65.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 07

★★★★
دروازہ آہستگی سے کھولتے وہ اندر گیا۔۔
اوندھے منہ بیڈ پر لیٹے اس کا وجود ہچکولے لے رہا تھا۔۔
افسوس سے سر نہیں میں ہلاتے اس نے اس کی طرف قدم بڑھائے۔۔
لیکن وہ اس کی آہٹ پر پہلے ہی سیدھی ہوتی پھرتی سے بیڈ سے اترتی دوسری جانب کھڑی ہو گیی۔۔
دوپٹے سے بے نیاز اس کا سراپا دودھیا رنگت پر چھائی ہلکی سرخی وہ اپنے حسن سے بے پرواہ اپنی سرخ بھوری غزالی آنکھوں سے کھڑی تھی۔۔
“میری بات سنو تحمل سے۔۔”سلطان نے ہاتھ سے اسے کالم ڈاؤن رہنے کا کہا۔۔
“بس کرے سلطان بس کرے بہت ہو گیا آپ کا ظلم ۔۔
پہلے مجھے میرے ماں باپ کا ڈر تھا پر اب مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے آپ کی وجہ سے میری ماں مر گئی اور میرا باپ مجھے چھوڑ گیا۔۔
اب کوئی فرق نہیں پڑتا مجھے ۔۔مجھے ابھی اسی وقت مجھے طلاق دے۔۔۔”
وہ زخمی شیرنی کی طرح دھاڑی آنسو گال سے بہتے نیچے گرے۔۔
سلطان خاموشی سے کھڑا سرخ آنکھوں سے اس کی طرف بڑھا اور ایک ہی جست میں اس کا بازو دبوچتے اپنے پاس کیا ۔۔۔
یہ بات دماغ میں لانا بھی مت ،،،اب تم میرے پاس ہمیشہ کے لیے ہوں ۔۔!!
تم میری روح میں بس چکی ہوں تم سے دستبرداری خود کی جان لینے کے مترادف ہے۔۔۔”
لہجے کی کرختگی سے ذونیشہ سہمی ضرور پر اپنی بات پر رہی۔۔
“میں مر جاؤ گی پھر۔۔۔ اگر آپ مجھے نہیں چھوڑے گے۔۔”
اس کی آنکھیں آج سبز آنکھوں کا مقابلہ کر رہی تھی۔۔۔
میں تمہیں مرنے ہی نہیں دو گا۔۔پر سرار لہجے میں کہتے اس نے پچھے بیڈ پر اسے دھکا دیا۔۔
ٹھہرا تو وہ ظالم سلطان ہی تھا۔۔خطرناک تیور لیتے وہ اس کی طرف بڑھا۔۔
یہ آپ۔۔۔
اس خود پر جھکتے دیکھ وہ چلا اٹھی پر سلطان کی گرفت میں ہل بھی نہ سکی ۔۔۔
وہ فتح پانا چاہتا تھا چاہے زبردستی ہی کیوں ۔۔
اور آج اس نے ذونیشہ سلطان کو اپنی شدتوں سے باآور کروایا تھا۔۔کہ وہ صرف اور صرف سلطان کی ہے ۔۔۔
اور ذونیشہ قسمت کے ستم پر ہارتی خاموشی سے اپنا آپ اس کے حوالے کر گئی۔۔
★★★★
صبح کی روشن کرنیں کھڑی کے پٹ سے آتی سلطان کے چہرے پر پڑی۔۔
ماتھے پر ہلکے بل پڑے اور دلکش مسکان نے چہرے کا احاطہ کیا۔۔
وہ حسن کا بادشاہ تھا پر اسے عشق ہو گیا۔۔
اپنے پاس بیڈ پر ہاتھ رکھا لیکن خالی جگہ محسوس کرتے فورا آنکھیں کھولی۔۔
کسی انہونی کے احساس سے اس کا دل دھڑک اٹھا۔۔
کمفرٹر ہٹاتے جلدی سے اٹھا لیکن باتھ سے پانی گرنے کی آواز پر پر سکون ہوتے کھڑکی کے پاس کھڑا ہو گیا۔۔
صبح کی دلکشی چاروں اور بکھر گئی تھی۔۔
پرندوں کی چہچہاہٹ اور کوئل کے گیت وہ مسرور ہوا۔۔
“آخر تم بھی اس محبت جیسی بلا میں پھنس ہی گئے۔۔”
ایک سحر انگیز قہقہ گونجا ۔۔
وہ پاگل معلوم ہو رہا تھا جو خود سے بات کرتے قہقے لگا رہا تھا۔۔
اپنے پیچھے ہلکی آہٹ پر وہ مڑا۔۔
اسے اپنی ریڈ شرٹ اور ٹراؤزر میں دیکھ کر وہ منجمند رہ گیا۔۔
وہ کل سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
ہاں وہ ایک ساحرہ لڑکی تھی جو سلطان کے دل پر نقش کر گئی۔۔
سلطان اس کی طرف بڑھا بے خودی کی کیفیت میں۔۔
ذونیشہ سپاٹ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
آج اس کی آنکھیں بدل چکی تھی بے تاثر سی۔۔
ذونیشہ سلطان ۔۔۔ سرگوشی میں کہتے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔
پیچھے ہٹے ۔۔۔اس کا ہاتھ جھٹکتی نفرت سے گویا ہوئی۔۔
دور رہے نفرت ہو رہی مجھے خود سے اور آپ سے اب مجھے چھونے کی کوشش بھی مت کرے۔۔
کیوں بیوی ہو میری پورا حق ہے تم پر۔۔سلطان اس کی بے تکی بات پر غصے سے بولا۔۔
آپ کا دل بہل گیا ہو گا اب مجھے چھوڑ دے ۔۔
“یہ کیا اول فول بول رہی ہو ۔۔۔تمہیں کل رات اچھے سے بتا چکا ہوں کہ میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑو گا۔۔”
کیوں اب کیا ہے آپ نے کہا تھا کہ مجھے طلاق دے دے گے آپ اپنے راستے اور میں اپنے ۔۔۔
اس نے سلطان کی کہی بات یاد دلائی تو وہ لب بھینچ گیا۔۔
مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے۔۔سلطان نے نظریں چرائی۔۔
ہونہہ محبت ۔۔۔سر جھٹکتی وہ باہر کی طرف بڑھی۔۔۔
اس کپڑوں میں باہر جاؤ گی۔۔اس کا ہینڈل پر رکھا ہاتھ وہی رہا ۔۔
میرے خیال سے یہاں میں رخصت ہو کر نہیں آئی تھی جو کپڑے بھی ہوتے اغواہ کر کہ لائی گئی تھی۔۔ آج وہ تلخی سے بول رہی تھی۔۔
ابھی بیٹھو ادھر میں منگوا دیتا ہوں۔۔
سلطان نے پاس پڑے ٹیبل سے کیز اٹھاتے اور شرٹ پہنتے کہا۔۔
تو وہ بھی صوفے پر سپاٹ چہرہ لیے بیٹھ گئی۔۔
سلطان کے باہر جاتے ہی اس نے اپنا سر پیحھے ٹکایا۔۔
دروازہ ٹھک سے کھلا ۔۔
ذونیشہ جو ابھی پیچھے اپنی ماں بہن کو یاد کر رہی تھی ۔۔
کسی کے اندر آنے پر آنکھیں کھولی۔۔
مبین بیگم اسے سلطان کے کپڑوں میں دیکھ سر تا پیر سلگ اٹھی۔۔
وہ سلطان جو اپنی چیز کو ہاتھ لگانے پر سامنے والے کو مار دیتا آج یہ لڑکی اس کے کمرے میں پورے حق سے اس کے کپڑوں میں موجود تھی۔۔
اے لڑکی کیا ڈورے ڈالے ہے میرے بیٹے پر جو تمہارے گُن گا رہا ہے۔۔
مبین بیگم اس کے سامنے آتی غصے سے سرخ ہوتے بسے گھورتی بولی۔۔
میں نے جو ڈورے ڈالنے تھے ڈال دیے ہیں اب آپ اپنے بیٹے سے کہیں میری جان چھوڑے۔۔
وہ بھی لحاظ بلائے طاق رکھتی بولی۔۔
وہ تمہاری جان تب چھوڑے گا جب تم یو اپنے حسن کے جلوے دیکھانا بند کرو گی۔۔اسے سرخ شرٹ میں دھمکتا دیکھ وہ جل کر بولی۔۔
“آپ مجھے یہاں سے جانے دے ۔۔”
ان کے الفاظ پر ذونیشہ کی آنکھیں بھرا گئی۔۔
چلی جاؤ تاکہ میرا بیٹا ہمیں ہی غلط سمجھے۔۔؟؟
کیا بات ہے بی بی بڑی شاطر ہوں بھولی معصوم صورت اور ہاتھ کافی بڑی جگہ مارا ہے۔۔
مبین بیگم زہر اگلتی رہی لیکن وہ بے تاثر کھڑی تھی ۔۔
نم آنکھیں تھی جو ہمیشہ ہی ایسی ہی رہنے تھی۔۔
اگر آپ نے بول لیا ہے تو جا سکتی ہے یہاں سے ۔۔۔سختی سے کہتے اس نے دروازے کی طرف اشارہ کیا لیکن وہاں سلطان کھڑا تھا
دیکھا سلطان کیسے مجھے یہاں سے نکل جانے کا کہہ رہی ہے ۔۔فورا مبین بیگم نرمی سے کہتی سلطان کو بیچارگی سے دیکھا۔۔
آپ کیا کہہ رہی ہے یہ بھی بتائے نہ۔۔۔انہیں یوں بدلتے دیکھ اس نے حیرت سے کہا۔۔
میں نے کیا کہا بس یہی کہا کہ نیچے آ کر ناشتہ کر لو۔۔
بے نیازی سے کہتی وہ سنجیدہ ہو گئی۔۔۔۔
سلطان نے کچھ بھی کہے بغیر بیڈ پر بیگز رکھے ۔۔
اوکے مام آپ جائے ہم آ رہے ہیں۔۔انہیں پیار سے کہتے مسکرا کر دیکھا ۔۔
تو ساڑھی کا پلو سنبھالتے وہ باہر چلے گئی۔۔
ذونیشہ نے کانپتے ہوئے سلطان کو دیکھا جو سینے پر بازو باندھے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“کپڑے چینج کر لو ۔۔۔”
سپاٹ لہجے میں کہتے وہ اپنے کپڑے لیتا واشروم میں بند ہوا۔۔
اتنے شوپنگ بیگز بیڈ پر پڑے دیکھ کر وہ انگلیاں چٹخاتی سمپل فیروزی فراک لیتی ڈریسنگ روم میں چینج کرنے چلی گئی۔۔
کپڑے چینج کرتے اب وہ بیڈ پر کنفیورز سی بیٹھی تھی۔۔
جس طرح سلطان کی ماں کا رویہ تھا یقینا اب اس کا جینا حرام ہو گا۔۔۔
اس نے سوچ لیا تھا یہاں سے بھاگ جائے گی۔۔بہت دور سلطان کی پہنچ سے۔۔ہاں وہ یہی کرے گی۔۔دل ہی دل میں مطمئن تھی ۔۔
سلطان اپنے گیلے بالوں میں ٹاول رگڑتا باہر آیا اسے سوچوں میں گرا دیکھ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوتے اپنے بال سیٹ کیے۔۔
پرفیوم سپرے کرتے اس کی طرف بڑھا جو اب بھی کہیں گم تھی۔۔
چلو ۔۔
ہو۔۔۔۔ بے دھیانی میں اس نے اوپر دیکھا جہاں سلطان نک سک سا تیار کھڑا تھا ۔۔
“میں نے کہا کہ چلو۔۔۔!!!
دوبارہ کہنے پر سر ہلاتی بغیر اس کی طرف دیکھے باہر نکل گئ سلطان اس کے پیچھے چلتا بہت کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔
★★★★
بابا۔۔۔۔آپی نہیں آئی۔۔
بنو اکیلے باپ کو ہی گھر آتا دیکھ حیرت سے پوچھا۔۔۔
نہیں۔۔۔۔بنو اب اس کی شادی ہو گئی ہے سلطان صاحب کے ساتھ اب وہ وہی رہے گی ۔۔
کیا۔۔۔بابا یہ کیا کہہ رہے ہے آپ ۔۔؟؟ چارپائی سے اٹھتی وہ اس ٹک آئی۔۔
بیٹا تم نہیں سمجھ سکتی ابھی چھوٹی ہوں۔۔اس کے سر پر پیار دیتے وہ بیٹھ گئے۔۔
بابا آپی خوش تھی۔۔
ہاں بہت خوش تھی ۔۔۔شہزادی لگ رہی تھی ۔۔۔
دل میں اٹھتے درد کو برداشت کرتے مسکراتے کہا ۔۔
آپ نے بتایا نہیں کہ امی چھوڑ گئی ہے ہمیں وہ مجھ سے ملنے بھی نہیں آئی۔۔
اپنے باپ کو پانی پکڑاتی وہ بھیگی آواز میں بولی۔۔
اب وہ کبھی ادھر نہیں آئے گی سلطان کی ملکیت ہے وہ۔۔
پانی ساییڈ پر رکھتے وہ غیر مرکزی نقطے کو گھورتے بولے۔۔
کیا اب آپی کبھی نہیں آئے گی۔۔؟؟
نہیں اب نہیں آئے گی.. دعا کرو وہ خوش رہے۔۔
اسلم چارپائی پر لیٹتا ہاتھ آنکھوں پر رکھ گیا۔۔
اسے یاد تھا کل جب اسے کال آئی تھی۔۔۔
★★★★