Dil e Be Reham by Mahi Rajpoot readelle50027 Episode 08
Rate this Novel
Episode 08
★★★★★★
فلش بیک۔۔
سلطان نے اپنے باپ کی پشت دیکھتے اپنے بھوری داڑھی کو انگشت شہادت سے کھجاتے موبائل نکالا۔۔
کسی کا نمبر بڑی باریکی سے ڈھونڈتے اس نے نچلا لب دباتے ہاسپیٹل کے بند کمرے کو دیکھا ۔۔
بغیر قدموں کی چاپ پیدا کیے وہ باہر نکلا۔۔
اپنی گاڑی کو جہاز کی طرح اڑاتے اس نے ایک گھر کے سامنے روکی۔۔
پرسرار مسکراہٹ کے ساتھ اس نے اپنا قدم باہر رکھا۔۔
محلہ کا ہر فرد حیران تھا اتنی بڑی گاڑی سے ایک مغرور شہزادے کونکلتے دیکھ کر۔۔
پر وہ بغیر کسی پر ایک بھی نظر ڈالے اپنی موبائل سے کال ملائی جو اٹھا لی گئی۔۔
گہری سبز آنکھیں مسکرا اٹھی۔۔
“اسلم صاحب ذرا آپ اپنے قیمتی وقت میں سے چند منٹ سلطان کو دے سکتے ہے۔۔”
ہمیشہ کی طرح کا اکھڑ سا لہجہ لیکن ذرا لفظوں کو طول دیتے کہا۔۔
جی ۔۔۔اسلم صاحب جو افراز صاحب کی بات پر ہی صدمے میں تھے کہ ذونیشہ سلطان کے پاس ہے اب سلطان کو اپنے گھر پر دیکھ وہ خاموش ہی رہے ۔۔
سلطان اسے گاڑی میں بیٹھاتے شہر میں سڑک کے کنارے گاڑی روکی۔۔
اسلم صاحب باہر نکلے تو سلطان بھی باہر آتا کھڑا ہو گیا۔۔
بڑے بڑی اونچے درختوں کے سائے تلے وہ دونوں ہی خاموش تھے۔۔
ذونیشہ میرے پاس ہے ۔۔۔میں نے نکاح کیا ہے ،،بیوی ہے وہ میری ۔۔۔”
سلطان نے بات شروع کرتے اپنی پاکٹس میں دونوں ہاتھ اڑستے اپنی سبز آنکھوں سے ساتھ کھڑے اسلم کا مرجھایا چہرہ غور سے دیکھا۔۔
جی بڑے صاحب نے بتایا ہے ۔۔۔
نظریں نیچے رکھے وہ شاید آنسو ضبط کر رہا تھا۔۔
آپ بے فکر رہے میں ذونیشہ کو کبھی تکلیف نہیں پہنچاؤ گا۔۔
سلطان کا چہرہ سپاٹ تھا ۔۔۔
پر میری بیٹی کبھی آپ کے ساتھ نہیں رہے گی آپ چھوڑ دے اسے ۔۔۔
اس کے جھکے کندھے اور ایک آنکھ کا بھیگا کونا۔۔۔
آپ کی بیٹی خوش رہے گی میرے ساتھ ،،زندگی کی ہر آسائش اس کے قدموں تلے ہو گی۔۔۔
اسلم خاموش ہو گیا ۔۔لب بھینچے رکھے کاش وہ کہہ سکتا کہ گھر سے اغوہ کر کہ لائی گئی لڑکی کیسے خوش رہے گی۔۔
“جہاں تک بات آپ کے محلے کے چھوٹے لوگوں کی چھوٹی سوچ کی ہے تو میں خود آؤ گا سب کو بتانے کہ ذونیشہ سلطان میری ملکیت ہے۔۔۔”
اپنی طرف سے وہ بالکل ٹھیک کر رہا ریلیکس کھڑے ہو کر سکون کے ساتھ بول رہا تھا۔۔
صاحب آپ میری بیٹی کو میرے گھر سے رخصت کر کے لے جائے تاکہ کوئی بات نہ ہو۔۔میری اور میری بیٹی کی عزت بنی رہے گی۔۔
اس نے نظر اٹھاتے شہزادوں سی آن بان والے خوبرو مرد کو دیکھا جس کے پیچھے جانے کتنے پاگل تھے ۔۔۔
ہممم۔۔پر میرا نہیں خیال اس جھنجھٹ میں پڑنا چاہیے۔۔
میں ذونیشہ کے ساتھ آؤ گا تو بتا دو گا سب کو سمپل۔۔
سلطان نے سگریٹ سلگاتے دھواں فضا میں چھوڑا۔۔
سلطان صاحب عزت ہماری بھی ہوتی ہے چاہے ہم غریب سہی پر عزتوں پر جان وار دیتے ہیں۔۔
لوگ یہیں سمجھے گے کہ آپ نے نکاح نہیں کیا اغواہ کیا ہے ۔۔خدارا اگر آپ میری بیٹی کو بیوی بنا کر رکھنا چاہتے ہے تو اسے مکمل طور پر رسم و رواج کے ساتھ لے کر جائے۔۔
اسلم نے دل برداشتہ ہوتے لفظ کہے۔۔
آپ کی بیٹی اب میری محبت بن گئی ہے اسے چھوڑنا بس میں نہیں رہا۔۔
آپ نے وہ کرنا ہے جو میں کہو گا پھر میں ویسا کرو گا جیسا آپ نے کہا۔۔
جی ٹھیک ہے۔۔
اسلم نے سلطان کی آنکھوں کے جلتے دیپ دیکھ دل ہی دل میں دعا ضرور کی تھی کہ اس کی بیٹی خوش رہے ۔۔۔
وہ اگر سلطان کے خلاف جاتا بھی تو کچھ نہیں کر سکتا ہے وہ اب شرعی اور قانونی طور پر میاں بیوی تھے کچھ بھی کرنا فضول تھا۔۔
لیکن سلطان کی بات سنتے وہ کچھ پل کو حیران ہوا کیا وہ ذونیشہ کو بدزن کرنا چاہتا ہے اس سے۔۔؟؟
لیکن اس نے حامی بھر دی۔۔۔
وہ سب کچھ وہی کہہ کر آیا تھا جو سلطان نے کہا تھا اب اسے انتظار تھا سلطان کے جواب کا ۔۔
★★★★
رات کے اندھیرے میں وہ چپکے سے بیڈ سے اٹھی
سلطان سو رہا تھا آنکھوں پر بازو رکھے ۔۔
اس کا دل سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا پر اسے بھاگنا تھا آج ہی ۔۔
بغیر جوتا پہنے اس نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے اس دوران ایک ہی ڈر تھا کہ سلطان نہ اٹھ جائے ۔۔
وہ کہا جائے گی نہیں جانتی تھی پر ابھی صرف سلطان کی قید سے نکلنا چاہتی تھی۔۔
اس کی قسمت ساتھ تھی جو مین گیٹ بھی کھلا تھا اندھا دھند وہ سلطان کے محل سے بھاگی ۔۔
اک ڈری شہزادی کی مانند بغیر جوتے کے دوپٹہ لپیٹے وہ سڑک پر بھاگتی جا رہی۔۔
اس کے پاؤں میں کتنے کانٹے چنبھے اسے علم نہیں تھا ۔۔سانس پھول چکی تھی موسم بھی تیور بدل رہا تھا گرج چمک کے ساتھ بجلی چمکی۔۔
ڈر کہ وہ رکتی کچھ پل کے لیے سانس لیے ذرا جھکتے اس نے اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے سانس ہموار کیا۔۔۔
پر جیسے ہی سر اٹھایا دل ھل دھک رہ گیا سیاہ مرسڈیز پوری سپیڈ کے ساتھ پیچھے سے آتی اس کے سامنے رکی۔۔
آنکھوں کی پتلیاں پتھرا گئی۔۔
دل سینے میں ہی بند ہوا۔۔
سلطان کی گاڑی۔۔
اسے واپس بھاگنا چاہیے پر سلطان پورے غصے کے ساتھ گاڑی سے نکلتا اس کی طرف بڑھا۔۔
ایک موت کا فرشتہ ہی ذونیشہ کو لگا جو جان لینے آ رہا ہو اس کا کیا انجام ہو گا ۔۔
وہ قدم پیچھے کو بڑھانا چاہتی تھی پر سلطان نے اس کا بازو کھینچتے اپنے سینے میں بھینچے۔۔
سلطان کا یہ ردِعمل حیران کن تھا ذونیشہ کے لیے ۔۔۔۔
سلطان اس سینے سے لگائے کھڑا اس کے ہونے کی یقین دہانی کر رہا تھا۔۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو پہلو میں کوئی موجود نہ تھا ایک بار دوبارہ سلطان کی سانسیں اٹکی۔۔
اسے لگا کہ باتھروم میں ہو گی پر وہ بھی خالی تھا۔۔
کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔۔
سکینڈ کی بھی دیر کیے بغیر سلیپر پہنتے اپنی گاڑی کی چابی اٹھاتے وہ باہر کو بھاگا۔۔
گیٹ پر کوئی چوکیدار نہیں تھا یعنی کوئی اور بھی ساتھ تھا پر کون۔۔
گاڑی کو سڑک پر بھگاتے وہ چاروں طرف اسے ڈھونڈ رہا تھا۔۔
ایک لڑکی کو ذرا جھک کر سانس لیتے دیکھ اس کی سانس میں سانس آئی۔۔
گاڑی کو اس کے سامنے روکتے اسے اپنے ساتھ لگایا۔۔
آج اس کے کھو جانے کا خوف اس کا دل دھڑکا گیا۔۔
وہ جانتا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے پر آج معلوم ہوا تھا کہ اسے ذونیشہ سلطان سے عشق ہو گیا تھا۔۔۔
پاگل ہو کیا۔۔؟؟؟
یوں اکیلی گھر سے کیوں نکلی۔۔۔؟؟
اسے خود سے علیحدہ کرتے وہ دھاڑا۔۔
سہم کر حلق تر کرتی اس نے اپنے لب کاٹے۔۔
“ایک لمحہ کو جان نکل گئی تھی میری کیوں کرتی ہو ایسے ۔۔
سلطان نے بے بسی سے اسے بازوؤں سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔۔
میں نہیں رہنا چاہتی آپ کے ساتھ میری ماں مر گئی میرا باپ چھوڑ گیا ہے مجھے آپ بھی چھوڑ دے مجھے ۔۔۔
میں نہیں سہہ سکتی آپ کے ستم۔۔
بادل گرجے اور زور و شور سے برسے۔۔بارش نے اردگرد ہر چیز کو بھگو دیا ۔۔۔
“میرا عشق بے حد ہے جاناں۔۔
میں بہت محبت کرتا ہوں۔۔چاہے سلطان نے کتنا ہی ستم تم پر کیا ہو پر اس سلطان نے عشق پورے دل سے کیا ہے۔۔”
بارش کی بوندیں لمحہ بہ لمحہ نیچے گرتی دونوں کو بھیگو کو بہتی چلی جا رہی تھی۔۔
آپ نے مجھے اغواہ کیا میری عزت کو روندھ ڈالا مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا۔۔۔اوپر لی چادر ڈھلک کر کندھوں پر آچکی تھی۔۔
سڑک پر رات کے اندھیرے میں دونوں کھڑے تھے بارش کے زور سے لاپرواہ ہو کر۔۔
“شاید مجھے پہلے یقین نہیں آ رہا تھا کہ تم عزیز ہو چکی ہوں میرے لیے۔۔”اس نے خود پر ہنستے چہرا بلند کیا بارش کی تیز بوچھاڑ چہرے پر پڑی۔۔
کچھ فاصلے پر کھڑی ذونیشہ نے چند قدم دور سلطان کی طرف اپنے دو قدم بڑھائے۔۔
سلطان سانس روکے اسے اپنے سے ایک قدم کے فاصلے پر دیکھا۔۔
اس کے لرزتے ہونٹ بھیگا سراپا دیکھتے سلطان کے دل نے بغاوت کی۔۔
جسے سختی سے ڈپٹتے ادھر ادھر نظریں دوڑائی۔۔
تاریک رات میں وہ دونوں کھڑے تھے۔۔
“تم بے رحم ہوں سلطان۔۔۔”
لفظوں کی گونج سنسان سڑک پر گونجی ۔۔۔
“نہیں ذونی تمہارا سلطان بے رحم نہیں ہے اس کا دل بے رحم تھا اس دلِ بے رحم نے مجھے آج بے بس کر دیا۔۔”سلطان نے اس کے چہرے پر ٹھہری بوندوں کے ساتھ آنسو ملتے دیکھ تڑپ کر باقی کا فاصلہ مٹاتے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرا۔۔
“ٹھیک ہے پھر مجھے علیحدگی چاہیے۔۔!!!
آج وہ ظالم بنی کھڑی تھی اس نے اپنی بھوری کانچ سی آنکھیں اس کی سبز کائی جمی آنکھوں میں گاڑھی۔۔
سبز آنکھون کا بدلتا رنگ اور اپنے چہرے کے گرد رکھے اس کے ہاتھوں کی سختی محسوس کرتی اس کی غزالی آنکھیں پھیلی۔۔خوف سے ڈر سے ۔۔۔۔
مجھے مار دوں اور لے لو علیحدگی۔۔۔!! ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کہتے وہ گاڑی کی طرف بڑھا ۔۔
گاڑی سے ریوالور نکالتے وہ واپس مڑا۔۔
جبکہ اسے دیکھ ذونیشہ سپید پڑی۔۔
اس کی ہتھیلی سیدھی کرتے اس پر ریوالر رکھی ۔۔۔
کانپتے ہاتھوں پھیلی آنکھ کی پتلیوں سے دیکھتے اس نے بے خوف کھڑے سلطان کو دیکھا۔۔
کیا یہ واحد راستہ ہے اس سے چھٹکارا حاصل کرنے ۔۔ ؟؟ وہ دل میں سوچتی ریوالور پر پکڑ مضبوط کی پر پھر بھی ہاتھ کانپ رہے تھے ۔۔
شوٹ می ۔۔۔ !! اس کے کانپتے ہاتھوں پر اپنے برف کی طرح سرد ہاتھ رکھے گن کی نال اپنے سینے پر رکھی۔ ۔
بلیک شرٹ سینے سے چپکی پڑی تھی اس کا مضبوط کسرتی جسم واضح ہو رہا تھا۔۔
لبوں پر زبان پھیرتی اس نے سلطان کے ہاتھوں میں موجود اپنے ہاتھ دیکھے جس میں گن تھی عین اس کے دل کے مقام پر ۔۔۔
کیا سب ختم ہو جائے گا۔۔
کیا وہ آزاد ہو جائے گی۔۔۔
سہمی نگاہوں سے اس نے سلطان کی مسکراتی سبز آنکھوں میں دیکھا جس نے ساحرانہ مسکان کے ساتھ آنکھیں بند کرتے گن کا ٹریگر دبایا ۔۔
گولی کی گونج پر دونوں کی دھڑکنیں ساکت ہوئی۔۔۔
ذونیشہ نے ڈرتے دل سے آنکھین کھولی سلطان چہرہ موڑے دیکھ رہا تھا دائیں جانب۔۔
ذونیشہ نے اس کے سینے پر رکھی گن کو ہٹایا
اسے گولی نہیں لگی۔۔یعنی گن خالی تھی۔۔
مبین بیگم نے فضا میں فائر کیا تھا۔۔
وہ کچھ فاصلے پر گاڑی سے باہر کھڑی تھی۔۔
شاید انہیں ہوش نہیں تھا تب ہی گاڑی کی آواز نہ سن سکے یا بارش کے زور میں کہیں دب گئی۔۔
مام آپ ادھر۔۔۔؟؟
سلطان نے ذونیشہ کی سپید پڑتی رنگت دیکھ کر دیا ان کی طرف قدم بڑھائے۔۔
سلطان آج میں اس لڑکی کو مار کر قصہ ہی ختم کر دو گی۔۔
یہ تمہیں مار رہی تھی۔۔
اگر گن میں گولی ہوتی تو۔۔۔۔میں اس فساد کی جڑ کو ہی ختم کر دو گی۔۔ میں نے اس کے لیے آج چوکیدار کو چھٹی دی کہ یہ بھاگ جائے پر تم پھر اس کے پیچھے آ گئے۔۔
وہ ہذیاتی ہو کر خونخوار تیور لیے برستی بارش کی پرواہ کیے بغیر ذونیشہ کی طرف بڑھی ۔۔
سلطان نے اپنی مام کے ہاتھ پسٹل دیکھ کر ذونیشہ کو اپنی پشت پر چھپایا ۔۔
“مام ۔۔۔۔!!!!
سلطان غصے سے سرخ ہوتا ہاتھ اٹھاتے انہیں رکنے کا کہا ۔۔۔۔
“سلطان تم ایک مالی کی بیٹی کو بیوی نہیں بنا سکتے ہمارے سٹیٹس پر بات ہو گی لوگ کیا کہے گے۔۔!!!
پسٹل نیچے کرتے وہ غصہ سے بولی۔۔۔۔
مام آپ ہی نے تو کہا تھا کسی لڑکی کی عزت پر بات نہ آنے دو ۔۔میں نے نکاح کر لیا ہے اور آپ اب یہ کہہ رہی ہے۔۔۔
سلطان جو کبھی بھی ماں سے مقابلہ کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا اب ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولا۔۔
میں نے یہ نہیں کہاں تھا کہ کسی کو بھی اٹھا کر لے آؤ۔۔
تم نے شوق پورا کر تو لیا ہے اب چھوڑ دو اسے۔۔””
وہ جھنجھلا سی گئی۔۔
مام آپ کیوں نہیں قبول کر پا رہی ہے کہ عام لڑکی نہیں ہے ذونیشہ سلطان ہے ۔۔۔”!!
وہ برستی بارش میں گرج پڑا ۔۔سبز آنکھیں شعلے برسانے لگی۔۔
“اچھا سلطان میرے بیٹے میں اس سے بھی پیاری لڑکی ڈھونڈ کر لاؤ گی۔۔”
اس نے سلطان کی پشت پر مکمل چھپی تھر تھر کانپتی ذونیشہ کو زہر بھری نظروں سے دیکھا۔۔
“مجھے کوئی اور نہیں چاہیے صرف ذونی چاہیے جو میرے پاس ہے۔۔بس ۔۔””
سلطان نے ذونیشہ کو اپنے حصار میں لیتے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھایا۔۔
گاڑی کا دروازہ بند کرتے اپنی مام کی طرف آیا۔۔
مام چلے گھر جا کر بات کرتے ہے،،،،
سلطان نے انہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہا پر وہ اس کا ہاتھ
جھٹکتی اپنی گاڑی کی طرف بڑھی۔۔
اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے وہ بھی اپنی گاڑی میں بیٹھا۔۔
ذونیشہ ٹھنڈ اور خوف سے کانپتی سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں مینچیں بیٹھی تھی۔۔
اتنی ٹینشن میں بھی سلطان کے ہونٹ مسکرائے۔۔
وہ بہت ڈر پوک تھی ۔۔۔۔
ہیٹر آن کرتے اس نے گاڑی وہاں سے نکالی۔۔۔
گھر بہت بڑا ڈرامہ ہو گا جانتا تھا ۔۔
وہ اسلم سے بھی بات کرنا چاہتا تھا۔۔
بہت سے کام تھے جو وہ کرے گا تاکہ ذونیشہ اس کے پاس رہے بس۔۔۔۔
★★★★
