65.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 04

گاڑی ایک جھٹکے سے رکی۔۔
ذونیشہ گہرہ سانس بھرتی رب کا شکر ادا کیا جس نے اس کی جان بچا لی ورنہ جس سپیڈ سے گاڑی اڑائی تھی اسے موت قریب ہی نظر آئی۔۔
“چلو ۔۔۔!!!
وہی پھاڑ کھانے والی آواز پر ذونیشہ نے اس سر پھرے کو دیکھا جو کار کا دروازہ کھولے کھڑا تھا۔۔۔
یہ۔۔۔تو ۔۔۔میرا گھر نہیں ہے۔۔۔
ذونیشہ لہنگا سنبھالتی اطراف کا جائزہ لیتی سہمی سی نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔
“تو میں کیا تمہیں گھر چھوڑنے جا رہا تھا کسی صدی کا پاگل سمجھا ہے مجھے۔۔”
آنکھیں چھوٹی کیے اس نے ابرو اچکایا۔۔
“آپ نے تو کہا تھا چھوڑ آئے گے۔۔۔”آنسو پیتی وہ بھرائی آواز میں بولی۔۔
ہاں ارادہ تھا میرا،،، پھر گاڑی چلاتے چلاتے چینج ہو گیا ،،، وہ کیا ہے نہ ایک گھنٹے میں ساٹھ مرتبہ میں فیصلہ بدلتا ہو،،،،یہ میرا سٹائل ہے یا عادت بھئی میں خود بہت تنگ ہو خود سے۔۔۔
“جیسے ابھی میرا دل کر رہا ہے تمہیں اپنے بازؤں میں اٹھا کر لے کر جاؤ پر ابھی ایک منٹ گزرا اور فیصلہ چینج ہو گیا۔۔ اب دل کر رہا ہے تمہارا یہ روتو چہرہ اسے چھپا کر لے جاؤ اندر اگر مولوی ڈر گیا تو۔۔۔
وہ بولنا شروع ہوا تو بولتا چلا گیا ذونیشہ رونے بھولے ہونکوں کی طرح اسے دیکھا جو کسی فلیٹ کے سامنے کھڑا اس سے اتنی دلچسپی سے بات کر رہا تھا جیسے اندر کوئی کیس لڑنا ہوں اور وہ گواہ ہوں۔۔۔
“پر ہم ادھر کیوں آئے۔۔۔”
وہ ابھی بھی وہی کی وہی تھی۔۔۔
“توبہ لڑکی کتنا بولتی ہوں ۔۔۔۔۔” بہروز نے گھورتے اس کا دوپٹہ پیچھے سے پکڑتے اچھے سے گھونگٹ کی طرح اوڑھ دیا۔۔
جبکہ وہ یہی سوچتے اس کے ساتھ کھیچتی چلی گئی کہ “واقعی وہ اتنا بولتی ہے”؟؟
“میں آپ سے شادی نہیں کروگی۔۔۔!! “بیچ راستے وہ رکتی پریشانی سے بولی۔۔۔
“تمہیں ایسا ہی لگنا چاہیے کہ میں شادی نہیں کررہا ،،،
میں کچھ دنوں سے بے سکون سا ہوں شاید مجھے تم پسند آگئی ہوں پر بہروز سلطان کو کوئی چیز صرف چند دن تک ہی اپنی جانب کھینچتی ہے بعد میں وہ اپنی کشش کھو دیتی ہے،،، تم بھی بس چند دن میرے پاس رہو جیسے ہی میرا دل بھر گیا تم اپنی راہ میں اپنی راہ۔۔۔!!
بہروز کی باتیں سنتی وہ مرنے کے قریب تھی وہ اسے بکاؤ لڑکی سمجھ رہا تھا پھر یہ نکاح کیوں کر رہا تھا۔۔۔
وہ کتنی آسانی سے یہ بات کر گیا کیا وہ اتنا بے خبر تھا اس مقدس رشتے سے ۔۔۔
“لڑکی کیا تمھارے اندر کوئی ایسا سسٹم فکس ہے جو دو منٹ بعد ہینگ ہو جاتا ہے ۔۔”بہروز نے زچ آتے دوبارہ اسے ساتھ لیے اندر گیا وہ کسی کچی شاخ کی
مانند ساتھ چلتی گئی۔ ۔
“چلو تم ادھر بیٹھو میں ابھی آیا۔۔۔اور احسان مانو میرا جو نکاح کر رہا ہوں ورنہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا۔۔!!
اسے کمرے میں بیٹھاتے گلاس میں پڑا پانی غٹاغٹ پیا۔۔۔
ذونیشہ اس کے جاتے ہی گھونگھٹ پلٹا دیواروں پر لگی لڑکیوں کی اور ایک لڑکے کی تصاویر چسپاں تھی۔۔
شاید اس کے دوست کا فلیٹ ہوں۔۔
“چلو میری عارضی دلہن جلدی سے تیار رہو تمہارے نکاح کا وقت ہوا جاتا ہے۔۔۔”
بہروز اندر آتے دلکشی سے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
دو آنسو بے مول ہوئے اور وہ بہروز سلطان کے نام لکھ دی گئی۔۔
” آؤ اب تمہیں اپنی خوابگاہ میں لے چلو کیونکہ پہلے تم بے نام وہاں پڑی تھی پر اب میرے نام کے ساتھ جاؤ گی۔۔!!
ذونیشہ نے اس کو بغیر دیکھے جلدی سے سے اٹھتی کھڑی ہوئی۔۔
لیکن اس تیزی میں لہنگے میں پاؤں اٹکا اپنا توزان برقرا نہ رکھتے وہ گرتی کہ بہروز نے اس کے گرد بازو حائل کرتے کھینچا۔۔
کٹی ڈال کی طرح وہ اس کے سینے سے ٹکرائی۔۔
اس کی ہتھیلی کے عین نیچے بہروز سلطان کا دل دھڑک رہا تھا۔۔۔
حلق تر کرتی اس نے نگاہیں نیچے جھکائے رکھی۔۔
بہروز نے اس کےکمر کے گرد دونوں بازو حائل کیے اور اپنی گرفت مضبوط کرتے اسے اپنے اور قریب کیا۔۔۔
“کیا بات ہے عارضی بیگم تمہیں خاصی جلدی ہے میرے قریب آنے کی جو یوں پھسلتی میرے سینے سے آلگی ہوں۔۔؟؟
بہروز نے آہستہ سے اس کے چہرے پر پھوک ماری جس سے چہرے کے اطراف میں بکھرے بال پیچھے ہوئے۔۔
اس کے توانا بازو کے شکنجے میں اس کی سانسیں رک رہی تھی۔۔
اوپر سے اس کی بے باکیاں عروج پر تھی کمر کو سہلاتے اس کے ہاتھ ذونیشہ دل کی دھڑکنوں کو سنبھالتی بامشکل کھڑی تھی۔۔
“نکاح مبارک ہوں ذونی بہروز سلطان ۔۔!!!
اس کی آواز سُر سے بکھیر گئی۔۔بہروز نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے اس پر جھکا ذونیشہ سانس روکے اس کو اپنے قریب تر دیکھ رہی تھی جو مسکراتے اس پر جھکتے سانسوں پر قابض ہوا۔۔
اس کے رحم و کرم پر کھڑی سختی سے آنکھیں مینچ گئی۔۔
تا دیر روم کی فضا میں دونوں کی دھڑکنیں گوجتی سرگوشیاں کرتی رہی ۔۔
کندھے پر چبھتے ناخن اور سینے پر لگتے مکے اسے ہوش کی دنیا میں لائے ۔۔اور اس سے دور ہوا۔۔
ذونیشہ آنکھوں میں آنسو لیے گہرے گہرے سانس بھرتی پیچھے ہوئی لیکن اپنے گرد اس کا حصار بندھا دیکھ بے بسی سے رو دی۔۔۔
سلطان بہروز بیزاری سے اسے روتا دیکھا۔۔
اپنی گرفت سے آزاد کرتے اپنی شرٹ کا کالر درست کیا۔۔
گردن پر جلن کا احساس ہوا تو بہروز نے ڈریسنگ مرر پر کھڑے ہوتے معائنہ کیا۔۔
اس کے ناخنوں کے نشان واضح تھے ۔۔
ٹشو پکڑتے اس نے اپنے ہونٹ صاف کیا۔۔اور وہی ٹشو پھینکتے اس کی طرف بڑھا۔۔
جو کانپتی اس کی حرکات دیکھ رہی تھی دوبارہ قریب آنے پر پیچھے ہوئی ۔
“بہت ہی کوئی سویٹ ہو تم۔۔۔۔۔”!!
بہروز نے سرخ سبز آنکھیوں سے اس کا سراپہ دیکھتے آنکھ ونک کی۔۔
ذونیشہ سرخ پڑتی چہرہ موڑ گئی۔۔
“اب تمہیں لے چلو میں سلطان ہاؤس۔۔۔۔””
اس کی کلائی پورے حق سے تھامتے وہ ساتھ لے گیا۔۔
★★★★★★
ذونیشہ کے گھر میں صفہ ماتم بچھا ہوا تھا۔۔
رات کو ذونیشہ کی ماں وفات پا گئی تھی یہ خبر قہر بن کر ٹوٹی تھی۔۔۔
اس دوران کسی کو ذونیشہ کا ہوش نہیں تھا جبکہ اس کا باپ ذونیشہ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک چکا تھا ایک بیوی کی موت کا غم تو دوسرا بیٹی کی گمشدگی دونوں ہی بڑے غم تھے۔۔
بنو تم دروازے کو کنڈی لگائے رکھنا کوئی بھی آیا دروازہ نہ کھولنا چاہے تعذیت کے لیے ہی کوئی عورتیں آجائے پر دروازہ بند ہی رکھنا میں سلطان کی حویلی جا رہا ہوں تاکہ ان سے مدد لے کر ذونیشہ کو ڈھونڈ لو۔۔
جھکے کندھے کے ساتھ وہ سمجھاتا حویلی چلا گیا۔۔۔
پیچھے اکیلی ماں کے غم پر روتی نڈھال لیٹی رہی۔۔
★★★★
بہروز نے گاڑی حویلی کے اندر داخل کی جبکہ ذونیشہ بیٹھی بے آواز آنسو بہا رہی تھی۔۔
گاڑی کو روکتے اس نے ذونیشہ کی طرف کا دروازہ کھولا۔۔
اور کسی شہزادے کی طرح تھوڑا سا جھکتے اپنا ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا۔۔
اس کی پھیلی ہتھیلی دیکھتی وہ گبھرائی۔۔
اور اپنا نازک ہاتھ اس کی ہتھیلی پر رکھا۔۔۔جسے مضبوطی سے پکڑتے بہروز نے سہارا دیتے اسے باہر نکالا۔۔
اتنا مہربان بہروز ذونیشہ کچھ ڈری تھی۔۔
“اب میرا دل کہہ رہا ہے کہ ۔۔۔”بہروز جو خواہش پہلے پوری نہیں کی وہ اب کر لو۔۔”
اس نے ذونیشہ کے ہاتھ کی پشت پر اپنے سلگتے لب رکھے۔۔
ذونیشہ ابھی سمجھتی کہ وہ کونسی خواہش کی بات کر رہا ہے ۔۔
بہروز نے جھکتے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا۔۔
ہلکی سی چیخ اس کے ہونٹوں سے برآمد ہوئی ۔۔۔
جس پر وہ مسکراتے اندر بڑھ گیا جتنا اس کا وزن تھا بہروز سارا وقت اسے اٹھائے گھوم سکتا تھا۔۔۔
حویلی کے اندر کوئی نہیں تھا اس لیے وہ سکون سے اسے اپنے کمرے کی طرف لے گیا۔۔
انجانے خوف سے ذونیشہ کا دل دھڑک اٹھا۔۔
اس نے پہلے ہی خادمہ سے کال کر کے پوچھا تھا کہ مام کہاں ہے ۔۔
سوچ کے مطابق اس وقت دوائی کے زیرِاثر سو رہی تھی۔۔
شان سے قدم اٹھاتے اپنے کمرے کا دروازہ پاؤں سے کھولتے اندر بڑھا ۔۔
اپنے جہازی سائز بیڈ کے قریب آتے اس نے جھٹکے سے اسے بیڈ پر پھینکا ۔۔۔
ذونیشہ درد سے کراہتی بھوری آنکھوں سے اسے گھورا۔۔۔
اس کے گھورنے پر بہروز نے داد کے انداز میں ابر اچکائے ۔۔
سٹپٹاتے اس نے نظریں روم میں دوڑائی۔۔
ہر دیوار پر سلطان بہروز اپنی ساحر شخصیت کے ساتھ تصاویر میں موجود تھا ۔۔
چاکلیٹ اور وائٹ کلر کے کمیبینشن میں سجا روم اپنی مثال آپ تھا۔۔
ویلکم ڈئیر وائفی۔۔پہلی لڑکی ہو جس نے میرا روم دیکھا ہے۔۔!!
بہروز کی آواز پر ہوش میں آتی کچھ پیچھے کھسکی۔۔
“اوکے میں فریش ہو کر آیا۔۔۔”
سیٹی کی دھن کے ساتھ وہ وہاں سے غائب ہوا۔۔
اس کا یہ نارمل انداز ذونیشہ کو کھٹک رہا تھا ۔۔۔
بیڈ پر بیٹھی اس نے پیچھا دیکھا۔۔۔
لیکن حیرت سے منہ ہی کھل گیا بہروز سلطان شرٹ لیس ریسلنگ رنگ میں ہاتھ میں ٹرافی پکڑے کھڑا تھا ۔۔
ماتھے پر بلوں کا جال تھا جبکہ ہونٹوں پر مبہم سی مسکان۔۔
وہ اس دیو کا مقابلہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔
میں سلطان بہروز سامنے ہوں تمہارے اور تم میری تصویروں کو گھور رہی ہے مجھے دیکھوں قریب سے اور جتنا چاہے گھور لو ۔۔۔اپنے بالکل قریب سرگوشی پر وہ بدک کر پیچھے ہوئی۔۔
وہ شرٹ لیس اس پر جھکا تھا ۔۔
گیلے بال ماتھے پر بکھرے تھے۔۔
اس کے پھولے مسلز پر ٹھہری پانی کی بوندیں اور اس کے گلے میں جھولتا لاکٹ جس کے ساتھ ایک سرخ چیز لٹک رہی تھی۔۔
بے اختیار اس نے اپنا حلق تر کیا۔۔نظریں جھکائے اس نے خود کو مضبوط کرتے تھوڑا اور پیچھے ہوئی۔۔
“لو اب میں سامنے ہوں اور تم نیچے دیکھ رہی ہوں اب تو حق ہے تمہیں دیکھ لو جی بھر کر کیا پتا کب تم اس سلطان کی قید سے رہا ہو جاؤ۔۔”!!
اپنے ہاتھ بڑھاتے اس نے ذونیشہ کا دودھیا پاؤں پکڑا۔۔۔
“یہ خالی سا پاؤں اچھا نہیں لگ رہا ۔۔”
“ویٹ۔۔۔۔”!!
اس کا پاؤں چھوڑتے وہ سائیڈ ڈرا میں کچھ تلاش کرنے
لگا۔۔
ذونیشہ نے پاؤں واپس کھینچ لیا۔۔
“مل گئی ۔۔۔”
ایک ڈبی نکالتے وہ مڑا ۔۔
“یہ مجھے مام نے دی تھی کہ اپنی دلہن کو پہنا دینا خیر تم تو عارضی دلہن ہو پر یہ میری طرف سے تحفہ سمجھ لینا۔۔۔”
عارضی دلہن پر ذونیشہ نے زخمی نگاہوں سے اسے دیکھا ۔۔۔اپنا مطلب پورا کرنے کی خاطر وہ کس حد تک جا رہا تھا۔۔
بیڈ پر بیٹھتے اس نے ذونیشہ کا پاؤں اپنی گود میں رکھا ۔۔
اور پائل پہنا دی۔۔۔
“اب سہی ہے۔۔۔” اس کا پاؤں ذرا ہلاتا اس نے پائل کی چھنکار پر دلچسپی سے اس کا پاؤں پکڑے رکھا۔۔
کیا وہ ہوش میں تھا جو ایک معمولی لڑکی کا پاؤں پکڑے بیٹھا تھا۔۔۔
بہروز کی اگلی حرکت پر ذونیشہ کی جان ہوا ہوئی۔۔
جس نے جھکتے اس کی پائل پر لب رکھے تھے۔۔۔
“آپ غلط کر رہے ہیں۔۔۔”اس کی آواز گلو گیر ہوئی۔۔
“کیا غلط کر رہا ہوں میں۔۔؟؟؟ اب تو نکاح بھی کر لیا ہے تم سے۔۔
اس کی بات پر وہ جلال میں آیا۔۔۔سخت سے اس کا بازو دبوچے قریب کیا ساری نرمی ہوا ہوئی۔۔۔
“آپ مجھے چھوڑ دے گے برباد کرنے کے بعد۔۔۔”اس کا آنسو ٹوٹ کر بہروز کے بازو پر گرا۔۔
“دیکھو لڑکی تمہارا قصور ہے جو میرے سامنے آئی کچھ ہی دن کی بات ہے بہت پیسہ دو گا تمہیں ساری زندگی عیش کرو گی۔۔۔!!
بہروز نے کوفت سے اس کا ڈرامہ دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔۔
“میں ایک غریب لڑکی ہوں یہ پیسوں پر نہیں مرتی بہروز صاحب عزت ہمارے لیے انمول ہوتی ہے آپ نے نکاح کیا ،،،پر اس نکاح کا مزاق تو مت بنائے۔۔۔!!
اس نے تلخی سے کہا تو بہروز کچھ پل کے لیے خاموش رہ گیا۔۔۔
نچلہ لب کچلتے اس نے گہری سانس بھری۔۔
“میں مجبور ہوں،،، ایک نشہ ہے جو سر پر طاری ہے،،، ایک جنون ہے جو مجھے خاک کر رہا ہے،،، ایک ضد ہے جو حد سے گزر جانے پر بضد ہے ،،، ایک سرور ہے جو تمہیں پانے کا سوچتے ہی رگوں میں گردش کر رہا ہے،،، یہ میرے بس سے باہر ہے اب ۔۔۔!!
اس کا گال انگھوٹھے سے سہلاتے وہ طبیعت کے بر خلاف نرمی سے بولا۔۔
“آپ صرف ہوس پوری کرنا چاہتے ہے۔۔۔۔”!!!
اس کا ہاتھ جھٹکتے پہلی بار وہ ذرا تیز لہجے میں بولی۔۔۔۔
اس کی بات پر بہروز کی آنکھوں میں خون اترا ۔۔۔
“تو پھر اس ہوس کو میں جلد پورا کرو گا۔۔۔
پھولے تنفس کے ساتھ اپنے غصہ پر قابو پاتے بیڈ سے اٹھتے اس نے ٹیبل پر پڑا کرسٹل واز اٹھا کر ایل سی ڈی پر پھینکا۔۔۔
جو ٹوٹ کر نیچے کر نیچے گرگئی اور جا بجا کانچ بکھر گیا۔۔۔
سرخ چہرے کے ساتھ اس نے وحشت بھری نظر بیڈ پر سن وجود پر ڈالتے کھیچ کر دروازہ بند کیا۔۔۔
اس کے غصے پر حواس قابو میں لاتی گھر والوں کی یاد آنے پر خاموشی سے بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگا گئی ۔۔۔
وہ بہروز سلطان کے لیے دل بہلانے کا سامان ہو سکتی تھی پر اس کی محبت نہیں۔۔۔
★★★★★