Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

ژالے تم اس وقت یہاں؟؟ میرا مطلب تم سوئی نہیں۔۔۔مہرماہ ژالے کو بیڈ پر سامنے بیٹھا دیکھ چونک کر پوچھی تھی۔
نہیں نیند نہیں آ رہی تھی؛؛؛ عیشہ بھی تھک گئی تھی تو جلدی سو گئی۔
تم بتاؤ تمہیں اتنا لیٹ کیوں ہو گیا؟
ژالے مہرماہ کی طرف دیکھ کر انجان بن کر پوچھی تھی۔
یار کیا بتاؤں گاڑی خراب ہو گئی تھی راستے میں پھر حازم نے سہی کیا تو ہم لوگ آ سکے مجھے تو لگ رہا تھا کی آج رات سڑک پر ہی گزارنی پڑ جائے گی۔
لیکن وہ تو شکر ہے بعد میں بن گئی تھی۔ مہرماہ اپنے کاندھے سے شال اتار کر دراز میں رکھ کر اسے جواب دی تھی جسے سن کر ژالے کا منھ بنا تھا۔

اچھا میں دیکھ کر آتی ہوں حازم کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔۔۔۔زالے کو حازم کا خیال آتے ہی چھالنگ لگا کر بیڈ سے نیچے اتری تھی۔
حازم کی ضروریات کا خیال آج کل اس کے دل و دماغ پر بے طرح سے سوار تھا۔
ارے اس وقت اس کو کس چیز کی ضرورت ہوگی؟
اور میرے خیال سے وہ سو گیا ہوگا خواہ مخواہ اس کو ڈسٹرب کرو گی۔ مہرماہ کی بات پر ژالے کے بڑھتے قدم یکلخت رکے تھے وہ انہی قدموں پر سیدھا پلٹ کر مہرماہ کے سامنے ہاتھ سینے پر باندھ کر جانچتی نگاہوں سے اس کو دیکھتے ہوئے بولنا شروع کی تھی۔
تمہیں بہت فکر ہو رہی ہے حازم کی اور تو اور مجھے حیرت اس بات کی ہے کی تم حازم کے ساتھ جانے پر آمادہ کیسے ہو گئی؟؟ ژالے کے ذہن میں کب سے گڈمڈ کرتے سوال بلا آخر زبان پر آ ہی گئے تھے۔
اس کا سوال سن کر مہرماہ کی پیشانی پر شکن پڑ گئی تھیں۔
وہ خود کو قدرے نارمل رکھتی ژالے کی غلط فہمی ایک سکینڈ میں دور کی تھی۔
مجھے بھلا اس کی فکر کیونکر ہونے لگی میری طرف سے وہ بھاڑ میں جائے وہ تو مجھے اس کے ساتھ مجبوراً جانا پڑا تھا کیونکہ رمیض تیار نہیں تھا تو مجھے بس نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی منت و سماجت کرنی پڑی ورنہ میں اس کو منھ بھی نہ لگاؤں۔۔۔ نفرت کا ایک آلاو اس کے زبان سے زہر کی مانند نکل رہا تھا۔ اس کو ایک منٹ نہیں لگا تھا اپنے پرانے بھیس میں واپس آنے میں۔۔۔ لگ ہی نہیں رہا تھا کی یہ وہی مہرماہ ہے جو ابھی چند لمحے پہلے اس کے لئے
تھوڑی سی ہی سہی فکرمند ہوئی تھی۔
اس کا جواب سن کر ژالے کے ہونٹوں کے کنارے ہلکی سی مسکان واضح ہوئی تھی۔ اس کا جواب ژالے لئے کسی حد تک مطمئن کرنے کے لئے کافی تھا۔ وہ یہی تو چاہتی تھی کی حازم عباس کی زندگی میں اب اس کے علاؤہ کسی دوسرے کی مداخلت ہرگز نہ ہو۔
تمہیں ابھی بھی یقین نہیں آیا؟؟ مہرماہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھی تھی۔
نہیں مجھے پتہ ہے تم دونوں کے درمیان صرف ایک نفرت کی دیوار ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔۔۔ژالے جواب میں ہلکا سا مسکرائی تھی۔ اسے اب جا کر کہیں سکون ملا تھا جب سے وہ لوگ گئے تھے وہ کسی بے چین روح کی طرح گھر کا چکر کاٹ رہی تھی۔

اب میں جا رہی ہوں سونے؛؛؛؛ تم بھی سوجاؤ ؛؛؛ میرا تو تھکن سے برا حال ہے۔۔۔مہرماہ بالوں کو کلچر سے آزاد کرتی ہاتھوں سے جمائیاں روک کر تکیہ سر کے نیچے سہی کر کے آرام سے لیٹ گئی تھی۔
ہاں یار میں بھی جا رہی ہوں گڈ نائٹ۔۔۔۔ژالے کا تو رنگ و روپ دونوں پل میں بدلے تھے موڈ بھی کافی خوشگوار ہو گیا تھا اس کا۔ وہ مہرماہ کو گڈ نائٹ بول کر اپنے کمرے میں آ کر بیڈ پر ڈھے سی گئی تھی۔
مجھے اندازہ نہیں تھا حازم ہمشہ سنا تھا میں نے کی محبت اندھی ہوتی ہے لیکن آج تو اس بات کا انکشاف مجھ پر کھل کر ہوا ہے کی واقعی تمہاری محبت نے مجھے اندھا کر دیا ہے۔ وہ بیڈ پر پڑے تکیہ کو اٹھا کر منھ پر رکھ کر بری طرح شرمائی تھی گویا حازم عباس اس کے سامنے ہی بیٹھا ہو۔
اسی طرح اس کے خیالوں کی دنیا کو سوچتی وہ نیند کی آغوش میں جا چکی تھی۔

❣️❣️❣️

صبح کے ساڑھے دس بجے کے قریب حازم کی آنکھ کھلی تھی۔ اس نے سب سے پہلے شاور لیا تھا۔
وہ گھر کے ہی حلیے میں ناشتے کی ٹیبل پر آ گیا تھا۔ جہاں عامر صاحب پہلے سے موجود تھے؛؛؛ وہ انہیں ادب سے سلام کرتا پاس رکھی چئیر کو ہاتھ سے پیچھے کی جانب سرکا کر براجمان ہو گیا تھا۔
عامر صاحب اس کے سلام کا مسکرا کر جواب دے کر دوبارہ سے اخباروں کا مطالعہ کرنے میں مصروف ہو گئے تھے۔
ملازمہ گرما گرم ناشتے کا ٹرے ٹیبل پر سجا کر واپس جا چکی تھی۔
گھر کا سناٹا دیکھ کر لگ رہا تھا ابھی تک سب لوگ سو رہے تھے۔ وہ ایک طائرانہ نگاہ چاروں اطراف میں ڈالتا ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گیا تھا۔
حازم کیا تم آج فری ہو بیٹا؟؟؟ عامر صاحب کو جیسے اچانک یاد آیا تھا وہ اخبار کو سائڈ میں رکھ کر اس سے پوچھے تھے۔
جی چچا جان آپ حکم کریں!!! وہ ادب سے بولتے ہوئے ان کی طرف دیکھا تھا۔
بیٹا آج میرے ساتھ آفس چلو مجھے تم سے کچھ ضروری بات بھی کرنی ہے بزنس کے سلسلے میں۔۔۔۔
جی بلکل۔۔۔۔وہ فرمابرداری سے سر جھکا گیا تھا۔
وہ جب سے یہاں آیا تھا اس کے باپ نے ایک بار بھی اسے مخاطب نہیں کیا تھا۔ حازم اگر چہ ان کی طرف پیش قدمی کرتا بھی تو وہ اس سے دور بھاگتے تھے گویا کوئی راز عیاں ہو جانے کا ڈر ہو جس طرح وہ اس سے دور بھاگتے تھے۔
اس وقت بھی وہ ناشتے کی ٹیبل پر آیا تو وہ جا چکے تھے اس کی موجودگی میں وہ زیادہ تر یہی کرتے تھے۔ تاکہ اس سے ان کا آمنا سامنا بھی نہ ہو سکے اب تو سلام دعا کا بھی جو رشتہ تھا وہ بھی دور کہیں کھڑا اسے منھ چڑا رہا تھا۔

گڈ مارننگ بابا۔۔۔۔مہرماہ گھر کے سادھے سے جوڑے میں بھی بلا کی پیاری لگ رہی تھی۔ نیند کا ہلکا ہلکا خمار ابھی بھی اس کی آنکھوں میں تھا۔ شائد ابھی وہ کچچی نیند سے سو کر اٹھی ہو۔۔۔
گڈ مارننگ میری گڑیا۔۔۔۔۔ عامر صاحب بیٹی کو پیار سے دیکھ کر بولے تھے۔
وہ سست۔ روئ سی چلتی حازم کی عین نظروں کے سامنے رکھی چئیر پر بیٹھ گئی تھی۔
دونوں کی نظریں یکایک ملی تھیں۔ مہرماہ کی آنکھوں کے سامنے کل رات والا منظر لہرایا تھا کس طرح سے وہ اس کے سینے سے جا لگی تھی اسے تو اب سوچ سوچ کر شرمندگی سی محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے دوبارہ حازم کی جانب ایک غلط نگاہ بھی نہیں ڈالی تھی۔
وہ جب جب اسے دیکھتی رہ رہ کر وہی قصہ تازہ ہو جا رہا تھا۔
حازم ناشتہ کر کے اٹھ چکا تھا۔ ایک کے بعد ایک گھر کے افراد ٹیبل پر تشریف لا رہے تھے رات دیر سونے کی وجہ سے صبح سب کی آنکھ دیر سے کھلی تھی۔
ژالے و عیشہ تو کالج یونیفارم میں ملبوس تھیں۔ یکدم رئڈی۔۔۔۔ اس کے برعکس وہ ابھی آرام سے بیٹھ کر ناشتہ کر رہی تھی۔
مہرماہ تمہیں کالج نہیں جانا کیا؟؟ عیشہ اس کو گھر کے کپڑے میں ملبوس دیکھ کر چونکی تھی۔
جانا ہے نہ؛؛؛؛ تم لوگ پلئز میرا تھوڑی دیر وئٹ کرو میں یوں گئی اور یوں آئی۔ وہ چٹکی بجا کر اپنی چئیر سے تقریباً چھلانگ لگا کر اتری تھی جبھی اسے بیچ میں ژالے نے اچک لیا تھا۔
نہیں؛؛؛ مہرماہ بہت لیٹ ہو جائے گا؛؛؛ ویسے بھی آج مجھے اپنے اسائمنٹ سبمٹ کروانے ہیں۔ ژالے تو صاف انکار تھی۔ وہ اپنا سا منھ لے کر ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔
جبھی عامر صاحب کب سے خاموشی سے بیٹھے بیچ میں بولے تھے۔
آپ لوگ جائیں؛؛؛؛ مہرماہ کو حازم ڈراپ کر دے گا۔۔۔۔عامر صاحب کا بولنا تھا کہ ژالے کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڈ گئی تھی۔
اس سے کہیں زیادہ مہرماہ کے تیور خطرناک ہوئے تھے ابھی تو وہ کل کے واقعے کے بعد ٹھیک طرح سے اس سے نظریں بھی نہیں ملا پا رہی تھی خواہ اس کے ساتھ ایک بار اور گاڑی میں۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
بابا اس کی کیا ضرورت ہے میرا مطلب کی حازم کو کیا پریشانی میں ڈالیں۔۔۔۔۔مہرماہ منھ بناتی عامر صاحب کو انکار کی تھی۔
اتنی ہی دیر میں حازم بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس ایک ہاتھ میں اپنا قیمتی فون پکڑے و دوسرے ہاتھ میں گاڑی کی کیز و کوٹ لئے سڑھیاں اتر کر نیچا آیا تھا۔
حازم کا چونکا دینے والا روپ ژالے کی آنکھوں میں سے ہوتا سیدھا دل میں اترا تھا۔ حیا کی لالی سے لانبی پلکیں رخسار پر مزید جھک گئی تھیں۔
کیا ہوا لیڈیز ؟؟؟ اس طرح سب مجھے کیوں گھور رہی ہو؟؟ ان تینوں کو اپنی طرف متوجہ پا کر وہ سوالیہ انداز میں پوچھا تھا۔
حازم کیا تم ہم تینوں کو کالج ڈراپ کر دو گے؟؟ ژالے نے فوراً سے بیچ میں ٹکڑا دیا تھا۔ اس کی طرف داری میں عیشہ نے جھٹ سے گردن ہاں میں ہلائی تھی جبکہ مہرماہ ہاتھ سینے پر باندھ کر نظروں کا تعاقب دوسری جانب پھیر اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی تھی۔ جو کہیں نہ کہیں حازم کو بھی محسوس ہوا تھا۔
حازم ان لوگوں کو کالج ڈراپ کر کے تم مجھے آفس میں آ کر ملو بیٹا۔۔۔عامر صاحب ٹیبل پر رکھا چشمہ اٹھا کر اخبار سائڈ میں رکھتے ہوئے بولے تھے۔
حازم بھلا ان کی بات کو کسیے ٹال سکتا تھا؛؛؛ وہ سعادت مندی سے گردن ہاں میں ہلا کر ان تینوں کی جانب متوجہ ہوا تھا۔
گلز میں تینوں کا گاڑی میں وئٹ کر رہا ہوں پانچ منٹ کے اندر باہر آ جانا۔ وہ لفظ پانچ منٹ پر زور دیا تھا وہ بھی محض مہرماہ کو جتانے کے لئے کیونکہ اس کو تیار ہونے میں بیس پچیس منٹ تو واقعی لگ جانے تھے۔ اپنی بات کہہ کر وہ رکا نہیں تھا۔

اس کی بات سن کر مہرماہ منھ کھولے اس کو جاتا ہوا دیکھی تھی۔
پانچ منٹ بھلا پانچ منٹ میں کیسے تیار ہونگی۔۔۔۔وہ ہکا بکا سی ان دونوں کی جانب منھ کھولے تک رہی تھی۔
مہرماہ پلیز جلدی سے جاؤ اور ریڈی ہو کر آؤ۔۔۔۔عیشہ اس کو بازوؤں سے پکڑ کر اندر بھیجی تھی اور وہ دونوں خود باہر گاڑی میں جا کر بیٹھ گئیں تھیں حازم ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر آنکھوں پر بلیک گلاسیز چڑھائے اسٹیرنگ پر ہاتھ جمائے اس کا انتظار کر رہا تھا۔
ژالے گاڑی کی پچھلی سیٹ کے بیچ و بیچ میں بیٹھی تھی۔
جہاں سے مرر میں سے حازم کا چہرہ صاف طور پر نظر آ رہا تھا۔ وہ پلکوں کی باڑ اٹھا کر بار بار حازم کا چہرہ مرر میں سے دیکھ کر خودی میں شرما رہی تھی۔ گلابی رنگ کے شفان کے دوپٹا سر پر ٹکائے وہ کافی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔
پانچ منٹ تو کیا تقریباً دس منٹ میں وہ طوفان کی مانند تیار ہوتی ایک ہاتھ میں بیگ وہ دوسرے ہاتھ میں سینڈل پکڑے ننگے پاؤں ہاپنتی گاڑی کے قریب آئی تھی۔ اس کی تیاری سے پتہ چل رہا تھا وہ ایک سانس میں تیار ہوئی تھی۔
افف!!!! مہرماہ کتنا وقت لگا دیا تم نے؟؟؟
وقت دیکھا ہے کیا ہو رہا ہے۔؟؟ اس کے آتے ہی ژالے بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ جھنجھالا کر بولی تھی۔
کسی پریسڈینٹ سے تو نہیں ملنے جا رہیں ہیں جو ایک سیکنڈ آگے پیچھے نہیں ہو سکتا!!! اس کی بات سن کر مہرماہ تڑخ کر جواب دیتی ایک غلط نگاہ خاموش بیٹھے حازم پر ڈال کر گاڑی کا پچھلا گیٹ کھول کر سیٹ پر بیٹھی تھی۔
تم سے تو کچھ بولنا ہی فضول ہے….
تو مت بولا کرو۔۔۔۔۔ مہرماہ کہاں چپ رہنے والوں میں سے تھی۔ اگر ژالے اس سے ایک قدم آگے تھی تو وہ بھی ژالے سے چار قدم آگے رہتی تھی۔
حازم اس کے بیٹھ جانے کے بعد گاڑی اسٹار کر دیا تھا۔ گاڑی میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ مہرماہ تو گاڑی میں ہی اپنی بکس وغیرہ سیٹ کر لی تھی اور ساتھ ہی میں سینڈل بھی پہنی تھی۔
اس کے بعد اس نے بالوں کو پونی کی شکل دی تھی جلدبازی میں بال بھی سہی سے نہیں بنایا گیا تھا اس سے۔ حازم کن اکھیوں سے اس کی ایک ایک حرکت پر بڑی توجہ سے دیکھ کر مسکرایا تھا۔ یہ پاگل لڑکی سے کچھ بھی بعید تھا۔

حازم کوئی اچھا سا سونگ ہی لگا دو کم از کم یہ بورنگ راستہ تو کٹ جائے۔ ژالے نے بورنگ سی شکل بنا کر کہا تو حازم اس کی فرمائش پر جو حکم کہتا سونگ بٹن پریس کیا تھا۔

موسیقی کی آواز گاڑی میں کسی سوز کی مانند گونج رہی تھی۔
اس کے بر مقابل مہرماہ بغیر کوئی دلچسپی لئے کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھیں جبکہ ژالے اور عیشہ سونگ کو انجوائے کر رہی تھیں۔
کسی پتھر کی مورت سے ؛؛؛محبت کا ارادہ ہے
پرستش کی تمنا ہے؛؛؛ عبادت کا ارادہ ہے
کسی پتھر کی مورت سے محبت کا ارادہ ہے

موسیقی کی آواز گاڑی بیٹھے سبھی نفوس کو اپنی جانب کھینچ رہی تھیں۔
خاص طور پر ژالے کو جو اپنے دل کی دنیا میں ایک الگ ہی جہاں آباد کئے بیٹھی تھی۔ سوائے مہرماہ کے جو پتہ نہیں ڈھنگ سے سن بھی رہی تھی یہ نہیں؟؟
کچھ دیر کی ڈرائیو کے بعد گاڑی کالج کے گیٹ کے سامنے آ کر رکی تھی۔ مہرماہ اپنی جانب کا دروازہ کھول کر نیچے اتری تھی اس کے پیچھے ژالے و عیشہ بھی اتری تھیں۔ ژالے حازم کو مسکرا کر شکریہ ادا کی تھی اور ساتھ میں عیشہ نے بھی۔
سوائے اس کے جو شکریہ کیا؛؛؛ پلٹ کر دوبارہ دیکھی بھی نہیں تھی۔
شال کو بازوؤں پر درست کرتی تن فن کرتی کالج کے ہجوم میں گم ہو گئی تھی۔ حازم کو اس کے اس رویہ پر خاموشی اختیار کئے دیکھتا ہی رہ گیا یہ لڑکی کب پل میں ماشا تو پل میں تولا ہو جاتی تھی۔
گاڑی کالج کے گیٹ سے آگے نکل گئی تھی اس کو جلد از جلد آفس پہنچنا تھا عامر صاحب یقیناً اس کا انتظار کر رہے ہونگے۔
وہ پہلے سے کہیں زیادہ فاسٹ ڈرائیونگ کرنے لگا اس کی سمجھ میں ایک بات ابھی تک نہیں آئی تھی کی عامر صاحب کو ایسی کون سی بات کرنی تھی جس کے لئے انہیں گھر کے بجائے آفس کو ترجیح دینی پڑی۔

#

مہرماہ یہ کیا بدتمیزی ہے یار کم از کم تم حازم کا جھوٹے منھ شکریہ ادا تو کر دیتی۔ ژالے کالج کی کوریڈور میں اس کو مل گئی تھی وہ کسی کام کے سبب عافیہ کے ساتھ آئی تھی۔
میں دیکھ رہی ہوں تم پچھلے کچھ روز سے کچھ زیادہ ہی حازم نامہ لئے نہیں پھر رہی ہو۔۔۔مہرماہ کوئی کم عمر بچی تو تھی نہیں جو اس کی سمجھ میں نہیں آتا وہ ژالے کو پرکھتی نگاہوں سے دیکھ کر ہونٹوں پر استہزایہ مسکراہٹ لئے اس سے پوچھی تھی۔
اس کے سوال پر ژالے گھبرا سی گئی تھی۔ اس کو ایسا محسوس ہوا تھا حازم عباس سے منسلک محبت کے سبھی راز افشاں ہو چکے تھے۔ پھر بھی اس نے قدرے نارمل خود کو رکھتے بولنا شروع کیا۔
آفکورس ہوگی کزن ہے ہمہارا؛؛؛ تمہیں اس بات کا احساس نہیں؛؛؛ تو الگ بات ہے۔ ژالے نے وہ اکسکیوز دئیے تھے جو بغیر سر پیر کے تھے۔
مجھے احساس کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے جو میرے باپ کے پیسوں پر پل رہا میں کیونکر اس کا احسان لوں ہممم… وہ حقارت سے اپنی بات کہتی عافیہ کے ساتھ کلاس روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔ ژالے اس کی اس قدر خود غرضی پر بے انتہا افسوس کی تھی۔ اس کو سمجھانا مطلب کسی پتھر سے سر پھوڑنے کے برابر تھا۔

#

یار مہرماہ اتنی نفرت کیوں ہے تمہیں حازم سے؟؟؟ اتنا اچھا بندہ ہے وہ؛؛؛؛ کبھی اس کو غور سے دیکھا ہے تم نے!!! عافیہ اس کے ساتھ قدم سے قدم ملاتی کلاس روم کی جانب آتے ہوئے دروازے پر رک کر پوچھی تھی اس نے ہمیشہ مہرماہ کی زبان سے حازم کے لئے نفرت ہی اگلتے ہوئے دیکھا تھا۔
اپنی بکواس بند کرو؛؛؛ اس کی سچائی سے صرف میں واقف ہوں کس طرح وہ بچپن سے میرے ساتھ زیادتی کرتا آیا ہے ؛؛؛؛ بابا نے ہمیشہ اس کو مجھ پر فوقیت دی ہے؛؛؛؛ میں غلط ہو سکتی ہوں ان کی نظر میں؛؛؛؛ لیکن حازم عباس کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔
میرے بچپن سے میری چیزیں تو چیزیں حتیٰ کہ میرے حصے کا پیار بھی اسی کو ملا ہے۔ ماں تو ہے نہیں اس کی بیچارہ میرے ہی باپ کے پیسوں پر زندگی بسر کر رہا ہے۔ وہ شدید نفرت کا اظہار کرتی زبان سے زہر اگل رہی تھی غصہ اتنا تھا کی گویا حازم عباس جو اس کے سامنے ہوتا تو اس کا قتل کر دیتی۔
مہرماہ تم فرض کرو اگر تمہیں حازم سے کبھی محبت ہو گئی تو؟؟ کیونکہ شدید نفرت کا خاتمہ شدید محبت پر ہی ہوتا ہے۔عافیہ اپنی بات کہہ کر اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھ کر پوچھی تھی۔
“میں تب اپنے رب سے دعا کروں گی کی مجھے موت بھلے دے دے” لیکن حازم سے محبت کی حماقت کبھی نہیں کروں گی؛؛؛ اس کا عزم سے چور لہجہ عافیہ کو چپ رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔

مہرماہ اپنی بات کہہ کر رکی نہیں تھی۔ اس کے پیچھے پیچھے عافیہ نے بھی اس کے قدم سے قدم ملایا تھا۔

#

تین منزلہ کا یہ آفس جو عامر انڈسٹری کے نام سے شہر میں مشہور تھا۔ جس کی ڈیمانڈ بھی پورے ملک میں تھی۔ کچھ تو عامر صاحب کی ایمانداری کے بنا تو کچھ محنت کی وجہ سے۔
اس کی گاڑی آفس کے سامنے آ کر رکی تھی۔ وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر نیچے اترا تھا۔ اکثر و بیشتر اس کا چکر آفس میں لگتا تھا۔ وہ گاڑی میں سے ہاتھ بڑھا کر سیٹ پر رکھا کوٹ اٹھا کر پہنا تھا۔ دھوپ کی ہلکی سی کرن اس کو چھو کر گزری تھیں۔ وہ مضبوط قدموں سے چلتا آفس کے اندر آیا تھا۔
آفس میں موجودہ اسٹاف میمبرز نے کھڑے ہو کر ادب سے اس کو سلام کیا تھا وہ نرم آواز میں سلام کا جواب دے کر عامر صاحب کے کیبن کی جانب بڑھا تھا۔ اس کے پیچھے پیچھے مسٹر باسط بھی ساتھ تھے؛؛؛ جو یہاں پر ہئیڈ منیجر کے طور پر کام کرتے تھے۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتا عامر صاحب کے کیبن تک پہنچا تھا۔ ہلکی سی دستک پر اندر اسے اجازت ملنے پر وہ آیا تھا۔
جہاں پر عامر صاحب پہلے سے موجود تھے وہ ڈرائیور کے ساتھ دوسری گاڑی سے آئے تھے۔
حازم انہیں سلام کرتا ایک چئیر کھسکا کر اس پر براجمان ہوا تھا-
عامر صاحب ہاتھ میں دیگر فائلز لاکر سے نکال کر اس کے سامنے ٹیبل پر لا کر رکھ دئے تھے؛؛؛ حازم نا سمجھی سے ان کے چہرے کی طرف دیکھا تھا۔ اسے قطعاً کچھ سمجھ میں نہیں آیا تھا۔
عامر صاحب فائلز ٹیبل پر رکھ اس کے سامنے والی چئیر پر بیٹھتے ہوئے اپنی بات کہنا شروع کئے تھے۔
حازم یہ آفس کی سب فائلز ہے میں چاہتا ہوں ایک بار تم پڑھ لو سب؛؛؛؛ کیونکہ مجھے اب ایسا لگتا ہے کی میری بوڑھی ہڈیوں میں اب طاقت نہیں رہ گئی ہیں کی میں بزنس کا کام سر انجام دو۔ اور بزنس میں پچھلے دو تین مہینوں سے مسلسل نقصانات ہو رہیں ہیں؛؛؛؛ یہ بات سمجھنے سے میں قاصر ہوں؛؛؛؛ کیوں کہ رمیض کے آفس جوائن کرتے ہی لوس پہ لوس ہو رہا ہے؛؛؛؛ میں چاہتا ہوں یہ سبھی فائلز تم پڑھ کر مجھے اپنا فیصلہ بتاؤ کیونکہ میری دلی خواہش ہے میرے بعد اس آفس کو تم سنبھالو۔۔ عامر صاحب اپنی بات کہہ کر اسے گہری نگاہ سے دیکھے تھے۔ ان کے برعکس حازم خاموشی سے نظریں ٹیبل پر رکھی فائلز پر جمائے خاموش بیٹھا تھا۔
لگتا ہے تمہیں میرا فیصلہ پسند نہیں آیا؟؟
ایسی بات نہیں ہے چچا جان مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا میں کیا بولوں؟ آپ یہ بات مجھ سے کر رہیں گھر کے دیگر افراد کا اس فیصلہ پر کیا ردعمل ہوگا؛؛؛؛ آپ نے یہ سوچا ہے؟؟ وہ لب بھینچے اپنی خاموشی کو توڑا تھا۔
گھر کے افراد کا اس معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں ہے؛؛؛؛ میں نے رمیض کا حق پہلے ہی ادا کر دیا ہے مجھے غرض نہیں ہے کون کیا سوچتا ہے؟؟؟ تم مجھے اپنا فیصلہ بتاؤ؟؟؟ عامر صاحب گویا ٹھان کر بیٹھے تھے آج اسے اس چیز کے لئے راضی کر کے ہی رہیں گے۔
چچا جان گستاخی معاف لیکن مہرماہ آپ کی اکلوتی بیٹی ہے؛؛؛؛ مجھ سے زیادہ اس کا حق ہے !!! وہ مہرماہ کا خیال آتے ہی اپنی بات رکھا تھا ابھی تو وہ اسے اس بات کا طعنہ دیتی ہی تھی کہ میرے باپ کے پیسوں پر پل رہے ہو؛؛؛؛ اور جب اس کو اس بات علم ہوتا کی اس کے بابا نے ساری پراپرٹی اس کے نام کر دی؛؛؛؛ تو تب تو یقیناً وہ گھر کی در و دیوار ہلا کر رکھ دیتی۔
میں جانتا ہوں مہرماہ میری اکلوتی بیٹی ہے؛؛؛ لیکن اس کی فکر چھوڑو ابھی وہ اتنی سمجھدار نہیں ہوئی ہے کی بزنس سمبھال سکے اور اگر تم یہ سمجھ رہے ہو کی وہ کیا کہے گی تو بے فکر ہو جاؤ اس کے لئے بھی میں نے کچھ سوچ کر رکھا ہے۔
عامر صاحب پرسوچ انداز میں بولتے ہوئے اس کے چہرے کو بڑی غور سے دیکھے تھے۔
چچا جان لیکن۔۔۔وہ بڑی عجیب سی کشمش میں گھر گیا تھا اس کی سمجھ سے بلکل بالاتر تھا وہ کیا جواب دے۔
لیکن ویکن کچھ نہیں؛؛؛؛ یہ سب میں اپنی اپنی خوشی خوشی کر رہا ہوں تم زیادہ سوچو نہیں۔۔۔عامر صاحب طے کر چکے تھے اور ان کی بات سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کی وہ ایک انچ اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ٹھیک ہے جیسی آپ کی مرضی۔ وہ بلاآخر ہتھیار ڈال ہی دیا تھا فرار کی ساری راہیں مسدود ہو چکی تھی۔ اس کا جواب سن کر عامر صاحب مسکرا دئے تھے۔ انہوں نے پہلے سے ہی سارے کاغذات تیار کروا لئے تھے بس اس پر ان کی دستخط کرنے کی دیر تھی۔

#

مہرماہ اب اپنا موڈ تو سہی کر لو یار کب سے ایسے ہی بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ بیٹھی ہو!!! عافیہ اس کا خطرناک حد تک بگڑا ہوا موڈ دیکھ کر سہی کرنے کے سو سو جتن کر رہی تھی۔

مجھے تو ژالے پر رہ رہ کر غصہ آ رہا ہے؛؛؛ کس طرح وہ اس کی طرفداری کرتی ہے؛؛؛؛ مجھے تو کبھی کبھی لگتا ہے اس کی میں کزن نہیں دشمن ہوں ہر وقت بس حازم نامہ لئے پھرتی ہے؛؛؛ مہرماہ کی سوئی پچھلے ایک گھنٹے وہیں پر اٹکی تھی۔
مجھے تو لگتا ہے!!!! عافیہ کی زبان یکلخت پھسلی تھی وہ زبان دانتوں تلے دبا کر خود کو بولنے سے باز رکھی تھی۔
کیا لگتا ہے تمہیں؟؟؟ چپ کیوں ہو گئی تم؟؟ مہرماہ اس کی آدھی ادھوری بات سن کر بیچین ہوئی تھی۔
یار مجھے جہاں تک لگتا ہے ژالے حازم کو پسند کرتی ہے؛؛؛؛ عافیہ کسی شاطر عورتوں کی مانند اپنا دماغ چلاتے ہوئے تکا لگائی تھی۔ اس کی بات سن کر مہرماہ کا آدھے سے زائد منھ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔
ایسا نہیں ہو سکتا یار؛؛؛؛ میرا مطلب ہے ژالے وہ اس حازم کو پسند کرتی ہے امپاسبل؛؛؛ مہرماہ یہ بات ماننے سے صاف طور پر انکار کی تھی۔
امپاسبل کیوں؟؟ مجھے تو یہی لگ رہا ہے تم مانو یہ نہ مانو!!! عافیہ ہاتھ جھاڑتی اپنی بات دوبارہ سے دہرائی تھی۔
میرا نام بھی مہرماہ عامر ہے اگر ایسی کوئی بات ہے تو میں چٹکی میں پتہ لگا لوں گی۔۔ مہرماہ ہاتھ سے چٹکی بجاتی آنے والے وقت کا سوچ کر حقارت سے منھ بنائی تھی۔

#

شام ہونے کو آئی تھی۔
حازم گھر جانے کے لئے کھڑا ہو گیا تھا۔
آفس کے کام تقریباً نمٹ چکے تھے ۔
وہ پہلے فائلز کا مطالعہ کیا تھا اس کے بعد دیگر فائلز پر اپنی دستخط کیا تھا۔ سارے کام مکمل ہو چکے تھے۔ بس کچھ ہی کام رہ گئے تھے جو وہ گھر جا کر پورا کر لیتا۔
حازم مہرماہ کو کالج سے پک کر لینا بیٹا میں نے ڈرائیور کو دوسرے شہر بھیجا ہوا ہے۔ عامر صاحب اس کو کھڑا ہوتا دیکھ بولے تھے۔ حازم کی نگاہوں کے سامنے صبح والا منظر گردش کیا تھا وہ سوچ کر مسکرا دیا تھا اور عامر صاحب کو اطمینان دلاتا فون پاکٹ میں ڈال کر مضبوط قدموں سے آفس سے باہر آیا تھا۔
گاڑی میں بیٹھ کر اسٹارٹ کیا تھا۔
گاڑی آفس کے سامنے سے دھول اڑاتی اپنے راستوں کی جانب گامزن تھی۔

#

کالج آف ہو چکا تھا ژالے و عیشہ کا ابھی مزید لائبریری میں جانے کا ارادہ تھا۔ مہرماہ عافیہ کے ساتھ کالج کے باہری بڑے سے گیٹ کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی تھی۔ دھوپ کی شدت سے اس کا حوصلہ جواب دینے لگا تھا۔ وہ عافیہ کے ساتھ گیٹ پر پچھلے دس منٹ سے کھڑی تھی۔
تم گھر پر کال کرو پوچھو کون آ رہا ہے جو ابھی تک پہنچا نہیں ہے؟؟ عافیہ اس کے ہاتھ میں موجود موبائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولی تھی۔

یار بابا کا فون آیا تھا انہوں نے کہا ہے ڈرائیور شہر گیا ہوا تو وہ کسی اور کو بھیج رہیں ہیں۔ پتہ نہیں کتنا وقت اور لگے گا؟ وہ کاندھے سے لڑکھتی شال کو ہاتھ سے سہی کرتے ہوئے عافیہ کو جواب دی تھی۔
یکایک ایک تیز رفتار سے بائک سامنے سے آتی مہرماہ کے بازوؤں کو چھوتی لڑکھڑا کر نیچے گری تھی۔ گاڑی چلانے والا شخص شائد اندھا تھا جبھی تیز رفتاری سے بائک چلا رہا تھا۔
مہرماہ کے تو حواس شل ہو گئے تھے وہ بے یقینی سے پھٹی پھٹی نگاہوں سے اس شخص کو دیکھی تھی جو تھوڑی سی مشقت کے بعد اس کے بر مقابل آ کھڑا ہوا تھا۔
جاہل عورت؛؛ گاڑی نظر نہیں آئی تھی تمہیں؟
وہ شخص بجائے معافی مانگنے کے؛؛؛ سیدھا بدتمیزی پر ہی اتر آیا تھا مہرماہ کہاں چپ رہنے والی تھی۔ اس نے بھی آگے سے دو دو ہاتھ کیا تھا۔
جاہل انسان گاڑی چلانے کا جب طریقہ نہیں ہے تو لے کر نکلتے ہی کیوں ہو؟ مہرماہ کا چہرہ سرخ مرچ کی مانند تمتما رہا تھا کچھ تو غصے کی وجہ سے تو کچھ دھوپ کی شدت سے۔

تمہاری اتنی ہمت کی تم مجھ سے زبان درازی کرو؟ مہرماہ کا آلاو میں جھلستا ایک ایک لفظ سن کر اس شخص نے اس کا ہاتھ اپنے گرفت میں مضبوطی سے لیتے ہوئے زہر آلود نظروں سے دیکھا تھا۔
گھٹیا انسان میرا ہاتھ چھوڑ دو وگرنہ اسی پبلک کے بیچ میں میں تمہارا وہ حشرکروں جس کو تم اپنے خواب کیا خیال میں بھی نہیں سوچے ہوگے۔
وہ ہاتھ چھڑانے کی سعی کرتی اس بغیرت انسان کو دھمکی دی تھی۔ کالج کے دیگر اسٹوڈینٹ بھی بھیڑ کی صورت میں یہ سارا منظر بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے کچھ لوگوں نے تو اسی وقت ویڈیو بھی لی تھی۔
تمہارے جیسی لڑکی میرے آگے پیچھے گھومتی ہیں اپنی اوقات دیکھی ہے تم نے؟
اگر میں تمہیں منھ لگا رہا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کی تم میرے مقابل کی ہو۔ اس ناہجاز شخص نے اس کی کلائی پر اپنی گرفت پہلے سے مزید مضبوط کی تھی۔
چٹاخ!!! مہرماہ کا ہاتھ ہوا میں لہرا کر سیدھا اس شخص کے گالوں پر جا کر پانچوں انگلیوں سمیت چھپا تھا۔
میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں جاہل عورت!!! وہ شخص اپنے گال پر بے یقینی سی کیفیت میں ہاتھ رکھتا شیر کی مانند غررا کر مہرمہاہ کے اوپر جھپٹا تھا۔
عافیہ حیرتِ زدہ سی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ اس کے ساتھ کالج کے اسٹوڈینٹ بھی لطف اندوز ہو رہے تھے۔
میں تمہیں اس قابل ہی نہیں چھوڑوں گا تم کسی سے نظریں ملانے کے قابل رہو۔۔اس شخص نے اس کے بازوؤں پر رکھی سیاہ شال کو ہاتھ سے کھینچنے کی کوشش کی تھی کہ یکلخت کسی کا مضبوط ہاتھ اس شخص کی اس حرکت پر ایک زوردار گھونسا پیٹ میں جڑا تھا۔
وہ شخص اپنا پیٹ پکڑ کر تڑپتے ہوئے زمین بوس ہوا تھا۔
گھٹیا انسان شرم نہیں آتی عورتوں سے کس طرح پیش آتے ہیں۔ حازم کا ہاتھ ایک کے بعد ایک گھونسے کی شکل میں کبھی اس شخص کے منھ پر تو کبھی پیٹ پر پڑ رہا تھا۔
کالج کی لڑکیاں تو لڑائی بھول بھال کر منھ کھولے حازم کو تک رہی تھیں۔ پیشانی پر بکھرے بال وہ تنے نقوش کے ساتھ وہ سبھی لڑکیوں کے دل میں سیدھا اترا تھا۔
وآؤ یار اتنا ہینڈسم بندہ؛؛ یہ مہرماہ کا کزن تو نہیں؟؟ اسی میں سے ایک لڑکی نے دوسری لڑکی کے کان میں پھسپھسانا شروع کردیا تھا۔
لگ تو مجھے بھی رہا ہے؛؛؛ دوسری لڑکی نے فوراً پہلے والی کی تائید کی تھی۔
لڑکیوں کے جھنڈ میں چیو مگیاں شروع ہو چکی تھیں۔
مہرماہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے حازم کا چونکا دینے والا روپ دیکھ کر سہم سی گئی تھی۔ اس نے آج سے پہلے کبھی بھی اس کو اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا۔
حازم اس شخص کے منھ پر گھونسے کی برسات کرتا اس کا نقشہ بگاڑ دیا تھا۔ اگر جو کالج کے دو تین لڑکے آ کر اس لڑائی کو روکتے نہیں۔
مہرماہ عافیہ کی اوٹ میں چھپ کر یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔
وہ لڑکا مارے ڈر و خوف سے اٹھ کر اپنی بائک چھوڑ کر نو دو گیارہ ہوا تھا وہاں سے۔
حازم غصے سے مٹھیاں بھینچتا مہرماہ کی زمین پر پڑی شال کو اٹھا کر اس کے بازوؤں پر رکھتا اس کا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ کھینچتا گاڑی میں لا کر پٹکا تھا۔
مہرماہ کو ایک لمحے کے لئے حازم سے خوف آیا تھا وہ خوفزدہ نگاہوں سے اس کو تکتی خاموش بیٹھے رہنے میں ہی عافیت جانی تھی۔
آدھے گھنٹے کی فاسٹ ڈرائورنگ کے بعد گاڑی گھر کے سامنے آ کر رکی تھی۔ وہ اپنی سائڈ کا دروازہ کھول کر اس کی جانب آیا تھا اور اس کا ہاتھ کھینچ کر تقریباً گھسیٹتے ہوئے گھر کے اندر لے جا کر حال کمرے میں صوفے پر پٹکا تھا۔
مہرماہ لب کچلتی اس کے تا دیتے غصے کو دیکھ کر ٹھٹھکی تھی۔
ہو گئیں خوش آپ؟ مل گیا سکون؟ کیا ضرورت تھی کسی ایسے ویسوں کے منھ لگنے کی اگر کچھ بڑا نقصان ہو جاتا تو؟؟ اگر میں وقت پر نہیں پہنچتا تو پتہ بھی ہے کیا سے کیا ہو سکتا تھا؟؟ اس کا غصہ آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔
مہرماہ خود کو قدرے نارمل رکھتے ہوئے بولنا شروع کی تھی۔
اس شخص نے جان بوجھ سے مجھے اپنی بائک سے ہٹ کیا تھا تو مجھے غصہ آ گیا تھا۔ مہرماہ لب کچلتی اپنے دفاع میں بولنے کی سعی کی تھی۔
غصہ آ گیا تھا؟؟ اگر چہ کچھ ہو جاتا تو کچھ سوچا ہے آپ نے ؟؟ وہ پہلے سے زیادہ بھپرا تھا اس کا جواب سن کر مہرماہ بگڑ کر بولی تھی۔
ہوا تو نہیں نہ؟ تم ہوتے کون ہو؟ مجھ پر حکمرانی کرنے والے؛؛؛؛ میرا نقصان ہوتا نہ کی تمہارا؛؛؛؛ تمہیں اس چیز سے مطلب نہیں ہونا چاہیے۔ مہرماہ بھی اس کے مقابل صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی۔ اور غصے سے جو منھ میں آئے جا رہا تھا بولے جا رہی تھی۔
اس گھر کی عزت ہیں آپ مجھے اس مطلب ہوگا۔۔ حازم کو اس کی بات سن کر حد درجہ افسوس ہوا تھا۔
ہممم!!!
عزت ؟؟ عزت کی بات تم نہ ہی کرو تو بہتر ہے؛؛؛ جس کی ماں خود عزت بیچ کر چلی گئی وہ کیا خاک عزت کے معنی سمجھے گا۔ مہرماہ کی زبان سے دہکتے لفظ سن کر حازم کی برادشت نے جواب دے دیا تھا۔
مہرماہ!!!!!!! اس کا ہاتھ فضا میں اٹھا تھا اگر جو وہ خود کو نہ روکتا تو یقیناً مہرماہ کے گالوں پر اس کی انگلیاں نشان چھوڑ جاتیں۔
اس کا ہاتھ فضا میں اٹھتا دیکھ مہرماہ اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر آنکھ سختی سے بند کی تھی۔
ڈیمیڈ!!! وہ ہاتھ کو مٹھی کی شکل میں بناتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔
پیچھے وہ ہک دق سی اس کے اس روپ کو دیکھ رہی تھی کی اچانک سے اس کی نظر سامنے کھڑے عامر صاحب پر پڑی تھی جو یقیناً ان دونوں کی بات سن چکے تھے۔
بابا دیکھا آپ نے اس کو؟؟ کس طرح مجھے مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا تھا۔ مہرماہ دوڈ کر چند قدموں کا فاصلہ طے کرتی عامر صاحب کے پاس پہنچی تھی۔
غلطی آپ کی ہے؛؛؛؛ حازم بلکل درست ہے اپنی جگہ. عامر صاحب بس ایک لفظ بول کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے تھے۔ پیچھے وہ غضبناک سی کیفیت میں مبتلا عامر صاحب کو جاتا ہوا دیکھتی رہ گئی تھی۔
آپ آج بھی مجھے غلط قرار رہیں ہیں بابا؟؟ صرف اس شخص کے لئے۔ یکایک وہ اٹھی اور اپنا بیگ لے کر غصے کی حالت میں اپنے کمرے میں جا کر بند ہو گئی تھی۔ آسیہ بیگم و دیگر افراد اپنے کمرے میں موجود ہونے کی باعثِ کچھ بھی نہیں جان سکے تھے۔

#

حازم غم و غصّے کی کیفیت میں ڈریسنگ ٹیبل پر ہاتھ جمائے آئینے میں اپنا عکس دیکھا تھا۔
مہرمہاہ کے الفاظ نے اس کے دل کو چھلنی کر کے رکھ دیا تھا۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے سے ہٹ کر بیڈ پر آ کر ڈھے سا گیا تھا۔ ساری ہمت جواب دے چکی تھی۔ وہ آنکھ بند کرتا کئی لمحے اس پتھر کی بنی مورت کو سوچ رہا تھا۔
جس کے سینے میں دل نام کی چیز تھی ہی نہیں۔ لوگوں کو تکلیف پہنچانا لوگوں کو لفظوں کے تیر سے ان کا دل چھلنی چھلنی کر دینا کوئی مہرماہ عامر سے سیکھتا۔
وہ خود کو پر سکون کرنے کے لئے کئی لمحے تک آنکھ بند کئے بیڈ پر پڑا رہا۔ سر میں بھی شدید قسم کا درد اٹھنے لگا تھا۔ وہ ہاتھ مٹھی کی شکل میں بناتا ہلکے ہلکے سے پیشانی پر بل دیا تھا۔

#

ژالے و عیشہ بھی اس کے کچھ دیر بعد گھر آ گئیں تھیں۔ مگر دونوں کو مہرماہ کہیں نظر نہیں آئی تھی۔ کالج کے بقیہ اسٹوڈینٹ سے ان کے کانوں تک بھی آج ہونے والے واقعے کی خبر پہنچ گئی تھی۔
ژالے تو مہرماہ کے بجائے حازم کے کمرے کی جانب دوڈ کر گئی تھی۔
کیونکہ عافیہ کے توسط اسے پتہ چلا تھا کہ حازم اسے بچا کر لے گیا تھا۔
دروازے پر دستک دے کر وہ اس کے کمرے میں چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتی اندر آئی تھی۔
اندر آ کر حازم کو بیڈ پر پڑا دیکھ وہ گھبرا کر اس کے پاس آئی تھی۔
حازم تم ٹھیک ہو نہ؟؟ ژالے فکرمندی سے پوچھی تھی۔ ژالے کی آواز پر حازم نے ذرا سی آنکھ کھول کر دیکھا تھا۔ وہ اسکے قریب بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔
جی میں ٹھیک ہوں!!! حازم آہستگی سے جواب دیا تھا۔
مجھے لگ رہا ہے تمہارے سر میں درد ہے؟ میں سر دبا دوں؟ ژالے متلاشی نگاہوں سے اس کے تھکے تھکے چہرے کی جانب دیکھ کر ہولے سے پوچھی تھی۔
نہیں شکریہ!!! حازم اس کی گئی آفر کو سن کر آہستہ سے نفی میں گردن ہلایا تھا۔
مجھے پتہ چلا مہرماہ نے کالج میں کیا گل کھلایا ہے آج پورا کالج اسی کو لے کر باتیں کر رہا تھا؛؛؛ مجھے تو سمجھ میں نہیں آتا مہرماہ ہر کسی سے جھگڑ کیوں پڑتی ہے؟؟ آئے دن اس کا کسی نہ کسی سے پنگا ہو جاتا ہے کالج میں!!! ژالے تین میں تیرہ جوڑتے ہوئے زہر خند مسکراہٹ لبوں پر سجا کر معصومیت سے بولی تھی۔ اس کو تو یہ چیز ہضم نہیں ہو رہی تھی کی مہرماہ کو بچانے کے لئے حازم کیوں آیا تھا؟
میری ایک التجا ہے ژالے میں جانتا ہوں مہرماہ کم عمر ہونے کے ساتھ بیوقوف بھی ہے پلیز اس کے اوپر کالج میں توڑا توجہ دیا کرو وہ ابھی سہی اور غلط کچھ نہیں سمجھتی ہے!! حازم اٹھ کر بیٹھ گیا تھا اور ژالے سے مہرماہ کے متعلق نرم لہجہ اختیار کرتا التجایہ انداز میں بولا تھا۔
اتنا سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی وہ ابھی بھی مہرماہ کے لئے ہی فکرمند تھا۔
حازم کے بات سن کر ژالے کا منھ و حلف تک کڑا ہوا تھا۔ اسے شدید قسم کی جلن اس وقت مہرماہ سے محسوس ہو رہی تھی۔ وہ تو کچھ اور ہی سوچ کر آئی تھی یہاں تو کوئی اور ہی معاملہ تھا۔
ہاں کیوں نہیں بلکل!!! ژالے اپنے چہرے کی ناگواری کو چھپاتے ہوئے جبرن مسکرائی تھی۔

میں مہرماہ کو دیکھ کر آتی ہوں!!! ژالے کا وہاں مزید بیٹھنا محال ثابت ہو رہا تھا۔ وہ اس کے کمرے سے اکسکیوز کرتی باہر چلی آئی تھی۔
اتنی فکر مہرماہ کے لئے کیوں حازم؟؟ تمہیں وہ معصوم و چھوٹی دکھتی ہے؛؛؛؛ اور میں؟؟
میں کہاں ہوں؛؛؛؛ ان سب کے درمیان؟؟ کمرے سے باہر آ کر وہ دیوار سے لگ کر خود سے ہمکلام ہوتی نفرت سے سڑھیاں اتر کر نیچے آئی تھی۔

رات ہونے کو آئی تھی ہر سو اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ پرندے اپنے اپنے نشیمنوں کی جانب رواں دواں تھے۔
رمیض؛؛ عیشہ؛؛؛ و ژالے تینوں لاونج میں بیٹھ کر کسی احم مطالبہ پر بحث کر رہے تھے۔
آسیہ بیگم و صبا بیگم ملازمہ کے ساتھ مل کر رات کے کھانے کا انتظام کر رہیں تھیں۔
حازم بھی رات گئے اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا۔ اس کے بر عکس مہرماہ کمرے میں ہی بند تھی۔ آسیہ بیگم کو اس واقع کی کچھ خبر نہیں تھی ان سے کسی نے ذکر ہی نہیں کیا تھا۔
حازم ہمارے درمیان میں آ کر بیٹھو ایک شگل لگاتے ہیں شعر و شاعری کا؛؛؛؛ عیشہ اس کو حال کمرے کی جانب بڑھتا دیکھ آواز دی تھی۔
عیشہ کی بات سن کر وہ ان لوگوں کے درمیان میں آ کر بیٹھ گیا تھا۔نظریں ہنوز اسی سنگ دل لڑکی کی تلاش میں بار بار یہاں وہاں بھٹک رہیں تھیں۔ مگر وہ کہیں بھی نظر نہیں آئی تھی۔
ملازمہ چائے کی ایک پیالی اسے لا کر تھما گئی تھی وہ شکریہ ادا کرتا چائے کے گھونٹ بھرنے لگا تھا۔
حازم چلو کچھ اچھا سا اپنے ذوق میں سے کچھ اعلیٰ قسم کا شعر ہی سنا دو؛؛؛ رمیض حازم کو آنکھ مارتا معنی خیز لہجے میں بولا تھا۔
ہاں نہ حازم کچھ اچھا سا سناؤ۔۔۔عیشہ نے بھی آگے سے لقمہ دیا تو وہ ایک خاموش نظر مہرماہ کے کمرے کی جانب بند دروازے کو دیکھتا گلا صاف کرتا ایک ربطِ سے شعر کہنا شروع کیا تھا۔

پلٹ کر آنکھ نم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا گئے لوگوں کا غم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا سرِ تسلیم خم کر کے بہت کچھ مل تو سکتا ہے سرِ تسلیم خم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا جو نفرت ہو تو بیحد ہو، محبّت ہو تو بے پایاں کوئی بھی کام کم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا

ژالے خود میں مزید سمٹ کر بیٹھی تھی۔ اور شرمانے کی اداکاری تھی۔ گویا یہ شعر اسی کے لئے کہا گیا تھا۔
واہ!!! کیا کہنے؛؛؛ بہت ہی اعلیٰ غزل تھی۔ عیشہ اسے بھرپور داد دیتی خوشدلی سے تعریف کی تھی۔ وہ محض ہلکا سا مسکراتا داد وصول کیا تھا۔
اسی اثناء میں مہرماہ کا دروازہ کھلا تھا۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر سبھی چونک کر اس کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔
حازم خالی خالی آنکھوں سے اس دشمن جاں کو دیکھا تھا جو باہر سے حد درجے کی معصوم و چھوٹی سی کانچ کی گڑیا کی مانند لگ رہی تھی۔ مگر یہ بات بھی اسکے علم میں اچھی طرح تھی کی وہ سنگ دل لڑکی اپنے اندر کتنی نفرت اس کے لئے رکھتی تھی۔
وہ چائے کا آخری گھونٹ بھرتا اسے دیکھ کر سوچا تھا۔
شکوراں؟؟؟ شکوراں؟؟؟ ملازمہ کو غصے سے آواز دیتی وہ ان لوگوں کے درمیان میں آ کر بیٹھی تھی۔
جی بی بی جی؟؟ شکوارں ایک قدم پر دوڑتی کسی جن کی مانند اس کے سامنے حاضر ہوئی تھی۔
سنائی نہیں دیتا تمہیں؟؟ سماعت سے محروم ہو گئی ہو؟؟ میرے لئے کوفی کا ایک مگ بنا کر لے کر آو!!! وہ حکم صادر کرتی ان تینوں کی جانب اچٹتی نگاہ سے دیکھی تھی جو خود بھی اس کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
میرے چہرے پر کوئی جوک لکھا ہے کیا؟؟؟ ان تینوں کو اپنی جانب متوجہ پا کر وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھ کر پوچھی تھی۔
نہیں یوں ہی!!!! رمیض کسی بھی طرح معاملہ کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بات کو ٹال مٹول کرنے کی کوشش کیا تھا۔
ارے حازم؟ چپ کیوں ہو گئے ہو؟ ایک اور اچھی سی غزل سنا دو یار!!! تمہارے منھ سے سن کر الفاظ کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔
رمیض کب سے خاموش بیٹھے حازم کو مخاطب کیا تھا۔
ہاں نہ حازم پلیز!!! ژالے بھی اس کی التجاء کی تھی۔ مہرماہ کے تو دونوں کان کھڑے ہو گئے تھے ژالے کی بات پر۔۔
ٹھیک ہے؛؛؛ آپ لوگوں کے اصرار پر میں کیا کہہ سکتا ہوں۔
ان لوگوں کے اصرار پر وہ ایک گہری نگاہ سامنے بیٹھی مہرماہ پر ڈال کر ایک جذب کے عالم شعر کہنا شروع کیا تھا۔

اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمّل کر دو نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے ۔ اس قدر ٹوٹ کے چاہو، مجھے پاگل کر دو تم ہتھیلی کو میرے پیار کی مہندی سے رنگو اپنی آنکھوں میں میرے نام کا کاجل کر دو دھوپ ہی دھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پر میں تو صحرا ہوں مجھے پیار کا بادل کر دو اس کے سائے میں میرے خواب مہک اٹھیں گے میرے چہرے پہ امیدوں بھرا آنچل کر دو اپنے ہونٹوں سے کوئی مہر لگاؤ مجھ پر ایک نظر پیار سے دیکھو مجھے گھائل کر دو

وہ شعر کہہ کر خاموش ہوا تھا کی تالیوں کا ایک شور برپا ہوا تھا۔
ژالے کی تو اس شعر کو سن کر ہتھیلی میں پسینہ آ گیا تھا۔ شرم و جھجھک سے پلکیں مزید عارضوں پر گری تھیں۔
اس کے برعکس مہرماہ جانچتی نگاہ حازم کی طرف ڈالی تھی اس کا مطلب عافیہ کا اندازہ سہی تھا۔
ژالے اور حازم واقعی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں؟؟؟
وہ اپنی جگہ دم بخود سی ہو کر یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔
واہ یار؛؛؛ بڑا رومنٹک شعر پڑھا ہے؛؛؛ سب خیریت تو ہے نہ؟؟ رمیض نے شرارتی انداز میں کہتے ہوئے اس کو آنکھ ماری تھی۔
ہاں سب خیریت ہی ہے؛؛؛ بے فکر رہو تم!!! حازم اس کی غلط فہمی دور کرتا مسکرا دیا تھا۔ اس کی مسکراہٹ دیکھ کر مہرماہ کے تن بدن میں آگ لگی تھی۔
یار مہرماہ تم بھی کچھ سنا دو!!! محفل میں چار چاند لگ جائے گا۔ رمیض اب مہرماہ کی جانب مڑا تھا۔ رمیض کی بات سن کر وہ آس پاس کے لوگوں کو نظر انداز کرتی شعر پڑھنا شروع کی تھی۔

اس طرح نہیں کرتے، رابطہ تو رکھتے ہیں تھوڑا ملنے جلنے کا سلسلہ تو رکھتے ہیں جو تمہارے اپنے ہوں، تم سے پیار کرتے ہوں ان کا حال کیسا ہے، کچھ پتہ تو رکھتے ہیں دوستی کے رشتے کو توڑتے نہیں ایسے روٹھے دوستوں سے بھی واسطہ تو رکھتے ہیں چھوڑ جانے والے لوٹ کے بھی آتے ہیں لوٹ کے وہ آنے کا راستہ تو رکھتے ہیں

مہرماہ کی خوبصورت آواز ماحول پر سحر طاری کرتی سب کو چونکا دینے پر مجبور کی تھی۔
وہ شعر کہہ کر خاموش ہوئی تو سبھی نے اس کی کھلے دل سے تعریف کی تھی۔ جس کو مسکرا کر وصول کرتی ایک غلط نگاہ حازم پر ڈال کر پلٹی تھی۔
ژالے تم بھی سنا دو؛؛؛ کب سے خاموش بیٹھی ہو؛؛؛ عیشہ کا جھکاؤ اب ژالے کی طرف تھا۔ جو نہ جانے کتنے لمحوں سے خاموش بیٹھی تھی۔
عیشہ کی بات سن کر وہ ہڑبڑائی تھی۔ چہرے پر قوس قزح کے رنگ بکھرے تھے۔
عیشہ نے دوبارہ سے کہا تو اپنی دلی کیفیات کو چھپاتی شعر کہنا شروع کی تھی۔

سننے کو بھیڑ سرِ محشر لگی ہوئی ہے تہمت تمہارے عشق کی ہم پر لگی ہوئی ہے

ژالے شرماتی لجاتی شعر پڑھتی اپنی بے ربط سانسوں پر قابو پانے کی ناکام کوشش کی تھی۔

شعر و شاعری کا دور اسی طرح چلتا رہا تھا۔ اس پورے درمیان میں مہرماہ و حازم کے بیچ کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔
رات کے گیارہ بجنے کو آئے تھے۔ محفل کہیں اب جا کر برخاست ہوئی تھی۔
سبھی افراد کھانا کھا کر اپنے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے تھے۔

اس کے برعکس حازم کھانے کے چند لقمات زہر مار کیا تھا۔
اور اپنے کمرے میں آ گیا تھا۔
کمرے کا گھٹن زدہ ماحول اس کو بے سکونی بخش رہا تھا۔
وہ اس گھٹن زدہ ماحول سے نکلنے کی خاطر چھت پر آ گیا تھا۔
چھت پر آنے کے بعد اس کو کسی حد تک سکون ملا تھا۔
رات کا اندھیرا ہر سو چھایا ہوا تھا۔ چاند اپنی پورے آب و تاب سے آسمان میں چمک رہا تھا۔ ہوائیں بھی ہلکی ہلکی اس کے وجود کو چھوتی گزر رہی تھیں۔ وہ آنکھ بند کر کے اپنے اندر کی تکالیف کو کسی حد تک کم کرنے کی کوشش کیا تھا۔
آج کے واقع نے واقعی اس کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔
وہ سگریٹ کا پیکٹ جینز کی پاکٹ سے نکال کر سلاگایا تھا۔ اس وقت اسے اپنا درد بانٹنے کے لئے ایک یہی واحد ذریعہ نظر آ رہا تھا۔
سگریٹ کو ہونٹوں کے درمیان دبا کر وہ فضا میں دھواں چھوڑتا اس سنگ دل لڑکی کے متعلق مسلسل سوچے جا رہا تھا۔ اس کا تو اپنی سوچوں پر بھی کوئی پہرہ نہیں تھا۔ دل دماغ حتیٰ کی سوچ پر مہرماہ عامر پوری طرح سے قابض ہو چکی تھی۔

#

مہرماہ نے بھی رات کا کھانا چند لقمے ہی زہر مار کی تھی۔ کچھ تو ٹینشن کی وجہ سے و کچھ بھوک نہ لگنے کی وجہ سے؛؛؛
وہ سیدھا اپنے کمرے میں آ کر بند ہو گئی تھی۔ عامر صاحب سے اس کے بعد اس کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی؛؛؛؛ اور نہ ہی انہوں نے کچھ پوچھنے کی کوشش کی تھی۔
وہ کمرے میں آ کر کھڑکی کی جانب آ کر دونوں پٹ کھول دی تھی۔ ہوا کا جھونکا اس کے وجود سے ٹکرایا تھا۔ وہ آنکھ بند کر کے اپنے اندر سکون جذب کی تھی۔
یکایک اس کے دل میں چھت پر جانے کا خیال آیا تھا۔
تنہائی کے کچھ پل سکون سے جینا چاہتی تھی۔
وہ بغیر کچھ سوچے سمجھے کمرے سے باہر آئی تھی۔
اور سیدھا اوپر کی جانب قدم بڑھا دی تھی۔ چھت کی زینے کو طے کرتی وہ اوپر آئی تھی۔
اوپر آ کر اس نے ایک گہری سانس لی تھی۔ اندھیرے میں کچھ نظر بھی نہیں آ رہا تھا۔ وہ اندھیرے کو ٹٹولتی دبے قدموں سمیت آگے بڑھی تھی۔
جبھی اس کا وجود کسی مضبوط چیز سے ٹکرایا تھا۔
اور مقابل اس اچانک کی آفتاد پر گڑبڑا سا گیا تھا۔ وہ مہرماہ کا نازک آبگینے کی مانند وجود اپنے ہاتھوں سے پکڑتا اسے زمین پر گرنے سے بچایا تھا۔
مہرماہ کی ایک ہلکی سی چیخ برآمد ہوئی تھی۔
جس کو حازم نے موقع پر اس کے منھ پر ہاتھ کر چینخ کا گلا گھونٹا تھا۔
آپ اس وقت یہاں؟؟؟ اندھیرا ہونے کے باوجود وہ کیسے اس چہرے کو نہیں پہچانتا؟ جو اس کے دل و دماغ میں بچپن سے اپنا نقش بنا بیٹھا تھا۔
تم؟؟؟ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟؟؟ اپنے منھ پر سے اس کا ہاتھ جھٹک کر ہٹاتے ہوئے وہ بھپری تھی۔
سوال میں نے پہلے کیا ہے؟؟؟ وہ بھی اسی کے انداز میں جواب دیا تھا۔
میری مرضی؛؛؛؛ مہرماہ تڑخ کر آگے سے جواب دیتی اس سے چند قدموں کا فاصلہ بنا گئی تھی۔
جس طرح آپ کی اپنی مرضی ہے؛؛؛؛ ٹھیک اسی طرح میری بھی اپنی مرضی ہے؛؛؛ ہم دونوں ایک دوسرے کی مرضی کے پابند نہیں ہیں.. وہ سکون سے جواب دے کر ایک بار پھر سے سگریٹ کا کش لیا تھا۔
کیا میں یہ جانو کی تم میرا پیچھا کرتے ہوئے آئے ہو؟؟ مہرمہاہ کی گردن مزید اکڑی تھی اوپر سے خوشفہمی بھی اس نے فوراً سے پالی تھی۔
حازم عباس اتنا فارغ نہیں ہے جو ہر کسی کا پیچھا کرتا پھرے؛؛؛؛ اس کے ہونٹوں پر استہزایہ سی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
اس کا جواب سن کر تو مہرماہ منھ بناتی دوسری جانب دیکھنے لگی تھی۔
آپ کو اپنی آج کی حرکت پر ذرا برابر افسوس نہیں ہے؟؟؟ وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد بولا تھا۔ اس کا تکلیف سے چور لہجہ کسی کو بھی احساس دلا دیتا کی وہ اس وقت کس قرب و غم سے گزر رہا تھا۔
افسوس کس بات کا ہوگا مجھے؟
میں ٹھیک تھی اپنی جگہ؛؛؛ مجھے قطعاً کوئی شرمندگی نہیں ہے؛؛؛؛ وہ اس کو فضا میں دھواں اڑاتا دیکھ چھبتے ہوئے لہجے میں بولی تھی۔
ٹھیک کہا آپ نے!!! واقعی آپ کو کوئی شرمندگی نہیں ہونی چاہی