65.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

اس کے حصار میں قید ذونیشہ کو سلطان نے محبت پاش نظروں سے دیکھا اس کے آنے کے بعد سب کچھ بدل چکا تھا سلطان بدل چکا تھا۔۔
پر وہ ہمیشہ ذونیشہ کے لیے تکلیف کا باعث بنا تھا گہری سانس خارج کرتے اس کے ماتھے پر نرمی سے ہونٹ رکھتے وہ اٹھا۔۔۔
وہ اچھے سے جانتا تھا ذونیشہ اس سے نفرت کرتی ہے وہ بے بس تھا اس معاملے میں۔۔
امیرزادوں کو جب عشق ہو جائے نہ تو اچھا خوار کرتا ہے ۔۔۔
بے تاثر چہرہ لیے موبائل کی طرف متوجہ ہوتے ای میل چیک کرنے لگا ۔۔
کچھ ضروری کام کے تحت اٹھتا عجلت میں باہر نکلا۔۔
بہروز کی ایک فیکٹری میں آگ لگ چکی تھی۔۔
سرخ نظروں کے ساتھ حالات کو کنٹرول کرتے وہ غصے سے تنے نقوش لیے تمام معلومات لے چکا تھا۔۔
فیکٹری کا زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے کافی بچت ہو گئی تھی پر یہ کام ادھر کام کرتے کسی ورکر نے ہی کیا تھا۔۔
جسے وہ پولیس کے حوالے کر چکا تھا۔۔
آج پہلی بار کوئی شخص سلطان کے ہاتھوں زندہ بچا تھا اس کا نقصان کرنے کے باوجود،،، یہ تبدیلی کافی حیران کن تھی۔۔
★★★★★★
اس وقت رات ہو چکی تھی شدید تھکن کے باعث اس کی آنکھیں ہلکی سرخ تھی ۔۔۔
ساحر نے اسے کہا تھا کہ ذونیشہ کو خوش رکھنا ہے تو اس کی خوشی کو دیکھنا ہو گا۔۔
اور اس کی خوشی کیا ہے یہ سوچتے ہی سلطان مٹھیاں بھینچ گیا۔۔
کچھ سوچتے وہ گاؤں کو جاتی سڑک پر گاڑی ڈال چکا تھا۔۔۔
ہاتھ سینے پر باندھے سلطان نے سرخ لہو ٹپکتی سبز آنکھوں سے اسلم کو دیکھا جو جھکے کندھوں کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔
” اب کیا لینے آئے ہے آپ سب کچھ تو آپ نے لے لیا ہے ۔۔
اب یہاں اور کچھ نہیں ہے جسے آپ لے جا سکے۔۔۔”
اسلم نے اذیت سے کہتے نم نگاہوں سے اپنے مالک کو دیکھا۔۔
جس نے اس کی بیٹی کو چھین لیا تھا۔۔
“میرے پاس سب کچھ ہو کر بھی کچھ نہیں ہے میں خالی ہاتھ ہوں ۔۔
میری دسترس میں میری زندگی ہے پر وہ میری نہیں ہے ،،،
اسلم صاحب میں ذونیشہ سلطان کو کل آپ کے پاس چھوڑ جاؤ گا۔۔۔
مزید اسے اپنے پاس رکھ کر اسے تکلیف نہیں دے سکتا۔۔
پر وہ ہمیشہ میری ہی رہے گی زندگی بھر کے لیے میرا نام مرتے دم تک اس کے ساتھ رہے گا ۔۔”
سلطان نے یہ الفاظ کیسے کہے تھے وہ ہی جانتا تھا۔۔
جبکہ اسلم نے آنکھیں پھیلائے اسے دیکھا کہ وہ واقعی سچ کہہ رہا ہے۔۔
پر وہ کہتے ایک پل رکے بغیر لمبے ڈنگ بھرتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔
★★★★★
رات کے وقت حویلی داخل ہوا تھا بجھا سا چہرہ بکھرا پڑا حلیہ وہ سلطان جسے دنیا جانتی تھی محبت میں خوار ہو گیا کوٹ کو کندھے پر رکھے سنجیدگی کے ساتھ وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا..
موسم کافی خراب تھا بجلی کی گرج چمک کی آوازیں دل دہلا دینے والی تھی۔۔ابر آلود آسمان کی جانب سر اٹھاتے سلطان مسکرایا۔۔
اس نے سوچ لیا وہ ذونیشہ سے دوری اختیار کر لے گا اس کی خوشی میں خوش ہو جائے گا۔۔۔
اپنے کمرے میں جانے سے پہلے وہ خادمہ سے پورے دن کی رواد سن چکا تھا۔۔
ذونیشہ کھانا کھا چکی تھی جبکہ سارا دن کوئی ہنگامہ بھی نہیں ہوا۔۔۔
دروازے کی ناب گھماتے وہ اندر داخل ہوا ۔۔۔
ایک نظر ذونیشہ کو بیڈ پر بیٹھا دیکھ کر کوٹ صوفے پر پھینکتے شاور لینے چلا گیا ۔۔۔
شرٹ لیس گلے میں تولیہ ڈالے ماتھے پر بل ڈالے وہ ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
شرٹ پہنتے مرر سے نظر آتے ذونیشہ کے چہرے کو نظروں کے حصار میں ہی رکھا تھا جس سے کنفیوز ہوتی وہ سرخ پڑ رہی تھی۔۔
سلطان نے رخ موڑتے اس کی جانب قدم بڑھائے ۔۔۔
پر ذونیشہ نے لب بھینچتے تکیہ مٹھیوں میں پکڑا۔۔
“تم ڈسٹرب ہو گی مجھے کچھ کام ہے اس لیے تم سو جاؤ ۔۔”
سلطان نے تکیے کے پاس سے اپنی فائل پکڑتے ٹیبل سے چیزیں اٹھائی۔۔
“سنیں۔۔۔۔۔۔۔
سلطان جو لیپ ٹاپ پکڑے باہر جانے کو تھا ذونیشہ کی دھیمی سی آواز پر رکا۔۔
“ہمم۔۔بولوں۔۔۔”اپنی فائلز بھی بیڈ سے اٹھاتے اس نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے پوچھا۔۔
جو لب کاٹتے انگلیاں چٹخا رہی تھی۔۔
“وہ آپ ادھر ہی کام کر لے ،،،،میں ڈسٹرب نہیں کرو گی۔۔آپ بیڈ پر بیٹھ جائے میں صوفے پر لیٹ جاتی ہوں۔۔۔
جلدی میں بولتی وہ بغیر سلطان کو بولنے کا موقع دیے تیزی سے روم کا ڈور لاک کرتے بیڈ سے اپنا تکیہ اٹھاتی صوفہ پر رکھ گئی۔۔
زیرِ لب مسکراتے اس نے سر جھٹکا۔۔
پر میں یہاں کیوں بیٹھ کر کام کرو۔۔؟؟،،اور ویسے بھی تم میرے ہوتے ہوئے اچھا فیل نہیں کرتی۔۔۔نچلا لب دبائے اس نے بغور ذونیشہ کے تاثرات جانچے ۔۔۔۔
جو سپید چہرے کے ساتھ کھڑکیوں کے پٹ بند دیکھتی پھر باہر طوفانی ہواؤں کے دوش میں آتی آوازوں سے حلق تر کرتی بامشکل مسکرائی۔۔
“ایسا۔۔۔۔ ن۔۔۔ن۔۔۔ہیں ہے اچ ۔۔چھا فیل کرتی ہوں۔۔”
وہ ہکلاتی اسے یہی روکنے کی تگ و دو میں تھی۔۔اگر وہ یہاں اکیلی سوتی تو یقینا خوف سے ہی مر جاتی۔۔
بچپن سے ہی اسے طوفانی بارشوں سے خوف آتا تھا۔۔
سلطان نے سر ہلاتے اپنا لیپ ٹاپ دوبارہ بیڈ پر رکھا فائل ساتھ رکھتے۔۔
اس نے اپنے قدم اس کی طرف بڑھائے۔۔
ذونیشہ اس کے رکنے پر دل ہی دل میں شکر ادا کرتی پر اس کو اپنی طرف آتا دیکھ سانس روک گئی۔۔
سلطان اس کے قریب آتے بازو اس کی کمر کے گرد حائل کرتے اپنے قریب کھینچا۔۔
ذونیشہ نے اس کے بدلتے تیور دیکھ دل مضبوط کرتے اسے دیکھا۔۔
جو چہرہ ذرا ٹیڑھا کیے اس کو نظروں سے ہی کھانے کا اردہ رکھتا تھا۔۔
“یہ ۔۔۔۔آپ ۔۔پی۔۔پیچھے ہو ۔۔”
کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو مزاحمت کرتی اس پیچھے دھکیلنا چاہا۔۔
پر اس کا چٹانی وجود ویسے ہی کھڑا رہا۔۔
“مجھے ایسا لگا جیسے تم مجھے اپنے بے حد پاس رکھنا چاہتی ہوں ،،،یوں روک کر مجھے اپنے پاس رہنے کا بولنا،،تمہارے ارادے نیک نہیں لگ رہے بیگم۔۔۔۔”!!
کتنے دنوں بعد آج سلطان کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔۔
“ارادے۔۔۔نیک۔۔۔۔نہیں۔۔ہے۔۔۔۔” س کی بات پر بوکھلاتی اس کی انگلیوں کے کھردے لمس کو کمر پر رینگتا محسوس کرری وہ ہکلا گئی۔۔
سلطان اس کے ہکلانے پھر غلط جملہ بولنے پر اپنے قہقے کو دباتے اس کی سپید پڑتی رنگت دیکھی۔۔
“ایسا۔۔۔نہیں۔۔۔ہے۔۔آپ۔۔غلط۔۔سمجھ ۔۔رہے ہے۔۔”
بوکھلاہٹ میں بولی بات پر شرمندہ ہوتی کسمساتے اس کے حصار سے نکلنا چاہا۔۔
ذونیشہ بہروز سلطان۔۔۔سوری پر اس وقت میرے ارادے نیک نہیں ہے۔۔۔”
معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر جھکتے اس کے نازک وجود کو اپنے بازوں میں اٹھایا۔۔
“”آہہہ۔۔۔”وحشت سے چیختی اس نے سلطان کے سینے پر مکوں کی برسات کی۔۔۔
سلطان۔۔۔۔۔!!!!
بیڈ سے اٹھتی وہ کچھ کہنے کو تھی۔۔
پر اس کے ہونٹوں پر سلطان قفل لگاتے انگلیوں سے اپنی انگلیاں الجھاتے اسے پیچھے دوبارہ لیٹایا۔۔۔
شرم سے سرخ ہوتی سختی سے اپنی آنکھیں مینچیں اپنی ناخن سختی سے سلطان کے ہاتھوں میں گاڑھے۔۔
پر وہ بے خود ہوتا اپنا وزن اس پر منتقل کرتے وہ کسی نشے میں گم رہا۔۔۔
اس کی سانس رکتے دیکھ وہ ذرا پیچھے ہوتے اس کا لال بھبھوکا چہرہ دیکھا۔۔۔
سلطان نے شرارت سے آئیبرو اچکایا۔۔
پر ذونیشہ غصے سے سرخ ہوتی بغیر سوچے سمجھے عمل کیا۔۔
زنانے دار تھپڑ کی گونج خاموش کمرے میں گونجتی بہروز سلطان کے بائیں گال پر نشان چھوڑ گئی۔۔
حیرت و بے یقینی کی کیفیت میں اس نے اپنے گال کو چھوا۔۔
ذونیشہ چہرے پر ہاتھ رکھے وہ بھی اپنے عمل پر خوف و ڈر سے دیکھ رہی تھی۔۔
سلطان سرخ انگارہ سبز آنکھوں میں وحشت لیے پیچھے ہوا۔۔
بیڈ پر پڑے لیپ ٹاپ کو غصے سے اٹھاتے دیوار سے مارا۔۔
ٹوٹ کر لیپ ٹاپ نیچے گرا جبکہ اس کی قہر برساتی نظریں ذونیشہ پر مرکوز تھی۔۔
“کوشش بھی مت کرنا آئیندہ میرے سامنے آنے کی جلا کر رکھ دو گا تمہیں بھی اور خود کو بھی،،،،،
وحشت بھری سرد آواز ذونیشہ کے حواس جھنجھوڑ گئی۔۔
وہ بہت بڑی غلطی کر چکی تھی شاید پر اب وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔۔
سلطان اسے وارن کرتے باہر چلا گیا ۔۔
دروازے کے بند ہونے کی آواز پر ذونیشہ سلطان نے گہری سانس چھوڑی آنکھیں موندیں۔۔۔
“کیا دوبارہ وہ اپنی زندگی جی پائے گی جہاں بے فکری تھی ۔۔۔کاش وہ سلطان سے ملی ہی نہ ہوتی تو آج اس کی زندگی اتنی بے سکون نہ ہوتی۔۔۔”
پلکوں پر ٹھہرے موتی گرتے تکیہ کو بھیگو گئے۔۔
“کیا اس بار وہ غلط تھی۔۔
اسے تھپڑ نہیں مارنا چاہیے تھا۔۔۔!!!
لب کاٹتی اس نے سونے کی کوشش کی جو کہ بیکار تھی۔۔
★★★
سگریٹ سلگاتے وہ سرخ سبز آنکھوں کے ساتھ اس منظر کو یاد کرتے غصے سے آگ بگولا ہو رہا تھا۔۔
زندگی میں پہلی بار کسی نے سلطان بہروز کے چہرے پر اپنی انگلیوں کی چھاپ چھوڑی تھی ۔۔
“کیا اس کی قربت اسے اتنی ہی ناپسند ہے۔۔۔!! اس نے ایک گہری سانس چھوڑی۔۔۔
“میں اسے چھوڑنے والا ہو مجھے کچھ فرق نہیں پڑنا چاہیے اس کی نفرت سے ۔۔”
پر اصل میں وہ تڑپ رہا تھا کہ ذونیشہ اتنی ہی نفرت کرتی کہ اس کے قریب جانے پر یہ ردعمل دیکھایا۔۔
اپنے بال مٹھیوں میں جھکڑتے وہ آج پہلی بار بے بس ہوا تھا۔۔
وہ رات کے دو بجے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
بیڈ پر پڑا وجود جس میں سلطان کی جان تھی نیند میں گم تھا اس کے قریب جاتے ا س نے اپنے ہاتھ سے اس کے چہرے سے بال پیچھے کیے۔۔
پر نور سرخ و سفید چہرہ مٹے آنسوؤں کے نشان تیکھی سرخ ناک اور گلابی ہونٹ وہ ایک دیوی تھی جس کا جادو سلطان کے سر چڑھ کر بولتا تھا۔۔
“ذونیشہ سلطان اگر تمھاری جگہ کوئی اور ہوتا تو اس کی روح پرواز کر چکی ہوتی ۔۔۔بہت غلط کیا تم نے میری محبت کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے تم نے ۔۔۔”
میں نے اتنی محبت کی اپنے ماں باپ کے خلاف تک گیا پر تم ،،، تم نے آج بہت برا کیا بہت برا۔۔۔!!
دھیمی سرگوشیاں کمرے میں گونج رہی تھی ۔۔۔
“آج صبح سے ہی تمھارے اور میرے راستے الگ الگ ہو جائے گے۔۔آج مجھے معلوم پڑ گیا کہ تم میرے ساتھ ابھی بھی مجبوری میں رہ رہی ہوں۔۔”
تف ہے تم پر سلطان،،، تم پر دنیا تمہارے قبضے میں آسکتی ہے پر فقط تمھاری محبت کو تم سے محبت نہیں ہوئی۔۔
“شاید یہ دستور ہی ایسا ہے کہ
جسے ہم چاہ لے وہ ہمیں نہیں چاہتا۔۔۔”
مجھے لگتا تھا مجھے یہ محبت نہیں ہو گی پر یہ سالی محبت تو چمٹ ہی گئی مجھ سے کے اب نہ جان چھوڑ رہی ہے نہ جان لے رہی ہے ۔۔۔!!!
سرخ آنکھوں سے تصور میں اسے دور جاتا دیکھ وہ وہی سر ٹکاتا اپنی سوچوں میں گم بیڈ کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔
وہ سنبھل جائے گا صبح تک کسی پر خود کے بکھرے کا راز بیان نہیں کرے گا وہ ۔۔۔۔
★★★★