65.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 05

غصے سے بپھرا تمام چیزیں توڑتے وہ طیش و اشتعال میں اپنی گاڑی لیے باہر نکلا۔۔
ریش ڈرائیونگ کرتے وہ اپنے دوست کے فلیٹ پر پہنچتے سگریٹ پر سگریٹ پیتے اپنے اندر کے درندے کو سلا رہا تھا۔۔
جس فلیٹ میں اس نے نکاح کیا تھا۔۔وہی موجود تھا ۔۔
جلدبازی میں شرٹ لیس ہی ادھر آ گیا تھا ،،، سبز آنکھوں میں تیرتی سرخی اور ماتھے کی پھڑکتی رگ اس کے ضبط کی گواہی دے رہی تھی۔۔
جبکہ اس کا دوست اس کے سامنے بیٹھا اسے سوائے گھورنے کے کچھ نہیں کر رہا تھا۔۔
“وہ لڑکی اس کی ہمت بھی کیسے ہوئی یہ الفاظ بولنے کی۔۔۔۔”میرے سامنے بکواس کر رہی تھی،،،اس کی جان لے لو گا میں ۔۔۔سگریٹ پھینکتے اس نے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے۔۔
بہروز یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے جتنی تو بنا رہا ہے اس نے وہ بات تیرے بیہیو کے مطابق کی جس طرح تو اسے ٹریٹ کر رہا تھا تو ایسا ہی کہنا تھا ذونیشہ نے،،،مجھے بھی یہی لگتا _ وہ جو اپنی دھن میں بول ہی رہا تھا بہروز کے الٹے ہاتھ کا پنچ اس کے ہوش ٹکانے لگا گیا۔۔۔ منہ میں خون کا ذائقہ گھل گیا۔۔اور ہاتھ میں اس کا ایک دانت آگرا جسے صدمے سے دیکھتے اس نے بہروز کو بیچارگی سے دیکھا جس پر وہ بے نیازی سے دیکھتے کسی کو کال ملانے لگا۔۔ “میں ابھی آ رہا ہوں ۔۔۔آج میں ڈون گروپ سے فائٹ کرنا چاہتا ہو ان کو تیار رکھ میں آ رہا ہوں۔۔۔”موبائل کان سے ہٹاتے اس نے سنجیدہ نظر سے اپنے اکلوتے دوست کو دیکھا جو ابھی تک اس کے ساتھ تھاحالانکہ وہ سال میں دو تین دانت اس کے توڑ چکا تھا۔۔ “آئندہ کے بعد منہ کھولنے سے پہلے سوچ لینا ۔۔۔اور میری ذونی کا نام اس زبان پر غلطی سے بھی نہ لانا ورنہ بہروز سلطان کو تم اچھے سے جانتے ہو،،، اپنی ملکیت کا نام کسی اور کے منہ سے سننے سے پہلے اس کی زبان کاٹ کر رکھ دو گا۔۔نیکسٹ ٹائم بی کئیر فل ۔۔ انگشت شہادت سے وارن کرتے وہ باہر نکلا۔۔ سلطان بہروز اتنا پوزیسسو وہ بھی ایک لڑکی کے معاملے میں وہ ابھی بھی حیرت و بے یقینی سے اس کی چوڑی پشت دیکھ رہا تھا ،،،اس کے لیے یقین کرنا مشکل تھا کہ یہ سلطان ہی ہے جو لڑکیوں سے سلام لینا گوارہ نہیں کرتا تھا۔۔ ★★★★★ ڈون گروپ فائیٹگ میں ہمیشہ سلطان کے مقابلے میں کھڑا رہتا ۔۔لیکن ہمیشہ مات ہی ملتی ۔۔ آج اچانک سلطان کے بلاوے پر وہ چاروں ایک گراؤنڈ میں موجود سلطان کا انتظار کر رہے تھے ۔۔ ڈریگن کے ٹیٹو سب کے بازو پر بنے ہوئے تھے ۔۔ ایک شکاری کی طرح وہ سلطان بہروز کی راہ تک رہے تھے جس نے آج کھلے عام ان سب کو دعوت دیے بیٹھا تھا ۔۔ پر حیرت کی بات یہ نہیں تھی بلکہ اس بار وہ ایک گراؤنڈ میں ان سب کے ساتھ اکٹھا مقابلہ کرنا چاہتا تھا،،،بغیر کسی رولز کے۔۔۔ سلطان کی گاڑی پوری گراؤنڈ کے چکر کاٹتی ان کے قریب آ رکی۔۔ وائٹ جینز اور شرٹ لیس سلطان سن گلاسس لگائے منہ میں سگریٹ دبائے باہر نکلا۔۔ اپنی گلاسس اتارنے اس نے پیچھے پھینکی۔۔ اور ان چاروں کو اپنی سرخ کائی جمی آنکھوں سے دیکھا۔۔ وہ کسی نہ کسی پر غصہ اتارنا چاہتا تھا اور ان چاروں کے علاوہ اس کوئی اور آپشن بیسٹ نہ لگا۔۔ اس کی گردن کی پھولی رگیں اور آنکھوں کی وحشت دیکھ ایک پل کو وہ گبھرائے لیکن وہ چار تھے اور وہ اکیلا۔۔ “سر سلطان یہ بیوقوفی ہے،،، وہ بھی کم نہیں ہیں چار ہے اور سپر فائٹر میں شمار ہوتے ہیں۔۔ایک بار پھر سوچ لے۔۔!!! ایک آدمی اسے گلوز پکڑاتے منت آمیز لہجے میں گویا ہوا۔۔ “تم نئے آئے ہو۔۔۔”خود کو ٹوکے جانے پر اس نے سختی سے پوچھا۔۔ ج۔۔جی۔۔۔ اس کی سرخ رنگت دیکھ وہ گبھرا گیا ۔۔۔ “ابھی غصے میں ہو اس لیے تم مجھ سے تھوڑا دور رہنا اور اس گیم کو دیکھو۔۔”اس کا گال تھپتھاتے وہ ان کی طرف بڑھا جو پہلے ہی تیار کھڑے تھے۔۔ کندھوں تک آتے سب کے بال اور چیل سی آنکھوں سے اسے گھورتے اکھٹے جھپٹے اس پر ۔۔۔ سلطان بھی ایک دلکش مسکراہٹ کے ساتھ ان پر قہر بن کر برسا۔۔ درپہ در ان پر مکے اور گھونسوں کی برسات کر دی۔۔ وہ جو بڑے جوش سے آئے تھے سلطان کا وحشی روپ دیکھ کر اپنا بچاؤ کرنے لگا۔۔ سلطان کا دھیان دو کی طرف دیکھتے پیچھے کھڑے جیمی نے لکڑی کا تختہ اٹھا سلطان کی پشت پر مارا ۔۔ سلطان لڑکھڑاتے کچھ جھکا منہ سے خون کا فوارہ نکل پڑا۔۔ اس سے پہلے کے وہ دوسرا وار کرتا بہروز نے اٹھتے اس کو زور دار لات ماری ۔۔۔ پھر سلطان کا وہ روپ ان سب نے دیکھا جو آج تک پردے میں تھا۔۔ کسی کی آنکھ تو کسی کا ہونٹ زخمی ہو چکا تھا ،،یقینا یہ سلطان بھاری پڑ گیا ان پر جو دم دبا کر بھاگ گئے۔۔ وہ آدمی پاگلوں کی طرح آنکھیں پھاڑے سلطان کو دیکھا جو انگوٹھے سے ہونٹ پر لگا خون صاف کرتے اس کی طرف آیا۔۔ ابرو اچکاتے اس نے پاس پڑی بوتل کو عادت کے مطابق منہ سے لگایا۔۔ وہ سلطان تھا جو کسی کی سوچ میں بھی نہیں آ سکتا تھا غصے میں ایک وحشی جانور بن جاتا تھا اب غصہ وہ ان چاروں پر اتار چکا تھا اس لیے کچھ فریش سا محسوس کر رہا تھا۔۔ “دوبارہ ملے گے۔۔۔”ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ وہ دو انگلیاں ماتھے کو لگاتے اسے اشارہ کرتے اپنی گاڑی زن سے بھگائی۔۔ ★★★★★ “صاحب جی پرسوں رات کی میری بچی نہیں مل رہی۔۔” سلطان کے باپ کے سامنے بیٹھا اسلم بھیگی آواز میں بولا۔۔ یہ غم کم تو نہ تھا کہ جوان بیٹی دو دن سے غائب ہے۔۔ “اسلم تم پریشان نہ ہو ہم کچھ کرتے ہیں آج ہی میں پولیس سے بات کرتا ہوں وہ تمہاری بیٹی کو ڈھونڈے۔۔”!! اس نے حوصلے دیتے کہا ۔۔تو اسلم نے تشکر بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔ سیٹی کی مخصوص دھن پر ان دونوں نے پیچھے دیکھا۔۔ حویلی کے دروازے سے سلطان سیٹی بجاتے داخل ہوا۔۔ اس کے ہونٹ پر لگا تھوڑا سا خون بکھری سی حالت دیکھ کر اس کا باپ دانت کچکچا کر رہ گیا ۔۔۔ جبکہ سلطان ذونیشہ کے باپ کو دیکھ کر مسکرایا،،،اور یہ معجزے سے کم نہ تھا اسلم تو کیا سلطان کا باپ بھی حیران تھا ۔۔۔ “ہائے۔۔”سلطان آگے بڑھتے اپنا ہاتھ اسلم کی طرف بڑھایا ۔۔۔شاید اسے ملنے کا طریقہ معلوم نہ تھا تبھی الجھا سا اپنے ہلکی بئیرڈ پر انگوٹھا پھیرا۔۔ اسلم نے اس کا سرخ سفید ہاتھ دیکھا جس کے گرد پٹی بندھی تھی۔۔پھر نرمی سے اپنا ہاتھ اس سے ملایا۔۔ بہت اچھا لگا آپ کو دیکھ کر،،،اچھی بات ہے آپ آئے،،،اوکے آپ باتیں کرے میں فریش ہو کر آتا۔۔۔ مسکراتے اس نے اپنی جانب سے اسلم کی تعریف کی تھی تاکہ وہ خوش ہو جائے لیکن وہ بس اسے دیکھی ہی جا رہا تھا۔۔ وہ سیڑھیاں چڑھتا اوپر چلا گیا۔۔ جپکہ اس کی پشت پر پڑی سرخ لکیریں واضح نظر آ رہی تھی جس دیکھتے سلطان کا باپ افراز افسوس سے سر ہلا گیا یقینا یہ صاحب لڑ کر آیا ہے۔۔ “ٹھیک ہے اسلم تم جاؤ پھر ۔۔۔” اس کا کندھا تپھتپھاتے وہ باہر چلے گئے۔۔ جبکہ اسلم یہ سوچ رہا تھا آتا تو وہ روز تھا یہ سلطان کو اچھا کیسے لگ گیا۔۔ اب کچھ امید بھی تھی کہ ذونیشہ مل جائے گی۔۔ ★★★★ جانم ۔۔۔اوہ میری جانم ،،،،،کمرے کا لاک کھولتے وہ اندر آتے سامنے اسے بیڈ پر سکڑا سمٹا بیٹھا دیکھتے لوفرانہ بولا۔۔۔ نیچے سسر صاحب آئے ہیں ۔۔کہنی کے بل اس کے سامنے بیڈ پر لیٹتے سکون سے بولا۔۔ اس کی بات پر ذونیشہ جو منہ موڑے بیٹھی تھی خوشی سے بیڈ سے اترتی باہر جانے لگی ۔۔ لیکن سلطان نے اتنی ہی تیزی سے اس کی کلائی پکڑتے کھینچا۔۔ کہ وہ لہراتی نازک سی گڑیا کٹی ڈال کی طرح اس کے اوپر آ گری۔۔ سلطان نے دونوں بازو اس کی کمر پر لاک کرتے جائے فرار کی تمام راہیں مستود کر دی ۔۔ سسر جی چلے گئے ہے جانم،،،اس کے دوپٹے کو وجود سے آزاد کرتے پیچھے پھینکا۔۔ اس حرکت پر شرم سے سرخ ہوتی اس نے اٹھنا چاہا۔۔ اتنی بھی کیا جلدی جانم ابھی تو پاس آیا ہوں اور تم جانے کی کر رہی ،،،اس کی خوشبو میں گہرا سانس بھرتے مدہوش ہوتا بولا۔۔ آپ،،،نے بابا سے کیا کہا۔۔۔نم آنکھوں سے وہ اس کے نقوش دیکھتی بولی۔۔ کچھ نہیں کہا ،،میں نے کیا کہنا تھا۔۔۔وہ ڈیڈ سے کچھ بات کر رہے تھے شاید تمہار ی گمشدگی کی،،،آہ ۔۔۔۔بیچارے جس سے کہہ رہے تھے اس کے گھر ہی ان کی چاند سی بیٹی موجود تھی۔۔اس کی تھوڈی پر لب رکھتے وہ تاسف سے سر ہلاتے بولا۔۔۔ آپ کیوں ہے اتنے ظالم..؟؟بتا دیتے نہ کہ میں آپ کے پاس ہوں۔۔۔”شدید بے بسی کے احساس سے اس نے سختی سے اپنے ناخن اس کے بازو پر گاڑھے جو اس کے گرد حائل تھا۔۔ پر اس شخص کو ٹس سے مس نہ ہوتا دیکھ غصے سے اپنے مرمریں ہاتھوں سے مکے اس کے سینے پر برسانا شروع کر دیے۔۔ “ذونی۔۔۔۔۔!! اس کے بازو جھکڑتے اس نے سختی سے ڈپٹتے آنکھیں دیکھائی۔۔ “آپ۔۔ بہت ۔۔۔ہی __!!
بات سنے بغیر اس نے رخ بدلتے اس پر اپنا وزن منتقل کیا۔۔
“جانم کتنا بولتی ہوں تم اور میں ظالم نہیں ہوں ،،،سلطان تمہارے معاملے میں ظالم ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔اس کا لب سہلاتے وہ بھاری لہجے میں گویا ہوا بے ساختہ ذونیشہ نے حلق تر کیا۔۔
اس کے بھاری وجود تلے دبے اس کی سانسیں رک رہی تھی۔۔
اس کے لمس پر سوکھے پتے کی مانند کانپ گئی۔۔
“کہوں تم میری ہو۔۔۔۔” اس کی آواز خمار آلود تھی۔۔
ذونیشہ نے اس کے کندھے پر لرزتا ہاتھ رکھتے پیچھے کرنا چاہا پر اسے اپنی انگلیوں میں الجھاتے تکیے سے لگایا۔۔
میں ،،،آپ کی ہو۔۔۔ ہار مانتی آنکھیں موندیں وہ کپکپائی آواز میں بولی بے ساختہ بہروز کے ہونٹ مسکرائے۔۔
ایسے نہیں،،، یہاں بات حق اور ملکیت کی ہے خود کو میرا کہوں تا عمر کے لیے اس طرح کہ میرے سینے میں موجود دل دھڑک اٹھے اور تمہاری سانسیں بے ترتیب کر دے۔۔اپنے لب سے اس کے کان کی لو چھوتے اس کی سانسیں واقعی بے ترتیب کر گیا۔۔
“میں ذونیشہ اسلم صرف سلطان بہروز کی ہوں تاحیات کے لیے۔۔۔”!!دو آنسو تکیے میں جذب ہوئے اس کی گرفت میں ابھی ابھی پھڑپھڑا رہی تھی۔۔
سلطان نے اس کا وجود کو گہری نظروں سے دیکھتے اس کی بیوٹی بون پر دانت گاڑھے۔۔
وہ تڑپ کر مچل اٹھی۔۔۔
اور اس کی پشت پر ناخن گاڑھ دیے۔۔وہ شخص پل میں تولہ پل میں ماشہ تھا۔۔۔
زخم پر لگتے اس کے ناخن ،،،،تکلیف سے لب بھینچتے بہروز نے گہری سبز نگاہوں سے اسے گھورا۔۔
اپنی ہوس کو پوری تو میں نے کرنا ہی ہیں۔۔۔پھر کیوں مچل رہی ہوں تڑپ رہی ہوں۔۔۔آنکھوں کا رنگ اور لہجہ دونوں ہی اچانک بدلے ۔۔۔
“تمہارے باپ کو اگر پتا چل گیا کہ تم میرے پاس اس وقت میرے بیڈ روم میں میری باہوں میں مچل رہی تو سوچو کیا ہو گا۔۔”بیچارہ تو شرم سے نظریں بھی نہیں اٹھا پائے گا۔۔۔۔
جان بوجھ کر اپنے زہریلے لہجے سے اسے اذیت دیتے وہ طنزیا مسکرایا۔۔
ذونیشہ نے اپنی بھیگی آنکھیں جو اب نم ہی رہتی تھی اٹھاتے اس کو دیکھا سبز کائی جمی آنکھیں سرخی لیے اس سے ٹکرا گئی۔۔
سلطان بہروز کو اپنا آپ ان آنکھوں میں ڈوبتا محسوس ہوا۔۔ سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا۔۔
سنجیدگی کا لبادہ اوڑھتے وہ اس پر سے ہٹتا ڈریسنگ میں بند ہوا۔۔۔
دل پر ہاتھ رکھتے اپنی دھڑکنوں کا شمار کرنے لگی جو سر پٹ دوڑ رہی تھی۔۔
اپنے ہاتھوں پر نظر پڑی تو حواس باختہ سی بیٹھ گئی۔۔
ناخن پر لگا خون دیکھ اس نے ڈریسنگ روم کے بند دروازے کو سہمی نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔
“تم کپڑے چینج کر لو میری کبرڈ سے کچھ بھی نکال کر پہن لو لیکن جب میں آؤ تو یہ کپڑے تم نے نہ پہنے ہوں۔۔بلیو چیک شرٹ کے کف موڑتے اس نے اکھڑ سے لہجے میں کہا۔۔۔
اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔۔
وہ اس وقت خود سے بھاگ رہا تھا اس لڑکی کے سامنے وہ خود کو کمزور پا رہا تھا جو وہ کرنا چاہتا تھا چاہ کر بھی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔۔اس لیے وہاں سے جانے میں ہی بہتری جانی۔۔
★★★★★
سلطان بیٹا کدھر جا رہے ہے آپ ۔۔؟؟
اپنی ساڑھی کا پلو سنبھالتی مبین بیگم نے سوالیہ پوچھا۔۔
مام میں بس ادھر ہی کام سے جا رہا ہو۔۔۔گہری سانس بھرتے اس نے موبائل پر سکرولنگ کرتے جواب دیا۔۔
کل ایک ملازم کا پاؤں ٹوٹ چکا تھا کیا تمہیں معلوم کیسے ٹوٹا۔۔؟؟
کرخت لہجے میں انہوں نے کہا تو سلطان نے مسکراتی نگاہوں سے اپنی ما م کو دیکھا جو ہر بار کی طرح اس بار بھی غصے سے بھری ہوئی تھی۔۔
سلطان نے قریب جاتے انہیں اپنے حصار میں لیتے ماتھے پر لب رکھے۔۔۔
مام ہر بات کی ٹینشن مت لیا کرے آپ اور مجھے کیا پتا کیسے ٹوٹا پاؤں آپ بلاوجہ مجھ شریف پر شک کر رہی ہے۔۔اسے یونہی حصار میں لیے محبت سے اس نے سب سے بڑا جھوٹ چھوڑا۔۔
جسے سنتے پیچھے کھڑا اس کا باپ اس کے قریب آیا اور سلطان کا کان پکڑتے مڑوڑا کہ بے دھیانی میں کھڑا بہروز اچھل کر پیچھے ہوا۔۔
“بیٹا جی پاگل کسی اور کو بنانا ہم تمہارے ماں باپ ہے ۔۔”اس کا کان چھوڑتے انہوں نے سنگل صوفہ پر بیٹھتے اس میسنے کو گھورا جو ماں کے پاس کھڑا اب بتا رہا تھا کہ اس کی غلطی نہیں تھی ۔۔
“مام قسم سے میں پول میں سویمنگ کر رہا تھا تو اس نے میری گن کو پکڑتے سائیڈ پر رکھ دیا توڑنا ہاتھ تھا یہ تو میں نے بھلا کرتے پاؤں توڑ دیا ہے اس کی بھی ٹینشن نہ لے کچھ دنوں تک ہو جائے گا سہی۔۔”
دانت پیستے اپنے باپ کو دیکھتے اس نے مبین بیگم کو صوفے پر بیٹھاتے شیریں لہجے میں کہا۔۔
اس کا باپ اس ایکٹنگ پر داد دیے بنا نہ رہ سکا۔۔
تم گن رکھتے ہی کیوں ہو اپنے پاس۔۔؟؟
سلطان سے رخ پھیرتی وہ ناراضگی سے گویا ہوئی۔۔
مام گن تو میں خاص استعمال نہیں کرتا،،،بس کھی دن میں دو چار بندوں کو اڑانا ہی پڑ جاتا ہے۔۔۔۔
جتنے آرام سے اس نے کہا تھا اتنی ہی مبین بیگم نے حیرت و بے یقینی سے اسے دیکھا۔۔
بیٹا دو چار ہی کیوں تم لائن میں لگا کر اڑایا کرو دس دس کو اکھٹے ہی۔۔اس کا باپ حسبِ عادت ٹونٹ کرتے بولا۔۔
واہ ڈیڈ۔۔۔ باپ ہو تو آپ جیسا ورنہ ہو بھی تو آپ جیسا تو نہ ہی ہوں۔۔۔ کیا مشورہ دیا ہے آپ نے آج سے ایسا ہی ہو گا ویسے بھی آج تک کبھی آپ کو مایوس نہیں کیا۔۔۔
سر خم کرتےسلطان نے فروٹ باسکٹ سے سیب اٹھاتے کھانے لگا۔۔
“شاباش پتر ہمارا جھنڈا اونچا رکھنا۔۔”
ان کی بحث پر مبین بیگم اٹھتی کچن میں چلی گئی جبکہ پیچھے جنگِ عظیم ہو رہی تھی۔۔
“ڈیڈ اب مام کے سامنے کچھ نہیں کہنا ورنہ سیکریٹری کا بتا دو گا۔۔سلطاننے ہمیشہ کی طرح والا ٹوٹکا آزماتے شیطانی مسکراہٹ لیے بولا۔۔
یہ جو اوپر کمرے میں لڑکی ہے اس کے بارے میں تیری ماں کو ابھی علم نہیں ہے شیرو۔۔
ڈیڈ۔۔۔۔۔۔آہستہ بولے مام نے توپ لے کر میرے سر پر کھڑے ہو جانا ہے۔۔۔
خاموش رہنے کا کہتے اس نے کچن میں ترچھی نگاہوں سے جھانکا جہاں مبین بیگم ملازمہ کو ہدایات دے رہی تھی۔۔
“کاش تم اتنا اپنے باپ سے بھی ڈر لیتے۔۔۔”سلطان کو مسلسل اندر جھانکتے دیکھ انہوں نے حسرت سے کہا۔۔
میں ڈرتا نہیں ہو ریسپیکٹ کرتا ہو مام کی۔۔ سلطان نے ابرو اچکاتے سیب کی بائٹ لیتے کہا۔۔
“یہ ریسپیکٹ مجھے بھی دے دو۔۔۔”
“یار ڈیڈ کیا بات کر رہے آپ تو جگر ہے ۔۔۔”
سلطان نے فراخ دلی سے سینے پر ہاتھ رکھتے کہا ۔۔
“یہ لڑکی کون ہے۔۔۔”
افروز صاحب نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔
“آپ کی بہو ہے۔۔”
اتنا ہی سکون تھا اس طرف۔۔
“کیا تم پاگل ہوں یہ کیا بول رہے ہوں۔۔۔؟؟؟
لہجہ ذراسخت ہوا۔۔
“ہاں شاید پاگل ہو۔۔۔اب وہ پسند آگئی ہے سلطان کو۔۔”،،
اس بے نیازی پر افراز صاحب کا دل عش عش کر اٹھا۔۔
یہ پسند کب تک قائم رہے گی۔۔؟؟
شاید دو دن ،،،دو ہفتے،،، دو سال یا پھر عمر بھر میں خود نہیں جانتا۔۔
اس کے ذکر پر اس کے لب مسکرا رہے تھے انجانے میں ہی۔۔
چبکہ افراز صاحب بغور اس کے چہرے کی چمک دیکھ رہے تھے۔۔
نام کیا ہے لڑکی کا۔۔؟؟
ذونیشہ اسلم اور اب ذونیشہ سلطان بہروز ۔۔۔
لب دباتے اس نے جیسے ہی کہا افراز صاحب نے الجھی نگاہوں سے دیکھا۔۔
“اسلم آج اپنی بیٹی کو ہی ڈھونڈ رہا تھا کیا تم جانتے ہوں یہ کتنی بڑی حماقت کی ہے تم نے،،،، سلطان کیا تم اسے کڈنیپ کر کے لائے ہو یا یہ خود بھاگ۔۔۔۔””
“میں لایا ہو اٹھا کر اسے بھاگ کر نہیں آئی وہ۔۔۔”
سبز کائی جمی آنکھوں میں سرخی تیر گئی لہجہ تیز تھا۔۔
“سلطان اس کی ماں کل وفات پا گئی ہے” اچانک طبیعت بگڑنے سے ،،،میں نہیں جانتا اس نے اپنی بچی کی گمشدگی کا صدمہ لیا ہے یا کچھ اور پر اب وہ نہیں رہی۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ افراز صاحب کچھ اور کہتے پیچھے کسی کے گرنے کی آواز پر دونوں نے مڑتے دیکھا۔۔
آج پہلی بار سلطان بہروز کو معلوم ہوا پاؤں تلے سے زمین سرکنا کسے کہتے ہیں۔۔۔
★★★★