Dil e Be Reham by Mahi Rajpoot readelle50027

Dil e Be Reham by Mahi Rajpoot readelle50027 Last updated: 24 June 2025

65.1K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil e Be Reham by Mahi Rajpoot

"اے لڑکی ہاتھوں سے کیوں مٹی کھود رہی ہوں"۔۔۔ اپنے عقب سے گرجدار آواز پر بوکھلاتی جگہ سے اٹھی لیکن جیسے ہی پیچھے مڑی عین سامنے والے کے سینے سے ٹکرائی اور دونوں ہاتھ اس کی وائٹ شرٹ پر نصب ہو گئے۔۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے سرخ سفید ہاتھوں مٹی سے بھرے کو اس کی شرٹ پر دیکھتی اس نے نظریں اٹھائی جو وحشت غصے سے بھری سبز نظروں سے ٹکرائی۔۔یقینا اب وہ اس کا قتل کرے گا۔۔ بہروز اپنی فیورٹ شرٹ کو یوں گیلی مٹی سے خراب دیکھتے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے کھردرے سخت ہاتھوں میں دبوچا ۔۔ "عقل نام کی کوئی چیز نہیں ہے تم میں کیا ۔۔۔؟؟ بیوقوف لڑکی میری شرٹ خراب کر دی تم نے ۔۔" وہ سختی سے اسے پکڑے دھاڑا۔۔ می۔۔ں۔۔صا۔۔ف۔۔کر۔۔دیتی۔۔ہوں ۔۔ اس کی دھاڑ پر سہمتی وہ بھیگے لہجے میں بولی ایسی سچوئیشن کا سامنا پہلی بار کر رہی تھی وہ تو کبھی گھر سے نہیں نکلی ایک دو بار اسی محل باپ کے ساتھ آئی تھی۔۔ اچھا کرو صاف۔۔۔ دانت پیستے اس نے ہاتھوں کو چھوڑ پھاڑ کھانے والے لہجے میں کہا۔۔ سرخ ہاتھوں پر اس کی انگلیوں کے نشان دیکھتی وہ روتی کانپتی

اس کی شرٹ کو صاف کرنے کی غرض سے اپنی گندھے ہاتھوں سے ہی جھاڑ نے لگی۔۔۔ مٹی اترنے کی بجائے اور لگ گئی۔۔ "یہ۔۔نہیں۔۔اتر۔۔رہی۔۔آپ ۔۔شرٹ۔۔اتار۔۔دے۔۔میں۔۔دھو۔۔دیتی۔۔۔ہوں۔"پریشانی سے اسے اپنے قریب کھڑا دیکھ کر تھوڑا پیچھے ہوئی۔۔ "تمہیں ادھر میں شرٹ اتار کر دو سوچ لو پھر۔۔۔"بہروز اسے گہری نظروں سے دیکھتے بے تاثر چہرا لیا بولا۔۔ زونیشہ دو قدم اور پیچھے ہوئی۔۔وہ کچھ اور ہی سمجھ رہا تھا خفت سے اس کا چہرہ سرخ ہوا۔۔بے دھیانی میں ایک قدم اور پیچھے کیا اور پاؤں گیا گملے پر۔۔ اس کا پاؤں گملے سے لگتا مڑا خود کو بچانے کے لیے اس نے بے اختیاری میں بہروز کی شرٹ کو دبوچا ۔۔ بہروز جو بے خیالی سے ہی کھڑا تھا اس کے یوں کھینچنے پر ان بیلنس ہوتے اس کے ساتھ ہی پیچھے گرا۔۔ خود پر اتنا وزن برداشت کرتی وہ کراہ اٹھی لیکن ایک لمس پر اس کا دل دھک سا رہ گیا۔۔ بہروز جو اس کے اوپر گرا تھا اچانک اس کے ہونٹ بالکل اس کے گلابی ہونٹوں پر لگے۔۔ ان ہونٹوں کی نازکی پر بہروز نے انجانے میں یہ لمس محسوس کرتے آہستگی سے اپنے لبوں کو جنبش دی۔۔ اور خوف و وحشت سے فق چہرے والی لڑکی کو دیکھا جو کسمساتے اسے پیچھے کرنے کی تگ و دو میں تھی پر اس کے نازک سے ہاتھ کہا اس چٹان جیسے شخص کو ہلا بھی سکتے ۔۔آنکھوں سے آنسو تواتر بہہ رہے تھے ۔۔ بہروز سنبھلتا اٹھا اور ماتھے پر بلوں کا جال بچھالیا۔۔ اٹھوں اب یا یہی سونے کا ارادہ ہیں۔۔۔؟؟ اور خود پر قابو رکھ لیا کرو ہر وقت ٹکراتی ہی رہتی ہوں۔۔ ابرو اچکاتے اس نے نیچے اسے لیٹا دیکھ کر اس کا شرمندگی سے جھکا سرخ چہرہ دیکھتے بولا۔۔ زونیشہ کہنی کے بل اٹھتی درد برداشت کر گئی ۔۔ اس کی کہنیاں پر جلن ہو رہی تھی جبکہ گملے کا کونا کمر پر لگا تھا۔۔ہونٹ بھینچے وہ شرم سے کانپ رہی تھی۔۔ یہ تم ہر ٹائم وائبریٹ کیوں کرتی رہتی ہوں۔۔اس کے نازک سراپے کو کانپتے دیکھ وہ ناگواری چھپائے بغیر بولا۔۔ کچھ بھی کہے بغیر آنسو صاف کرتی اس کے پاس سے گزرتی وہ باہر بھاگ گئی۔۔۔ عجیب لڑکی۔۔۔