65.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 01

★★★★★★
ماتھے پر بکھرے پسینے سے نم براؤن بال عقاب سی تیز آنکھیں سامنے کھڑے دیو کی سی قدو قامت والے موٹے شخص پر ٹکائے مغرور کھڑکی ناک سے پسینے کا قطرہ نیچے گرا ۔۔۔تو کچھ پیچھے ہوتے وہ مقابل ریسلر پر کودا۔۔
وہ شاید حملہ کی توقع کر رہا تھا لیکن خود پر اسے گھٹنوں کے بل گرنے سے وہ بھاری وجود سمیت نیچے گرا۔۔
کچھ ہی دیر بعد ہر طرف سلطان کے نعرے گونج اٹھے ۔۔۔
اور وہ فتح مندی سے مسکراتا اپنی ٹرافی والاہاتھ اوپر لہرایا۔۔
رنگ سے باہر آتے وہ اپنے فین کے درمیان سے گزر رہا تھا لڑکیوں سے وہ کوسوں دور رہنے والا شخص تھا۔۔اب بھی صرف لڑکوں سے ہاتھ ملاتا باہر چلا گیا اپنے روم میں۔۔
“سلطان بہروز آپ کے والد صاحب آئے ہے۔۔”
وہ جو ٹاول سے پسینہ صاف کر رہا تھا گارڈ کے بتانے پر آنکھیں گھماتے باہر گیا اب یقیناً ایک لمبا لیکچر ملے گا۔۔
سلطان بہروز شرٹ لیس اپنے باپ کے سامنے پانی کی بوتل کومنہ لگائے کھڑا تھا اور اس کا باپ افسوس سے اپنے اکلوتے بیٹے کو دیکھ رہے تھے جو نا صرف خود سر بدتمیز بلکہ انتہا کا ڈھیٹ تھا۔۔
“ہم نے آپ کو کہاتھا کہ اس ریسلنگ میں مت آیا کرو لیکن تم زور ادھر ہی مرتے ہوں۔۔۔ ” وہ دونوں روم میں اکیلے تھے اس کا باپ صوفہ پر کروفر سے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے اپنے بیٹے کی حرکات ملاحضہ کر رہے تھے جو سٹینڈ سے ٹیک لگائے پانی کی بوتل کو خالی کر چکا تھا۔۔۔
“ڈیڈ میں کتنی بار کہو ریسلنگ جنون ہے میرا نہیں چھوڑ سکتا میں ۔۔۔”!!
وہ تیوڑی چڑھائے گویا ہوا۔۔
“جنون گیا بھاڑ میں آئے دن کوئی نہ کوئی گہری اندرونی چوٹ تمہیں لگ جاتی ،،،میرے بیٹوں کی یہاں لائن نہیں لگی ہوئی جو تمہیں کچھ ہو گیا تو کچھ فرق نہیں پڑے گا ۔۔۔انہوں نے گرجتے ہوئے اسے گھورا جو صاحب آرام سے کان کھجاتے ادھر ادھر کا جائزہ لے رہے تھے جیسے اس سے اہم کوئی کام ہی نہ ہو۔۔
ڈیڈ کس نے کہا تھا مجھ اکیلے کو پیدا کرے ،،، تنگ آگیا ہو سن سن کہ اکلوتے ہوں یہ نہ کرو،،، اکلوتے ہوں وہ نہ کرو،،،، بھئی میں کہا تھا مجھے اکلوتا رکھو۔۔۔وہ خاصا چڑتے ہوئے بولا جس پڑ اس کا باپ اس سر پھرے کو دیکھ کر رہ گیا سمجھانا تو فضول تھا اس لیے وہ اٹھے ۔۔
چلو گھر تمہاری ماں کو بتاؤ گا کہ ان کا سپوتر کیا کہہ رہا ہے اور کدھر سے لایا ہوں اسے۔۔۔سٹینڈ سے لٹکی اس کی شرٹ اسے پکڑاتے وہ آرام سے بولے۔۔کہ شرٹ پکڑ کر پہنتا بہروز اچھل ہی پڑا۔۔
ڈیڈ پلیز مام کو بالکل بھی نہیں ورنہ مرے پانچ گھنٹے تو کہی گئے نہیں اور آج تو روئی بھی میری ختم ہو گئی ہے ۔۔۔شرٹ کے بٹن بند کرتے بہروز نے پریشانی سے باپ کو کہا ۔۔۔
جس پر وہ نہ میں سر ہلاتےباہر نکل پڑے ۔۔
بہروز اپنے باپ کے ساتھ چلتا باہر آیا ۔۔
وہ دونوں ساتھ چلتے وقفہ بہ وقفہ مسکرا رہے تھے ۔۔
“ویسے ڈیڈ پچھلے ماہ سیکرٹری لڑکی تھی نہ ۔۔”؟؟؟؟
حویلی میں داخل ہوتے بہروز نے پر سوچ انداز میں کہا ۔۔۔اس کا باپ سمجھ گیا تھا کہ وہ وارننگ دے رہا ہے کہ اگر میرا بتایا تو وہ بھی بتا دے گا۔۔
دانت پیستے انہوں نے اپنے بیٹے کی پشت کو دیکھا جو سیڑھیاں چڑھتے رکا واپس مڑتے بھر پور مسکراتے فلائنگ کس اپنے باپ کی طرف اچھالتے اپنے کمرے میں بند ہو گیا۔۔
اس کا باپ تاسف سے سر ہلا گیا کبھی کبھی تو انہیں یقین ہی نہ آتا کہ یہ ان کا ہی بیٹا ہے جو ہمیشہ باپ کو آگے لگائے رکھتا تھا۔۔۔
★★★★★★★
زونیشہ بیٹا دیکھ اپنی امی کی طبعیت تو خراب نہیں ہوئی۔۔رات ساری بخار تھا۔۔
وہ چھوٹے سے کچن میں کھڑی روٹیاں بنا رہی تھی جب اس کا باپ اندر آتے پریشانی سے بولا۔۔
جی ابو ابھی دیکھتی یہ آخری روٹی ہے بس ۔۔۔اس پری پیکر نے مسکراتے کہا جس پر اس کا باپ سر ہلاتا چلا گیا۔۔
دوپٹے سے ماتھے پر آیا پسینہ پونچھتی اس نے گہرہ سانس بھرا ۔۔۔کالے سیاہ بالوں کی چوٹی کمر پر جھول رہی تھی غزالی بڑی بڑی براؤن آنکھیں تھکن سے چور تھی ستوان ناک میں پہنا لونگ اور نازک سرخ پنکھڑیوں والےہونٹ سرخ و سفید رنگت وہ نازک سی لڑکی اپنا کام کرتی اپنی ماں کے کمرے کی طرف بڑھی ۔۔
جہاں اس کی چھوٹی بہن ماں کے سر ہانے بیٹھی تھی۔۔
“بنو امی کا بخار کیسا ہے اب۔۔”وہ گیلے ہاتھ صاف کرتی بیڈ پر بیٹھی۔۔
آپی ابھی بھی تیز ہی ہیں ۔۔چھوٹی بہن ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھتی بولی تو وہ مسکرا کر اس کے پاس آئی۔۔
“ہو جائے گی ٹھیک امی۔۔”ابھی وہ کہہ ہی رہی تھی کہ اس کی امی کی طبیعت بگڑ گئی۔۔
باباجلدی آئے۔۔۔اس کی چیخوں پکار پر اسلم دوڑتا آیا کچھ ہی دیر میں وہ سب انہیں لے کر ہوسپیٹل پہنچ گئے۔۔
اسلم باہر کھڑا پریشانی سے چکر لگا رہا تھا اس کا مالک اسے نوکری سے نکال دے گا اگر وہ نہ گیا اور یہاں ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ نہیں جانے اگلے دو گھنٹے ۔۔
وہ ایک معمولی سا مالی تھا جسے سلطان کے باپ نے رکھا تھا جبکہ سلطان کو کوفت تھی ان غریب لوگوں سے۔۔
اپنے باپ کو پریشانی میں دیکھ کر زونیشہ اپنے باپ کے پاس آئی،،اس نے کچھ پوچھا نہیں پریشانی کی وجہ وہ بھی جانتی تھی۔۔
بیٹا اگر یہ نوکری چلے گئی تو تیری ماں کا علاج نہیں ہو پائے گا اور جتنے پیسے یہاں سے ملتے ہے کہی سے نہیں ملنے۔۔
میں چلے جاتی ہوں آپ امی کے پاس رہے ابھی ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔وہ حساس دل لڑکی دھیما مسکراتی بولی۔۔
اتنی پریشانی میں بھی اس کے لب مسکرا ہی رہے تھے ۔۔
بیٹا دھیان سے کوئی کام غلط نہ کرنا چھوٹے صاحب غصے کے بہت تیز ہے۔۔اس سمجھاتے وہ بھیج چکا تھا جبکہ خود ڈاکٹرز کے پاس چلا گیا جس نے انہیں بلایا تھا۔۔
★★★★★★
چھوٹے مالک ۔۔ووہ ۔۔۔۔۔”
“یہ ہکلا کیوں رہے ہوں بکو جلدی ۔۔۔”گہری سبز آنکھیں آگ کے شعلے برسا رہی تھی ۔۔اس کی دھاڑ پر ملازم نے حلق تر کرتے اپنے مالک کو دیکھا ۔۔
“مالک جی اسلم آج نہیں آیا اس کی بیوی بیمار تھی ہسپتال گیا ہے لے کر ۔۔آپ نے جو پودے منگوائے وہی پیچھے گارڈن میں پڑے ہیں ،،، اس کی دھاڑ پر سہمتے ایک ہی سانس میں سب کچھ بتایا۔۔۔ جس پر اس کی ماتھے پر بلوں کا جال بکھر گیا۔۔۔
“یعنی سلطان بہروز کے حکم کی نافرمانی کی گئی۔۔۔”
میں اس کی سزا خود منتحب کرو گا،،، ایسی مار مارو گا اسلم کو دوبارو کبھی سلطان بہروز کا حکم ٹالنے کا سوچے گا بھی نہیں ۔۔۔وحشت بھری آنکھیں ملازم پر گاڑھے وہ سفاکیت سے گویا ہوا ۔۔وہ ملازم جانتا تھا کہ اب اسلم کا کیا حال ہو گا ۔۔۔”
” اس کا مالک سلطان بہروز جو اپنی حویلی میں گرتی چمچ کی آواز پر ملازم کے ہاتھ پاؤں توڑ سکتا تھا وہ اپنا حکم نہ ماننے پر کیا حشر کر سکتا تھا ،،ملازم کانپتا ہانپتا وہاں سے چلا گیا۔۔
بہروز اپنے ہاتھ میں چابی گھماتے گیٹ کی طرف چل دیا۔۔اس سے پہلے کہ وہ گیٹ کی دہلیز کو پار کرتا کوئی نازک سا وجود عجلت میں اندر داخل ہوا اور بہروز کے سینے سے ٹکرایا اس سے پہلے کہ وہ زمین بوس ہوتی بہروز کا بازو اس کی کمر کو سختی سے جھکڑ گیا۔۔۔۔
ڈرنے کے خوف سے آنکھیں سختی سے بند کیے گہرے سانس بھر رہی تھی لیکن خود کو کسی کی گرفت میں پاتے اس نے اپنی بھوری آنکھیں کھولی جو غصے سے بھری سبز آنکھوں سے ٹکرائی اس کا غصہ محسوس کرتی اس کے وجود میں سرد لہر دوڑ گئی۔۔
بہروز اس نازک روئی جیسے وجود کو جھٹکے سے اوپر کیا جو بامشکل اس جھٹکے سے سنبھلی۔۔
“کون ہوں تم۔۔”اوپر سے لے کر نیچے تک اسے گھورتے اس نے پوچھا۔۔اس کے تیور دیکھ کر ہی اس کے حواس قابو میں نہیں آرہے تھے پھر اب اس کا تشویشی لہجہ اس کی آنکھیں بھرا گئی ۔۔
“سر۔۔ر۔۔جی۔۔وہ۔۔۔میں۔۔۔آپ۔۔کے۔۔ملازم۔۔اسلم۔۔کی۔۔۔بیٹی۔۔ہوں۔۔ان۔۔کی۔جگہ۔۔آئی۔ہوں۔۔کام۔۔کرنے۔۔”!!
اس کا روعب ہی ایسا تھا کہ وہ لڑکھراتی اٹکتی اپنی بات بامشکل مکمل کر پائی۔۔اس کے ہکلانے پر ناگواری سے بہروز نے منہ موڑا لیکن وہ “اسلم کی بیٹی ہے ” یہ بات سنتے اس کی آنکھین چمک گئی اور ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ چھا گئی۔۔
“چلو تمہیں کام بتاؤ امید ہے تمہارا نازک سا وجود اس کام کا بوجھ اٹھا لے گا۔۔” استہزایہ کہتے اس کے بھیگے نین کٹوروں کو دیکھتے وہ پچھلے گارڈن کی طرف بڑھا۔۔
خود کو سنبھالتی وہ اس کے پیچھے چل دی۔۔ایک بڑا سا گارڈن جس میں شاید ہر طرح کا پودا موجود ہو گا اور اس نے پہلی بار اتنا حیران کر دینے والا گارڈن دیکھا تھا ۔۔
“یہ رہے پودے جو سامنے کیاری میں لگانے ہیں۔۔اور ایک بھی پودا خراب نہ ہوں ۔۔اگر ہوا تو تمہارے باپ کی ساری عمر اس پودے کی قیمت ادا کرتے ہی گزر جائے گی۔۔۔”
اسے یوں پاگلوں کی طرح گارڈن کو گھورتے دیکھ اس نے اپنے ازلی سرد لہجے میں کہا۔۔
اس کی آواز پر ہوش میں آتی اپنے پاس پڑے پودوں کے گملوں کو دیکھا تقریباً سات گملے جن پر چھوٹے چھوٹے پھول تھے وہ پھول کو دیکھتی قدرت والے کی بنائی گئی
اس چیز پر دھنگ رہ گئی ایک پھول سات رنگ کا تھا اور چھوٹا سا پھول نازک سی پتیوں والا یہ پھول اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر گیا۔۔۔
وہ اپنے سامنے کھڑی ہستی کو فراموش کیے اس میں کھو گئی ۔۔
بہروز غور سے اس عجوبے کے ایکسپریشن نوٹ کر رہا تھا اس کے خیال سے وہ پاگل ہی تھی جو پھول کو دیکھتی مسکرائے جا رہی ۔۔
“ہیلو لڑکی و کام کہا ہے کرو بغیر غلطی کہ۔۔”چٹکی بجاتے اس نے آنکھیں دیکھائی۔۔
“جی۔ی۔سر۔۔او۔۔کے۔۔۔۔” اپنا حجاب درست کرتے وہ نیچے بیٹھ گئی۔۔
“شاید اس کا دماغی توازن درست نہیں۔۔”اپنی سوچ پر مطمئن ہوتا۔۔ وہ تھوڑی دور سائیڈ پر پڑی چئیر پر بیٹھ گیا۔۔ وہ چاہتا تھا یہ لڑکی کوئی غلطی کرے اور وہ اس کی سزا اس کے باپ کو دے دگنی کر کے۔۔
اسے وہاں سے جاتے دیکھ اس نے جھکتے اس پھول کی
نازک پتیوں پر اپنے سرخ چھوٹے ہونٹ رکھے اسی طرح سب پھولوں کو چومتی وہ کھلکھلا کر ہنسی یہ جانے بغیر کوئی اس کی حرکتیں بڑے غور سے دیکھ رہا ہے۔۔
وہ بھی دلچسپی کے ساتھ اردگرد سے بے نیاز ہو کر۔۔۔
وہ بہت پیار سے ایک ایک گملا اٹھاتی کیاری میں رکھ رہی تھی اب وہ اپنے ہاتھوں سے گیلی مٹی کھودنے لگی جسے دیکھتے بہروز کو الجھن ہوئی۔۔
“اے لڑکی ہاتھوں سے کیوں مٹی کھود رہی ہوں”۔۔۔
اپنے عقب سے گرجدار آواز پر بوکھلاتی جگہ سے اٹھی لیکن جیسے ہی پیچھے مڑی عین سامنے والے کے سینے سے ٹکرائی اور دونوں ہاتھ اس کی وائٹ شرٹ پر نصب ہو گئے۔۔
پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے سرخ سفید ہاتھوں مٹی سے بھرے کو اس کی شرٹ پر دیکھتی اس نے نظریں اٹھائی جو وحشت غصے سے بھری سبز نظروں سے ٹکرائی۔۔یقینا اب وہ اس کا قتل کرے گا۔۔
بہروز اپنی فیورٹ شرٹ کو یوں گیلی مٹی سے خراب دیکھتے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے کھردرے سخت ہاتھوں میں دبوچا ۔۔
“عقل نام کی کوئی چیز نہیں ہے تم میں کیا ۔۔۔؟؟
بیوقوف لڑکی میری شرٹ خراب کر دی تم نے ۔۔”
وہ سختی سے اسے پکڑے دھاڑا۔۔
می۔۔ں۔۔صا۔۔ف۔۔کر۔۔دیتی۔۔ہوں ۔۔
اس کی دھاڑ پر سہمتی وہ بھیگے لہجے میں بولی ایسی سچوئیشن کا سامنا پہلی بار کر رہی تھی وہ تو کبھی گھر سے نہیں نکلی ایک دو بار اسی محل باپ کے ساتھ آئی تھی۔۔
اچھا کرو صاف۔۔۔
دانت پیستے اس نے ہاتھوں کو چھوڑ پھاڑ کھانے والے لہجے میں کہا۔۔
سرخ ہاتھوں پر اس کی انگلیوں کے نشان دیکھتی وہ روتی کانپتی اس کی شرٹ کو صاف کرنے کی غرض سے اپنی گندھے ہاتھوں سے ہی جھاڑ نے لگی۔۔۔
مٹی اترنے کی بجائے اور لگ گئی۔۔
“یہ۔۔نہیں۔۔اتر۔۔رہی۔۔آپ ۔۔شرٹ۔۔اتار۔۔دے۔۔میں۔۔دھو۔۔دیتی۔۔۔ہوں۔”پریشانی سے اسے اپنے قریب کھڑا دیکھ کر تھوڑا پیچھے ہوئی۔۔
“تمہیں ادھر میں شرٹ اتار کر دو سوچ لو پھر۔۔۔”بہروز اسے گہری نظروں سے دیکھتے بے تاثر چہرا لیا بولا۔۔
زونیشہ دو قدم اور پیچھے ہوئی۔۔وہ کچھ اور ہی سمجھ رہا تھا خفت سے اس کا چہرہ سرخ ہوا۔۔بے دھیانی میں ایک قدم اور پیچھے کیا اور پاؤں گیا گملے پر۔۔
اس کا پاؤں گملے سے لگتا مڑا خود کو بچانے کے لیے اس نے بے اختیاری میں بہروز کی شرٹ کو دبوچا ۔۔
بہروز جو بے خیالی سے ہی کھڑا تھا اس کے یوں کھینچنے پر ان بیلنس ہوتے اس کے ساتھ ہی پیچھے گرا۔۔
خود پر اتنا وزن برداشت کرتی وہ کراہ اٹھی لیکن ایک لمس پر اس کا دل دھک سا رہ گیا۔۔
بہروز جو اس کے اوپر گرا تھا اچانک اس کے ہونٹ بالکل اس کے گلابی ہونٹوں پر لگے۔۔
ان ہونٹوں کی نازکی پر بہروز نے انجانے میں یہ لمس محسوس کرتے آہستگی سے اپنے لبوں کو جنبش دی۔۔
اور خوف و وحشت سے فق چہرے والی لڑکی کو دیکھا جو کسمساتے اسے پیچھے کرنے کی تگ و دو میں تھی پر اس کے نازک سے ہاتھ کہا اس چٹان جیسے شخص کو ہلا بھی سکتے ۔۔آنکھوں سے آنسو تواتر بہہ رہے تھے ۔۔
بہروز سنبھلتا اٹھا اور ماتھے پر بلوں کا جال بچھالیا۔۔
اٹھوں اب یا یہی سونے کا ارادہ ہیں۔۔۔؟؟
اور خود پر قابو رکھ لیا کرو ہر وقت ٹکراتی ہی رہتی ہوں۔۔
ابرو اچکاتے اس نے نیچے اسے لیٹا دیکھ کر اس کا شرمندگی سے جھکا سرخ چہرہ دیکھتے بولا۔۔
زونیشہ کہنی کے بل اٹھتی درد برداشت کر گئی ۔۔
اس کی کہنیاں پر جلن ہو رہی تھی جبکہ گملے کا کونا کمر پر لگا تھا۔۔ہونٹ بھینچے وہ شرم سے کانپ رہی تھی۔۔
یہ تم ہر ٹائم وائبریٹ کیوں کرتی رہتی ہوں۔۔اس کے نازک سراپے کو کانپتے دیکھ وہ ناگواری چھپائے بغیر بولا۔۔
کچھ بھی کہے بغیر آنسو صاف کرتی اس کے پاس سے گزرتی وہ باہر بھاگ گئی۔۔۔
عجیب لڑکی۔۔۔
وہ صرف اتنا ہی کہہ سکا اسر جھٹکتے اس نے نیچے دیکھا جہاں ایک گملا ٹوٹ چکا تھا جبکہ دوسرا کے پھول مٹی میں گرے پڑے تھے۔۔
گہری سانس بھرتا وہ اندر چلا گیا ۔۔۔
شرٹ کو اتار کر پھینکتے بیڈ پر اوندھے منہ گرا۔۔
آنکھوں کے سامنے کچھ دیر کا منظر لہرایا۔۔
تو فوراً آنکھیں کھول لی۔۔۔
نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبائے تکیہ میں منہ دیے لیٹ گیا۔۔
“ڈیم اٹ یارر۔۔۔” تکیہ غصے سے نیچے پھینکتا وہ اٹھا ۔۔۔
وہ جھنجھلایا سا اپنے جم روم میں چلا گیا۔۔
اس کا ارادہ اب پنچنگ بیگ پر اپنا غصہ اتارنے کا تھا جو بلاوجہ اس لڑکی پر آرہا تھا۔۔
★★★★★★★★