65.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

“خالہ جان میں بتا رہی ہوں سلطان بہروز صرف میرا ہے ورنہ میں خود کو مار ڈالوں گی۔۔۔

حرا شدید غصے کی کیفیت میں ہذیاتی ہوتی مبین بیگم کے روم میں بیٹھی چیخ رہی تھی۔۔

“بالکل بیٹا وہ صرف تمہارا ہے۔۔۔”مبین بیگم نے پرسرار مسکراتے اسے اپنے ساتھ لگایا۔۔

جلتے دل پر پڑتی ٹھنڈک پر وہ بہت کچھ سوچنے لگی۔۔۔

“خالہ بس اب اس ذونیشہ کو حویلی سے نکالنا ہے۔۔”

اپنے بال انگلی میں لپٹتی آنکھوں میں چنگاریاں لیے وہ نفرت سے بولی۔۔

“ضرور اسے تو نکلنا ہی پڑے گا آخر یہ اس کی جگہ تھوڑی ہے۔۔”

مبین بیگم بھی اس کا ساتھ دیتی شاطرانہ مسکرائی۔۔

★★★★★

“او جاناں ۔۔۔ میری جان نظریں مجھ سے ملانا ۔۔۔”

ساحر خاصی اونچی آواز میں گنگناتے سکول کے باہر گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔

چھٹی ہو چکی تھی اب اسے سلطان بہروز کی سالی صاحبہ کا انتظار تھا۔۔

ایڈمیشن فی اس کی وہ دے آیا تھا ۔۔پر اب ایک بار وہ اس سے معلومات لینا چاہتا تھا ساری پیپرز کی۔۔

اس کی تصویر بھی سکول رکارڈ والی ہی دیکھی تھی اس لیے آنکھیں چھوٹی کیے وہ لڑکیوں کے ہجوم سے اسے تلاش کر رہا تھا۔۔

ساتھ ساتھ گانا بھی گا رہا تھا۔۔

اسے زیادہ وقت نہ لگا اسے ڈھونڈنے میں سامنے ہی وہی لڑکی پر ذرا چینج سی بلیک چادر لیے تقریباً سولہ سال کی وہ نازک سی لڑکی نظریں جھکائے کندھے پر بیگ ڈالے اپنی دوست کے ساتھ چلتی اس کی طرف ہی آ رہی تھی۔۔

“لڑکی بات سنو۔۔۔”!!

ساحر اسے اپنے پاس سے گزرتے دیکھ جلدی سے بولا۔۔

ماتھے پر بل ڈالے وہ اس کی طرف مڑی۔۔

جبکہ اس کی دوست گبھراتی ساحر کو دیکھ رہی تھی۔۔

“کیا ہے بے۔۔۔????

اپنی بڑی بڑی شہد رنگ آنکھوں سے اس نے ساحر کو گھورا۔۔

“مجھے سلطان نے بھیجا۔۔”

چھٹانک بھر لڑکی کے غصیلے تیور دیکھ اسنے گڑبڑاتے کہا۔۔

میری اپیا کے سائیں سلطان ۔۔؟؟؟

خوشی سے اس کی آنکھیں چمکتی ۔۔۔۔

ہاں وہی بہروز سلطان۔۔۔

اس لڑکی کو نارمل ہوتے وہ سر ہلا گیا۔۔

بنو چلو۔۔۔”

اس کی دوست نے کہنی مارتے دھیمے سے کہا۔۔۔

“تم جاؤ میں اپیا کا پوچھ لو پلیز پلیز۔۔۔”

اس نے اپنا بیگ کندھے پر سہی کرتے چادر ذرا ٹھیک کرتے کہا۔۔جس پر اس کی دوست ساحر کو گھورتی چلے گئی۔۔

“انکل جلدی بتائے مجھے میری اپیا کا،،،،میں لیٹ ہو رہی ہوں گھر جانا ہے۔۔۔۔”

بنو نے اسے بیزاریت سے ادھر ادھر دیکھتے کہا پر اس کی بات پر ساحر کا دل کیا اس کا سر پھوڑ دے۔۔

اس نے ایک نظر خود پر ڈالی۔۔کیمل شرٹ بلیو جینز وائٹ جاگرز اچھی بھلی اس کی لک تھی وہ کچھ بھی لگ سکتا تھا پر انکل نہیں۔۔۔ساحر نے دانت پیستے اسے دیکھا جو بڑے اشتیاق سے اپنی اپیا کا پوچھ رہی تھی۔۔

“لڑکی تیری اپیا کا مجھے نہیں پتا مجھے سلطان نے بھیجا ہے ۔۔۔تم جلدی سے بتاؤ تمہارے پیپر کب ہے زیادہ دماغ کو پکاؤ مت میرے۔۔۔”

غصے سے سرخ ہوتے وہ جل کر بولا۔۔

“انکل غصہ کیوں کر رہے آپ ۔۔۔اگر سلطان جیجو نے بھیجا ہے تو میری اپیا کا بھی پتا ہی ہو گا۔۔میرے پیپر نیکسٹ منتھ ہے۔۔”

منہ بسورتی اس نے کہا۔۔

“اچھا ٹھیک ہے کاکی۔۔۔۔۔”

دانت پیستے بغیر اور بات کا جواب دیے دھواں دھواں چہرہ لیا وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا اور جہاز کی سپیڈ سے وہاں سے بھگائی۔۔

وہ وہی ہونک بنی کھڑی اس کی دھول اڑاتی گاڑی دیکھی ۔۔۔

“عجیب انکل تھے ،،،ہونہہ ،،،،،مجھے کیا میں اپیا سے جلد ملو گی۔۔۔”

کندھے اچکاتی وہ دوبارہ اپنی راہ چل دی۔۔

★★★★

“میں اسے انکل دیکھ رہا تھا ۔۔۔یعنی میں ساحر خان ڈیڑھ فٹ لڑکی کو انکل لگا۔۔۔”!!

ساحر کا تو غم ختم ہی نہیں ہو رہا تھا۔۔

سلطان کے پاس بیٹھا پچھلے ایک گھنٹے سے تقریباً سو بار یہ بات دوہرا چکا تھا۔۔

“بس کر ساحر بس کر۔۔۔وہ بچی ہے تجھے انکل ہی کہنا ہے اس نے۔۔۔”سلطان نے سر جھٹکتے اسے گھورا۔۔

کیا کہا بچی ہے۔۔؟؟؟ وہ بنو شنو ٹینتھ کی سٹوڈینٹ ہے وہ بھی اگلے ماہ پیپر ہو رہے اسکے یعنی فرسٹ ائیر کی لڑکی ہے ابھی بچی کہہ رہے ۔۔۔اور پانچ ماہ بعد سترا سال کی ہو جانا ،،،

ساحر نے جلتے ہوئے کہا۔۔

“ساحر یہ غم کب ختم ہو گا۔۔؟؟

تنگ آتے اس نے پوچھا۔۔

“یار سلطان کیا میں واقعی انکل لگتا ہوں۔۔۔؟؟

ساحر نے خود کو دیکھتے سوالیہ پوچھا ۔۔

“نہیں میرے بھائی تو ہیرو ہے ہیرو ٹینشن نہ لے۔۔!!

گہری سبز آنکھوں میں سنجیدگی لیے اس نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔۔

بس تیرے بھائی کے پیچھے لڑکیاں پاگل ہے ۔۔ کالر سیدھی کرتے اس نے فخر سے کہا جس کی تاکید میں سلطان نے سر ہلایا۔۔

تم آج واپس کب جا رہے ہوں۔۔۔؟؟ساحر نے اسے خاموش خاموش بیٹھا دیکھ پوچھا۔۔

دل نہیں کر رہا جانے کو حویلی۔۔مام کا سامنا نہیں کرنا چاہتا،،، حرا بھی آچکی ہے اب ،،،بس جانے کا من نہیں۔۔

گہرا کش سگریٹ کا بھرتے اس نے دھواں فضا میں چھوڑا۔۔

سفید کلف لگے سوٹ میں مردانہ شال لیے وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہا تھا۔۔

حرا آئی ہوئی ہے اور بھابھی بھی اکیلی ہے ادھر ،،،تمہیں جانا چاہیے ۔۔ اپنے بال سہی کرتا وہ اس کے قریب بیٹھ گیا۔۔

دونوں اس وقت فارم ہاؤس میں بیٹھے تھے۔۔

تمہاری بھابھی کافی تیز ہے دروازہ کھولے گی تو ہی کوئی اس سے ملے گا۔۔”

سلطان نے مسکراتے سگریٹ کو پاؤں تلےمسلا۔۔

کیا ارادہ ہے پھر۔۔۔؟؟ساحر نے آبرو اچکاتے پوچھا۔۔

ذونیشہ کو خوش رکھنا چاہتا ہوں ہمیشہ کیا کرو۔۔ وہ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی،،،میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔

اپنے بال مٹھیوں میں جھکڑتے کہا۔۔

بھابھی کو اس کے ابو کے گھر لے کر جاؤ۔۔۔وہ خوش ہو جائے گی،،،تم اس کی خوشی کو سمجھو ایک بار خود کو بھول کر اسے دیکھو وہ کیا چاہتی تھی۔۔

ساحر نے چیئر کی پشت سے ٹیک لگاتے اس کی حالت کو افسوس سے دیکھا۔۔

ہمم کوشش کرو گا ۔۔۔اوکے میں چلتا ہوں۔۔

اپنی جگہ سے اٹھتے اس نے اپنی گاڑی کا رخ کیا جبکہ اس کی چوڑی پشت دیکھتے ساحر نے اس کے لیے آسانی کی دعا کی۔۔

★★★★

کچن سے آتی آوازوں پر مبین بیگم ماتھے پر بل ڈالے اندر گئی۔۔

ذونیشہ بھوک سے نڈھال چکراتے سر بخار سے تپتی پانی کا گلاس پکڑے باہر کو مڑی ۔۔۔

کچن کی دہلیز پر مبین بیگم کو کھڑا دیکھ خاموشی سے گزرنا چاہا پر مبین بیگم نے اس کی کہنی سختی سے پکڑتے روکا۔۔

“آہ۔۔۔”ان کی وحشی گرفت پر وہ تڑپ اٹھی پر مبین بیگم نے اسے پیچھے کرتے خود سبزیاں نکالتے باہر رکھی۔۔

“ان سب کو کاٹوں اور رات تک سب تیار ہوں۔۔۔چکن فریج میں پڑا ہے چاول سامنے رکھے ہے۔۔چار پانچ ڈیشز تیار کرنی ہے اگر نہ کی تو ۔۔۔””

مبین بیگم نے اسے زہریلی نظروں سے دیکھتے کہا اور باہر چلے گئی۔۔

اپنا بازو سہلاتی وہ تمام چیزیں ٹیبل پر رکھتی بیٹھ گئی۔۔

سرخ نم آنکھوں سے چھری پکڑیں تمام سبزیاں کاٹنے لگی۔۔۔

بے احتیاطی میں اور چکراتے سر کے ساتھ اس نے تیز چھری سے پیاز کاٹا۔۔

پر تیز دھار چھری اس کا ہاتھ زخمی کر گئی۔۔

اپنے ہاتھ سے خون نکلتا دیکھ وہ رونے لگی۔۔۔

“ذونیشہ ۔۔۔۔”

سلطان کی تیز دھاڑ پر اس نے ٹپ ٹپ فرش پر گرتے خون سے بھیگی نظریں اٹھاتے سلطان کو دیکھا۔۔۔

جو سرخ چہرہ لیا اس کی طرف بڑھا۔۔

سلطان نے آگے بڑھتے اس کا ہاتھ پکڑا ہتھیلی پر اچھا خاصا کٹ لگا چکی تھی۔۔

“کس نے کہا تھا کچن آؤ۔۔۔ ؟؟؟ ہزاروں ملازم کیا میں نے بھونکنے کے لیے رکھے ہے۔۔۔ !!؛

اس بپھرے شیر جیسی دھاڑ پر حرا اور مبین بیگم بھی وہاں آچکی تھی۔۔

سلطان ذونیشہ کو غصے سے گھورتے اس کا ہاتھ پکڑے ایک گہری سخت نظر حرا پر ڈالتے باہر لے آیا۔۔

“سلطان درد۔۔۔۔”

گلے میں آنسوؤں کا گولہ اٹکا تکلیف سے وہ روتی چلی گئی۔۔

“کچھ نہیں ہوتا ابھی ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔روتے نہیں،،، ہمم۔۔۔”

اپنے ساتھ لگاتے اسے صوفے پر بٹھایا ۔۔

ماتھے پر بوسہ دیتے اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے اس کے نازک سفید ہاتھ سے اٹھتی حرارت محسوس کرتے لب سختی سے بھینچے۔ ۔۔

“فرسٹ ایڈ باکس لاؤ۔۔۔”سلطان نے خادمہ کو کہاں جس پر کچن میں رکھا فرسٹ ایڈ باکس لا کر سلطان کو پکڑایا۔۔۔

خادمہ اسے باکس پکڑاتی چلے گئی ۔۔چھوٹے مالک کے غصے سے کون بچا تھا آج تک۔۔۔

جبکہ نفرت سے حرا نے سلطان کا اتنا پوزیسسو انداز دیکھا۔۔

جو محبت سے اس کے بال سہی کرتے اس کا ہاتھ پکڑے پٹی کر رہا تھا۔۔۔

کس نے کہا تھا کچن میں کام کرنے کو،،،،،؟؟

اس کی سرخ گلابی گال سہلاتے اس نے جس انداز میں پوچھا اس کی کائی جمی آنکھوں کی سرخی دیکھ ذونیشہ کانپ گئی۔۔

ڈرتے ڈرتے اس نے کچن کے دراوازے پر کھڑی مبین بیگم کو دیکھا جس نے آنکھوں سے واضح کیا تھا کہ نہ بتائے۔۔

سلطان نے اس کے نظروں کے تعاقب میں اپنی ماں کو دیکھا۔۔

“کیا مام نے کہا تھا۔۔۔؟؟ آبرو اچکائے اس نے ذونیشہ کے جھکے سر کو تھوڈی پر انگلی رکھتے اوپر کیا۔۔

ذونیشہ نے فورا نہ میں سر ہلایا۔۔۔

“نہیں۔۔ں۔۔۔میرا۔۔۔۔دل کر۔۔ر ۔۔۔رہا۔۔۔تھا۔۔۔کو۔۔کنگ کرنے کا۔۔۔”ذونیشہ نے سلطان کے ہاتھ پر نازک ہاتھ رکھتے بامشکل مسکراتے کہا۔۔۔

ہممم۔۔۔سلطان بغیر رسپانس ظاہر کیے اس کا بازو پکڑے سیڑھیاں چڑھتا اوپر کمرے میں لے گیا۔۔

★★★★★★

طبیعت دیکھی ہے اپنی۔۔؟؟؟بخار سے سرخ پڑی ہو اور دل کوکنگ کا کر رہا ہے۔۔۔کھانا کھانے کی زحمت بھی نہیں کی ہو گی۔۔۔””

اس نے سخت تیور لیے پوچھا پر نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھی ٹرے پری پڑی جہاں کھانے کو چھوا تک نہیں تھا اور میڈیسن بھی ویسے ہی تھی۔۔

اسے بیڈ پر بیٹھاتے اپنے ماتھے کو دو انگلیوں سے مسلا۔۔۔

“آئیندہ اگر میں نے تمہیں کچن میں کام کرتے دیکھا تو انجام کی ذمہ دار خود ہو گی۔۔۔”

اسے وارن کرتے اس نے کال ملاتے کسی کو کھانا لانےکا کہا۔۔۔

خادمہ گرم کھانا وہاں رکھتی دوسری ٹرے اٹھا کر لے گئی۔۔

ذونیشہ انگلیاں چٹختی اس کی موجودگی میں اپنی بے ہنگم دھڑکنوں کو سنبھالتی بیڈ پر پاؤں لٹکائے بیٹھی تھی۔۔۔

بہروز قمیض کے کف کہنیوں تک موڑے تھکن سے اور کچھ غصہ سےسرخ سبز جاذب آنکھوں سے اس کا جائزہ لیا۔۔

اس کی نظروں کی تپش پر اس کے خدوخال میں سرخی دوڑ گئی۔۔۔

بہروز مبہم سا مسکراتے وہ بیڈ پر بیٹھا اپنے پاؤں شوز سے نکالتے وہ بیڈ پر رکھی ٹرے کو پکڑے ۔۔چاولوں کا چمچ بھر کر ذونیشہ کی طرف بڑھایا۔۔

جھجھکتی وہ بھی پاؤں بیڈ پر کرتی اب اس کے پاس بیٹھ گئی۔۔

چاولوں بھرا چمچ اس کے ہاتھ سے کھاتی اپنے ناخن سے بیڈ پر کھرچتی وہ نظریں چرا رہی تھی۔۔

“مجھے بھی بھوک لگی ہے۔۔۔ “سلطان اسے وقفہ بہ وقفہ تین چار چمچ کھلانے کے بعد لب دبائے بولا۔۔

اس واقعے کے بعد سلطان اور اس کے درمیان خاموشی ٹوٹی تھی ۔۔

“آپ بھی کھا لے۔۔”

کتنی شرمندگی ہو رہی تھی اسے کہ اس نے ایک بار بھی پوچھا تک نہیں۔۔

“تم کھلا دو تو۔۔۔۔۔”

اس کی گہری بولتی نظریں خود پر ٹکی دیکھ اس نے سلطان کے ہاتھ میں پکڑی ایک ہی چمچ کو دیکھا۔۔

“میرے ہاتھ پر چوٹ لگی ہے۔۔۔”

بہانا بناتے اس نے بیچارگی سے کہا۔۔

“وہ بائیں ہاتھ پر کٹ لگا ہے ،،،،تم دائیں ہاتھ سے کھلاؤ۔۔۔

ٹرے اس کی جانب کھسکاتے اس نے بغور اس کی حرکت دیکھی جو لب سختی سے کاٹتی کنفیوز تھی چور نظر اس کے ہاتھ میں پکڑی چمچ کو دیکھا۔۔۔

“میں استعمال شدہ چیزیں استعمال نہیں کرتا۔۔۔”

اس کے الفاظوں میں کوئی مزاق نہ تھا بلکہ وہ چمچ کو ٹرے میں رکھتے کندھے اچکا گیا۔۔

“استعمال شدہ چیزیں استعمال نہیں کرنی پر جس نے استعمال کی ہے اس کے ہاتھ سے کھا لینا ہے۔۔۔”

جانے کیوں پر ذونیشہ کو غصہ آیا۔۔

اسی لیے ٹرے سے چاولوں بھری بریانی کی پلیٹ اٹھاتی دائیں ہاتھ سے چاول سلطان کی طرف بڑھائے۔۔

خوشی سے شاد اور مسرور ہوتے اس کے ہاتھ سے چاول کھائے۔۔۔

اس کے ہونٹ اسکی انگلیوں سے ٹچ ہوئے شرم و گبھراہٹ سے ذونیشہ نے جلدی سے ہاتھ پیچھے کھینچ گئی ۔۔۔

سلطان نے لب دانتوں تلے دباتے چمچ بھر کر اس کی طرف کیا جسے وہ بامشکل کھانے لگی۔۔

پھر حیرت انگیز انکشاف ہوا سلطان نے اسی چمچ سے چاول کا ایک چمچ کھایا۔۔

ذونیشہ کے ہلتے ہونٹ رکے۔۔۔دل تیزی سے دھڑکا۔۔

“میں نے سوچا جس لڑکی پر بہروز سلطان عاشق ہے اس کا جوٹھا کھانے میں کیا ہے ۔۔۔”

گہرا مسکراتے اس نے کہا۔۔

بس۔۔۔اور نہیں کھانا۔۔۔”

دو چمچ اور کھاتی وہ سر نہ میں ہلا گئی۔۔

بخار سے دکھتا سر وہ بامشکل ہی بیٹھی تھی۔۔

سلطان نے بغیر کچھ کہے اٹھتے ٹرے ٹیبل پر رکھی اور واپس بیڈ پر بیٹھی ذونیشہ کی طرف بڑھا ۔۔۔

جھکتے اس نے ذونیشہ کا تکیہ ٹھیک کیا۔۔۔

اس دوران اس کا چہرہ ذونیشہ کے بے حد قریب تھا۔۔

اس کے پاس سے آتی کلون کی خوشبو پر ذونیشہ نے حلق تر کیا۔۔

اس پر کمفرٹر ڈالتے لائٹ آف کرتے پورے کمرے میں اندھیرا کر دیا۔۔۔

قدموں کی چاپ اور دروازہ بند ہونا کی آواز پر اس کا دل بجھ گیا۔۔۔

کمرے میں تمام چیزیں بے رونق ہو گئی اچاٹ دل سے کروٹ بدلتی اس نے نم ہوتی آنکھیں صاف کی۔۔

کسی نے کمر کے گرد بازو حائل کرتے اپنی طرف کھینچا۔۔

آہہ۔۔۔اندھیرے میں اس کی ایک چیخ گونجی۔۔

پھٹی نگاہوں سے اس نے سلطان کے مخصوص پرفیوم کی خوشبو محسوس کرتے اس کے سینے سے خود کو لگے دیکھ وہ نگایں جھکا گئی۔۔

سلطان اسے اپنے حصار میں لیتا نرمی سے اس کے بال سہلانے لگا۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ اس کی آغوش میں پرسکون لیٹی سو گٔی۔۔

*********