65.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 03

آج بہروز سلطان نے اپنا فارم ہاؤس دلہن کی طرح سجایا تھا۔۔
کمرے تک جاتا پھولوں کی پتیوں کا راستہ اور اپنے کمرے کو اس نے جس طرز سے سجایا تھا کہ دھنگ ہی رہ جائے دیکھنے والا۔۔
خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی ۔۔
اس نے ذونیشہ کہ حویلی کے تہہ خانے میں رکھا تھا جہاں صرف وہ ہی جاتا تھا بہت کم ہی کوئی ادھر جاتا ،،اب اس کا ارادہ اسے ادھر لانے کا تھا۔۔
جلدی سے تمام تیاریاں مکمل کرتے وہ بے چینی کے ساتھ اپنی گاڑی میں بیٹھتے حویلی کا رخ کیا۔۔
اس کا ارادہ سیدھا حویلی کی بیک پر بنے خفیہ دروازے سے اندر جانے کا تھا پر اس کی مام سامنے سے آتی اسے روک چکی تھی۔۔
“اوہ۔۔ مما مجھے ضروری کام ہے پلیز بعد میں جو کہنا ہو کہہ لے۔۔۔”اس نے ٹالنا چاہا جانے کی خاصی جلدی تھی۔۔
“بہروز میں کہہ رہی ہوں ادھر بیٹھے اور میری بات سنے ۔۔۔
سامنے پڑی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھتی انہوں نے سخت پتھریلے تاثرات سے بہروز کو جانچا کہ وہ گڑبڑاتا بیٹھ گیا ایک واحد یہی تو ہستی تھی جس کے سامنے بہروز خاموش رہتا تھا۔۔دنیا میں سب سے زیادہ وہ چاہتا بھی اپنی ماں کو ہی تھا۔۔
ماتھے پر بل ڈالے کوفت سے وہ ان کے سامنے بیٹھ گیا ۔۔لیکن بیٹھنے سے پہلے اس نے موبائل سے اپنے خاص بندے کو میسج کر دیا تھا کہ لڑکی کو فارم ہاؤس پہنچا دو۔۔
بیٹا بہروز کیا تم نے کسی لڑکی کو حویلی کے تہہ خانے میں رکھا ہے۔۔مبین بیگم نے بیٹے کا متغیر چہرہ دیکھتے پوچھا۔۔
“نہیں مما۔۔آپ کو کس نے کہا۔۔میں ایسے چونچلے نہیں پالتا۔۔یو نو آئم سلطان بہروز۔۔”!!
بے ساختہ وہ قہقہ لگاتے بول اٹھا۔۔پر دل دھک سا تھا کہی مما نے دیکھ تو نہیں لیا اس لڑکی کو۔۔
“بیٹا بات تمہاری یا تمہارے شوق کی نہیں بات میری تربیت کی ہے اور میں نہیں چاہتی کوئی میری تربیت پر سوال اٹھائے۔۔۔”
وہ سنجیدگی اس کے تاثرات کی ملاحضہ کر رہی تھی۔۔جو ہمیشہ کی طرح جب جھوٹ بولتا تو ایک گھٹنہ مسلسل ہلائے جاتا تھا اب بھی کرسی پر بیٹھے وہ ٹانگ جھلاتے کہہ رہا تھا۔۔
“مما آپ کو لگتا ہے کہ اگر کوئی آپ پر سوال اٹھائے اور وہ زندہ بچے گا امپوسیبل مما۔۔میں اس کا نام و نشان مٹا دو گا۔۔”!!
اپنی عادت کے پیشِ نظر بھڑک اٹھا۔۔
“تمہارا غصہ بہت تیز ہے مجھے ڈر ہے کسی دن تم اپنے غصے سے پچھتاوے کا شکار نہ ہو جاؤ۔۔”
خادمہ کافی لے کر آچکی تھی جسے مبین بیگم پکڑتی ایک کپ بہروز کی طرف بڑھایا جسے وہ تھام چکا تھا۔۔
“ویسے بہروز مرد کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ آج اگر وہ کسی کی عزت روندھ رہے ہیں تو کل کو ان کی بھی عزت ہو گی اس کی بیوی یا بیٹی تو کیا پتا مکافات کا عمل ہو جائے دنیا تو مکافات عمل ہے لیکن کون مرد سمجھے اس بات کو ۔۔۔”
مبین بیگم کافی پیتے اسے نارمل سے انداز میں کہہ رہی تھی جبکہ سلطان سرخ سبز آنکھیں نیچے گاڑھے بیٹھا تھا گردن اور ماتھے کی نسیں ابھر چکی تھی۔۔
اوکے مما میں چلتا ہوں۔۔!!
بغیر ان کی طرف دیکھے وہ باہر کو چلا گیا۔۔۔
پیچھے مابین بیگم نے ایک گہری سانس چھوڑی ۔۔
“مجھے امید ہے کہ میرا بہروز کچھ بھی کر سکتا ہے پر کسی لڑکی کو بے آبرو نہیں کر سکتا۔۔”
اسے صبح ہی خادمہ نے بتایا تھا کہ کل اس نے بہروز کے بازوؤں میں ایک نازک سا وجود دیکھا تھا جو تہہ خانے میں لے کر جا رہے تھے۔۔
مبین بیگم نے سوچا کہ اس کا وہم ہو گا لیکن کریم نواز ان کا گارڈ اس سے جب سختی سے مبین نے پوچھا تو سب کچھ بتا دیا کہ اسے چھوٹے مالک رات کو اسے لے کر آئے تھے وہ کون ہے اسے نہیں پتا۔۔
جانے کیوں پر مبین بیگم کے دل میں موہم سی امید تھی کہ بہروز ایسا کچھ نہیں کرے گا جیسا وہ سوچ رہی ہے آخر اب تک جس بہروز نے کسی لڑکی کو ہاتھ نہیں لگایا وہ کیسے کسی لڑکی کو اٹھا کر لا سکتا ہے۔۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی وہی بہروز سلطان اکھڑ بدتیمز اور انتہا کا خود سر لڑکا ایک لا علاج مرض میں مبتلا ہو چکا تھا۔۔
★★★★★★
خود کو پہلے کسی پارلر میں تیار کروانے پر وہ جتنا رو سکتی تھی روئی پارلر والی نے میک اپ نہیں کیا بس لپ اسٹک لگائی اور جیولری پہنا دی لیکن پھر بھی وہ دلہن کے عروسی لباس میں ایک اپسرا معلوم ہو رہی تھی ۔۔۔
اسے وہاں سے آنکھوں پر پٹی باندھے کہی لے جانے پر وہ سہمی ہرن کی طرح اپنے ساتھ کھڑی عورتوں کے درمیان کھڑی تھی جن کے بولنے کی آوازیں اسے سنائی دے رہی تھی۔۔
“کیا تم پاگل ہو چھوٹے مالک کے کمرے میں گئی اس ملازمہ کا انجام بھول گئی ہو ،،،میں تو نہیں جا رہی اندر۔۔”
دونوں بہروز کے کمرے کے باہر کھڑی تھی تو ایک جھرجھری لیتی بولی۔۔
تو پھر اس لڑکی کو ہی بھیج دیتے ہیں اندر ۔۔
ان کی سرگوشیوں پر ذونیشہ کی روح فنا ہوئی۔۔
نہی۔۔ں ۔۔پلیز۔۔مجھے چھوڑ دے۔۔مھ پر۔۔رحم۔۔کرے۔۔مجھے جانے دے میرے ماں باپ مجھے ڈھونڈ رہے ۔۔ہو گے۔۔۔
عروسی جوڑے میں مبلوس وہ کانپتی بولی۔۔
دونوں عورتوں نے افسوس سے سجی دلہن کو دیکھا جانے کونسی غلطی ہوئی کہ وہ بہروز کے قہر کانشانہ بننے والی تھی۔۔۔
“چلو اسے کمرے کے اندر تک چھوڑ دیتے ہیں اور ویسے بھی اس کا لہنگا کافی بھاری ہے جتنی نازک سی یہ ہے کہیں گر ہی نہ جائے۔۔”
دوسری تاکید میں سر ہلاتی اس کے لہنگے کو اٹھائے بہروز کے کمرے کا دروازہ کھولتی اندر چھوڑا اور باہر آگئی۔۔
دروازہ باہر سے لاک کرتی وہ جا چکی تھی۔۔۔
جب کسی قسم کی کوئی آواز سنائی نہ دی تو کانپتے ہاتھوں سے اس نے اپنی آنکھوں سے پٹی اتاری۔۔۔
کمرے کو یو سجا دیکھ وہ پتھرا گئی،،اس نے تو کوئی ایسی حرکت بھی نہیں کی تھی جس کا بدلہ بہروز لے رہا تھا ،،پھر وہ کیوں اس پنجرے میں قید ہو گئی۔۔
بیڈ تک جانے کی اس میں نہ ہمت تھی نہ وہ جانا چاہتی تھی اس لیے اپنے لہنگے کو سنبھالتی ایک سائیڈ پر بیٹھ کر دیورا سے ٹیک لگا گئی۔۔
وہ اب بھی کسی معجزے کے انتظار میں تھی شاید کوئی اسے بچا لے ۔۔حرام موت مرنا اس کے بس میں نہیں سوچتے ہی روح لرز اٹھتی ۔۔
دیوار سے ٹیک لگائے کب نیند کا غلبہ طاری ہوا اور وہی سو گئی۔۔
★★★★
سلطان بہرز اپنی سوچوں سے لڑتا سرخ سبز آنکھیں لیے اپنے فارم ہاؤس لوٹا ۔۔
یقینا وہ لڑکی ادھر ہو گی ۔۔
وہ سوچ کر آیا تھا اسے کیا کرنا ہے۔۔
اپنے روم کی طرف بڑھتے اسے نے دروازہ کھولا جو آسانی سے کھل گیا ۔۔
اس کی نظر جیسے ہی دائیں جانب دیوار سے ٹیک لگائے ذونیشہ پر پڑی دل ایک دم دھڑک اٹھا۔۔
قدم قدم چلتا وہ اس کے پاس پنجوں کے بل بیٹھا۔۔
یک ٹک اسے دیکھتے وہ سب بھول گیا۔۔
بھاری لہنگا پھیلا ہوا تھا چہرے دیوار کے ساتھ لگا ایک سائیڈ پر ڈھلک چکا تھا مٹے مٹے آنسوؤں کے نشان اور غضب ڈھاتی صرف ایک ریڈ لپ اسٹک وہ سادگی میں تھی یا ہتھیاروں سے لیس پر بہروز کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔۔
ہاتھ بڑھاتے نرمی سے چہرے پر آتی لٹ پیچھے کی۔۔
جس پر ذونیشہ نے نیند میں ہی منہ بسورا۔۔
اس کی حرکت پر بے اختیار بہروز کے ہونٹ مسکرائے۔۔
تیکھی ناک میں پہنا لونگ اس کے حسن کو چار چاند لگا گیا۔۔
بہروز پیچھے بیڈ سے ٹیک لگاتے اب خود بھی نیچے بیٹھ گیا تھا۔۔
اگر وہ ہوش میں ہوتا اور خود کو یوں ایک لڑکی کے سامنے زمین پر بیٹھا دیکھتا تو یقینا وہ اس لڑکی کو پہلی فرصت میں ہی قتل کرتا۔۔
پر اس وقت ایک سکون تھا جو رگ و جان میں سرائیت کر گیا تھا وہ عادت تھی یا سکون تھی یا جنون وہ بے خبر تھا مدہوش تھا کھو کر اس کے حسن میں وہ سب بھول چکا تھا ،،وہ سب کچھ جو سوچ کر آیا تھا سب کہی پیچھے رہ گیا۔۔ فقط اس کا چہرہ اپنی وحشت بھری آنکھوں میں بسائے بیٹھا تھا۔۔
دُنیا کا ہر نظارہ نِگاہوں سے چِھین لے
کُچھ دیکھنا نہیں ہے تُجھے دیکھ کر مجھے
بند ہوتی آنکھوں سے اس پری پیکر کا چہرہ دیکھتے اس نے مسکراتے آنکھیں بند کرلی۔۔
★★★★
کسمساتے اس نے اپنی آنکھیں کھولی جو سیدھا دھندلے سے چہرے سے ٹکرائی۔۔
منظر صاف نظر آنے پر وہ سانس تک روک گئی۔۔
کچھ ہی فاصلے پر بالکل اس کے سامنے نیند میں گم بیڈ سے ٹیک لگائے سویا ہوا تھا۔۔
اس کی کائی جمی آنکھیں اس وقت بند تھی۔۔کشادہ پیشانی پر ہائی لائٹ کیے گئے بال بکھرے ہوئے تھے۔۔تیکھی مغرور کھڑی ناک اور ہلکی بھوری بیئرڈ جو اس کے چہرے پر کافی جچ رہی تھی بھوری گھنی مونچھوں تلے دبے آپس میں پیوست عنابی لب ۔۔اسے دیکھتے کسی ترکش ہیرو کا گمان ہوتا تھا۔۔
ذونیشہ لب سختی سے بھینچے اٹھی ۔۔
وہ جس حلیے میں سوئی تھی بالکل ویسے ہی تھی سکون بھرا سانس لیتی کمرے پر نظر دوڑائی جو ویسے ہی پڑا تھا پر گلاب کی پتیاں مرجا چکی تھی۔۔
اس کے اٹھنے پر کلائیوں میں پہنی چوڑی کھنکی ۔۔جس پر بہروز کے ماتھے پر سوتے ہوئے پھی بل پڑے۔۔
“بس یہ جاگے نہ پلیز اللہ جی۔۔”
دبے پاؤں کمرے کے دروازے تک آتی وہ پیچھے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
دروازے کے لاک پر کپکپاتا ہاتھ رکھتی اس نے لاک گھمایا ۔۔
چوڑیاں دغا دیتی ایک ساز سا روم میں بکھیر گئی۔۔
اٹکتی سانسوں سے اس نے پیچھے دیکھا۔۔
بہروز کی سبز نیند سے بوجھل سرخ آنکھیں اس پر ٹکی ہوئی تھی۔۔۔
نیچے سے اٹھتے اس نے سینے پر بازو باندھے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔۔
پلیز۔۔۔مجھے۔۔۔جانے۔۔۔دے۔۔!!
حواس باختہ ہوتی وہ دروازے سے چپک گئی۔۔
“چلو میں چھوڑ آتا ہوں تمہیں۔۔”
ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوتے اپنے بال سیٹ کرتے وہ اس کی طرف آیا جو دروازے کو پکڑے یوں کھڑی تھی جیسے اسے دروازہ اپنے اندر سما لے گا۔۔
ذونیشہ نے بھیگی بھوری آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔
“سائیڈ پر ہو جاؤ میں لاک کھولو۔۔”
دل کو ڈپٹتے وہ بھیگی نرم پلکیں دیکھتا بولا۔۔
ذونیشہ سائیڈ پر ہوئی تو بہروز نے دروازہ کھولا ۔۔
اور باہر چلا گیا ذونیشہ بھی اس کے پیچھے ہی آئی۔۔
“ادھر بیٹھو میں ابھی آتا ہوں۔۔”اسے صوفے کی طرف اشارے کرتے خود کچن میں چلا گیا۔۔
اس دوران وہ اسے دیکھنے سے گریز کر رہا تھا۔۔
بریڈ کی سلائس اور انڈہ ٹرے میں رکھتے ساتھ چائے کے ایک کپ رکھے وہ کچھ دیر بعد ہی کچن سے باہر آیا۔۔
ناشتہ اس کے سامنے رکھتے خود واپس کچن چلا گیا ۔۔
ذونیشہ جسے پہلے ہی بھوک لگی ہوئی تھی اب ناشتہ سامنے دیکھ کر بھوک بھی چمک اٹھی پر خود پر ضبط کے پہرے بٹھائے بیٹھی رہی،،،کیا معلوم وہ شخص خود کے لیے رکھ کر گیا ہوا۔۔
گرم گرم بھانپ اڑاتا کافی کا کپ پکڑے وہ اس کے سامنے رکھی چئیر پر بیٹھ گیا۔۔
کھاؤ کھانا کیا واپس گھر نہیں جانا کیا۔۔؟؟
ماتھے پر بل ڈالے وہ سختی سے گویا ہوا تو ذونیشہ بریڈ کی ایک سلائس کھاتی چائے کا آدھا کپ پیے رکھ چکی تھی۔۔
اور چور نظروں سے اسے دیکھا جو سکون سے کافی پئے اسی کو دیکھ کم گھور زیادہ رہا تھا۔۔
“اٹھو اب۔۔”!!
جتنی اس کی صحت تھی یہی امید تھی کہ اتنا ہی کھائے گی ۔۔گاڑی کی کیز اٹھاتے وہ اسے ساتھ لیے باہر گیا۔۔
ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے اس نے انگلیاں چٹخاتی ذونیشہ کو دیکھا جو ابھی بھی باہر ہی کھڑی تھی ۔۔
سلطان نے سٹئیرنگ وہیل پر سختی سے گرفت جماتے اس دیکھا اس کے بازو کی نسیں ابھر چکی تھی۔۔
ذونیشہ مرتی کیا نہ کرتی پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولے بیٹھ گئی۔۔
اے۔۔۔لڑکی میں تمہیں کس اینگل سے ڈرائیور نظر آتا ہو۔۔؟؟؟
کائی جمی سرخ آنکھیں اس پر رکھے وہ گردن موڑے حیرت سے مخاطب ہوا۔۔
“وہ۔۔میں آگے کیسے بیٹھو۔۔۔”!!
تب کے روکے آنسو گالوں پر بہہ نکلے۔۔۔
“کیا مطلب جیسے پیچھے بیٹھی ہوں بالکل ویسے ہی آگے بیٹھنا ہے اب جلدی کرو میں فارغ نہیں ہو جو یہ چونچلے برداشت کرو شکر کرو تم زندہ واپس جا رہی ہوں۔۔”
سر جھٹکتے اس نے نے دوبارہ گاڑی سٹارٹ کی۔۔
ذونیشہ بھی بیک سیٹ سے اٹھتی فرنٹ پر بیٹھ گئی ایک تو لہنگا اتنا بھاری تھا کہ مشکل سے اس کا کمزوز وجود وزن برداشت کیے ہوئے تھا۔۔
ترچھی نظر اس پر ڈالتے اس نے گاڑی کو سڑک پر بھگایا۔۔
دل تھامتی خوف سے ذونیشہ آنکھیں سختی سے مینچ گئی۔۔
دونوں اس بات سے انجان کہ ان کی زندگی پر کیا قیامت ٹوٹنے والی ہے۔۔
★★★★★