65.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 02

وہ جب سے آئی تھی چھپ چھپ کر روئے جا رہی تھی ایک نا محرم کا لمس اسے کانٹے کی طرح چبھ رہا تھا۔۔
غلطی اس کی تھی جس نے اس اپنی طرف کھینچ لیا تھا لیکن اسے کیا معلوم ایسا کچھ ہو گا۔۔۔
بیٹا ذونیشہ وہ تمہاری امی کی طبیعت سنبھل گئی ہے اس لیے میں اب حویلی کا چکر لگا آؤ۔۔۔اسلم نے دروازے پر کھڑا ہو کر کہا۔۔
جی ابو ٹھیک ہے ۔۔رونے سے آواز بھاری ہو چکی تھی۔۔ آنسو پونچھتی وہ اپنی ماں کے کمرے میں چلی گئی چھوٹی توسکول گئی تھی اس لیے وہ اکیلی ہی تھی گھر۔۔
اسلم حویلی پہنچا ہی تھا کہ اسے پیغام ملا چھوٹے مالک بھلا رہے تھے۔۔اسلم کچھ ڈرتا اس کے سامنے پیش ہوا جو بڑے کروفر سے کرسی پر پر بیٹھا تھا۔۔
اسلم کل نہیں آئے تم۔۔عینک کے پیچھے چھپی سبز آنکھوں کے تاثر کیا تھا وہ نہیں جانتا تھا لیکن اس کا اکھڑ لہجہ اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔۔
پرمالک میری بیٹی آئی تھی۔۔اسلم سر جھکائے کھڑا مؤدب سا بولا۔۔
خاموش۔۔۔۔جب میں بولو تو صرف سنا کرو۔۔۔ہاتھ اٹھاتے وہ درشتگی سے گویا ہوا ۔۔ کہ اس کا وجود کانپ اٹھا۔۔
تمہاری اس بیٹی نے دو گملوں کا نقصان کر دیا ہے تم جانتے ہوں وہ پھول کتنے مہنگے ہے۔۔۔ساری عمر بھی لگا دو تو قیمت نہیں دے سکو گے ان کی۔۔۔
اپنی عینک اتارتے اس نے سائیڈ پر رکھی اور کرسی سے اٹھتے اس کے روبرو کھڑے ہوتے افسوس سے کہا۔۔۔
“مالک۔۔”
اسلم نظریں اس کے بوٹوں پر ٹکائے آہستہ سے بولا لیکن سلطان کی آواز پر باقی لفظ حلق میں دب گئے۔۔
میری بات مکمل نہیں ہوئی۔۔۔تمہاری وہ بیٹی کیا نام ہے اسکا۔۔؟؟؟کچھ الجھتے اس نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا تو اسلم نے سر اٹھاتے سلطان کو دیکھا جو ہمیشہ کی طرح غصے سے کھڑا تھا۔۔
“ذونیشہ۔۔”
سہی…. تو ذونیشہ سے کہو کہ وہ ادھر کام کیا کرےکل سے ہی۔۔یہ سزا ہے اس کی۔۔
سلطان بے نیازی سے کہتا باہر بڑھنے لگا پر اسلم کی لڑکھڑاتی آواز نے قدم روک دیے۔۔
“مالک وہ اپنی ماں کا خیال رکھتی ہے گھر میں وہ نہیں آسکتی آپ مجھے سزا دے دیں۔۔”
اس کی آواز میں بے بسی نمایا تھی۔۔
میں جو کہتا ہو اسے ہونا ہی پڑتا ہے چاہے کچھ بھی ہو جائے ،،،ذونیشہ کل ادھر حویلی میں چاہیے مجھے ورنہ۔۔۔۔
سفاکیت سے کہتا وارننگ دیتے وہ شان سے چلتا حویلی سے چلا گیا۔۔
اسلم سر پکڑے باہر آیا۔۔۔
اسے ذونیشہ کو بھیجنا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔
★★★★★★
سنسنان سڑک پر کھڑی اس کی کار اور خود آرام سے جنگل میں شکار کر رہا تھا ۔۔
اس نے کسی جانور کا نشانہ باندھا ہی تھا کہ اپنے عقب سے آواز سنائی دی۔۔
“سلطان واہ تم ادھر۔۔۔۔”!!!
خوش شکل ماڈرن سی لڑکی خوشی سے مسکراتے اس کی طرف بڑھی سلطان دو قدم پیچھے ہٹتے ناگواری سے اسے دیکھا۔۔
حرا دور رہ کر بات کرو۔۔۔کوفت سے دیکھتے ماتھے پر بل ڈالے بولا۔۔
ساری گرمجوشی پل میں ختم ہوئی سلطان کا روکھا سا انداز اس کا موڈ آف کر گیا۔۔
سلطان ہم بچپن کے دوست اور کزنز بھی ہے پھر بھی تم ایسے ہی بات کرتے ہوں جیسے انجان سے کرتے ہوں۔۔
اسے کار کی جانب بڑھتے دیکھ پیچھے آتی وہ افسردگی سے گویا ہوئی۔۔
تو کس نے کہا ہے مجھے بلاؤ ،،، دور رہو مجھ سے۔۔۔غصہ ہنوز برقرار رکھے وہ کار کے پاس رکتے اسے دیکھا۔۔
تم جانتے بھی ہوں میں محبت کرتی ہوں تم سے۔۔
وہ اس کے لیے دیے انداز پر دانت پیستی بولی۔۔
حرا۔۔۔
سلطان نے ٹوکا۔۔
اپنے اندر کے اشتعال کو دباتے اس نے اپنی خالہ ذاد کزن کو گھورا۔۔جو اس پر کم اور پیسوں پر زیادہ مرتی تھی۔۔
“میں جا رہا ہو یہ فضولیات پھر کبھی سن لو گا۔۔۔”
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی سلطان گاڑی میں بیٹھتے زن سے بھگا لے گیا۔۔۔
★★★★★★
“وہ آئی نہیں ابھی۔۔۔”؟؟
اگلے دن صبح صبح ہی سلطان بغیر ناشتہ کیے خادمہ کے پاس آیا جو سارے گھر کا کام سنبھالتی تھی۔۔
“کون چھوٹے مالک۔۔”خادمہ پہلی بار اسے خود سے مخاطب ہوتا دیکھ حیران ہوئی۔۔
وہ اسلم کی بیٹی نے آنا تھا۔۔نارمل سا کہتے وہ پانی کی بوتل فریج سے نکالے منہ کو لگا گیا۔۔
نہیں چھوٹے مالک ابھی تک کوئی اسلم کی بیٹی نہیں آئی جب آئے تو آپ کو بتا دو گی۔۔۔
نہیں بس ٹھیک ہے۔۔بوتل وہی رکھتے وہ بے چینی سے باہر نکلا۔۔
ایک پل محض ایک پل میں وہ سلطان کا سکون و چین ساتھ لے گئی تھی رات کو سوتے وقت بھیگی بھوری آنکھیں چھن سے سامنے آ جاتی وہ جتنا بھی جھٹکتا اس کا خیال پر وہ سہی پنجے گاڑھ گئی تھی۔۔
اپنی کیفیت کو وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہی دل نہیں لگ رہا تھا شکار کرنے کا بھی موڈ نہیں بن رہا تھا سارا دن وہ اسی انتظار میں رہا کہ کب ذونیشہ آتی ہے پر اس کا انتظار رائیگاں ہی گیا۔۔
اسلم نے چھٹی لے لی تھی اس کے باپ سے ورنہ سلطان اسے بلوا کر پوچھ لیتا ۔۔
ایک ہی طریقہ ہے مس ذونیشہ تمھیں قید کرنے کا۔۔
تم نے سلطان کی نیند ،،سکون ،،،چین چرایا ہے اب اس کی سزا تمہیں ملے گی معصوم پری۔۔۔
راکنگ چئیر پر جھولتے وہ خطرناک ارادے لیے سر چئیر کی پشت پر ٹکا گیا۔۔۔
★★★★★
صبح جیسے ہی اسے اطلاع ملی کہ سلطان بہروز نے اسے کام کے لیے حویلی بلایا ہے اس کی طبیعت ہی بگھڑ گئی۔۔
بابا میں۔۔نہیں جا رہی۔۔بیڈ پر لیٹی وہ باپ کا ہاتھ تھامے منت کرتی بولی۔۔
“ٹھیک ہے بیٹا مت جاؤ میں بڑے مالک سے چھٹی لے چکا ہوں اپنی،،چھوٹے مالک غصہ کرے گے پر ان کے والد سنبھال لے گے۔۔مالک کی بات ٹالی ہے اس لیے ،،،تمہیں بتایا تھا ذونیشہ کہ سلطان غصے کا تیز ہے اس لیے ان کی ٹینشن ہے بس۔۔
اس نے سلطان سے بات کرنے کی بجائے اپنے بڑے مالک سے اجازت لے لی تھی۔۔جس پر اس نے آرام سے دے بھی دی تھی۔۔پر سلطان کے غصے کا خوف بھی کھا رہا تھا۔۔
“جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ میرا بہادر بیٹا۔۔”
اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے وہ چلے گئے ۔۔
دو آنسہ تکیے میں جذب ہوئے۔۔
رات طبیعت زرا سنبھلی تو اٹھ کر سب کے لیے کھانا بنا دیالیکن پتی ختم تھی چائے بھی بنانی تھی اس لیے خود ہی دوپٹہ اوڑھتی باہر کونے میں بنی دوکان میں چلی گئی۔۔
ڈبہ پکڑتے وہ جیسے ہی اپنے گھر کے قریب پہنچی اندھیرے میں کسی نےپیچھے سے ناک پر کپڑا رکھا۔۔
وہ تڑپی مچلی پر جلد ہی ہوش ہ حواس سے بیگانہ ہوتی اس کی باہوں میں جھول گئی۔۔
سلطان سے اغواہ جیسا کام بھی تم نے کروا لیا۔۔ چاند کی روشنی میں اس کے چہرے کو دیکھتے وہ مسکرایا پہلی بار اس نے کسی لڑکی کو چھوا تھا ،،، خاموشی سے اپنی کار میں لیٹاتا وہاں سے نکل گیا۔۔
اسے کوئی پرواہ نہ تھی اس کے گھر والے کیا کرے گے۔۔
اس کے محلے والے گمشدگی پر کیا خبریں پھیلائیں گے۔۔
وہ انجان تھا بعد میں ہونے والی صورت حال سے۔۔
وہ نہیں جانتا تھا غریبوں کے پاس انمول چیز عزت ہی ہوتی ہیں جسے وہ رات کے اندھیرے میں اٹھا کر ختم کر آیا تھا۔۔۔
★★★★★
اس کی آنکھ جیسے ہی کھلی خود کو ایک بند عالی شان کمرے میں پایا۔۔
سوکھے ہونٹوں پر زبان پھیرتی اپنےحواسوں میں لوٹتی وہ اٹھی ۔۔۔
آنکھیں وحشت و خوف سے بھرا گئی۔۔
دروازہ کی طرف بڑھتے اپنے بے جان وجود کو گھسیٹا۔۔
وہ کب سے بے ہوش تھی نہیں جانتی تھی ۔۔
اس نے اپنے نازک ہاتھوں سے دروازہ زور سے بجایا پر کوئی نہ بولا۔۔مسلسل دروازہ بجانے سے ہاتھ سرخ ہو چکے تھے۔۔۔
آنسو گالوں پر بہتے نیچے گر رہے تھے۔۔
کس نے اغواہ کیا اسے۔۔۔؟؟
یہ سوال دماغ میں گردش کر رہا تھا۔۔
چیخنے چلانے پر بھی جب کوئی جواب نہ ملا تو تھک ہار کر بیڈ کے پاس بیٹھتی پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔
ہچکیاں بلند ہوتی گئی اور آنسو بہتے گئے۔۔
چرر کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا ذونیشہ نے بے یقینی سے آنے والی ہستی کو دیکھا۔۔
بہروز مسکراتے ہاتھ میں وائن کاگلاس پکڑے اندر آیا۔۔
ذونیشہ بے ساختہ پیچھے کھسکی اسے خوف آیا اس بہروز سے جس کی سبز آنکھیں سرخ ہو چکی تھی۔۔۔
ہائے بے بی ڈول۔۔۔۔کیسا لگا پھر یہاں آ کر ،،، میں نے تمہیں پیار سے بلایا بھی تھا پر تم آئی ہی نہیں۔۔۔تم نے بہت تنگ کیا ہے سلطان کو۔۔۔
بہروز اسے نظروں میں رکھتےماتھے پر بل ڈالے مدھم سا ہنسا۔۔
شاید اس کی حالت۔۔۔
ذونیشہ کو بےساختہ اپنی قسمت پر رونا آیا۔۔
پل،ز،،مجھے،، جانےدے ،،،خدا کے لیے،،،، آخر کیا بگاڑا ہے آپ کا،،،میں نے۔۔۔
زمین پر بیٹھی نازک سی ذونیشہ نے اپنے ہاتھ جوڑے سامنےکھڑے بےحس شخص کے سامنے گڑگڑائی ۔۔
بہروز سکون سے وائن کا گلاس پکڑے تمسخرانہ اس کے وجود کو دیکھ رہا تھا۔۔
اس کی گڑگڑاہٹ پر اس کا دلکش قہقہ روم کی فضا میں گونجا۔۔
اپنے بھاری قدم اٹھاتا وہ پنجوں کے بل اس کےسامنے بیٹھا اور اپنی سرخ گہری سبز وحشت سے بھر پور آنکھیں اس کی بھوری نم آنکھوں میں گھاڑی۔۔
آہ۔۔معصوم پری۔۔آہ۔۔۔آخر تم اس دیو کی قید میں پھنس ہی گئی اور تمہاری غلطی صرف اتنی ہے کہ تم سلطان بہروز کی نظر کےسامنے آئی ،،، اب تم میری قید میں رہو گی جب تک میں چاہوگا ۔۔اس کا جبڑا اپنے ہاتھ سے جکڑے وہ جنونیت اور وحشت سے بولا۔۔
جبکہ نظریں اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھی بھوری نم آنکھیں،، چھوٹی سی سرخ ناک،، باریک گلابی کپکپاتے ہونٹ،، شفاف مکمل حسن اس کی دسترس میں تھے سلطان بہروز کے ہونٹ شان سے مسکرائے۔۔
آپ مجھ سے نکاح کر لے۔۔کوئی بھی فرار کی راہ نظر نہ آئی تو بے بسی سے روتی ذونیشہ بولی۔۔
اس بات پر سلطان بہروز کی آنکھوں کا رنگ بدلا جھٹکے سے جبڑا چھوڑتے وہ اٹھا ۔۔
میں بہروز ہوں،، سلطان بہروز دنیا کو اپنے جوتےکی نوک پررکھتا ہوں ایک عام سے مالی کی بیٹی سے نکاح کر لو ہونہہ۔۔۔اپنی طرف اشارہ کرتے وہ بے حس پتھر دل والا شخص اسے طنزیہ کہہ رہا تھا اس کے لہجے سے غرور جھلک رہا تھا۔۔۔
“کسی بھی قسم کی خوش فہمی مت پالنا لڑکی،،، تمہیں صرف اپنا دل بہلانے کے لیے لایا ہوں،،،ورنہ مجھے خاص دلچسپی نہیں ہے تم میں ،،، اس لیے رات کو تیار رہنا ،،، تم پہلی خوش نصیب لڑکی ہوں جسے سلطان بہروز اپنے بیڈ روم کی سیر کروائےگا۔۔۔”
پگلا سیسہ اس کے کانوں میں انڈیلتے وہ سیٹی کی دھن بجاتے جاچکا تھا لیکن جاتے جاتے اسے بھی پتھر کی مورت بنا گیا تھا۔۔
“کیا عزت روندنا اتنا آسان ہوتا ہے ان امیر زادو کے لیے ۔۔۔”
“کیا کسی لڑکی کو کچل دینا ان کے لیے شان کا کام ہے۔۔”
“کیا یہ رب سے نہیں ڈرتے۔۔”
“کیا ان کی مائیں بہنیں نہیں ہے۔۔”
“کیا انہیں مکافاتِ عمل سے خوف نہیں آتا۔۔”
“کیا یہ کھلے جرم کر کہ بھی سر اٹھا کر چلتے ہے۔۔”
“کیا ہمیشہ لڑکی اپنی عزت کھونے کے ڈر سے چپ رہے گی۔۔”
“کیا کوئی انصاف والا نہیں ہے۔۔”
“کیا ہر انصاف کا کٹہرہ ان کے پیسوں کے آگے ہار ہوتا ہے ۔۔۔”
ہزاروں باتیں اس کے دماغ میں گردش کر رہی تھی لیکن اس کے پاس کسی ایک کا بھی جواب نہیں تھا ۔۔۔
وہ جان چکی تھی آج اس کی زندگی کی بھیانک ترین رات ہو گی۔۔کیونکہ وہ جانتی تھی یہ یہ شخص جو کہتا ہے اسے کرنا اپنے لیے فرض سمجھ لیتا۔۔۔
ایک” آہ ” تھی جو اس کے لبوں سے نکلی۔۔۔ پھوٹ پھوٹ کر روتی وہ اپنی موت کی خواہا تھی۔۔
★★★★★★