65.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

ہر طرف گھما گھمی تھی دلہن کی طرح سجی اس حویلی میں آج خوشیاں رقص کر رہی تھی۔۔
پوری حویلی اس وقت مہمانوں سے بھری پڑی تھی ۔۔
مبین بیگم اپنے بیٹے کی خوشی میں خوش اس وقت سب تیاریاں کروا رہی تھی۔۔
آج بارات تھی اور سلطان بہروز اپنی سحرانہ شخصیت کے ساتھ مسکراتے سب سے مل رہا تھا۔۔
افراز صاحب اور مبین بیگم اکھٹے کھڑے دور سے ہی اپنے بیٹے کی نظر اتار رہے تھے جس کے چہرے پر آج مسکراہٹ کا راج تھا۔۔
ہزاروں دل دھڑکاتا وہ بے نیازی سے کھڑا تھا۔۔
ہر جگہ اس بات کی خبر نشر ہو چکی تھی کہ بہروز سلطان شادی کر رہا تھا۔۔میڈیا میں تہلکہ مچ گیا تھا ۔۔۔ ہر کوئی بےتاب تھا سلطان کی دلہن کو دیکھنے کے لیے۔۔
بلیو تھری پیس پہنے برینڈڈ گھڑی کو کلائی پر سجائے بالوں کو جیل سے سیٹ کئے وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہا تھا۔۔
اسے شیروانی پسند نہیں تھی نہ ہی کسی نے فورس کیا پہنے پر۔۔
مغرور نین نقوش لیے وہ اپنی ملکہ لینے جا رہا تھا۔۔
بارات کے پہنچتے ہی شور اٹھا۔۔۔
اندر کمرے میں بیٹھی ذونیشہ کا دل دھک سا رہ گیا۔۔۔
بیوٹیشن نے جس مہارت سے اسے تیار کیا تھا وہ خود دنگ رہ گئی تھی۔۔۔
اس شخص کی جذبے لٹاتی آنکھیں یاد کرتی جھرجھری سی آئی۔۔
بلڈ ریڈ لہنگے میں مبلوس وہ نازک جان بامشکل اتنا وزن برداشت کیے ہوئے تھی۔۔بھاری دوپٹے جانے کتنی پنز کے ساتھ سیٹ کیا تھا۔۔۔
بنو تیار ہوتی اندر داخل ہوتی بے ساختہ ‘ماشاءاللہ’ کہہ اٹھی۔۔
“چلے آپی سب انتظار کر رہے آپ کا ۔۔۔”
ذونیشہ نے مسکراتے سر ہلایا۔۔
مبین بیگم اپنے بیٹے کے حکم کے مطابق اس کا گھونگھٹ نکالتی اسے ساتھ لیے باہر آئی۔۔
ہال میں داخل ہوتے ہی تمام سپاٹ لائٹز کا مرکز ذونیشہ سلطان تھی۔۔
ہر کوئی بے چین تھا بہروز سلطان کی بیوی دیکھنے کے لیے پر اس کے چہرے پر گھونگھٹ دیکھ مایوس ہوئے۔۔
سٹیج پر بیٹھا سلطان بے ساختہ اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
سہج سہج کر قدم رکھتی بامشکل ہی چل رہی تھی۔۔۔۔
سرخ سفید ہاتھوں کی مہندی دیکھتے اس کے چہرے پر تبسم بکھرا۔۔
اسلم نے پاس آتے ذونیشہ کو ساتھ لگاتے آگے سٹیج کے قریب رکتے اس نے سلطان کو دیکھا۔۔
جبکہ ذونیشہ کو گھونگھٹ سے کچھ نظر نہیں آرہا تھا ۔۔
سلطان نے آگے بڑھتے اپنی چوڑی ہتھیلی اس کے سامنے پھیلائی۔۔
کچھ نظروں میں ستائش تھا تو کچھ نظریں حسد سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
لوگ حسرت سے سلطان کو دیکھ رہے تھے۔۔جو کتنے دلوں پر راج کرتا تھا۔۔ پر اس کے دل کی ملکہ ذونیشہ سلطان تھی۔
اسلم نے ذونیشہ کا کپکپاتا ہاتھ تھامتے سلطان کی ہتھیلی پر رکھا۔۔
جس نے مضبوط گرفت میں لیتے اپنے ہونے کا یقین دلایا۔۔
ذونیشہ کو ساتھ لیتے اسے بیٹھاتے خود بیٹھا۔۔۔
“میں اس وقت کا انتظار نہیں کر پا رہا جب میں یہ حسین چہرہ دیکھو گا۔۔”
سلطان سامنے دیکھتے بغیر اس کا ہاتھ چھوڑے بیٹھا تھا۔۔
اتنے لوگوں کے درمیان اس نے اپنا ہاتھ چھڑاونے کی کوشش کی پر اس کی گرفت مضبوط تھی اس لیے کوشش ترک کرتے وہ خاموش رہی۔۔۔
اس کی بات پر ذونیشہ نے حلق تر کیا۔۔
“یہاں بیٹھ کر ٹائم ہی ویسٹ کرنا ہے چلو ہم چلتے ہے یہ سب آتے رہے گے۔۔!!!
مزید کافی دیر بیٹھتے سلطان نے غصے سے کہا۔۔
اورذونیشہ کا ہاتھ پکڑے کھڑا ہونے لگا۔۔
“پلیز سلطان بیٹھ جائے ایسا نہ کرے۔۔”!!!
وہ روہانسی ہوتی رو دینے کو تھی۔۔
“اچھا پر ایک گھنٹے سے زیادہ میں ادھر نہیں بیٹھنے والا
تمہیں اٹھا کر لے جانا ہے۔۔۔
جتنی سنجدگی سے وہ کہہ رہا تھا ذونیشہ گھور کر رہ گئی۔۔
پر گھونگھٹ کے باعث فلحال وہ سلطان کے تاثر نہیں دیکھ پا رہی تھی۔۔
مبین بیگم اور افراز سلطان کے ماتھے کے بل دیکھتے اسلم صاحب سے رخصتی کا کہا۔۔
جس پر حامی بھرتے وہ ذونیشہ اور سلطان کے پاس آئے۔۔۔۔
رخصتی کا شور اٹھا تو ذونیشہ کا دل ڈوب کر ابھر اس شخص کی دسترس میں جانے سے وہ گبھرا رہی تھی۔۔
سب کی دعاؤں کے سائے تلے ذونیشہ سلطان کو رخصت کر دیا گیا۔۔
پوری دنیا کے سامنے آج سلطان اپنی ذونیشہ کو لے کر جا رہا تھا۔۔
خود گاڑی ڈرائیو کرتے جبکہ ذونیشہ کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھاتے وہ وہاں سے غائب ہوا۔۔
جبکہ مبین بیگم اسے خود گاڑی ڈرائیو کے کر لے جاتے تاسف سے سر ہلا کر رہ گئی۔۔
پر آج ان کا دل پرسکون تھا۔۔
سلطان نے آج اسے جو خبر دی تھی اس کے بعد تو وہ ذونیشہ کو دل سے تسلیم کر چکی تھی۔۔
وہ دادی بننے والی تھی یہ خبر سنتے ہی اس نے تمام اپنی غلطیوں کی معافی مانگی تھی ۔۔
ذونیشہ نے پر فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے انہیں معاف کر چکی تھی۔۔۔
★★★★
ساحر جو تمام چیزیں مینج کر رہا تھا کونے میں رکھی کرسی پر لرزتے وجود کو دیکھتے تجسس سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔
اس کے قریب جاتے اس نے ہلکی ہلکی آواز میں روتی اس لڑکی کو گھورا۔۔
“اے لڑکی رو کیوں رہی ہ۔۔۔۔
اس کے باقی لفاظ منہ میں ہی رہ گیے جب اس نے سر اٹھاتے اپنی شہد رنگ بھیگی آنکھوں سے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔۔
“کاکی۔۔۔۔!!!
اچانک اس کی زبان سے پھسلا جبکہ بنو آنسو صاف کرتی جانے لگی تھی اپنے لیے کاکی کا لفظ سنتے اس کی طرف مڑی۔۔
اےےے انکل زیادہ بننے کی ضرورت نہیں ہے منہ توڑ دو گی۔۔۔””
انگلی اٹھاتے اس نے آنکھوں سے گھورتے کہا۔۔
جبکہ اس کی بھیگی آنکھیں غضب ڈھا رھی تھی۔۔
جس میں مقابل کو اپنا آپ ڈوبتا محسوس ہوا۔۔
جان بوجھ کر اسے تنگ کرنے کے ارادے سے اس نے بات کو طول دی۔۔
چڑیل لگ رہی ہوں ،،، کاجل پھیل گیا تمھارا اس وقت کسی بچے کے سامنے مت جانا بیچارے نازک دل کے ہوتے ہے۔۔۔
بلیک سوٹ میں جیل سے بال سیٹ کیے وہ آج کافی ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔
پر بنو کو تو وہ سرے سے ہی نظر نہیں آتا تھا۔۔
یو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!
اس سے پہلے کے وہ چیخ کر ساحر کو بہرہ کرتی وہ قہقہ لگاتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔
جبکہ بنو اسے دو چار گالیوں سے نوازتی اپنے بابا کے پاس چلی گئی۔۔۔
“اچھی ہے پر بچی ہے ۔۔”
لب دبائے دور سے اس تیکھی مرچی کو خود کو گھورتے دیکھ مسکرا دیا ۔۔۔
خیر مستقبل میں سوچا جا سکتا ہے اٹھارہ کی تو ہونے ہی والی ہے ۔۔۔”
بالوں میں ہاتھ پھیرتے سیٹ کی دھن بجاتے وہ باہر چلا گیا۔۔
★★★★★★
سلطان کی گاڑی حویلی داخل ہوئی وہاں موجود سب لوگ استقبال کے لیے کھڑے تھے۔۔
سلطان نے اپنی سائیڈ کا دروازہ کھولتے اس کی جانب بڑا ذونیشہ کی جانب بڑھتے اس کی گود میں پڑا ہاتھ پکڑتے احتیاط سے اس کی مدد کی۔۔
بھاری لہنگے میں الجھتے پاؤں سے لڑکھڑاتی اس سے پہلے ہی سلطان نے اسے مضبوط بازوؤں میں اٹھاتے اندر بڑھ گیا۔۔۔
اس کا یہ انداز ذونیشہ کے ہاتھ کی بھینچی ہتھلیاں پسینے سے تر ہوئی۔۔
اپنے کمرے میں اسے لے جا کر اتارتے اس کے مٹھی بنی ہتھیلی کو پکڑتا نرمی سے کھولتے اپنی انگلیاں اس کی انگلیوں میں الجھاتے محبت پاش نظروں سے اسے دیکھا جو ابھی بھی گھونگھٹ میں اس کے سامنے تھی۔۔
سلطان نے ہاتھ بڑھاتے اس کا گھونگھٹ الٹا۔۔
منجمد نظروں کے ساتھ اس کے سراپے کو دیکھتے وہ آج دوبارہ اس پر فدا ہوا تھا۔۔
“سلطان۔۔۔”
وہ اس کی پرتپش نظروں سے بچتی سر جھکا گئی ۔۔
“سلطان کی ملکہ۔۔۔”
اس کے ماتھے پر لب رکھتے وہ آنکھوں میں چاہت سموئے بولا۔۔
ذونیشہ اس کے حصار میں کھڑی تھی۔۔
اس کی آنکھوں پر اپنا لمس چھوڑتے اس کی ناک میں پہنی نتھ کے موتی کو گہری نظروں سے دیکھا جو ریڈ لپ اسٹک سے رنگے ہونٹوں سے ٹکرا رہا تھا ۔۔
ہاتھ پڑھاتے نتھ کو آزاد کیا جو جھولتی لٹک گئی۔۔
ذونیشہ سلطان تم کبھی دوبارہ مجھے چھوڑ کر مت جانا ،، اس کے قریب جاتے سرگوشی کرتا وہ اس کی سانسوں کو الجھا گیا۔۔
یونہی اسے باہوں میں بھرتے بیڈ پر لیٹایا۔۔
چند لمحوں بعد آزادی دیتے وہ اب اس کی جیولری اتارتے سائیڈ پر رکھ رہا تھا۔۔
اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتی ذونیشہ نے اس کی گہری سبز آنکھوں میں جھانکا۔۔
وہ کبھی کہہ نہیں پائی پر اسے بہروز سلطان کی آنکھیں بے حد پسند تھی جن میں اس کے لیے محبت رہتی۔۔
اس کا بھاری دوپٹہ دور کرتے اس پر جھکا۔۔
اس کی گرم سانسیں ذونیشہ کے چہرے پر پڑتی اس کے حواس معطل کر گئی۔۔
اس کی جان لیوا خوشبو اس کی جان لینے کے در پر تھی ۔۔۔
سلطان نے اس کے قریب جھکتے گہری نظروں سے اس کو دیکھتے آنکھیں بند کی۔۔
ذونیشہ اس کی بند آنکھیں دیکھتی جھجکتی ان پر اپنا نرم گرم لمس چھوڑ گئی آج پہلی بار ذونیشہ نے اسے چھوا تھا ۔۔
اس کے لمس سے مدہوش ہوتے سلطان نے خمار آلود نگاہوں سے اس کو دیکھا جو اب اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھتی آنکھیں موند گئی۔۔
” ان تمام چیزوں کے لیے شرمند ہو جس نے تمہیں اذیت دی مجھے معاف،،،،،،
سلطان کے ہونٹوں سے نکلتے الفاظ باقی تھے جب ذونیشہ نے نازک ہتھیلی اس کے ہونٹوں پر رکھتے مزید بولنے سے روکا۔۔
میں سب بھول چکی ہوں سلطان تمہاری سنگت میں یہ لمحات حسین ہے صدا تمہاری بن کر رہنا چاہتی ہوں،،،،تم بھی بھول جاؤ سب اور نئی زندگی کا آغاز کرو ۔۔
جہاں صرف خوشیوں کا راج ہو۔۔
نم آنکھیں لیے وہ مسکراتی بولی۔۔
اس کی دلکش مسکراہٹ دیکھتے اس کے الفاظ سنتے سلطان اس مسکراہٹ کو چنتے اپنے لمس سے مہکایا۔۔
اس کی شدتوں سے گبھراتی شرماتی ذونیشہ سلطان کے حصار میں لرز گئی۔۔۔۔
رفتہ رفتہ اس پر اپنے نام کی مہر لگاتا اسے نازک موم وجود کو اپنی آغوش میں لیتا پرسکون نیند سو گیا۔۔
جبکہ ذونیشہ اپنی قسمت پر نازان تھی آج۔۔
کل جو شخص اسے وقت گزاری کا سامان سمجھتا تھا آج وہ اس کے لیے کتنی عزیز تھی۔۔
بے اختیار اس پر پیار آیا جو سویا ہوا تھا۔۔
اس کی ہلکی بھوری داڑھی پر لب رکھتی وہ آنکھیں موند گئی۔۔
ایک نئی صبح ان کا انتظار کر رہی تھی۔۔
خوشیوں سے بھری صبح۔۔۔
سلطان بہروز کو آخرکار اس کا عشق مل ہی گیا۔۔
کہانی ختم ہو چکی تھی پر اس بار اختتام خوبصورت تھا۔۔
ختم شد
★★★★