ بھی اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی بیسٹ فرینڈ کے ساتھ۔۔ وہ ناگن کی مانند پھنکاری تھی۔ غصے سے اس کی ننھی سبک جیسی ناک لال ہو گئی تھی۔ حازم عباس کی بات سن کر تو وہ گویا جلتے توے پر جا بیٹھی تھی۔

مہرماہ عامر کی باتیں اس کے دل کو چھلنی کرنے کے لئے کافی تھیں۔ وہ غصے سے مٹھیاں بھینچ کر اپنے آپ پر بمشکل قابو پایا تھا۔ آنکھوں کا کونا احساس اہانت سے سرخ ہو گیا تھا۔ مگر اپنا غصہ اپنا دکھ و ملال و اس لڑکی پر کبھی ظاہر نہیں کر سکتا تھا جو اس کے پرخچے اڑا دیتی۔

وہ اس کی کسی بھی فضول بکواس کا جواب دئے بغیر ڈرائیونگ پر فوکس کر رہا تھا۔
تقریباً آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد گاڑی گھر کے گیٹ کے سامنے آ کر رکی تھی واچمین دوڑتا ہوا گیٹ کھولا تھا گاڑی اندر پورچ میں کھڑی کر کے وہ فرنٹ دروازہ کھول کر نیچے اتر گیا تھا۔
اس کے برعکس وہ اپنی کالی کشمیری شال سنبھالتی بیگ کاندھے پر ڈال کر گاڑی سے نیچے اتری تھی۔
حازم ایک نظر اس کے انگارہ ہوتے چہرہ کی طرف دیکھا تھا جو سیدھا اس کے آنکھوں کے راستے دل میں اترا تھا۔
نازک سی کچی کلی کی مانند یہ لڑکی ہیزل گرین آنکھیں؛؛ کمر تک آتے سیاہ سلکی بال؛؛ وہ گوری سفید رنگت اس کے اندر کسی بھی لحاظ سے خوبصورتی میں کوئی کمی نہیں تھی۔ نازک سی گڑیا کی طرح دکھتی تھی۔ جو کسی بھی انسان کو اپنا دیوانہ بنانے کی پوری صلاحیت رکھتی تھی۔
وہ سب کے لئے بہت اچھی تھی۔ سوائے حازم عباس کے جس سے دلی دشمنی و بیر تھا اسے۔ حازم عباس سے نفرت اس کی دن بدن پروان چڑھتی جا رہی تھی۔ جو عامر صاحب کو بھی کہیں نہ کہیں نظر آنے لگا تھا۔

بات سنو ؟؟ اس کو گم صُم پا کر وہ نخوت سے منھ بناتی اسے مخاطب کی تھی۔
ہمم؟؟ وہ فوری طور نظروں کا زاویہ بدلا تھا۔ ورنہ محترمہ کو پتہ چل جاتا تو اینٹ اینٹ بجا دیتی۔
پہلے اندر میں جاؤں گی اس کے بعد تم آؤ گے!!! کسی کو بھی پتہ نہیں چلنا چاہئے میں تمہارے ساتھ آئی ہوں سمجھے ؟؟؟ وہ یوں اسے مخاطب کر کے حکم سنا رہی تھی گویا وہ اس کا کزن نہیں ملازم ہو۔
جی بہتر!!! وہ سر ہاں میں ہلاتا اس کے حکم کی تعمیل کیا تھا۔ یہ لڑکی اس سے کچھ بھی کروا سکتی تھی اور وہ اس لڑکی کے لئے کچھ بھی کر سکتا تھا۔
مہرماہ تن فن کرتی داخلی دروازے سے اندر گئی تھی۔ جہاں سبھی لوگ حال کمرے میں موجود تھے۔ آسیہ بیگم تو اسے دیکھتی فوراً گلے لگا لی تھیں۔
کہاں رہ گئی تھی تم؟؟ میری جان اتنی کالز کی میں نے؛؛؛ تمہارا موبائل ہی آف بتا رہا تھا۔ میرا تو دل لرز رہا تھا۔ آسیہ بیگم اسے گلے لگا کر چٹا چٹ چومنا شروع کر دی تھیں۔
بیٹا کم از کم ایک کال تو کرنی چاہیے تھی آپ کو بیٹا؟ عامر صاحب بیٹی کو ممتا بھری نگاہوں سے دیکھ کر شکوہ کئے تھے۔
بابا موبائل آف ہو گیا تھا کیا کرتی؟؟
اچھا کوئی نہیں جاؤ کپڑے چینج کرو میں تمہارے لئے کھانا لگواتی ہوں!!!
آسیہ بیگم اسے کہتیں کچن کی طرف بڑھنے لگی تھیں وہ فوراً ان کا ہاتھ تھام کر روک لی تھی۔
امی بلکل بھوک نہیں ہے پلیز مجھے نہیں کھانا کھانا !!! وہ التجایئہ لہجے میں بولی تھی۔ پیٹ میں اس کے بلکل جگہ نہیں تھا کی دوبارہ سے دہرائے۔
السلام علیکم!!! تقریباً پانچ منٹ بعد حازم عباس اس کے حکم کے مطابق گھر میں قدم رکھا تھا۔
سبھی لوگ اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ کسی کے علم میں یہ بات نہیں تھی وہ آج آنے والا ہے سوائے عامر صاحب کے و ان کی نک چڑھی بیٹی کے۔

وعلیکم السلام برخوردار آؤ آؤ میں تو تمہارا ہی منتطر تھا۔
بلکہ آج میں نے آفس سے جلدی بریک لے لیا تھا۔ بھئی مجھے اپنے بھتیجے کے ساتھ شام کی چائے ساتھ میں جو پینی تھی۔ عامر صاحب اپنی جگہ سے اٹھ کر اسے خوشدلی سے گلے لگاتے ہوئے اپنی بے پناہ خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ جو وہاں پر بیٹھے کسی بھی نفوس کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔
چچا جان ٹریفک میں پھنس گیا تھا ورنہ کب کا آ گیا ہوتا۔ وہ اکسکیوز کرتا نظر سامنے کی اور اٹھا کر دیکھا تھا جہاں مہرماہ عامر اسے ہی کھونکھار نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ نہ جانے اب اس نے اس کی شان میں کون سی گستاخی کر دی تھی۔
اچھا جاؤ فریش ہو جاؤ میں کھانا لگواتا ہوں تمہارے لئے۔۔۔ عامر صاحب اسے محبت پاش نگاہوں سے دیکھ کر کہتے ہوئے آسیہ بیگم کی طرف کھانا لگانے کا اشارہ کیئے تھے۔ آسیہ بیگم کا فشار خون بلند ہونے لگا تھا۔ انہیں حازم عباس کبھی اچھا نہیں لگا تھا بقول ان کے کی وہ سعود صاحب کی سگی اولاد ہے بھی یہ نہیں؟؟

جی لگاتی ہوں۔۔ وہ برا سا منھ بنا کر کہتی اس کے سلام کا جواب دئیے بغیر بیٹی کو ساتھ لئے حال کمرے سے ملحق دورسرے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھیں۔
ان کو جاتا دیکھ حازم عباس کئی لمحے ان کی پشت کو دیکھتا رہ گیا۔ اتنی نفرت اتنا بیر کی اس کے سلام کا جواب تک دینا گوارہ نہیں تھا۔ یہ سب کچھ نیا نہیں تھا اس کے لئے اب تو عادت ہو جانی چاہیے تھی اسے ان سب چیزوں کی۔

حازم تم نے بتایا ہی نہیں تھا تم آنے والے ہو ؟؟ ژالے کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڈ گئی تھی حازم عباس کو سامنے دیکھ کر پچھلے گزشتہ روز اسے وہ بے پناہ مس کر رہی تھی۔
ایک یہی واحد کزن تھی اس کی جو اس کے آنے پر ہمیشہ خوشی کا اظہار کرتی تھی۔

یاد ہی نہیں تھا بتانا ورنہ ضرور اطلاع کر دیتا۔۔۔ حازم کو اس چھوٹی لڑکی کی اپنے لئے فکر کافی اچھی لگی تھی۔

آپ کو کہاں یادرہے گا؟؟ آپ کی ایک عدد کزن آپ کا انتظار کرتی ہے۔ ژالے اس کا چہرہ دیکھ کر مسکرا کر دل میں سوچی تھی۔
دل بے اختیار دھڑک رہا تھا اور ایسا پہلی بار ہوا تھا اس کے ساتھ کی حازم عباس کا سامنا کر پانا اسے خاصا مشکل لگ رہا تھا۔
وہ اپنی دلی کیفیت سمجھ نہیں پا رہی تھی بس کہیں ایک خوبصورت سا احساس جنم لے رہا تھا۔ جو اسے بے طرح سرشار کئے جا رہا تھا اندر سے۔

چند یہاں وہاں کی باتیں کر کے وہ فریش ہونے کی غرض سے اپنے مشترکہ کمرے میں آ گیا تھا جو یقیناً چچا جان اس کی آمد سن کر ملازموں کے ہاتھوں صاف کروائے تھے۔
اس کی چیزیں ترتیب بہ ترتیب کمرے میں بڑی نفاست کے ساتھ اپنی جگہ رکھی تھیں۔
صبح سے مسلسل ڈرائیونگ کر نے وہ شکستہ پا ہو گیا تھا۔
شرٹ کے بٹن کھولتا ایک ہاتھ سے ٹاول ڈور کے اندر سے نکال رہا تھا جبھی اسے کمرے میں کسی کے قدموں کی چاپ محسوس ہوئی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سامنے مہرماہ عامر ہاتھ سینے پر باندھے اس کے عین سامنے کھڑی تھی۔

آپ یہاں ؟؟ و حیرت زدہ ہو کر پوچھا تھا۔ ایسا بہت کم بلکہ کبھی ایک یہ دو بار ہوا ہوگا وہ خود اپنے نازک قدموں پر چل کر اس کے کمرے تک آئی ہو وہ بھی اپنے مطلب کے بنا پر۔
ہاں میں یہاں!!!! زیادہ اوور ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ پکڑو تمہارے پیسے مجھے کانٹوں کی طرح چھب رہیں ہیں۔ وہ چند ہزار ہزار کی لال نوٹ اپنی ہتھیلی پر رکھ کر اس کی طرف بڑھائی تھی۔
حازم عباس اس کے ہاتھ میں موجودہ پیسے کو دیکھا تھا۔ دل اندر ہی اندر بری طرح زخمی ہوا تھا۔
مجھے ضرورت نہیں ہے آپ رکھیں اپنے پیسے !!! وہ اس کے پیسوں کو نظر انداز کرتا ٹاول باہر نکال کر بیڈ پر بیٹھا تھا اور اپنے جوتے کے تسمے کھولنے لگا تھا۔
اس کی باتیں سن کر مہرماہ عامر غصے سے مٹھیاں بھینچ کر دانت پیستی نوٹ اس کے منھ پر دے ماری تھی۔
حازم عباس اس کی گستاخی پر ہک دق ہو کر اس کا منھ تکنے لگا تھا۔

تمہاری میں شکل دیکھنا پسند نہیں کرتی ہوں اور تمہارے بقول تمہارے پیسے میں اپنے پاس رکھ لوں ؟؟ جو بچھو کی طرح مجھے ساری زندگی ڈنک ماریں گے۔۔
پیسے نہیں لینا تو نہ لو لیکن اپنے ہاتھوں سے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ڈسٹبن میں ڈال دینا سمجھے ؟؟ وہ تفکر آمیز لہجے میں کہتی شہادت کی انگلی سے اسے وارننگ دی تھی۔ اس کی شعلہ بار آنکھیں غصے کی وجہ سے سرخ ہو گئیں تھیں۔وقت کے ساتھ ساتھ اس کے دل میں نفرت کا بیچ دن بدن بڑھتا ہی جا رہا تھا گویا اب تو ایک گھنے درخت کا روپ لے لیا تھا۔

مہرماہ آپ جائیں یہاں سے میں فضول کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا!!!! نہ ہی میرے پاس اتنا فضول کا وقت ہے۔ وہ خود کو بہت مشکل سے ضبط کے بندھن میں باندھا تھا۔
مہرماہ عامر اسے شائد ایک کٹھ پتلی سمجھ کر زہر کے تیز مار رہی تھی پر وہ بھول گئی تھی وہ ایک مرد ہے اس کے اندر بھی انا و ضبط کا پیمانہ ہے جو نبردآزمائی پر ٹوٹ بھی سکتا تھا۔

“تمہیں یہاں کوئی بھی پسند نہیں کرتا سوائے بابا کے اور تم یہ بہتر طریقے سے جانتے ہو پھر ہر ہفتے یہاں آنے کا مقصد ؟ یہ جو تھوڑا بہت تمہیں کزنز وغیرہ منہ لگا لیتے ہیں نا اسے بھی تم شجرِ ممنوعہ ہی سمجھ کر رکھو۔۔۔” وہ ناگن کی طرح بل کھاتے ہوئے پھنکاری تو ایک پل کیلئے حازم عبّاس کا چہرہ متغیر ہو کر رہ گیا مگر دوسرے ہی لمحے اس نے بمشکل خود کو سنبھال کر سختی سے لب بھینچ کر اسے دیکھا جو سراپا انگارہ بنی ہوئی تھی!
“اس گھر میں اپنی اوقات اور مرتبے کا بخوبی اندازہ ہے مجھے، فکر نہ کریں یہ واحد شئے ہے جسے میں ہمیشہ ذہن نشین رکھتا ہوں۔۔۔” شِدّتِ گریہ سے آنکھوں کے سرخ ہوتے کناروں کیساتھ اس نے اس سنگدل لڑکی کی جانب دیکھا جو سرد نگاہوں سے ہنوز اسے گھور رہی تھی!
اچھی بات ہے ہمیشہ ذہن نشین رکھنا بھی تمہارے لئے ہی بہتر ثابت ہوگا۔ وہ طنز کا آخری تیر چلا کر تن فن کرتی کمرے کی دہلیز عبور کر گئی تھی۔
پیچھے حازم عباس ہونٹ بھینچے اس خالی دروازے کو دیکھ رہا تھا جہاں سے ابھی وہ پتھر دل لڑکی گزری تھی۔

تمام رسمیں توڑ دی ہیں؛؛
میں نے آنکھیں ہی پھوڑ دی ہیں
زمانہ اب مجھ کو آئینہ بھی؛؛
مرا دکھائے تو کچھ نہ پائے
عجیب خواہش ہے میرے دل میں؛؛
کبھی تو میری صدا کو سن کر
نظر جھکائے تو خوف کھائے؛؛
نظر اٹھائے تو کچھ نہ پائے
میں اپنی بے مائیگی چھپا کر؛؛
کواڑ اپنے کھلے رکھوں گا
کہ میرے گھر میں اداس موسم
کہ شام آئے تو کچھ نہ پائے
تو آشنا ہے نہ اجنبی ہے؛؛
تیرا میرا پیار سرسری ہے
مگر یہ کیا رسم دوستی ہے؛؛
تو روٹھ جائے تو کچھ نہ پائے
اسے گنوا کر پھر اس کو پانے کا شوق؛؛
دل میں تو یوں ہے محسن
کہ جیسے پانی پہ دائرہ
کوئی بنائے تو کچھ نہ پائے

کیا مہرماہ عامر غلط ہے اپنی جگہ؟ 🤔 آپ کی رائے کیا ہے؟