Dil e Be Reham by Mahi Rajpoot readelle50027 Episode 12
Rate this Novel
Episode 12
کھٹ پٹ کی آوازوں سے اس کے ماتھے پر شکن ابھری۔۔
پر مسلسل آتی آوازوں سے تنگ آکر اس نے اپنی آنکھیں کھولی۔۔
سلطان بہروز ہمیشہ کی طرح بے نیازی کے ساتھ بلیک فور پیس پہنے خود پر پرفیوم سپرے کر رہا تھا ۔۔
وہ شخص مقابل کو پل میں زیر کر دینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔۔
چند لمحوں کے لیے تو ذونیشہ بھی یک ٹک اس کے وجیہہ چہرے کو دیکھتی رہی۔۔۔
“جلدی اٹھو اور پانچ منٹ میں ریڈی ہو کر نیچے آجاؤ ۔۔۔!!
اس کی گھمبیر ساحرانہ آواز پر ذونیشہ کی پلکیں بھیگی۔۔
جبکہ سلطان نے ایک نظر اس پر ڈالتے باہر چلا گیا۔۔
وہ اپنے کیے کی معافی مانگنا چاہتی تھی پر سلطان رکے بغیر چلا گیا۔۔
ان دونوں کا رشتہ ایک سوالیہ نشان تھا ہر روز ایک دراڑ آرہی تھی ۔۔
وہ پریشان تھی کہ اب سلطان کیا کرے گا۔۔
سادہ سا سوٹ پہنتی بلیک چادر اوڑھے باہر نکلی۔۔۔
“بات سنو لڑکی۔۔۔!!!!
مبین بیگم کی کڑکڑتی آواز پر اس نے حلق تر کیے ۔۔۔
اپنی ساڑھی کا پلو سنبھالتی وہ اس کے سامنے کھڑی ہوئی جو انگلیاں چٹخاتی ڈری سہمی کھڑی تھی۔۔
” تم جانتی ہو کہ سلطان ہمارے خاندان کا اکلوتا وارث ہے ،،،
وہ جو کہتا ہے وہی ہوتا ہے ،،اس کے منہ سے نکلنے والی کوئی بھی بات ہوں پوری ضرور ہوتی ہے تم بھی اس کی ضد ہو ،،،وہ تمہیں چاہتا ہے یا دل لگی ہے میں نہیں جانتی پر میرا بیٹا ان دنوں بہت بکھر سا گیا ہے ،، مجھے میرے سلطان سے بڑھ کر کچھ عزیز نہیں ہے اس کی درگو حالت میں نہیں دیکھ سکتی اس لیے لڑکی ہم تمہیں اپنی بہو بنانے کو راضی ہے ۔۔۔”
چہرہ موڑے وہ خود سرد لہجے سے بولی جبکہ سر جھکائے کھڑی ذونیشہ ان کے آخری الفاظوں پر حیرت سے سر اٹھایا ۔۔۔
کیا اسے خوش ہونا چاہیے ۔۔؟؟
وہ ساکت سی ہی کھڑی تھی ۔۔۔
“پر ایک بات یاد رکھنا میرے بیٹے پر قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے تم صرف میرے بیٹے کی پسند ہے میری نہیں۔۔
اپنے لفظوں کا زہر پھینکتی وہ وہاں سے چلی گئی جبکہ ذونیشہ دھیمے قدموں سے باہر آئی۔۔
سلطان گاڑی سے ٹیک لگائے سینے پر ہاتھ باندھے ماتھے پر تیوڑی چڑھائے سرخ سبز نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
ذونیشہ چال تیز کرتی گاڑی کا فرنٹ دوازہ کھول کر بیٹھ گئی۔۔
سلطان نے نارمل سپیڈ سے گاڑی چلاتے وقفہ بہ وقفہ اس پر نظر ڈالے رکھی۔۔
اپنی چارد کو انگلی پر لپیٹتی وہ بار بار چور نظر اس پر ڈال لیتی سلطان نے نوٹ کیا وہ کچھ کہنا چاہتی تھی۔۔
“سوری سلطان میں وہ سب ۔۔۔۔!!!
ابھی وہ بول ہی رہی تھی کہ سلطان نے گاڑی کو بریک لگاتے اس کی طرف جھکتے سختی سے اس کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھا۔۔۔
سرخ گہری سبز آنکھیں اس کی غزالی بھوری آنکھوں کے بے حد قریب تھی۔۔
“جو تم نے کرنا تھا کر لیا ،،،، اب اس بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ مجھے تمہاری خوشی دیکھنی ہے ،، جہاں تم خوش وہاں سلطان خوش ۔۔۔”
ماتھے کی پھولی رگیں اور برف لہجہ ذونیشہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی۔۔
بڑی بڑی آنکھیں حد درجہ پھیلی تھی اپنے اتنے پاس سے آتی اس کے پرفیوم کی خوشبو حواسو ں پر چھا رہی تھی۔۔
سلطان ایک نظر اس کی بے یقین آنکھوں میں دیکھتے دوبارہ گاڑی سٹارٹ کی ۔۔
پر اب کی بار اس کی سپیڈ حد درجہ تیز تھی۔۔
گاڑی کو روکتے اس نے گہری سانس ہوا کے سپرد کی۔۔
ذونیشہ اپنے گھر کے سامنے گاڑی رکتے دیکھ حیرانگی سے سلطان کو دیکھا۔۔
سلطان نے دوسری طرف سے دروازہ کھولتے ساییڈ پر ہوا۔۔
ذونیشہ لب کاٹتی باہر نکلے۔۔
ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کی ذات سوالیہ نشان بن گئی ۔۔
محلے کے لوگ کس قدر مشکوک نظروں اسے دیکھ رہے تھے۔۔
پر سلطان بے نیازی سے کھڑا تھا ۔۔
جیسے پرواہ ہی نہ ہو کون کیا سوچتا ہے۔۔
ذونیشہ نے جیسے ہی قدم دندر بڑھایا ۔۔۔
بنو دوڑتی اس سے لپٹی۔۔۔
“آپی۔۔۔۔آپ کو بہت مس کیا میں نے ۔۔۔!!؛
خوشی سے نم آنکھیں لیے وہ چہکتی بولی جس پر وہ اس کا ماتھا چومتی سلطان کے سرد ترین تاثرات کو الجھن ناسمجھی سے جانچتی اندر گئی ۔۔
جبکہ سلطان وہی کھڑا تھا اکیلا۔۔۔
وہ اپنی خوشیاں رکھنے آیا تھا اس چوکھٹ پر ۔۔۔
وہ لڑکی اس کی سانس سانس میں گھل چکی تھی اس سے دور رہنا سوہان روح تھا ۔۔
پر اس کا ایک تھپڑ سلطان کے وحشی پن کو جگا گیا ۔۔۔
وہ اب ذونیشہ کو چھوڑ رہا تھا۔۔
سینے میں مچلتے تڑپتے دل کی فریاد سنے بغیر
وہ اپنے قدم پیچھے لیتا باہر نکلتا چلا گیا۔۔
اس بار بھی اس نے اپنی مرضی کی تھی رشتے بنانے اور توڑنے میں بہروز سلطان ذرا جلد باز تھا۔۔
گاڑی گاؤں کی کچی سڑک سے نکلتی بہت دور نکل گئی۔۔
★★★★★★
چار ماہ پندرہ دن دس گھنٹے پنتالیس منٹ سولہ سیکنڈ
کافی وقت ہو گیا ہے تم سے ملے مسز سلطان ،،،”
پر تمہیں ترس نہیں آتا آخر ہو تو بہروز سلطان کی بیوی نہ۔۔”
اندھیرے کمرے میں صبح کی ہلکی ہلکی سورج کی کرنیں کھڑکی سے آتی ایک خوبصورت تصویر پر پڑ رہی تھی۔۔
ایک لڑکی جو مسکراتے چہرے کے ساتھ چمکتی نگاہوں میں خواہشوں کے جگنو لیے مسکرا رہی تھی۔۔
جبکہ شرٹ لیس صوفے پر بیٹھے سلطان کی نظر یک ٹک اس کے چہرے کو نہار رہی تھی۔۔
یہ تصویر اس نے بہت پہلے لی تھی ۔۔
پر اب روز اس سے باتیں کرنا شکوے کرنا اس کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا تھا۔۔
ان چار ماہ کے دروان بہت کچھ بدل چکا تھا۔۔
مبین بیگم سلطان کی حالت دیکھتی روتی تھی اس کا بس چلتا تو آج ہی ذونیشہ سے معافی مانگ کر اپنے بیٹے کی خوشیاں لے آتی۔۔
ان کے جگر کا ٹکرا آج بے حس بنا ایک انسان تو رہا ہی نہیں تھا۔۔حرا کو وہ خود دوبئی بھیج چکی تھی واپس اس کے ماں باپ کے پاس۔۔ وہ مزید سلطان کو تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی۔۔
ایک ماں اپنے بیٹے کی محبت میں ہار گئی تھی۔۔
ایک ایسا خول تھا جس میں سطان بہروز قید ہو چکا تھا
رات گئے گھر آتا تو کمرے میں بند رہتا صبح جلدی اٹھتے غائب ہو جاتا۔۔
ماں کی ممتا تڑپی تو سلطان سے معافی مانگی پر سلطان نے نرمی سے انہیں سمجھاتے کچھ بھی کرنے سے بعض رکھا۔۔
اب کی بار وہ نہیں چاہتا تھا کہ ذونیشہ سلطان کو اس کی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچے۔۔
اپنی شرٹ پہنتے وہ آج ریسلنگ میں جا رہا تھا۔۔
بیٹا بہروز ۔۔!!!
اسے لاؤنج سے انجان بنا گزرتے دیکھ مبین بیگم نے آواز دی۔۔
بڑھتے قدم رکے تو اپنی گہری سبز وحشت بھری آنکھیں گھماتے سلطان نے آبرو اچکایا۔۔
“بیٹا میں بہو کو گھر لے آتی ہے مجھ سے برداشت ن۔۔۔۔
ابھی وہ کچھ اور کہتی سلطان نے ہاتھ سے مزید بولنے سے منع کیا۔۔
ماتھے پر پڑے بل اور رف سا حلیہ وہ بہروز سلطان تو نہ تھا جو نک سک سا تیار رہتا۔۔
“مام جسٹ کالم ڈاؤن ابھی آپکا سلطان مرا نہیں ہے جو برداشت نہیں ہو رہا،، ٹھیک ہو میں جی رہا ہو میں،،، سب ٹھیک ہے آپ ٹینشن نہ لے۔۔
افراز صاحب کے سرد تاثرات سرے سے نظر انداز کرے وہ کڑوے لہجے میں بولتا بغیر مبین بیگم کی اگلی بات سنے باہر چلا گیا۔۔
★★★★
سلطان ۔۔۔سلطان۔۔۔
پسینے سے نم چہرہ لیے وہ جلدی سے اٹھی۔۔۔
جگ سے پانی گلاس میں انڈیلتی منہ کو لگایا۔۔
دوپٹے سے چہرہ صاف کرتی اپنے دل کی دھڑکنوں کو معمول پر لا رہی ٹھی۔۔۔
“نہیں ذونیشہ یہ محض خواب ے اور کچھ نہہیں۔۔وہ ٹھیک ہو گے،،،”
کچھ پانی کے چھینٹے منہ پر مارتی وہ باہر آئی۔۔
آج اسے کلینک جانا تھا چیک اپ کے لیے جس کے لیے تیار ہوتی اپنا پرس پکڑتی بڑی سی چادر سے خود کو چھپائے وہ تنگ گلیوں سے گزرتی رکشے پر بیٹھتی کسی کلینک کے پاس رکی۔۔
آنکھیں اب پیلی پڑ چکی تھی ان کی چمک مانند ہوگئی۔۔۔ دھیمے قدم اٹھاتی وہ اندر بڑھی چند لمحوں بعد ویسے ہی سر جھکائے باہر آئی۔۔
پر ہوا کا یک جھونکا آیا اور چہرے سے ذرا پلوں سرکا۔۔
زرد چہرہ تھکن سے چور آنکھیں اوپر اٹھیں تو گہری سبز آنکھوں سے ٹکرائی۔۔
ان کا تصادم اتنا زبردست تھا کہ دونوں کے دل دھڑک اٹھے۔۔
فضا خاموش ہو گئی۔۔
“یہ ٹکراؤ قدرتی تھا …
ہر طرف سناٹا چھا گیا سنائی دے رہی تھی تو صرف ذونیشہ کی چلتی تیز سانسوں کی آواز۔۔
“ذونی۔۔۔۔۔
سلطان نے آنکھیں موندیں اس کا نام جس محبت سے پکارا ذونیشہ کا روم روم کانپ گیا۔۔
ساڑھے چار ماہ بعد وہ اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔۔
بالکل پہلے کے جیسا خوبرو پر اس کی آنکھیں ۔۔
سبز آنکھیں جن سے اب وحشت ٹپک رہی تھی۔۔
وائٹ شرٹ بلیو کوٹ اور بلیوجینز میں موجود سلطان بہروز ذونیشہ سلطان کو درد برے ماضی میں کھینچ کر لے گیا۔۔
سلطان نے اپنی آنکھوں کی پیاس بجھاتے دیوانا وار اس کے چہرے کہ دیکھا۔۔
نظریں اس کے پہلے سے زیادہ کمزور وجود پر تھی۔۔
تم اپنا خیال نہیں رکھتی کیا ذونیشہ دیکھو کتنی کمزور ہو بیمار لگ رہی ہوں۔۔”
سلطان نے دھیمے سے کہا۔۔
ذونیشہ کو لگا اردگرد کا ماحول اچانک بدل گیا
سناٹا ختم ہو گیا ہر کوئی اپنے اپنے کاموں کو روا تھا۔۔
” آپ کو میری صحت کے بارے میں سوچنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے بہروز سلطان ۔۔۔ “
سپاٹ چہرے کے ساتھ بولتی وہ اپنے قدم دوسری طرف بڑھاتی جانے لگی۔۔
لیکن سلطان نے اس کی کلائی پکڑے روکا۔۔
آج دوبارہ سلطان بے اختیار ہوا تھا جو اتنے مہینوں سے دل کو تھپک تھپک کر سلا رہا تھا آج اسے سامنے دیکھ دوبارہ دھڑک اٹھا۔۔۔
اس کی جرات پر جہاں ذونیشہ کا دل دھڑکا وہی ہاتھ میں پکڑی فائل نیچے گرتی سلطان بہروز کے قدموں کے پاس گری. ۔۔
تم ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے۔۔!!!
سلطان نے بے چینی سے پوچھا۔۔
پیچھے مڑتے ذونیشہ نے اپنی بھوری آنکھیں اس کی آنکھوں میں گاڑھی۔۔
“یہ خیال ان چاہ ماہ کے دوران کیوں نہیں آیا مسٹر
بہروز ۔۔۔اب آپ کو میری ذات سے ہمدردی کرنے کی ضرورت نہیں۔۔!!
تلخی سے بولتی اپنے کلائی ایک جھٹکے سے چھڑوائی ۔۔
“پل پل تمھارا ہی تو خیال تھا مجھے،،، ایک تمھاری یاد ہی تھی جس سے میں غافل نہیں ہوتا تھا ۔۔۔
ایک ذونیشہ سلطان ہی تو تھی جو سلطان کے دل و دماغ پر اس طرح حاوی ہوئی کہ اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج کی گئی۔۔
اس نے دنیا پر حکمرانی کرنے والی بہروز پر حکمرانی کر لی۔۔
“کیا تمھیں مجھ پر رحم نہیں آتا ذونیشہ۔۔”
کیا تم واپس ،،،،
سلطان بہروز کے لہجے کے بکھرے پن اور آنکھوں کے والہانہ اظہار پر ذونیشہ طنزیہ مسکرائی۔۔۔
کیا آپ نے مجھ سے میری مرضی پوچھی،،؟؟؟؟
” کیا مجھے چھوڑنے سے پہلے میری رضامندی جانی۔۔
یہ آپ کا ہی فیصلہ ہے اب آپ مجھ سے شکوہ کیونکر کر رہے۔۔؟؟؟
فیصلے آپ کرتے ہے لیکن ان فیصلوں سے نقصان لوگوں کا ہوتا ہے۔۔
ذونیشہ نے بے دردی سے اسے وہ دن یاد دلایا جب وہ خود اسےچھوڑ کر آیا تھا۔۔
نہیں ذونیشہ سلطان تم اب کی بار غلط ہوں،،،،
اس بار سلطان نے نقصان اپنا کیا ہے پر تمھاری خوشی کی خاطر۔۔۔
اس کا ہاتھ پکڑتے وہ بے چینی سے گویا ہوا۔۔
ذونیشہ نے مزاحمت کرتے اپنے ہاتھ کو اس پر تپش گرفت سے آزاد کیا۔۔
گہرے سانس بھرتی وہ بوکھلا گئی۔۔
“آپ نے اگر مجھے چھوڑنا ہی تھا میری خوشی کی خاطر
تو اپنے نام کی بیڑیاں کیوں میرے پاؤں میں ڈالی ہے ابھی تک۔۔؟؟
ذونیشہ کے سوال پر جہاں سلطان خاموش ہوا وہی ذونیشہ نے نفرت سے منہ پھیرا۔۔۔
”یوں کہوں نہ آج بھی تم وہ ہی خود غرض بہروز سلطان ہوں جو صرف اپنی کرتا ہے بغیر دوسرے کی مرضی جانے۔۔!!
ذونیشہ نے تلخی سے کہتے اس کے سرد پڑتے تاثر بغور دیکھے۔۔۔۔
“مجھ سے الگ ہونا تمہاری خوشی تھی میری مرضی نہیں ذونیشہ بہروز سلطان ۔۔۔” اگر میں خود غرض ہوتا اور اپنی مرضی کرتا تو تم اس وقت میرے پاس ہوتی میرے قریب تر۔۔۔۔
لفظوں کو چبا چبا کر کہتے سلطان نے اپنی کائی جمی آنکھیں اس کے وجود پر گاڑھی۔۔
فائل ابھی بھی زمین پر پڑی تھی جبکہ وہ دونوں اپنی بحث میں اسے یکسر نظر انداز کر گئے۔۔
استہزایہ مسکراتے ذونیشہ ایک قدم آگے بڑھی۔۔
فائل سے لگتا اس کا پاؤں اس کے چہرے کی رنگت فق کر گیا۔۔
اگر یہ رپورٹس سلطان نے دیکھ لی تو ،،،،
یہ سوچ اس کے حواس جنھجنھوڑ گئی۔۔
جبکہ سلطان نے اپنی طرف بڑھتے اس کے قدم کے رک جانے پر اس کی سپید پڑتی رنگت دیکھتے نظریں آہستہ نے نیچے کرتے اس کے پاؤں کے پاس پڑی فائل کو دیکھا۔۔۔
اس سے پہلے کہ ذونیشہ کوئی پھرتی دیکھاتی سلطان نے فورا جھکتے فائل کو پکڑا۔۔
یہ ،،،، فا،،ئل ،، مجھے دے ۔۔۔۔!!!
ہکلاتےاس نے فائل جھپٹنی چاہی پر سلطان نے اس کی پہنچ سے دور کرتے فائل کو تجسس سے دیکھتے کھولا۔۔
پر جیسے جیسے وہ اندر موجود رپورٹس پڑھتا گیا اس کے آنکھیں بے یقین سی ذونیشہ کی طرف اٹھی ۔۔
جو حلق تر کرتی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔۔
سلطان نے قہر آلود نظریں اس کے کانپتے وجود پر گاڑھی اور ایک ہی جست میں اس کا ہاتھ پکڑتے اپنے ساتھ کھینچتا چلا گیا۔۔
گاڑی میں بیٹھا وہ ایک غلط نگاہ اس پر ڈالے بغیر گاڑی دوڑائی۔۔
چند ہی منٹ میں سلطان اسے دوبارہ اپنے ساتھ گھسیٹتے کھینچتے اپنے فارم ہاؤس لایا اور جھٹکے سے بیڈ پر دھکیلا۔۔
ایک سسکی ذونیشہ کے لبوں سے نکلی۔۔
پر سلطان کے اندر کے وحشی درندے کو کوئی اثر نہ ہو ا ۔۔۔
کمرے میں چکر کاٹتے وہ خود کو کمپوز کر رہا تھا یقینا اپنے غصے سے آج کوئی شدید نقصان کر سکتا تھا۔۔
اپنے بال ماتھے سے پیچھے کرتے اب قدم قدم چلتا ذونیشہ کے قریب آیا ۔۔
بیڈ پر ذرا پیچھے کھسکتی ذونیشہ کو آج یہ سلطان خوف میں مبتلا کر رہا تھا۔۔
یہ وہی سلطان کا روپ تھا جو اغواہ کرنے کے بعد تھا۔۔
“بہت غلط کیا ذونیشہ سلطان بہت غلط ۔۔”
مجھ سے یہ بات کیوں چھپائی کہ میں باپ بننے والا ہوں۔۔۔
یہ بات جاننے کا حق سب سے پہلے میرا تھا صرف میرا اور تم نے مجھ سے ہی چھپایا یہ ۔۔
سلطان نے اسے اپنے مقابل کھڑا کیا اور غصے سے غرایا۔۔
اپنے بازو پر اس کی وحشی گرفت محسوس کرتے اس کی آنکھیں بھیگی۔۔
غزالی آنکھیں گھنی مڑی بھیگی پلکیں کھولے اس نے سلطان کی گہری سبز آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔
کچھ تھا اس کی آنکھوں میں ایک اذیت رقم تھی ان خوبصورت دلنشیں آنکھوں میں کہ سلطان نے بے ساختہ گرفت ہلکی کرتے ان بھیگے نین کٹورے سے گرتا آنسو نرمی سے چن لیا۔۔
یہ عمل اس نے بے اختیار کیا تھا۔۔
جبکہ ذونیشہ آنکھیں بند کیے اس کے لمس سے کانپ گئی۔۔
ذونی ،،، کیا تم نے ابھی تک مجھے معاف نہیں کیا۔۔۔۔
تمام غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا ۔۔
اس کی گال نرمی سی ہاتھ کی پشت سے سہلاتے وہ بوجھل آواز میں بولا۔۔
اس کے پل پل بدلتے رنگ پر حیرت سے اس کا رویہ دیکھا جو اب محبت سے اس کے بال سنوار رہا تھا بڑی سی چادر اتارتے اس نے بیڈ پر رکھی ۔۔۔
اس کی غزال آنکھوں پر اپنا تپش زدہ لمس چھوڑتے اس کے ماتھے پر ہونٹ ٹکا گیا۔۔۔
آج اس کے تڑپتے دل پر شبنم کی پھوار ہوئی تھی۔۔۔
بے چین دل کو سکون ملا تھا۔۔
“من جانم تمھارے سامنے بہت بے بس ہوجاتا ہو۔۔
اب تمھیں کوئی سزا بھی دینا چاہو تو دل اس خیال سے بند ھونے لگتا ہے کہ اسکی ذونی کو تکلیف پہنچے گی۔۔۔
پر میں خوش ہو آج بہت زیادہ۔۔۔!!
شکریہ جانِ سلطان مجھے یہ خوبصورت تحفہ دینے کے لیے۔۔۔اس اپنے حصار میں لیتے وہ سرگوشی میں بول رہا تھا۔۔۔
جبکہ ذونیشہ آج مہینوں بعد اس کے قریب تھی اس کی خوشبو سانسیوں میں گھل کر اسے نئی زندگی کی نوید لگ رہی تھی۔۔۔
آہ۔۔کتنا مس کیا تھا اس نے یہ محبت بھرا حصار۔۔۔
اس کا نرم رویہ اس کا حصار وہ بے اختیار اس کے گرد اپنا حصار قائم کرتی اس کے سینے میں منہ چھپا گئی۔۔
سلطان نے اس کی کمر سہلاتے اس کے ردعمل پر حیران ہوتے ہولے ہولے لرزتے وجود کو محبت پاش نظروں سے دیکھا۔۔
“میں تب جانا نہیں چاہتی تھی ،،پر آپ مجھے چھوڑ آئے ،،،
میں بابا اور بنو سے مل کر بہت خوش تھی ،،، میں شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی آپکا ،،، میں باہر آئی آپ کو ڈھونڈنے آپ ادھر نہیں تھی گلی میں آپ کی گاڑی بھی نہیں تھی۔۔
اس پل مجھے شدت سے رونا آیا کہ آپ مجھے چھوڑ چکے ہے۔۔
بابا نے خاموشی سے مجھے بتا دیا کہ آپ مچھے یہاں چھو۔۔۔چھوڑ کر گئے ہے۔۔
مجھے لگا آپ سزا دے رہے ہے آپ کو تھپڑ مارا تھا اسکی مجھے لگا یہ سزا جلد ختم ہو گی پر ایسا نہیں ہوا۔۔
چند دن انتظار میں تھی مجھے امید تھی آپ آئے گے ضرور
،، پر میرا وہم تھا یہ آپ آئے ہی نہیں،،،آپ نے تو پلٹ کر دیکھا تک نہیں ،، آپ کے محبت کے دعوے مجھے جھوٹے لگنے لگے۔۔۔
محبوب سے دوری تو جان کا عذاب ہوتی ہے بہروز سلطان ،،
پھر آپ کیسے مجھے بھول گئے ،،، آپ کہتے تھے کہ آپ عشق کرتے ہے مجھ سے تو کیوں میری حالت سے بے خبر رہے۔۔۔
میں رات کو سسکتی تڑپتی کہ مجھے سکون آئے ،،، آپ کی محبت نے مجھے بھی روگ لگا دیا ،،، مجھے بھی محبت ہو گئی ایک بے رحم دل کے مالک سے ،،،
کتنی عجیب بات ہے نہ جس شخص نے ظلم کیا میں اس کی دیوانی ہو گئی،، ذونیشہ کو سلطان سے محبت ہو گئی۔۔۔
میری حالت بہت خراب تھی ڈاکٹرز نے کہا سٹریس نہ لے ،،
پر میں اذیت سے گزرتی اپنی آنکھوں کو بلا وجہ کے انتظار میں ڈال دیتی تھی۔۔
میری نظریں دروازے پر ٹکی رہتی کہ کبھی تو بے مہر کو رحم آئے گا اور وہ مجھے لے جائے گا۔۔
پر میں غلظ ثابت ہوئی۔۔
میری خوش فہمی دور ہو گئی۔۔اور آپ نہیں آئے ،،،”””
اس کے سینے پر جذب ہوتے اس کے آنسو اور ہچکولے کھاتا وجود اس کا اظہار اس کی تکلیف سلطان نے اس کے بالوں میں لب رکھتے سرخ نگاہوں سے اس کا چہرہ سامنے کیا۔۔
آنسوؤں سے تر اس کا چہرہ اسے دوہری اذیت دے گیا۔۔۔
“سوری فار ایوری تھنگ ،،،میں تمہیں خوش دیکھنا چاہتا تھا مجھے لگا تم میرے ساتھ خوش نہیں ہوں میں نے تمہارے خوشی کو ترجیح دی۔۔”
اس کے چہرے ہاتھوں میں بھرے کہا۔۔
ذونیشہ نے شکوہ کناں آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔
اور اس کے ہاتھ چہرے سے ہٹاتے اپنے آنسو صاف کیے۔۔
“تو ٹھیک ہے سلطان میری خوشی اب بھی یہی ہے ،،، میں نہیں ہوں گی آپکے ساتھ۔۔۔”
بے حسی سے کہتے اسے نے اپنی چادر دوبارہ اوڑھی۔۔۔
“اور تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں تمہیں جانے دو گا۔۔!!”
آبرو اچکاتے اسے پوچھا۔۔
یعنی آپ اب بھی اپنی ہی مرضی کرے گے ،،،؟؟؟
ذونیشہ نے غصے سے اسے دیکھا۔۔
“بس عادت ہو گئی ہے اب کیا کرسکتے ہے میں عادت سے مجبور ھو۔۔۔”
لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔۔
کچھ دیر پہلے ذونیشہ کے اظہار نے اس کو جتنا سکون دیا تھا سلطان تمام چیزیں بھولتا سکون سے کھڑا تھا۔۔۔
چلو آج تم دوبارہ اپنے اصل گھر جاؤ گی لیکن میں چاہتا ہوں کہ ،،،
اس کا بازو پکڑے اپنے قریب کرتے اس پر جھکتے کان کے قریب سرگوشی کی ۔۔۔ذونیشہ نے بے اختیار اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں جھکڑا۔۔
کہ ۔۔؟؟؟؟
ذونیشہ نے آنکھیں کھولے اس سے پوچھا۔۔
جس پر وہ دلکشی سے مسکراتا اسے دیکھنے لگا۔۔۔
کتنی خوبصورت مسکراہٹ تھی اس کی ذونیشہ نے نظریں چرائی۔۔
میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی ذونیشہ کو لینے آؤ اس کے گھر سے تاکہ وہ میرا گھر آباد کر دے۔۔
میں چاہتا ہوں ایک ذونیشہ سلطان کی کھلکھلاہٹیں میری گھر کی دیواروں سے ٹکرائیں۔۔
میں چاہتا ہوں کہ جب میں اسے لینے جاؤ وہ سرخ لباس میں مبلوس میرا انتظار کر رہی ہوں۔۔
میں چاہتا ہوں کہ جب ایک بیسٹ اپنی بیوٹی کو لینے آئے تو پوری دنیا اس بات کو جان لے کہ وہ صرف اس کی ہے۔۔
اور میں چاہتا ہوں کہ میری بیٹی کی ماں رخصت ہو کر میرے گھر آجائے۔۔۔
تاکہ ایک بے چین شخص کو راحت مل سکے ایک تڑپتی روح کو سکون ملے۔۔۔
میرے کمرے کو تمہارا انتظار ہے ذونی۔۔
اس کی گھمبیر سرگوشیاں انجانے میں ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گئی ۔۔۔
سلطان ان گلاب کی پنکھڑیوں کی مسکراہٹ دیکھے تھما۔۔۔
” یہ بہروز سلطان اپنے دل کی ملکہ کو دلہن بنا کر لانا چاہتا ہے۔۔”
دھیمے سے سرگوشی کرتے اس نے ہلکے سے اس کے نیم وا لبوں کو چھوا۔۔۔
جذبات کے سمندر میں وہ ڈوب جانا چاہتا تھا پر فلحال وہ ایسا کچھ کر نہیں سکتا تھا۔۔
اس کی جان لیوا جسارت پر سرخ ہوتی وہ ذرا پیچھے ہوئی۔۔۔
لیکن سلطان اس آنکھوں سے یہی رکنے کا اشارہ کرتا ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔۔
دو منٹ بعد مسکراتا باہر آیا۔۔
اس کے سامنے جھکتے وہ اس کی جانب دیکھا جو اسے اپنے پاس زمین پر جھکتے دیکھ بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔۔
سلطان نے ایک مخمل کی ڈبی کھولتے اس کی جانب کی۔۔۔
” ول یو میری می مسز بہروز سلطان ۔۔؟؟؟
ایک خوش کن احساس اس کی رگ و جان میں سرائیت کر گیا۔۔۔
یعنی سب ٹھیک ہو چکا ہے ۔۔
ذونیشہ نے نیچے بیٹھے سلطان کو دیکھا پھر اس رنگ کو خوشی سے اس کی آنکھیں نم ہوئی۔۔
” سوری پر میں شادی شدہ ہوں۔۔۔”
لمحوں میں ذونیشہ سلطان آنکھیں گھومائیں بولی۔۔
جس پر سلطان کا ساحرانہ قہقہ گونجا۔۔۔
ذونیشہ دنگ سی آج اس بدلے سے سلطان کو دیکھ رہی تھی۔۔
“پر مجھے یہی شادی شدہ لڑکی چاہیے اب کیا کر سکتے دل ہی الو کا پٹھا ہے جو شادی شدہ لڑکی پر آگیا۔۔۔”
بیچارگی سے کندھے اچکاتے سلطان نے لب دانتون تلے دبایا۔۔
سلطان۔۔۔!!!!!
اس کے کندھے پر مکے مارتی وہ جھنجھلائی،،
جبکہ سلطان ہنستے اسے قابو کر گیا۔۔
اور اس کا ہاتھ پکڑتے رنگ پہنائی۔۔
اور جھکتے عقیدت سے اس کے ہاتھ کی پشت پر بوسہ دیا۔۔
“وعدہ کرتا ہوں تمھارا سلطان تمہیں ہمیشہ خوش رکھے گا۔۔۔”
کمر کے گرد بازو حائل کرتے اپنے قریب کیا۔۔
اب رونا مت یار ،،، ایک تو تمھارے آنسو اوپر ہی پڑے ہوتے جو چھم چھم برسنے لگتے ہے ۔۔۔اس کی نم آنکھوں پر لب رکھتے وہ شرارت سے بولا ۔۔۔
خفگی سے اسے دیکھتے سر اس کے سینے پر ٹکایا۔۔۔
“سوری میں نے یہ بات چھپائی آپ سے۔۔۔”
اس کی آواز پر سلطان نے گہری سانس بھری۔۔
“سمجھ سکتا ہوں میں ،، پر اب ہر لمحہ تم میرے ساتھ ہو گی ہمیشہ کے لیے۔۔۔”
تمھارے ساتھ زندگی جینا چاہتا ہوں ۔۔۔”
اس کے ہاتھ مضبوطی سے پکڑے وہ باہر لایا۔۔
ذونیشہ اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی سیٹ کی پشت سے سر ٹکا گئی۔۔
آج اسے کوئی پریشانی نہیں تھی ہر فکر سے آزاد اس کے لبوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔۔
جبکہ نظریں اپنے ہاتھ کی انگوٹھی پر تھی۔۔۔
جسے زندگی ڈھونڈھ رہی ہے ۔۔
کیا یہ وہ مقام میرا ہے ۔۔
یہاں چین سے بس رک جاؤں ۔۔۔
کیوں دل یہ مجھے کہتا ہے ۔۔
جزبات نئے سے ملے ہیں۔۔
جانے کیا اثر یہ ہوا ہے ۔۔
اک آس ملی پھر مجھ کو ۔۔
جو قبول کسی نے کیا ہے ۔۔۔
ہاں ۔۔۔!!!
کسی شاعر کی غزل ۔۔
جو دے روح کو سکون کے پل ۔۔
کوئی مجھ کو یونہہ ملا ہے ۔۔
جیسے بنجھارے کو گھر ۔۔۔
نئے موسم کی سحر ۔۔
یا سرد میں دو پہر ۔۔۔
کوئی مجھ کو یونہہ ملا ہے ۔۔
جیسے بنجھارے کو گھر ۔۔۔
دھیمی آواز میں لگا گانا گاڑی کے ماحول کو مزید پررونق کر گیا۔۔۔
اسے گھر کے سامنے اتارتے وہ رکا۔۔
کیا ہوا۔۔؟؟؟
ذونیشہ نے باہر نکلتی رک گئی۔۔
“شرافت کے ساتھ پہلی بار جا رہا ہوں تو عجیب تو لگے گا ہی نہ۔۔ “
ہلکی بھوری داڑھی پر انگوٹھا پھیرتے وہ ذونیشہ کو کھلکھلانے پر مجبور کر گیا۔۔
جس چہرے پر آج زردی چھائی تھی اس کے سنگ وہ بے تحاشہ پرسکون نظر آرہی تھی۔۔
سلطان نے مسکراتے جان نثار نظروں سے دیکھا اور اسے ساتھ لیے اندد بڑھ گیا۔۔۔
ویسے ذونی میں سسر صاحب سے یہ کہو گا کہ مجھے میرے بچے کی ماں کی رخصتی چاہیے۔۔۔””
نچلا لب دبائے سلطان نے ہنسی کنٹرول کرتے سنجیدگی سے پوچھا۔۔
ذونیشہ نے آنکھیں پھیلائے اسے دیکھا اور کندھے پر مکہ مارتی سرخ ہوتی سر جھکا گئی۔۔
تب تک بنو ان کے پاس آچکی تھی۔۔
اور آج پہلی بار سطان کو اس طرح مسکراتا دیکھ رہی تھی جس نے آگے بڑھتے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے مزید حیرت میں ڈال دیا۔۔
اس کی آپی اپنے شوہر کے ساتھ کھڑی تھی اس کی خوشی کا اندازہ اس کی بھوری آنکھوں کی چمک سے لگایا جا سکتا تھا۔۔
“سسر صاحب کدھر ہے۔۔؟؟
ذرا جھکتے اس نے ذونیشہ کے قریب سرگوشی کی۔۔
“بابا کدھر ہے بنو۔۔۔”
ذونیشہ سلطان کو ساتھ لیے کمرے میں آتے پوچھا۔۔۔
اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتی اسلم دروازے سے اندر آتا نظر آیا۔۔
بہروز سلطان کروفر سے صوفہ پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا تھا جبکہ ذونیشہ بنو کے پاس کھڑی تھی جو اس سے سطان کے بارے میں سوال پر سوال کر رہی تھی جس پر زچ آتی ذونیشہ نے اسے گھورا۔۔
اسلم صاحب نے تعجب سے سلطان کو دیکھا جس نے ان کی طرف دیکھتے سلام کیا۔۔
جبکہ شان بے نیازی سے ویسے ہی بیٹھا رہا۔ ۔۔
“صاحب آپ یہاں خیریت سب۔۔۔”!!!
اسلم نے اپنی بیٹی کو دیکھے بغیر اس سے پوچھا۔۔
جبکہ اس کے صاحب جی کہنے پر سلطان نے انہیں سنجیدگی سے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔
جس پر وہ سامنے پڑی کرسی بیٹھ گئے۔۔
“سسر صاحب پہلی بات آپ مجھے صاحب مت کہا کرے اب آپ ہماری حویلی کام نہیں کرتے ۔۔!!
دوسری بات میں داماد ہوں آپکا اس لیے مجھے میرے نام سے پکارے مجھے اچھا لگے گا۔۔۔
اس کی یہ تبدیلی اسلم صاحب کو پریشان کر رتھی جو شہزادوں جیسی آن بان لیے سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔۔
میرے یہاں آنے کے مقصد سے یقیناً آپ واقف ہوں گے۔۔
میں اپنی امانت لینے آیا ہوں اپنی ذونیشہ کو لینے آیا ہوں۔۔
پر میں اب پوری دنیا کے سامنے اسے اپنانا چاہتا ہوں۔۔
مجھے آپ کی اجازت چاہیے اس کے لیے۔۔۔!!!
ذونیشہ سلطان اب کھڑا ہوتے جواب کا منتظر تھا دل بے چین تھا پر وہ اب ذونیشہ سے مزید دور نہیں رہ سکتا تھا اب تو بالکل بھی نہیں جب وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔۔
“جی بیٹا جب مرضی تم لے جا سکتے ہوں اسے ۔۔
اسلم صاحب نے بھی اٹھتے خوشی سے کہا۔۔
اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا اس کی بیٹی پوری عزت کے ساتھ جائے گی اپنے گھر ۔۔
ذونیشہ کے سر پر پیار دیتے وہ سلطان کو بیٹھنے کا کہہ رہے تھے۔۔
جبکہ سلطان نے ذرا سر جھکاتے اسلم کے سامنے کیا۔۔
ذونیشہ نے بے یقینی سے اس کی حرکت دیکھی ۔۔
وہ اس کی خاطر کتنا بدل چکا تھا۔۔
اسلم بھی اپنی حیرت پر قابو پاتے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔
“بہت جلد تمہیں لینے آؤ گا۔۔”
ذونیشہ کو نظر بھر کر دیکھتے وہ چلا گیا۔
جبکہ ذونیشہ آج کھلی فضا میں سانس لیتی پہلی بار اتنی خوش تھی۔۔
اسے محبت تھی اس سے اور بہت جلد وہ اس کے پاس ہو گی۔۔
★★★★
