65.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 06

“ذونیشہ۔۔۔”
سلطان کے ہونٹ صرف ہلے وہ اسے آواز بھی نہ دے سکا ،، بلکہ وہ اپنی جگہ ساکت ہی رہ گیا۔۔
جبکہ مبین بیگم کسی دلہن کے جوڑے میں مبلوس لڑکی کو گرتے دیکھ جلدی سے اس تک پہنچی۔۔۔
سلطان یہ بچی کون ہے ؟؟ اور اس کی حالت بگڑ جائے گی ہوسپیٹل لے کر چلو۔۔
اس کی کلائی تھامے وہ پاس بیٹھی پریشانی سے بولی ۔۔
ان کی آواز پر ہوش میں آتے سلطان آگے بڑھتے اس کے پے جان وجود کو باہوں میں بھرتے باہر کو بھاگا۔۔
فلحال وہ اس حالت میں نہیں تھا کہ بتا سکتا یہ لڑکی کون ہے۔۔
★★★
نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے۔۔۔۔۔ کنڈیشن کافی کریٹیکل ہے ان کو سانس نہیں آ رہی اگر اگلے چوبیس گھنٹے تک ہوش نہ آیا تو وہ کومہ میں بھی جا سکتی ہے اور کیا پتا وہ نہ بچیں۔۔
ڈاکٹرز کے الفاظ جیسے ہی نکلے سلطان غصے سے بے قابو ہوتا اس کی طرف بڑھا۔۔
ڈاکٹر کو کا گلہ دباتا اسے مکمل دیوارسے لگایا۔۔
جبکہ ڈاکٹرز کی تو آنکھیں ہی ابل پڑی ایک باڈی بلڈر کی گرفت میں وہ پھڑ پھڑا کر رہ گیا۔۔
“پہلے تو تم اوپر جاؤ باقی کا معاملہ بعد کا۔۔” ڈاکٹر کا سرخ چہرہ دیکھ اس نے گرفت اور سخت کی ۔۔
“سلطان یہ کیا بدتیمزی ہے ہٹو پیچھے۔۔!!
اس کا باپ اور ماں ابھی ہی پہنچے تھے اس کے پیچھے پر یہاں سلطان کو ڈاکٹر کی جان لیتےدیکھ اور باقی سٹاف کو خوف سے کانپتے دیکھ کر آگے بڑھے ۔۔۔
“ڈیڈ یہ کہہ رہا ہے ذونیشہ نہیں بچیں گی۔۔۔اس کی ہمت بھی کیسے ہوئی؟؟
بامشکل اس کے باپ نے پیچھے کیا تو ڈاکٹر کھانستہ اپنی گردن پکڑے ہانپتا کانپتا وہاں سے بھاگا۔۔
کیا ایسا کرنے سے وہ بچ جائے گی۔۔؟؟اس کا ڈیڈ پہلی بار غصے سے دھاڑا کہ پورے ہسپتال میں آواز گونج اٹھی ۔۔
“ڈیڈ صرف نروس بریک ڈاؤن ہی تو ہوا ہے ۔۔!!!
سلطان ماتھے پر بل ڈالے اردگرد کھڑے ہجوم کو سرخ سرد سبز آنکھوں سے گھورا۔۔
اس کی آنکھوں کے سرد پن کو محسوس کرتے سب وہاں سے کھسکے۔۔
جبکہ اس کا باپ پھولے سانس کے ساتھ اس کو دیکھ رہا تھا اور مبین بیگم لب بھینچے خاموش تماشائی بنی تھی ۔۔
سلطان نے نکاح کیا ہے اس لڑکی سے یہ خبر افراز صاحب کے منہ سے سن کر ہی وہ چپ سادھ گئی تھی۔۔
کیا تم پاگل ہو سلطان ؟؟؟ تمہارےلیے یہ صرف ہے ؟؟وہ بچی جو اندر موت سے لڑ رہی ہے اس کی جانے کیا حالت ہے اور تم کہہ رہے ہو صرف ۔۔۔واہ سلطان بہروز واہ ۔۔۔
اس کا طنزیا کہتے اس کا لال بھبھوکا چہرہ دیکھا۔۔
“ڈیڈ کوئی بڑی بات نہیں ہے بہت سے لوگوں کو ہوتا ہے وہ بھی ٹھیک ہو جائے گی ابھی۔۔”نظریں چراتے اس کے دل نے بھی جیسے خود کو دلاسہ دیا۔۔
“میں کال کر رہا ہوں اسلم کو کہ اس کی بیٹی ادھر موجود ہے۔۔۔”!!
بغیر سلطان کی وارن کرتی نگاہیں پر غور کیے وہ سائیڈ پر چلے گئے۔۔
نچلا لب دبائے اس نے سرخ کائی جمی آنکھوں سے اپنے باپ کی پشت دیکھی۔۔
ماتھے پر بکھرے اس کے بال ہلکے نم تھے۔۔جنہیں پیچھے کرتے وہ مبین بیگم کے پاس بیٹھا سر جھکائے۔۔
“مام میں نے نکاح کیا ہے۔۔”سلطان نے بات پر زور دیتے کہا تو مبین بیگم نے سخت نظروں سے اسے دیکھا۔۔
“گھر سے اغواہ کر کہ تم نے اس بچی کے ساتھ زورزبردستی کی ہے ۔۔اور تم کہتے ہو نکاح کیا ہے؟؟
مبین بیگم کا لہجہ انتہا کا کڑوا تھا کہ سلطان جو پہلے ہی طیش و اشتعال کو دبائے بیٹھا تھا اس میں ابال اٹھا۔۔
کیا ہو گیا ہے آخر ؟؟؟؟؟
میں کہہ رہا ہو بیوی ہے وہ میری تو کیوں بڑھا رہی ہے بات۔۔۔
ہسپتال کے بینچ پر بیٹھا سلطان اس وقت سخت اضطراب کا شکار ہوتے لب بھینچے سختی سے گویا ہوا۔۔
ہمارے خاندان کی شان شوکت اور وقار کو تم نے مٹی میں ملا دیا ایک مالی کی بیٹی سے شادی کر لی کچھ ہوش تھا تمہیں۔۔
اردگرد کی پرواہ کیے بغیر وہ سلطان پر برس پڑی۔۔
“یہ خاندان یہ شان و شوکت کسی کام کی نہیں اگر سلطان کو پسند آجائے کچھ۔۔۔۔”
وہ مغرور تھا ہمیشہ سے ،،،ڈھیٹ تھا،،، اکھڑ تھا ،،،پر اسے خود سے زیادہ کسی سے محبت نہ تھی۔۔
پھر اس لڑکی کی طبیعت جیسے ہی سیٹل ہوتی ہے تم اسے چھوڑ دو گے طلاق دے دو گے۔۔۔
مبین بیگم کی بات پرسلطان نے تیوڑی چڑھاتے روم کے بند دروازے کو دیکھا جس میں ذونیشہ تھی۔۔
ہمم۔۔۔سوچتے ہے کچھ۔۔!!!
وہ خاموش سا اور کچھ نہ بولا۔۔
“سوچنا نہیں کرنا ہے ابھی میں وکیل سے رابطہ کرتی ہوں۔۔”!!
ساڑھی کا پلو سنبھالے وہ اٹھی۔۔
“آپ وکیل سے رابطہ کرے ،،،پر اس وکیل سے پھر کوئی اور رابطہ نہیں کر سکے گا۔۔۔!!
اس نے دھمکی دی تھی یا نہیں پر کائی جمی آنکھوں میں وحشت برپا تھا۔۔
“تم اپنی مام کے خلاف جاؤ گے سلطان ۔۔؟؟مبین بیگم نے صدمے اور افسوس سے کہا۔۔
“جہاں آپ سہی ہوئی آپ کا حکم سر آنکھوں پر “۔۔اور جہاں سلطان کی مرضی نہ ہوئی وہاں کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔۔
شرٹ درست کرتے وہ بھی اٹھ چکا تھا۔۔
“ٹھیک ہے رہو تم ادھر اس لڑکی کے پاس اور دینا جواب اس کے باپ کو کہ سلطان بہروز نے ایک مالی کی بیٹی کو بیوی کیوں بنایا۔۔۔”غصے سے بولتی وہ وہاں سے چلے گئی۔۔
افراز صاحب جو ان کی طرف آ رہے تھے اتنے غصے سے مبین بیگم کو جاتا دیکھ کر اس نے سلطان کو دیکھتے اشارہ کیا جس پر اس نے کندھے چکا دیے۔۔”مجھے معلوم نہیں کدھر جا رہی ہے” افراز صاحب انہیں اکیلا جاتا دیکھ خود بھی پیچھے چلے گئے۔۔
جبکہ سلطان دیوار سے ٹیک لگاتا آنکھیں موندھ گیا۔۔
“مجھے محبت ہے تم سے ذونیشہ” اتنی کہ اگر میں چاہوں بھی تو بیان نہیں کرسکتا ،،، میں نہیں جانتا کب مجھے تم سے اتنا عشق ہو گیا کہ میں اپنے بس میں نہیں رہا اک
تمہارا خیال ہر وقت رہتا ہے۔۔۔
تمہاری بھوری کانچ سی آنکھیں رات دیر تک بے چین کر دیتی ہے۔۔
“تمہارے شربتی ہونٹ میرا سکون غارت کر دیتے ہے۔۔
“تمہاری نوز پن میں میرا دل اٹک سا جاتا ہے۔۔
“جب بھی تمھیں چھوتا ہو ایک الگ احساس سے روشناس ہوتا ہو۔۔
اس میں کوئی شک نہیں تم پہلی لڑکی ہو جسے سلطان نے چھوا ہے اور جس نے سلطان کو پاگل کیا ہے۔۔'”
سلطان کہی دور سبزہ زار میں کھڑا خوبصورت گلابی پوشاک میں مبلوس اس لڑکی کا ہاتھ تھامے محبت سے بول رہا تھا ۔۔
اس کی پر حدت گرفت میں وہ سرخ ہوتی مسکرا دی۔۔
اور جھجھکتی آگے بڑھتے تھوڑی سی ایڑھیاں اونچی کی۔۔
سلطان بہروز نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھتے اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔۔
دلکشی سے مسکراتی وہ اس کے کشادہ پیشانی پر بکھرے بال اپنے مومی ہاتھوں سے سمیٹنے لگی ۔۔
پھر الفت و چاہت سے جھکتی وہاں اپنے لب رکھ گئی۔۔
مدہوشی میں اس کا لمس محسوس کرتے دلکش مسکراہت نے چہرے کا احاطہ کیا۔۔
سر۔۔۔سر۔۔۔۔۔۔۔”!!!!!
وہ جو حسین خواب کی سیر کو نکلا تھا ۔۔
قریب سے آتی آواز پر آنکھیں کھولی۔۔
“میم کو ہوش آ گیا ہے پر وہ بہت شور کر رہی ہے۔۔
نرس نے حلق تر کرتے کہا ۔۔کیا معلوم اسے بھی مار دے کہ کیوں جگایا اسے۔۔۔ پر پیشنٹ زیادہ شور کر رہی تھی۔۔
اس کی بات سنے جلدی سے اس کے کمرے کی طرف بڑھا لیکن اندر جاتے وہ ہک دھک رہ گیا۔۔
ہسپتال کے لباس میں مبلوس وہ نازک حسینہ نرسوں پر جھپٹ رہی تھی ہذیاتی کیفیت میں چیخ رہی تھی۔۔
کب آیا انہیں ہوش۔۔؟؟پریشانی سے اس کی طرف بڑھتے اس نے پوچھا۔۔
سر پندرہ گھنٹے بعد آیا ہے۔۔سلطان نے حیرت سے اسے دیکھا
“تو کیا وہ پندرہ گھنٹے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا رہا۔۔ہاں شاید اسے اپنے خواب پسند آئے تھے۔۔
“اچھا ان سب کو لے جاؤ اور اب اس کمرے کا رخ بھی مت کرنا۔۔!!
سلطان اس کی بات پر یقین کیے بغیر اکھڑ لہجے میں بولتے دو نرسوں کی طرف بڑھتے ان کے ہاتھ سے ذونیشہ کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے نرمی سے۔۔
سب سر ہلاتی باہر کو دوڑی ۔۔
دروازہ جیسے ہی بند ہوا اس نے سنجیدہ نظر ذونیشہ پر ڈالی جو بکھرے بال اور بکھرے حلیے میں تھی اورابھی بھی اپنی دونوں کلائیاں آزاد کرنے کی تک و دو میں تھی۔۔
“چھوڑے مجھے آپ۔۔۔یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے آپ قاتل ہے میری ماں کے۔۔۔!!!
وہ چلاتی اس کے ہاتھ پر اپنے دانت گاڑھ گئی پر سلطان بغیر اثر لیے کھڑا رہا۔۔
سلطان نے اس کی کلائیوں کو چھوڑتے جھٹکے سے اس کی کمر کو گرد گرفت قائم کرتے کھڑا کیا۔۔
کلائیوں کی رہائی پر وہ پاگل ہوتی اس کے کندھوں پر اپنے نازک ہاتھوں سے مکے مارنے لگی پر اس کے مضبوط کسرتی پر خاطر خواہ اثر نہ ہوا۔۔
بلکہ سلطان نے اسے اپنے ساتھ لگاتے حصار تنگ کیا۔۔
وہ دوبارہ جھپٹتی مزاحمت کرتی اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے پیچھے دھکیل رہی تھی ۔۔
جبکہ سلطان سکون کے ساتھ اس کی گردن میں منہ دیے کھڑا تھا ۔۔
اس کی مزاحمت اس کی چیخیں نظر انداز کرتے اسے اپنے گلے سے لگائے رکھا۔۔
آخر تھک ہار کر اس کی ہچکیاں بندھ گئی جو روم کی فضا میں گونج رہی تھی۔۔
“کالم ڈاؤن میرا بچہ ۔۔۔”!!اس کے بال نرمی سے سہلاتے دوسرے سے کمر سہلاتے وہ اسے قابو میں کر رہا تھا۔۔
وہ اذیت میں ہیں اسے کیسے ہینڈل کرنا ہے وہ جانتا تھا۔۔
ذونیشہ روتی اس کی گردن کے گرد دونوں بازوں حائل کئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔
سلطان اس کا سر اپنے سینے سے لگاتے اس کے بال سہلاتا رہا ۔۔
“میری امی جان اب نہیں رہی سلطان ۔۔!!!
بولتے ہوئے اس کے ہونٹ سلطان کی گردن سے مس ہوئے جس سے سلطان نے اس کے گرد بندھے ہاتھوں کا حصار اور قریب کیا۔۔
اپنے نام اس کے لبوں سے سنتے وہ خاموش رہا پر مسلسل اسے روتا دیکھ اس کی طبیعت دوبارہ بگڑنے کے خیال سے اس کا چہرہ اپنے سینے سے نکالا۔۔
“ایک نہ ایک دن سب نے جانا ہے ہمارے رونے سے کوئی شخص واپس نہیں آتا۔۔”انگلیوں کے پوروں پر اس کے آنسو چنتے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا۔۔
“نہیں سلطان نہیں وہ تمہاری وجہ سے گئی ہے تم ذمہ دار ہو میری ماں کی موت کے”” اگر تم مجھے اغواہ نہ کرتے تو وہ زندہ ہوتی میرا غم انہیں کھا گیا بہروز سلطان،،،مجھے بھی نہیں جینا مار دو مجھے بھی ۔۔۔!!!
پوری شدت سے اس کا کالر دبوچے وہ دھاڑی۔۔
“بکواس بند کرو اپنی۔۔۔کوئی کسی کے لیے نہیں مرتا وقت مقرر ہوتا ہے تمہارے یا میرے چاہنے سے کوئی واپس نہیں آسکتا اور نہ ہی کوئی ہمارے چاہنے سے مر سکتا ہے سمجھ آئی۔۔۔
اس کی گردن پیچھے سے پکڑے اس کا چہرہ قریب کرتے لفظوں کو چبا چبا کر بولا۔۔
“مجھے میرے گھر جانا ہے ۔۔۔وحشت بھری سبز آنکھیں دیکھتی وہ نم آواز میں بولی۔۔
“تمہارا گھر اب وہی ہے جو سلطان کا ہے ۔۔”!!
اسے چھوڑتے اس نے اپنے موبائل کو کان سے لگایا۔۔
“سسر صاحب کو ادھر بیٹھا کر رکھے اور کہیں ان کا داماد آ رہا ہے اپنی بیوی کو لے کر۔۔مسکراتی آنکھوں سے اس نے گردن ٹیڑھی کرتے بیڈ پر پاؤں نیچے لٹکائے روتی ہوئی ذونیشہ کو دیکھتے کہا۔۔
سوچ کے بالکل مطابق وہ چونکی اور نم بھیگی پلکیں اٹھاتیں اسے دیکھا جو موبائل پر اب کچھ ٹائپ کر رہا تھا۔۔
“آپ بہت برے ہے۔۔۔” ذونیشہ نے تلخی سے گھورا۔۔
بالکل میں ایک برا شخص ہوں جو تمہارے پلے
بندھ چکا ہو۔۔ “”ابرو اچکائے اس نے تسلیم کیا۔۔
“میں آپ کے ساتھ کبھی بھی نہیں رہو گی۔۔ گھومتا سر اور درد برداشت کرتی وہ غیر مرکزی نقظے کو گھورتے وہ اٹل لہجے میں گویا ہوئی۔۔
“دیکھتے ہے کیا ہوتا ہے۔۔!!طنزیا مسکراہٹ کے ساتھ وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔
تقریبا دس منٹ بعد وہ ہاتھ میں شوپنگ بیگ پکڑے بندر آیا اسے اسی پوزیشن میں بیٹھے دیکھ کر افسوس سے سر ہلاتے بیگ کو بیڈ پر پٹخ کر پھینکا۔۔
ایک پل کو ذونیشہ گھبرا ہی گئی پر دوبارہ اسے اپنی سرخ آنکھوں سے دیکھتی رخ پھیر گئی۔۔
متورنم چہرہ سوجے پیوٹے اور سرخ نم آنکھیں اس کے شدید رونے کی گواہی دے رہے تھے ۔۔
“یہ ڈریس چینج کر لو۔۔”ٹھنڈے ٹھار سرد لہجے میں اس نے کہا۔۔
ذونیشہ نے اپنے پاس پڑا بیگ دیکھا جس میں سے ڈارک براؤن کلر کا کپڑا نظر آ رہا تھا ۔۔
سو سو کرتی ہاتھ بڑھاتے اس نے اندر سے ڈریس کو نکالا۔۔
ملائم سا ڈارک براؤن کلر کا لانگ فراک جس کے گلے پر سفید موتی سے خوبصورت کام کیا گیا تھا اور فراک بیلٹ بھی وائٹ تراشے سفید موتی یہ حیران کن تھا وہ کتنا خوبصورت تھا۔۔
“جلدی کرو اب جانا بھی ہے۔۔”
اس کو فراک پکڑے بیٹھے دیکھ اس نے واچ پر ٹائم دیکھتے کہا۔۔
اپنے چکراتے سر کو سنبھالتی وہ نفرت سے اٹھی لیکن چند قدم ہی بڑھائے کہ لڑکھڑا گئی۔۔
“دھیان سے۔۔۔”
اس تک پہنچتے سلطان نے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا۔۔
پر وہ اس کا ہاتھ جھٹکتی باہر چلے گئی۔۔
اس کی اس حرکت پر سلطان نے گہری سانس چھوڑی۔۔
فراک کے ساتھ آئے دوپٹے کو حجاب کی طرح لپیٹتے
وہ سر جھکائے اندر آئی۔۔
زرد رنگت اور کمزور سا اس کا وجود جیسے بامشکل ہی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو ۔۔
“چلو۔۔”!!
اپنے ساتھ لیتے اسے گاڑی میں بیٹھایا۔۔۔
گاڑی سیدھے الٹے راستوں سے ہوتی حویلی کے اندر داخل ہوئی۔۔
اس دوران وہ سر جھکائے اپنے ہاتھوں کو دیکھے جا رہی تھی۔۔
ملازم نے بھاگتے ہوئے سلطان کی طرف کا دروازہ کھولا۔۔
سلطان سنجیدگی سے دوسری طرف آتے اس کا بازو پورے حق سے پکڑتے اندر لے کر گیا۔۔
حویلی میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر سامنے اپنے باپ پر پڑی جو سنگل صوفہ پر بیٹھا تھا۔۔
کندھے جھکے ہوئے تھے اور آنکھیں بھی زمین پر مرکوز تھی۔۔
“بابا۔۔”!!! بے اختیار وہ اپنا بازو چھڑواتی روتی ہوئی ان کی طرف دوڑی۔۔
ذونیشہ کی آواز پر اس نے سر اٹھاتے اپنی بیٹی کو شہزادیوں والے لباس میں اپنی طرف آتا دیکھا تو اٹھ کھڑا ہوا۔۔
ان کے پاس آتی سینے پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔
سلطان نے سختی سے مٹھیاں بھینچی جبکہ چہرے کے نقوش تنے ہوئے تھے۔۔
مبین بیگم اور افراز صاحب بھی پاس ہی کھڑے تھے۔۔
بابا مجھے ۔۔۔ساتھ لے جائے میں یہاں۔۔۔۔نہیں رہنا۔۔ہچکیوں میں روتی وہ منت آمیز لہجے میں گویا ہوئی۔۔
“بھول جاؤ ہمیں کہ تمہارا کوئی باپ تھا۔۔
بھول جاؤ کہ تمہارا کوئی گھر بھی تھا پیچھا آج سے تم یہی رہوں گی ہمیشہ۔۔”!!!
اس کا باپ بازو سے پکڑے پیچھے کرتا سرد پن سے بولا۔۔
ذونیشہ تو کیا سلطان بھی حیران ہوا۔۔
پر دل میں کہیں کمینی خوشی بھی تھی۔۔
“بابا یہ۔۔۔آپ ۔۔کیا کہہ رہے ہیں۔۔؟؟میں بیٹی ہوں آپ کی ۔۔”اس نے مجھے اغواہ کیا اور زبردستی نکاح بھی کیا۔۔”
آنکھوں کی پتلیاں پھیلائے اس نے بے بسی سے کہا۔۔
“وہ اب تمہارا شوہر ہے ۔۔۔خوش رہو ہمیشہ۔۔”!!
سر پر ہاتھ رکھتے وہ حویلی سے چلا گیا۔۔
ذونیشہ نے بے یقین نظروں سے باپ کی پشت کو دیکھا وہی باپ جو جان چھڑکتا تھا آج منہ موڑے چلا گیا۔۔
اس نے دھندلی نگاہوں سے سلطان کا چہرہ نفرت سے دیکھا۔۔
اسے کسی سے اتنی نفرت محسوس نہ ہوئی تھی جتنی آج سامنے کھڑے اس شخص سے ہو رہی تھی۔۔
اپنے آنسو صاف کرتی ایک نظر سب پر ڈالتے خاموشی سے سیڑھیاں چڑھتی اوپر چلے گئی۔۔
سلطان نے اسے نہیں روکا وہ چاہتا تھا کچھ ریلیکس ہو جائے ویسے بھی معاملہ سنگین ہو رہا تھا۔۔
“اس لڑکی کو تم جلد چھوڑ رہے ہوں یہ ہمارا آخری فیصلہ ہے۔۔”
مبین بیگم نے اپنے بیٹے کو مسلسل اوپر تکتے دیکھ کر کہا ۔۔
تو سلطان نے الجھی نظروں سے دیکھا۔۔
“سلطان اب دنیا چھوڑ سکتا ہے پر ذونیشہ سلطان کو نہیں۔۔۔”!!جنونی لہجے میں باور کرواتے وہ بھی سیڑھیاں پھلانگتا چلا گیا۔۔
“کیا ایک مالی کی بیٹی ہمارے خاندان کی بہو بنے گی۔۔؟؟
انہوں نے افرازز صاحب کو افسوس سے کہا پر وہ گہری سوچ میں ڈوبے بات نظر انداز کر گئے۔۔
ایک بات تھی جو ان کے دماغ میں گھوم رہی تھی ۔۔
“اسلم آخر اتنی آسانی سے خاموش کیسے ہو گیا”۔۔۔؟؟؟
★★★★★★