Ehde Marasim By Zariya Readelle50063 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
لپٹا ہے میرے دل سے
کسی راز کی صورت؛؛
وہ شخص کی جس کو
میرا ہونا بھی نہیں ہے؛؛
یہ عشق و محبت کی
روایت بھی عجیب ہے
پانا بھی نہیں ہے
اسے کھونا بھی نہیں ہے
صبح سے گھر میں افرا تفریح کا کا ماحول تھا۔ لڑکیوں نے کالج سے چھٹی لے لی تھی۔ صبا بیگم و آسیہ بیگم گھر کے بقیہ کام جلد سے نبٹا کر گھر کے تیاریوں میں لگی ہوئی تھیں۔
ژالے و عیشہ تو صبح سے چہک رہی تھی آج سب نے شاپنگ پر بھی جانا تھا۔ ضامن نے بھی آفس سے چھٹی لے لی تھی۔ تھوڑا تھوڑا کر کے زمیدایاں سبھی پر تھیں۔
مہرماہ صبح سے اپنے کمرے میں بند پڑی تھی۔
بخار کی شدت سے اس کی آنکھیں ہی نہیں کھل رہی تھیں۔ کل بارش میں بھیگنے کی وجہ سے فلو ہو گیا تھا۔ جس کا اثر آج ہوا تھا اس پر۔
آسیہ بیگم نے اسے دوا دی تھی مگر بخار کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ عامر صاحب تو اسے ڈاکٹر کے پاس چلنے کا بولے تو اس نے انکار کر دیا اور اپنی ہی ضد پر اڑی رہی۔
مہرماہ بیٹا ضد چھوڑ دو اور چلو میرے ساتھ خاموشی سے ڈاکٹر کے پاس حالت دیکھی ہے اپنی۔۔۔ آسیہ بیگم اس کے لئے دوپہر کا کھانا ٹرے میں لئے اس کے کمرے میں داخل ہوئی تھیں صبح سے اس نے ایک نوالہ تک منھ میں نہیں ڈالا تھا۔ اور اب تو دوپہر ہونے کو تھی۔
امی۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے نہیں جانا میں ٹھیک ہوں۔۔۔ اس کی آواز بخار کی وجہ سے نکل ہی نہیں رہی تھی۔ کہاں وہ ہر وقت مرنے مارنے پر تلی رہتی تھی۔
کچھ نہیں ٹھیک ہو تم۔۔۔۔اور چلو شاباش اٹھو یہ کھانا کھاؤ۔۔۔۔۔۔ آسیہ بیگم اسے ڈپنٹی تھیں۔
وہ بمشکل آہستہ آہستہ تکیہ کے سہارا لے کر تھوڑا سا اٹھ کر بیٹھی تھی۔ آنکھیں سرخ انگارہ بنی ہوئی تھی۔
اس نے چند لقمے ہی زہر مار کئے تھے وہ بھی ماں کی ضد پر۔۔۔۔۔
صبا مجھ سے کہہ رہی تھی شاپنگ پر جانے کے لئے لیکن میں نے انکار کر دیا اب تمہاری کنڈیشن تو ایسی ہے نہیں کی چھوڑ کر جاؤں؛؛ آسیہ بیگم اسے پانی کا گلاس تھمائی تھیں اس نے گلاس پکڑتے ہوئے کہا۔
امی میں ٹھیک ہوں آپ پلیز جائیں تائی امی کیا سوچیں گی؟؟ وہ گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے بولی تھی۔ اس کی بات سن کر آسیہ بیگم نہ نہ کرتی رہیں لیکن وہ بضد ہوئی اور اپنی طرف سے اس نے انہیں پورا اطمینان دلایا تھا۔۔ پھر کہیں جا کر آسیہ بیگم مطمئن ہوئی تھیں اور جانے کے لئے تیار ہو گئیں تھیں۔
وہ گلاس آسیہ بیگم کو تھما کر پھر سے لیٹنے لگی تھی جبھی کمرے میں ژالے عیشہ و رمیض داخل ہوئے تھے۔ اپنی اس لڑاکا کزن کے بغیر ان کا بھی دل نہیں لگتا تھا کہیں۔
کیا ہوا تمہیں؟؟ جب پتہ ہے بارش جب بھی ہوتی ہے تم بیمار پڑ جاتی ہو پھر کیا ضرورت تھی بارش میں بھگننے کی۔۔۔۔۔ رمیض نے تو آتے ساتھ ہی اس کی کلاس لینی شروع کر دی تھی رمیض کی تائید میں سبھی نے ہاں میں ہاں ملایا تھا۔
ارے اللہ ہو گئی غلطی اب بخش دو مجھے۔۔۔ وہ صبح سے ایک ہی بات سنتے سنتے پک گئی تھی جو کمرے میں آ رہا تھا اسے لیکچر دے کر جا رہا تھا۔ بارش میں آخر گھر سے نکلنے کی ہی کیا ضرورت تھی بلا بلا بلا۔۔۔۔۔
مجھے بہت دکھ ہو رہا ہے مہرماہ ہم سب شاپنگ پر جا رہیں اور تم ہماری ساتھ نہیں جا رہی۔۔۔۔۔ عیشہ نے ہمدردی بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
مہرماہ عامر ابھی رات اتنا چہک رہی تھی اور آج بیچاری بستر مرگ ہو گئی تھی سبھی کو اس سے ہمدردی تھی۔
میں ہمیشہ کے لئے بستر پر نہیں پڑی ہوں ابھی تین دن ہے تب تک میں ٹھیک ہو جاؤں گی انشاللہ اور پھر دیکھنا مل کر خوب ہلا گلا کریں گے۔۔۔۔ وہ بستر پر لیٹے لیٹے ہی اپنی پلاننگ کے متعلق سب کو بتائی تھی اس کی بات پر سب نے آمین کہا تھا۔
اچھا مہرماہ اب ہم جا رہیں اپنا خیال رکھنا تم۔۔۔ ژالے اسے آخری تاکید کی تھی وہ مسکرا دی تھی۔ سب کمرے سے جا چکے تھے۔ اور وہ تن تنہا بستر پر پڑی تھی۔ اس کا دل بری طرح اداس ہوا تھا۔ گھر کے سبھی افراد جا رہے تھے اور وہ اکلوتی بستر پر پڑی تھی۔
♥️♥️♥️
تم چل رہے ہو نہ حازم ؟؟؟ عامر صاحب ملازم کو لان کے متعلق کچھ سمجھا رہے تھے جبھی حازم وہاں سے گزرا تھا اس کو گزرتا ہوا دیکھ عامر صاحب اسے سب کے ساتھ چلنے کے متعلق دریافت کئے تھے۔
نہیں چچا جان میں نہیں جا سکتا اور میرے خیال سے وہاں میرا کوئی کام نہیں ہے ضامن رہے گا نہ۔۔۔۔۔ اس نے بڑی سہولت سے انکار کر دیا تھا۔
اچھا چلو ٹھیک ہے خیر میں تو جا رہا ہوں کیونکہ وہاں مجھے سبحان صاحب سے ملنا ہے!!! ملازم کو جانے کی اجازت دے کر وہ حازم سے بولے تھے۔
جی بہتر چچا جان۔۔۔۔
عامر صاحب اس سے منگنی کے فنکشن کے متعلق دو چند باتیں کر کے چلے گئے تھے گاڑی میں سبھی لوگ ان کا انتظار کر رہے تھے ان کے چلے جانے کے بعد وہ بھی اپنے کمرے میں چلا آیا تھا۔
کمرے میں آنے کے بعد اس نے فوراً شاور لیا تھا اور بلیک کلر کی شرٹ ڈور سے نکال کر زیب تن کیا تھا۔
بلیک کلر اس پر بہت جچتا تھا۔ اور اس کا پسندیدہ رنگ بلیک ہی تھا۔
ماتھے پر گرے سیاہ و سلکی بال جس میں سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو ماحول کو سازگار بنا رہی تھی۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر گیلے بالوں کو ترتیب دے رہا تھا۔
اسی وقت کچن سے کچھ گرنے کی آواز آئی تھی اور ساتھ میں ہی ایک نسوانی چیخ اس کے کانوں سے ٹکرائی تھیں۔ وہ حواس باختہ ہوتا کچن کی طرف بھاگا تھا۔
کچن میں داخل ہوتے ہی اسے زمین پر کانچ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے دکھے تھے جو بے ترتیبی سے زمین بوس تھے۔ وہ کانچ سے نظریں ہٹاتا سامنے کی اور گردن اٹھایا تھا جہاں مہرماہ شلف کا سہارا لئے کھڑی تھی۔ اس کی حالت بتا رہی تھی کسی بھی لمحے وہ چکر کھا کر گر سکتی تھی۔
سفید شلوار قمیض میں وہ کوئی اپسرا ہی لگ رہی تھی۔ بخار کی وجہ سے اس کے گال سرخ ٹماٹر ہو گئے تھے و ہونٹ نیلے پڑ گئے تھے۔ حازم اسے اپنی آنکھ کی پتلیوں میں مقید کرتا اس کے قریب آیا تھا و بری طرح لڑکھڑائی تھی۔
مہرماہ!!!! حازم اسے لڑکھڑاتا ہوا دیکھ اپنے بازؤں سے پکڑ کر سہارا دے کر گرنے سے بچایا تھا۔
وہ عنقریب اس کے سینے سے جا لگی تھی۔ اگر وہ اسے عین موقع پر سہارا نہ دیتا تو وہ بری طرح زمین بوس ہوتی اور فرش پر بکھرے کانچ اسے بری طرح زخمی کر دیتے۔
چھوڑو مجھے گھٹیا انسان !!! مہرماہ عامر بخار میں مبتلا ہونے کے باوجود ناگن کی طرح پھنکاری تھی۔
اسے یوں محسوس ہو رہا تھا گویا کسی نے کرنٹ رکھ دیا ہو۔ وہ تو اپنے خوابوں خیال میں نہیں سوچ سکتی تھی کی وہ کبھی یوں اس طرح حازم عباس کے سینے سے جا لگے گی۔
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ حالت دیکھی ہے آپ نے اپنی؟؟؟ اور میں نہیں چھوڑ سکتا آپ کو؛؛؛ خود پر توازن ہے نہیں آپ کا زمین پر چکر کھا کر گریں گی نہ تو بہت بری طرح زخمی ہو جائیں گی کیونکہ زمین پر کانچ بکھرے ہیں جو آپ کو زخمی کر سکتے ہیں۔ حازم اس کو ڈانٹ کر خاموش کروا دیا تھا اور ایک ہاتھ میں اس کا ہاتھ سختی سے تھاما تھا اسے اس وقت ایسا محسوس ہو رہا تھا اس نے کسی جلتے توے پر ہاتھ رکھ دیا ہو وہ اس کو بمشکل سمبھالتا سہارا دے کر کانچ کی کرچیوں سے بچا کر اپنے ساتھ لگا کر باہر نکالا تھا۔ اس کا ہاتھ ابھی بھی ویسے ہی حازم عباس کے ہاتھوں میں تھا۔
میں نے کہا چھوڑو مجھے گھٹیا انسان ہاتھ لگانے کی ہمت کیسے ہوئی تمہاری؟؟؟ و کچن سے باہر آ کر اسے بری طرح جھٹکی تھی و لمحے کے لئے لڑکھڑا گیا تھا۔ مگر اگلے ہی پل و خود سمبھالتا اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
آپ کو بخار ہے جو کی نارمل ڈگری سے زیادہ ہے پلیز ڈاکٹر کے پاس چلیں۔ وہ اس لڑکی کو کیسے سمجھاتا وہ اگر خود کو تکلیف دیتی ہے تو اسے کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ جس کا شائد اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا تھا۔
میں مروں یہ جئیوں تمہیں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے سمجھے؟؟؟ ہٹو میرے راستے سے۔۔۔۔۔وہ حازم کے اس رد عمل پر شدئد طیش میں آ گئی تھی اس سے بولا نہیں جا رہا تھا لیکن و کچھ نہ بول کر اپنی ہار نہیں تسلیم کر سکتی تھی۔
مجھے ہی تو فرق پڑتا ہے مہرماہ عامر اگر تمہیں اس بات کا اندازہ ہو جائے کی مجھے کتنا فرق پڑتا ہے تو شائد تم اپنے آپ کو اس دنیا کی خوش قسمت لڑکی سمجھو گی۔ لیکن ایسا نہیں ہے تمہیں کبھی محسوس کرنا نہیں آئے گا اور مجھے کبھی جتانا۔۔۔۔ وہ دل ہی دل میں خود سے تلخ کلامی کرتا اس کا بجھا بجھا سا چہرہ دیکھنے لگا تھا۔
مہرماہ بیکار کی ضد چھوڑیں اور چلے میرے ساتھ۔۔۔۔ وہ زیادہ دیر اسے یونہی چھوڑنے والا نہیں تھا وہ بھی اس کی فضول کی ضد پر۔
میں نے کہا میں ٹھیک ہوں تمہیں سمجھ میں نہیں آتا؟؟ وہ پہلے کی نسبت اور تیز چلائی تھی۔ ابھی تو وہ اسی کیفیت میں تھی کی اسے بچانے والا کوئی اور نہیں حازم عباس تھا۔ جس کی مدد لینے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
نہیں آتا سمجھ اور نہ ہی میں سمجھنا چاہتا ہوں آپ فضول کی ضد کرنا بند کریں اور چپ چاپ خاموشی کے ساتھ چلیں میرے ساتھ۔۔ وہ اس بیوقوف لڑکی کی ضدیں اور نہیں مان سکتا تھا نہ ہی برداشت کر سکتا تھا۔ اس لئے اس کی کسی بھی مداخلت کو خاطر میں لائے بغیر چلنے کا حکم دیا تھا۔
اس کا حکم نامہ سن کر وہ تو ہتھے سے ہی اکھڑ گئی تھی۔
اب تم مجھے آڈر دو گے؟؟؟ مہرماہ کو اس لفظوں کے پیچھے چھپی اپنے لئے انتہائی فکرمندی نظر نہیں آئی تھی۔ اس صرف اور صرف نظر آیا تھا تو صرف اتنا کی وہ اسے آڈر دے رہا ہے۔
میری اتنی مجال کی میں آپ کو آڈر دوں۔۔۔۔ میں آپ سے التجا کر رہا ہوں چلیں ڈاکٹر کے پاس ورنہ حالت اور بگڑ سکتی ہے آپ کی؟؟؟ وہ اپنائیت بھرے لہجے میں بولا تھا۔
شٹ اپ آئیندہ مجھے سہارا دینے کا سوچنا بھی مت ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ اس کی بات کو سرے سے نظر انداز کرتی و دیواروں کا سہارا لے کر اپنے کمرے میں جانے لگی تھی۔ بخار نے تو اندر سے توڑ ہی دیا تھا اس کو پورا جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔ ایک کپ کوفی بنانے اٹھی تھی وہ بھی نہ بنا سکی تھی۔
سگراں بی ( ملازمہ ) بھی چھٹی پر تھی آج اس کے شوہر کی طبیعت کچھ ناساز تھی ورنہ اسی سے کہہ دیتی۔
اس کو جاتا ہوا دیکھ حازم ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا تھا۔
یہ سب کچھ اس کے لئے نیا نہیں تھا ضدی تو وہ شروع سے تھی۔
اسے آج بھی یاد تھا بچپن میں اگر کسی چیز پر ہاتھ رکھ دیتی تو اسے چاہئے ہی چاہئے تھا چاہے کچھ بھی ہو جائے۔
سنو اے عام سی لڑکی
مجھے تم خاص لگتی ہو
لبوں پہ چاشنی تیرے
تم ایک مٹھاس لگتی ہو
محبت کے سفر میں تم
بہت حساس لگتی ہو
ہو کتنی دور تم مجھ سے
مگر تم پاس لگتی ہو
جو مجھ سے روٹھ جاتی ہو
تو کیوں اداس لگتی ہو
جو ہو تم عام سی لڑکی
مجھے کیوں خاص لگتی ہو
وہ جینز کی دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈال کر وہی کھڑا اسے دیکھ رہا تھا جو آہستہ آہستہ دیواروں کا سہارا لے کر اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی۔ اس کی چلنے کی چال سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کسی بھی پل گر سکتی ہے۔
حازم ایک ٹھنڈی آہ بھرتا نظروں کا تصادم پھیر کے باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔
♥️♥️♥️
شام ہونے کو آئی تھی وہ ابھی تک اپنے کمرے میں بند تھی۔
بخار کسی حد تک کم ہو چکا تھا لیکن ابھی بھی وہ دواؤں کے زیر اثر تھی۔ طبیعت پر کسلمندی طاری ہونے کی وجہ سے بدن پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔
ادھ کھلے بال جو آدھے سے زائد سینے پر بکھرے ہوئے تھے۔
وہ سوتے ہوئے بھی گویا انگارے برس رہی تھی۔ ننھی سی سبک جیسی ناک بخار کی حدت سے سرخ ہو گئی تھی و کان کی دونوں لوئیں تک سرخ ہو گئی تھیں۔
پلکوں کی سیاہ جھالر عارضوں پر گری ہوئی تھیں۔ ہونٹ کی نازکی نیلگی ہو چکی تھی یہ سب بخار کے زیر اثر ہوا تھا۔
شام گئے سبھی افراد شاپنگ سے واپس آئے تھے۔ سب کا تھکان سے برا حال تھا۔ ڈھیروں شاپرز ملازم و ڈرائیور ہاتھوں میں پکڑے اندر آئے تھے۔ شاپرز سے پتہ چل رہا تھا کس مقدار میں شاپنگ کی گئی ہے۔
آسیہ بیگم فوراً اس کے کمرے میں آئی تھیں کمرے میں آنے کے بعد انہوں نے اپنی کالی چادر بازوؤں سے ہٹا کر صوفے پر اچھالتے ہوئے اس کی طرف لپکی تھیں۔
مہرماہ کی آنکھ ان کے قدموں کی چاپ سے کھل گئی تھی۔ اس نے ذرا سی کھول کر دیکھا تو آسیہ بیگم اس کے قریب بیڈ پر بیٹھ کر اس کی نم آلود پیشانی پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کی تھیں۔
امی آ گئیں آپ؟؟؟ وہ کراہیت سے پوچھی تھی۔
ہاں میری جان میرا تو وہاں پر دل ہی نہیں لگ رہا تھا تمہارے بارے میں سوچ سوچ کر ٹینشن ہو رہی تھثا اور میں نے تمہیں کالز بھی کی تھی لیکن میرا خیال ہے تم سو رہی تھی۔
وہ ایک ہاتھ تکیے پر رکھ کر بیٹھنے لگی تو انہوں نے اسے سہارا دیتے ہوئے کہا۔
ہاں امی وہ فون آف تھا۔۔۔ اس نے بہانہ بناتے ہوئے کہا۔ اب انہیں وہ کیا بتاتی جب آپ فون کر رہی تھیں تب تو میں کچن میں اپنے دشمن سے لڑ رہی تھی۔
اچھا تم نے کچھ کھایا نہیں ہوگا میں کچھ کھانے کو لے کر آتی ہوں چہرہ دیکھا ہے اپنا۔۔ اس کے بالوں کو سہلاتے ہوئے انہوں نے فکرمندی سے کہتے ہوئے انتظار کرنے کا کہہ کر کمرے سے چلی گئیں تھیں۔
وہ تکیے کے سہارے بیٹھ کر اپنا سر تھام لی تھی۔ دوپہر کا منظر بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے لہرا رہا تھا جسے چاہ کر بھی وہ نظر انداز نہیں کر پا رہی تھی۔
اس نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں کے سامنے کر کے بڑے غور سے دیکھا تھا۔ آج اسی ہاتھ کو حازم عباس نے پکڑا تھا۔ وہ نفرت بھری نگاہ اپنے ہاتھ پر ڈال کر سختی سے مٹھیاں بھینچ لی تھی۔ گویا حازم عباس اس کی مٹھیوں کے درمیان میں ہو۔
اسی اثناء میں ژالے عیشہ و رمیض اس کے کمرے میں دھاوا بولے تھے وہ اپنی کیفیت کو سنبھالتی ان کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
اب کیسی ہو تم؟؟ عیشہ نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
پہلے سے کافی بہتر ہوں۔۔ اس نے مسکرا جواب دیا تھا رمیض عباد کے دل میں تھوڑا سکون اترا تھا۔
تو جب بہتر ہو تو کمرے میں کیوں گھس کر بیٹھی ہو تھوڑا باہر چلو فریش ہو جاؤ گی۔۔ ژالے اس کا ہاتھ پکڑ کر بضد ہوئی تھی دل تو اس کا بھی چاہ رہا تھا باہر جانے کا صبح سے کمرے میں بیٹھ کر سخت بوریت کا شکار ہو گئی تھی۔
ہاں میں بھی یہی سوچ رہی ہوں۔۔ اس نے جانے کے لئے ہامی بھری تھی تو ژالے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ سے اترنے میں مدد کی تھی۔ اس کا ایک ہاتھ ژالے کے ہاتھ میں تھا و دوسرا ہاتھ اس نے جیسے ہی عیشہ کی طرف بڑھایا تھا اس پہلے کی عیشہ اس کا ہاتھ تھامتی رمیض نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ وہ چونکی تھی۔ عیشہ کو بھی تھوڑا عجیب لگا تھا۔
رمیض نے فوراً موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے دوسری باتوں کی طرف سب کا دھیان مبذول کرنے لگا تھا۔ جس میں وہ کامیاب بھی ہوا تھا۔ سبھی کا دھیان اس کی طرف سے ہٹ گیا تھا۔
تمہارا ہاتھ میرے ہاتھوں میں کتنا خوبصورت لگ رہا ہے مہرماہ عامر اگر تمہیں اس بات کا اندازہ ہو جائے تو تم ساری زندگی کے لئے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دو اور مجھے یقین ہے وہ دن دور نہیں جب ہم اس طرح ہاتھ میں ہاتھ پکڑے چلیں گے۔ رمیض اس کے سفید ہاتھ کو دیکھتا سرشار ہوتے ہوئے سوچا تھا اور دل ہی دل میں مسکرا دیا تھا۔
♥️♥️
وہ فون کان سے لگائے عجلت بھرے انداز میں سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا جبھی اس کے سامنے وہ تیکھی مرچ کمرے سے باہر نکلی تھی اس کو دیکھتے ہوئے حازم کے دل کو کچھ ہوا تھا۔
وہ زبان ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے ایک غلط نگاہ اس کی جانب ڈالا تھا۔
اسی پل مہرماہ کی نگاہ یکایک سامنے کی جانب اٹھی تھی۔ بے اختیار دونوں کی نگاہوں کا تصادم ہوا تھا۔ وہ ہونٹ دانتوں تلے دبا گیا تھا۔
اس کو سامنے کھڑا دیکھ اسے دوپہر کا منظر پھر سے ستانے لگا تھا۔ اس نے کڑے تیوروں سمیت اس کی جانب گھورا تھا۔ حازم عباس ایک گہری نگاہ اس کے دہکتے جسم پر ڈال کر مزید سڑھیاں اترا تھا۔ اب وہ دونوں عین ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔
اس کی آنکھوں میں اس بے مروت لڑکی کے لئے جو جذبات مچلے تھے وہ چاہتے ہوئے بھی اسے نہیں سمجھا سکتا تھا۔
حازم ابھی اس کے چہرے کا معاینہ کر ہی رہا تھا یکلخت اس کی نظر مہرماہ کے ہاتھ پر گئی تھی جسے رمیض نے بڑی چاہ سے تھامے ہوا تھا۔
حازم عباس کا خود پر جبر مشکل ہو رہا تھا۔ اس نے اس کے ہاتھ سے نظریں ہٹا کر اس کی طرف دیکھا تھا جو خود بھی اس کی جانب گھور رہی تھی یوں گویا کچا چبا جانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
میرا تو تم پر کوئی اختیار نہیں ہے مہرماہ عامر پھر مجھے اتنا غصّہ کیوں آ رہا ہے تمہارا ہاتھ کسی اور کے ہاتھ میں دیکھ کر۔۔۔ اس کا چہرہ لمحے میں متغیر ہوا تھا۔ وہ خالی خالی نگاہوں سے اس بے حس لڑکی کی طرف افسوس سے دیکھا تھا جو اس کی طرف نفرت سے دیکھتے ہوئے عیشہ کی کسی بات کا مسکرا کر جواب دے رہی تھی۔
مہرماہ تم یہاں بیٹھو میں شاپرز یہاں پر لے کر آتی ہوں اور تمہیں سب دکھاتی ہوں۔۔ عیشہ چہک کر اندر کی جانب دوڈ لگائی تھی۔ وہ آہستہ سے منڈیر کے نیچے بیٹھ گئی تھی۔ اس کے بائیں طرف رمیض و دائیں طرف ژالے بیٹھ گئی تھی۔ اور تینوں کسی بات پر کھلکھلا رہے تھے۔
وہ اس کی طرف دیکھنے سے گریز برتا تھا۔ اور وہاں سے جانے لگا تھا جبھی ژالے نے اسے آواز دے کر پکارا تھا۔
حازم؟؟
ہمم؟؟ ژالے کی پکار پر وہ پلٹا تھا۔ فون ابھی بھی اس کے ہاتھ میں تھا۔ اس کی شاندار انگیز شخصیت ژالے کے دل میں چپکے چپکے گھر کر رہی تھیں۔
جس کا علم اب جا کر کہیں اسے دھیرے دھیرے ہو رہا تھا۔ حازم عباس کا سامنے کھڑے رہنا ژالے کو بری طرح کنفیوز کر رہا تھا۔ محبت کا رنگ ابھی نیا نیا تھا۔ جسے وہ آہستہ آہستہ سمجھ رہی تھی۔
کہاں گم رہتے ہو کبھی ہماری محفل بھی جوائن کر لیا کرو۔ ژالے اپنے ڈولا ڈول ہوتے دل کو سنبھال کر بولی تھی۔
وہیں مہرماہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔ وہ بری طرح ژالے کو گھوری تھی مگر ژالے اؤل درجے کی ڈھیٹائی کا مظاہرہ کرتی اس کی گھوریوں کو نظر انداز کر کے حازم کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
معذرت کے ساتھ ژالے تھوڑا کام چچا جان نے سوپنا ہے وہیں نبٹانے جا رہا ہوں جو کی بے حد ضروری ہے ۔۔۔ وہ آرام سے جواب دیتے ہوئے کن اکھیوں سے مہرماہ کی طرف دیکھا تھا جو حقارت سے اس کی طرف دیکھتی گردن دوسری جانب پھیر لی تھی۔
ارے تھوڑی ہی دیر کی بات ہے آ جاؤ نہ؛؛؛ ویسے تو تم ہر وقت ہی مصروف رہتے ہو ۔۔۔۔ ژالے اسے کسی بھی طریقے سے قائل کرنا چاہتی تھی_
تا کی کسی بھی طریقے سے وہ اس شخص کو سمجھنے کی کوشش کرتی جو نہ جانے کتنے دکھ و درد اپنے دل کے نہاں خانوں میں ضبط کئے بیٹھا تھا۔
جی لیکن۔۔۔۔ وہ ابھی کوئی اکسکیوز دینے ہی والا تھا۔ جو مہرماہ کی برداشت سے باہر تھا۔ وہ زیادہ دیر یہ برداشت نہ کر سکی۔ اور طنز کے تیر چلانے لگی۔
ژالے مجھے لگتا ہے غیروں کو اہمیت دینا تمہاری بیماری ہے۔
وہ آخر گھر کا ایک ملازم ہی ہے جو بابا کے کام کو سر انجام دے رہا ہے اب تم ملازموں کو بھی ہماری جگہ دینے کا سوچ رہی ہو۔ مسٹر حازم ایک ملازم کی حیثیت یہی ہے کی وہ سر جھکا کر اپنے مالک کی بات سنیں اور ان کا کام کرے اور آخر میں اپنی تنخواہ لے اور یقیناً تم اپنی تنخواہ بابا سے اصول کرتے ہی ہوگے۔۔ اس کی زبان سے نکلتی ایک ایک چنگاری حازم عباس کے گوشے گوشے کو چیرتی اس کے ضبط کی آزمائی کی تھیں۔
مہرماہ عامر پہلی بات تو یہ کی اگر مجھے اپنے چچا جان کا ملازم بھی بننا پڑا تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور دوسری بات یہ کی تنخواہ کا تو مجھے نہیں پتہ ہاں اس کے بدلے میں نے ان کا اعتماد ضرور جیت لیا ہے جو شائد آپ چاہ کر بھی نہیں جیت سکیں۔۔۔ وہ مہرماہ عامر کی عزت دل سے کرتا تھا و ٹوٹ کر چاہتا بھی تھا اسے جبھی تو اس کی کڑی سے کڑی بات کو بھی آسانی سے پی جاتا تھا لیکن آج واقعی زیادہ ہو گیا تھا۔ جس کا جواب دینا لازمی تھا۔
حازم عباس کے لفظ تھے یہ بارود جو مہرماہ کو اندر تک آگ لگا دئیے تھے۔
وہ منھ کھولے اس کی دریا دلی دیکھ رہی تھی و اس کے آخری الفاظ کو سوچ سوچ کر پاگلوں کی طرح اس کی طرف لپکی تھی۔ رمیض و ژالے نے اسے بازوں سے پکڑ کر روکا تھا۔ ورنہ غصے میں وہ کیا کر دیتی کچھ بھی بعید کیا جا سکتا تھا اس کی حالت دیکھ کر۔
حازم اس پر ایک نگاہ ڈال کر وہاں سے چلا گیا تھا پیچھے وہ آنکھ پھاڑے اس شخص کی بہادری دیکھ رہی تھی و سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی تھی۔ بھلا اس نے جواب کیسے دے دیا۔
اسی چیز نے تو اسے شیر بنا دیا تھا وہ کڑے کڑے سے الفاظ اس کے لئے استعمال کرتی اور وہ خاموشی سے سن لیتا تھا۔ مگر آج کچھ الگ ہوا تھا۔
اس اثناء میں آسیہ بیگم ہاتھ میں ٹرے لئے لان میں نمودار ہوئی تھیں۔
اس کی پسند کا کھانا بنانے میں انہیں تھوڑی دیر ہو گی تھی۔
تم یہاں آ کر بیٹھی ہو اور میں تمہیں یہاں وہاں ڈھونڈ رہی ہوں چلو میری گڑیا کھانا کھاؤ؟؟ دیکھو تمہاری پسند کا ہے سب کچھ مجھے پتہ ہے صبح سے تم نے کچھ نہیں کھایا ہے۔ آسیہ بیگم وہیں اس کے قریب بیٹھ کر ٹرے جھولے پر رکھتے ہوئے لقمہ بنا کر اس طرف بڑھائی تھیں۔
شدئد غصے میں ہونے کی وجہ سے اس کی بھوک حتیٰ کہ پیاس تک مر گئی تھی۔
وہ ان کے بڑھائے گئے لقمے کو نظر انداز کرتی ایک ہی نقطے پر سوچے جا رہی تھی۔
اسے رہ رہ کر خود پر غصہ آ رہا تھا آخر اس نے اس شخص کو چھوڑ کیسے دیا۔
مہرماہ؟؟ آسیہ بیگم اسے ممتا بھری آواز میں پکاری تھیں۔ یقیناً انہوں نے دونوں کے جھگڑے کے متعلق کچھ نہیں سنا تھا اسی لئے اتنا ٹھنڈا برتاؤ کر رہی تھیں۔
وہ بھوک نہیں ہے کہتی دوبارہ سے سوچنے لگی تھی۔ اس کا دل بے طرح خواہش کیا تھا کہ سامنے حازم عباس کھڑا کو اور وہ عامر صاحب کے بندوق کی ساری کی ساری گولیاں اس کے سینے میں اتار دے۔
بھوک کیوں نہیں ہے آخر کھایا کیا ہے تم نے؟؟ آسیہ بیگم ناراض ہوئی تھیں۔ وہ شروع سے کھانے پینے میں کاہل تھی مگر اب تو حد ہی ہو گئی تھی۔
میں نے وہ ۔۔۔۔ وہ ابھی کوئی اکسکیوز دیتی عیشہ ڈھیروں شاپرز ہاتھ لئے لان میں داخل ہوئی تھی۔
ٹھیک ہے جب بھوک لگے تب کھا لینا اس کے بعد دوا بھی لینی ہے۔۔۔۔ میں ذرا تمہارے بابا کو دیکھ کر آتی ہوں۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔ وہ بد دلی سے کہتی ٹرے میں رکھی نعمت کو گھورنے لگی تھی۔ اسے ہر چیز زہر لگ رہی تھی۔ دل چاہ رہا ایک ایک چیز کو آگ لگا دے۔
مہرماہ تمہیں اتنا زیادہ بولنا نہیں چاہئے تھا۔ عیشہ یقیناً اس کے اور حازم کے متعلق اپنی رائے قائم کی تھی اس کا مطلب تھا وہ سن چکی تھی سب کچھ۔
میں نہ بولتی؟؟؟؟ اس گھٹیا انسان کی باتیں سنی تھی تم نے۔۔ مجھے کیا طعنہ دے کر گیا ہے!!! وہ عیشہ کی طرف قہر برساتی نظروں سے دیکھ کر پوچھی تھی۔
مہرماہ برا مت ماننا لیکن درحقیقت غلطی تمہاری تھی تم نے شروع کیا تھا پہلے سب کچھ۔۔۔ ژالے اس کی ناراضگی کی پرواہ کئے بغیر حازم کی طرف داری کی تھی۔ آج کل تو اسے ویسے بھی حازم عباس ہر جگہ سہی لگتا تھا۔
تمہیں بڑا شوق ہو رہا تھا اس کو ساتھ بیٹھانے کا!!!! تمہیں لگتا ہے وہ ہم لوگوں کو ڈئزرو کرتا ہے؟؟ اس کی ہمت دیکھی ہے تم نے؟؟؟؟ جس کی ماں کا اتہ پتہ ہی نہیں کوئی؛؛؛؛ چلی ہو اس کی طرف داری کرنے۔۔۔۔ وہ پھر سے پٹری سے اترنے لگی تھی۔
مہرماہ پلیز۔۔۔۔ ژالے کو اس کی بات ایک آنکھ نہ بھائی تھی۔
اچھا اچھا لیڈیز کول ڈاؤن ۔۔۔۔ یار گھر میں خوشی کا ماحول ہے تم لوگ آپس میں نہ جانے کون سی بات لے کر بیٹھ گئی ہو؛؛؛؛
جو ہوا اسے بھول جاؤ اور تمہیں کہاں حازم کا ذکر تک نہیں پسند تھا اور خود پچھلے پانچ منٹ سے اسی پر بحث کئے جا رہی ہو۔۔۔۔ رمیض سمجھداری سے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بات کو ٹال مٹول کرنے کی کوشش کیا تھا جو خاصا مشکل تھا۔
اس شخص کا میں نام لینا پسند نہ کروں حتیٰ کہ ذکر کروں ہممم میری بلا سے وہ بھاڑ میں جائے۔۔۔ رمیض کی بات پر وہ گردن اکڑا کر اپنا پلڑا بھاری کی تھی۔
اپنی گاڑی کیز وہ اندر روم میں بھول گیا تھا جسے لینے کے لئے وہ روم کی طرف بڑھا تھا جبھی اس کے کانوں میں مہرماہ کے آخری لفظ با آسانی پہنچے تھے۔ وہ ہونٹ بھینچتا قدموں کا رخ وہیں سے موڑ لیا تھا۔
ورق ورق میری نظروں میں کائنات کا ہے
کے دست غیب سے لکھی ہوئی کتاب ہوں میں
رمیض کی بہت کوششوں و منتوں کے بعد معاملہ تھوڑا ٹھنڈا ہوا تھا لیکن کہیں نہ کہیں مہرماہ کے دل میں یہ بات کلک کر رہی تھی اپنی ذلت و رسوائی کا بدلہ تو وہ اس سے ضرور لے گی چاہے اس کے لئے اسے کچھ بھی کرنا پڑتا۔
♥️♥️♥️
رات کے پہر خان ولا جگنو کی مانند چمک و دمک رہا تھا۔ لائٹس کی چوکا چوند ماحول کو سازگار بنا رہی تھی۔ حازم کی تین دن کی محنت نے خوب رنگ لایا تھا۔
ڈیکوریشن سے لے کر کھانا کا مینیو تک اس نے تیار کیا ہوا تھا۔
عامر صاحب دن رات اس کی تعریف کرتے نہیں تھک رہے تھے۔ سبھی اس کی پسند کو اعلیٰ قرار دئیے تھے۔
لان کے بیچ و بیچ میں جو اسٹیج بنا تھا اس سے لوگ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے تھے۔
منگنی کا فنکشن بظاہر تو سادگی سے ہونے کو طے پایا تھا مگر تیاریاں دیکھ کر لگ رہا تھا منگنی نہیں شادی فنکشن ہو۔
ہر کوئی اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھا۔
عیشہ تو کمرے کی ہی ہو کر رہ گئی تھی۔ ژالے تو بھاگ بھاگ کر گھر کے کام کر رہی تھی ۔ گھر میں ضرورت سے زائد ملازمین تھے لیکن ژالے کو کسی پر اطمینان نہیں تھا اسی لئے وہ خود بھاگ بھاگ کر سارے کام کر رہی تھی۔ اور آخر میں بچی تھی وہ جو کمرے میں ہیلز پہن کر چلنے کی فضول کوششوں میں لگی ہوئی تھی۔
بخار کا بھی آرام ہو گیا تھا۔ وہ دوسرے دن سے ہی بستر چھوڑ اپنی تیاریوں میں لگ گئی تھی۔
ڈھیروں شاپنگ اس نے ژالے و صبا بیگم کے ساتھ بازار جا کر کی تھی۔
وہ کسی بھی لحاظ سے کسی سے کم نہیں دکھنا چاہتی تھی۔
کل شام کے سات بجے فنکشن مقرر کیا گیا تھا۔ سبھی اپنی اپنی تیاریوں میں مشغول تھے۔
سبھی کے چہروں پر خوشیوں کی رمک تھی۔
مہرماہ نے اپنے دونوں ہاتھوں پر مہندی سے ہلکے ڈیزائن والے گلے بوٹے بھی بنوائے تھے۔ جو اس کی خوبصورتی میں دوبالا کر رہے تھے۔
وہ اتنا خوش تھی کی یوں لگ رہا تھا منگنی عیشہ کی نہیں اس کی اپنی ہو۔
اب سب کو کل کا انتظار تھا انتظار کی گھڑیاں بہت طویل تھیں۔
ا
