65.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 09

گاڑی رکنے کی آواز پر وہ جلدی سے اترتی اندر کو دوڑی۔۔
سلطان نے سرد آہ بھرتے جیب سے سگریٹ نکالتے سلگایا۔۔
وہ بہت کم سگریٹ پیتا تھا پر اب وہ روزانہ ہی سموکنگ کرتا تھا۔۔
اس عشق کا روگ تھا غم بڑا تھا ۔۔
بوجھل قدموں سے اندر آتے اس نے مبین بیگم کے بند دروازے کو دیکھا وہ پہلے ہی آ چکی تھی پر اب ان کا روم لاک تھا۔۔
اس نے ایک نظر اوپر اپنے بند کمرے کو دیکھا اوپر جانے کے خیال کو جھٹکتے اس نے سٹڈی روم کی جلتی لائٹ دیکھی اپنے باپ کے سٹڈی روم کی طرف بڑھا یقینا وہ وہی کتابوں کا مطالعہ کر رہے تھے۔۔
سوچ کے مطابق ناک کرتے جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا افراز صاحب آئے طوفان سے انجان یا پھر جان بوجھ کر نظر انداز کیے وہ کسی کتاب کو پڑھ رہے تھے ۔۔
“اوہ ۔۔۔سلطان آؤ بیٹھو۔۔۔”
اپنی عینک اتارتے وہ اس کی جانب متوجہ ہوئے۔۔
سلطان سٹڈی ٹیبل سے کچھ فاصلہ پر اپنے باپ کے سامنے ایک چئیر رکھتے بیٹھ گیا۔۔
سگریٹ کو مسلتے اس نے اپنے گیلے بال ماتھے سے پیچھے کیے۔۔
“کب تک یوں مجنوں بننے کا ارادہ ہے۔۔”
فراز صاحب نے اس کی بگڑی حالت کے پیش نظر ذرا ناگواریت سے کہا۔۔
ان کی بات پر وہ دھیمہ سا مسکرایا۔۔
اپنی گہری سبز آنکھیں اس نے سامنے بک ریک پر ٹکائی۔۔
پاؤں جھلاتے وہ شدید کسی پریشانی میں گھیرا محسوس ہوا۔۔
“ڈیڈ۔۔یہ سگریٹ ہی تو اب سہارا ہے میرا،،،
اس نے ہنستے ہوئے آنکھ ونک کی پر اس کی آنکھوں نے مسکراہٹ کا ساتھ نہ دیا۔۔
افسوس سے سر ہلاتے افراز صاحب نے چائے کا مگ جو پاس ہی انہوں نے رکھا تھا اٹھاتے لبوں سے لگایا۔۔
جبکہ سلطان کی نظریں کسی غیر مرئی نقظے پر مرکوز تھی۔۔
ڈیڈ کیا واقعی میرا گناہ بہت بڑا ہے ۔۔۔؟؟
وہ ذرا نظریں اٹھاتا اپنے باپ کو دیکھتے الجھا سا بولا۔۔
ہممم۔۔۔سلطان بات لڑکی کی ہے ۔۔۔لڑکیوں کی عزت تو ویسے بھی کانچ کی مانند ہوتی ہے ذرا سی چوٹ پر نشان چھوڑ جاتی ہے تم نے تو اسے اغواہ کیا تھا۔۔سوچوں اس کے محلے والے کیا کیا باتیں بنا رہے ہو گے۔۔ایک دن باہر رہی لڑکی کو یہ معاشرہ قبول نہیں کرتا اور تمہارے پاس وہ کب سے ہے۔۔
افراز صاحب پین کو بک پر گھماتے سنجیدگی سے گویا ہوئے۔۔
“ڈیڈ میں نے نکاح کیا ہے اسے اپنی عزت بنایا ہے کیا یہ کافی نہیں۔۔!!
وہ ابھی بھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کر رہا تھا۔۔
“اچھا ٹھیک ہے تم غلط نہیں ہو۔۔کل کو کوئی اگر تمہاری بیٹی اٹھوا لے۔۔۔۔”
“ہاتھ نہ توڑ ڈالوں اس کے جو سلطان بہروز کی بیٹی کو چھوئے بھی،،،،
افراز صاحب کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ دھاڑا۔۔
“افسوس ہے ذونیشہ بھی کسی کی بیٹی ہے۔۔۔سوچنا ضرور تم کس جگہ غلط تھے۔۔”
میں خود غرض ہو بہت مجھے میرے خاندان کا عزت و مرتبہ بہت عزیز ہے پر کسی لڑکی کے ساتھ نا انصافی کرنا ۔۔۔میرا ضمیر یہ اجازت نہیں دے رہا۔۔تم اسے سمجھو اس کی خواہشات کو سمجھو۔۔۔تھوڑا وقت لگے گا اسے دوبارہ سہی ہونے میں پر تم کوشش کرتے رہو۔۔”
سلطان لب بھینچتے اپنی دماغ کی پھٹتی رگوں کو سنبھالتے وہاں سے نکلا۔۔
“کپڑے چینج کر لینا بہروز ٹھنڈ لگ جائے گی،،،
اپنے پیچھے آتی آواز کو نظر انداز کرتے وہ غصے سے اپنے اندر کے اشتعال کو دباتے اوپر چھت پر چلا گیا۔۔۔
بارش رک چکی تھی پر ٹھنڈی ہوائیں پسلیوں میں گھس رہی تھی۔۔
اسے پرواہ نہ تھی سگریٹ پر سگریٹ پیتے وہ سرخ انگارہ آنکھوں سے رات کے اندھیرے میں باہر جلتی روشنیوں کو دیکھ رہا۔۔۔
وہ اکلوتا اور لاڈلا تھا،،، بے حد خوبصورت تھا۔۔۔ایک دنیا تھی جو اس پر مرتی تھی۔۔ایک زمانہ تھا اس کا۔۔۔
دل جیتنے کا فن تھا اسے پر اسے اپنے ہی عشق کے ہاتھوں مات ہو رہی تھی ،،، اگر وہ پہلے والا بے حس سلطان بہروز ہوتا تو اسے فرق نہ پڑتا لیکن اب وہ اسیر تھا ذونیشہ کا اسے فرق پڑتا تھا اس کی نفرت سے ۔۔
اپنی جیب سے موبائل نکالتے اپنے اکلوتے دوست کا نمبر ملایا۔۔
جو کچھ ہی دیر بعد اٹھا لیا گیا۔۔
ہیلو۔۔۔!!!!
نیند میں ڈوبی آواز سنتے سلطان نے دانت کچکچائے۔۔
ابھی کہ ابھی اگر تم ادھر حویلی کی چھت پر نہیں آئے تو کہیں جانے کے قابل نہیں رہو گے۔۔۔
سلطان کی اکھڑ تیز دھاڑ سنتے وہ بستر سے بدک کر اٹھا۔۔۔
“تیرے جیسا دوست خدا دشمن کو بھی نہ دے۔۔”
غصے سے بڑبڑاتے کان سے لگے موبائل کو آف کرتے وہ اپنی چادر پکڑے باہر نکلا۔۔
اتنی سردی تو نہیں تھی پر بارش کے بعد چلتی ہوائیں خاصی سرد تھی اور تھا بھی رات کا پہر۔۔۔
اپنی گاڑی کو حویلی کے رستے پر ڈالتا ہزار گالیاں سلطان کو دے چکا تھا جس نے اس کی نیند خراب کی۔۔
“کیا موت پڑ گئی آدھی رات کو جو مجھے ادھر مرنے کو بلا لیا۔۔۔اس ٹائم تو میری گرل فرینڈ بھی فون کر کہ کہتی نہ ۔۔”بے بی آ جاؤ” تو میں اس پر بھی دو حروف بھیج کر سو جاتا۔۔۔
چھت پر آتے ہی اس نے بولنا شروع کر دیا جس پر سلطان نے ایک ناگوار نظر اس پر ڈالی۔۔
“منہ بند رکھوں ورنہ ایک اور دانت ہاتھ میں آجائے گا۔۔”
تیوڑی چڑھائے اس نے چھت پر بنے کمرے کی جانب رخ کیا۔۔
وہ حویلی کی سب سے آخری منزل پر تھے تیسری منزل پر جس پر صرف ایک ہی کمرہ تھا۔۔
بیڈ پر بیٹھتے اس نے اپنے شوز اتارے۔۔۔
“کیا ہے بیٹھ جاؤ اب۔۔”
سلطان اسے اپنے سامنے کھڑا پاگلوں کی طرح گھورتے دیکھ بولا۔۔۔
میں دیکھ رہا ہو کیا یہ وہی سلطان ہے جس کے کپڑے پر ہلکی سی سلوٹ بھی آ جائے تو حویلی سر پر ہوتی تھی اور آج وہی سلطان بے نیاز سا بیٹھا ہے خیر تو ہے۔۔۔طبیعت ٹھیک ہے تیری۔۔۔
اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے وہ بے چینی اور پریشانی سے بولا۔۔
“ذلیل انسان میں ادھر پریشان ہو تمھیں مزاق سوجھ رہا ہے ۔۔
اس کا ہاتھ جھٹکتے وہ سختی سے بولا۔۔
“اچھا بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔۔”
ساحر نے سیریس ہوتے پوچھا۔۔
یار میں ذونیشہ کو نہیں چھوڑ سکتا اب۔۔۔
نظریں نیچے کیے وہ لب کچلتا بولا۔۔
کسی نے ایسے ہی نہیں کہہ دیا یہ عشق لاڈلوں کےبس کی بات نہیں۔۔۔۔
اس نے طنزیا اس کی حالت دیکھتے پاس بیڈ پر بیٹھتے کہا۔۔
“میں کہہ رہا ہوں ساحر تیرا دانت ٹوٹ سکتا ہے۔۔۔!!!
بیڈ پر گرتے وہ ذرا سنجیدگی سے بولا۔۔
“اچھا تم بھابھی سے معافی مانگ لو اپنے کیے کی۔۔۔”
اس نے آرام سے مشورہ دیا پر سلطان کے ماتھے پر ڈھیروں بل پڑے۔۔۔
کیا بہروز سلطان نے آج تک کبھی معافی مانگی نہیں نہ تو اب کیوں مانگو۔۔۔؟؟؟
بے نیازی سے کہتے اس نے شانے اچکائے۔۔
تو آج سے پہلے کبھی عشق کیا نہیں نہ تو پھر آرام سے معافی مانگ غلطی تیری ہی ہے زیادہ ہیرو بننے کی ضرورت ہی کیا تھی آرام سے گھر جا کر رشتہ لیتے پر تم تو کسی فلم کے ہیرو بنے اپنی دلھنیاں کو اٹھا لائے۔۔۔
ساحر نے ہاتھ نچا نچا کر اسے اچھی خاصی تپ چڑھا دی۔۔
ساحر میں کہہ رہا ہوں تیرا دانت ٹوٹ جانا ہے۔۔۔دانت پیستے اس نے بیٹھے ہوئے ساحر کی کمر پر پنچ جڑا۔۔۔
مجھے یہاں مارنے کے لیے بلایا ہے ۔۔؟؟
درد برداشت کرتے وہ صدمے سے بولا۔۔۔
ناچاہتے ہوئے بھی اس کی شکل دیکھتے سلطان کا مسحور کن قہقہ گونجا۔۔۔
“نہیں تجھے یہاں میں نے اس لیے بلایا ہے کہ اسلم مطلب ذونیشہ کے والد صاحب اب ادھر کام پر نہیں آتے تو تم انہیں اچھی سی جاب ڈھونڈ کر دو اور ذونیشہ کی چھوٹی سسٹر اس کے سکول کی فیس بھی ادا کرنی ہے جو تم کرو گے کل۔۔۔”
سلطان نے آنکھیں موندیں اسے کام بتایا جس پر وہ منہ بناتا اٹھتے الماری سے کمفرٹر نکالتے بیڈ پر رکھا۔۔۔
سلطان کپڑے بدل یہ گیلے ہے۔۔۔ساحر اسے یونہی سوتے دیکھ بلند آواز میں چیخا۔۔
غنودگی میں جاتا بہروز ہڑبڑا کر اٹھا۔۔
“تیرا دانت ٹوٹنا ہی ٹوٹنا ہے ۔۔۔”
اس پر جھپٹتے اس نے لڑائی شروع کی۔۔
کئی منٹ تک بیڈ جنگ کا میدان بنا رہا آخر کار دونوں ہی ہار مانتے لیٹ گئے۔۔
سلطان بھی کچھ وقت کے لیے اپنی ٹینشن بھولاتا کپڑے بدل کے سکون سے لیٹ گیا۔۔۔۔
دوست واقعی غم و پریشانی میں اچھے ساتھی ہوتے ہے ۔۔
★★★★
سرخ چہرے سوجھے پیوٹے سفید رنگت میں گھلی زردی وہ بلیک فراک میں مبلوس نازک سی گڑیا خود سے ہی روٹھی روٹھی لگ رہی تھی۔۔
ایک وقت کو اس کا دل خوف سے لرز اٹھا تھا جب سلطان نے ٹریگر دبایا تھا۔۔
اسے کچھ نہیں ہوا جانے کیوں اس کے پورے جسم میں ایک سکون سرائیت کر گیا تھا۔۔
کچھ بھی ہو پر وہ قاتل نہیں بننا چاہتی تھی۔۔
ساری رات وہ انتظار میں تھی شاید بہروز آ جائے پر وہ نہیں آیا۔۔
دل اسے دیکھنے کا خواہا تھا پر وہ خاموش تھی ۔۔
اپنے دل کی بدلتی کیفیت پر وہ حیران تھی جو اس ستم گر کو سہی سلامت آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتا تھا۔۔
ساری رات آنکھوں میں کٹی تھی۔۔
گیلے کپڑے تو وہ چینج کر چکی تھی پر اب بخار سے تپ رہی تھی۔۔
ایسے میں سلطان کی بے رخی اسے مار رہی تھی۔۔
دھیمے قدموں سے چلتی وہ باہر آئی۔۔
صبح صبح حویلی میں موت سا سناٹا تھا۔۔
ایک دم ہوا کے جھونکے کے ساتھ اس کی دل کی دھڑکنیں سسٹ پڑی۔۔
سرخ بھوری غزالی آنکھیں جیسے ہی سامنے اٹھی پلٹنا بھول گئی۔۔
سلطان جینز شرٹ اور کوٹ ہاتھ میں پکڑے نک سک سا تیار موبائل میں مگن آرہا تھا۔۔
براؤن بال ماتھے پر بکھرے اس کی وجاہت کو بڑھا رہے تھے،،،ہلکی بھوری داڑھی گھنی مونچھیں اور عنابی لب وہ دل ساکت کر دینے والا حسن رکھتا تھا۔۔
سلطان نے غیر معمولی احساس کے تحت اپنی سبز آنکھیں موبائل سے اٹھاتے سامنے دیکھا جہاں وہ دشمن جاں کھڑی اسے ہی تک رہی تھی۔۔
اچانک اس کے تاثرات سپاٹ ہوئے سبز آنکھے میں سرد پن چھا گیا۔۔
اس کی حالت سے انجان بنا وہ سائیڈ سے گزرتا چلا گیا۔۔
اپنے اندر کچھ ٹوٹتا محسوس کرتے اس کی آنکھیں بھرا گئی۔۔
ایک امید تھی وہ اس کی طبیعت کے بارے میں پوچھے گا ۔۔۔
ذونیشہ لب کچلتی واپس کمرے میں بھاگ گئی۔۔
کچھ دیر بعد نوکرانی اسے کھانا اور میڈیسنز دے گئی تھی۔۔
مطلب وہ جانتا تھا کہ اسے بخار ہے بس پوچھنا گوارہ نہ کیا۔۔
“میں بھی کچھ نہیں کھانا۔۔۔۔ ہوتا رہے مجھے جو مرضی ،،،،انہیں کونسا پرواہ ہے۔۔۔”
کھانا کی ٹرے پرے دھکیلتی کمفرٹر اوڑھتی لیٹ گئی۔۔
★★★★
“سلطان میں نے سنا ہے کہ تم نے اپنی حویلی میں کام کرنے والے معمولی سے مالی کی بیٹی سے نکاح کر لیا ہے۔۔؟؟؟
سلطان ابھی اپنی گاڑی میں بیٹھنے ہی والا تھا کہ حرا کی تمسخرانہ آواز پر ٹھٹھک کر رکا۔۔
اپنی عینک اتارتے وہ اس کی طرف مڑا۔۔
بالکل تمہیں آج پتا چلا،،،،، چلو شکر ہے پتا چلا گیا،،،
گاڑی سے ٹیک لگاتے اس نے مزاج کے برخلاف خوشگوار لہجے میں کہا۔۔
سلطان خالہ کہہ رہی تمہیں اسے جلد طلاق دے دو گے۔۔
سلطان کو دیکھتی اس نے آبرو اچکاتے پوچھا۔۔۔
“یہ تمہاری خالہ اور تمہاری غلط فہمی ہے مس حرا اسفندخان۔۔۔”
دل جلا دینے والی دلکش مسکراہٹ کے ساتھ اس نے جواب دیا۔۔
میں یہی پر ہوں ایک ماہ تمہاری دلہن کے ساتھ انجوائے کرو گی۔۔میں بھی تو دیکھو آخر کونسی لڑکی ہے جس نے سلطان بہروز کو پاگل کر دیا ہے۔۔۔”!!
سینے پر ہاتھ لپیٹے وہ سلطان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے جرات سے بولی۔۔اس کی آنکھیں کچھ اور ہی بول رہی تھی پر سلطان سر ہلاتے اپنی گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔۔۔
“ایک بات یاد رکھنا حرا اسفند خان اسے آنچ بھی نہ آئے ،،، بہروز سلطان بہت پوزیسسو ہے اپنی ذونی کے معاملے میں،،،،
جاتے جاتے بھی وہ اسے جلا گیا تھا ۔۔
حسد اور جلن سے اس کا تن من جل اٹھا۔۔
“سلطان صرف میرا ہے کسی مالی کی بیٹی کا نہیں۔۔۔!!
★★★★