62.1K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

ناول ””بندھے اک ڈور سے ““

از قلم زرش نور

قسط نمبر ٩

اسے دروازے میں ایستادہ دیکھ کر اس نے نخوت سے سر جھٹکا اور اپنا بیگ نیچے سے اٹھا کر اپنے کپڑے الماری میں رکھنےلگی۔۔۔

جبکہ وہ اس کے نادر خیالات سن کر وہاں سے ہی لوٹ گیا۔
اس کے جاتے ہی روحا نے جلدی سے آگے بڑھ کر دروازہ بندکیا اور خود کو کوسا کے کیا ضرورت تھی بلاتکان بولنےکی ۔وہ خود کو ہی ایک چپت رسید کرتی ہوٸی بیڈ کےکنارے پر ٹک گٸی۔۔

جبکے اماں بی جو زین کی آمد سے بےخبر تھیں انہوں نے اجنبھا سے پہلے اس کی قینچی کی طرح چلتی زبان کو رکتے اور اب بیڈ پر بیٹھ کر خود کو ہی مارتے دیکھا۔

اور خود ہی اخذ کر لیا کہ ان کی نواسی کو ضرور کوٸی جادو وغیرہ ہو گیا ہے۔اور انہوں نے تہیہ کر کیا کے وہ صبح سب سے پہلے اسے پیر بابا کے پاس لے کر جاٸیں گی۔۔

روحا نے ماں بی کی گھورتی نظروں سے تنگ آ کر چادر سر تک تان لی۔۔

صبح اماں بی کی آنکھ کھلی تو روحا کمرے میں کہیں نہیں تھی۔

وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گٸیں ۔تبھی وہ واش روم سے نک سک سے تیار نکلی۔۔

اماں بی نے اسے کڑی نظروں سے دیکھا۔”لڑکی صبح صبح کہاں جا رہی ہو؟“

کچھ کام سے جارہی ہوں۔

آچھا ٹھیک ہے۔میں زین سے کہتی ہوں تمہیں چھوڑ دے گا۔

خبردار جو آپ نے کانوں کان خبر بھی ہونے دی تو ۔وہ انگلی اٹھا کر وارن کرتی ہوٸی بیرونی دروازے کی طرف مڑ گٸی۔

وہ جان بوجھ کر اس وقت کمرے سے نکلی تھی ۔جب اسے زین کے چلے جانے کا یقین ہو گیا تھا۔

وہ سٹڈی کےدروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوٸی۔جہاں سامنے ہی حیدر حسن کتاب بینی میں مصروف تھے۔”وہ جانتی تھی وہاس وقت یہی موجود ہوں گے۔“

انہوں نے روحا کو دیکھ کر کتاب اور عینک سامنے ٹیبل پر رکھی اور گردن کے اشارے سے اسے اندر آنے کا اشارہ کیا۔وہ ان کے سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گٸی۔

بیٹا بولا کیا کہنا چاہتی ہو؟

اس نے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا ۔اسے ان کے چہرے پر موجود نرم تاثرات سے کچھ حوصلہ ہوا ۔۔

ماموں جان میں جاب کرنا چاہتی ہوں۔

میں وجہ جان سکتا ہوں؟؟

ماموں کیا فاٸدہ اتنی تعلیم حاصل کرنے کا جب اسے کہیں عمل میں ہی نہ لایا جاۓ۔۔

چلو ٹھیک ہے ۔میں زین سے بات کرتا ہوں وہ آفس میں تمہارے لٸے کوٸی جگہ نکالتا ہے۔

نہیں ماموں جان۔جھٹ سے انکار آیا تھا۔۔

میں آپ کے آفس میں کام نہیں کرنا چاہتی۔میں اپنے بل بوتے پر کچھ کرنا چاہتی ہوں ۔میں چاہتی ہوں مجھے جاب میر ی قابلیت پر ملے۔۔

ٹھیک ہے پھر۔جب تم فیصلہ کر ہی چکی ہو تو میں کیا کہہ سکتا ہں۔

وہ چپکے سے وہاں سے نکل آٸی۔باہر آ کر کب کا رکا سانس بحال کیا۔
ایک مرحلہ تو طہ ہو گیا تھا۔اب جاب تلاش کرنا تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ آج دو تین جگہ پر انٹرویو دے کر گھر لوٹ رہی تھی۔۔اسی وقت ایک گاڑی آکر اس کے قریب رکی۔سامنے بیٹھی شخصیت کو دیکھ کر اس کے چلنے میں تیزی آ گٸی ۔ اسے بھاگتے دیکھ کر وہ بھی گاڑی سے نکل آیا۔ اور اسکے ہم قدم چلنے لگا۔۔
روحا نے قدم روک لٸے تو وہ بھی رک گیا۔

اس نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر اپنا غصہ کنٹرول کیا او ر رخ اس کی طرف کیا۔

آپ کیا چاہتے ہیں؟”وہ بہت اعتماد سے بولی۔“

”تمہیں“بہت تحمل سے جواب دیا گیا۔۔“

آچھا اسی لٸے آدھی رات کو اپنے کمرے سے نکل جانے کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔۔

یہ بعد کی باتیں ہیں۔فی الحال گاڑی میں بیٹھو۔

مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا۔آپ اپنے راستے سے جاٸیں میں اپنے راستے سے جاٶں گی۔

زین نے اسے بازو سے پکڑ ا تو اس نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا۔
اب کی باز زین نے زور سے اسے کلاٸی سے دبوچا اور گاڑی میں لا کر پٹخ کر گاڑی لاک کر دی۔

ڈراٸیونگ سیٹ سنبھال کر اس پر ایک نظر ڈالے بغیر گاڑی گھر والے راستے پر ڈال دی۔۔
اسے گھر ڈراپ کر کے وہ زن سے گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔

روحا بھی پیر پٹختی اندر چلی آٸی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج ”ایس ایچ انڈسٹریز “ میں انٹرویو دینے آٸی۔
جب اس کا نام پکارا گیا وہ بہت اعتماد سے چلتی ہوٸی اندر داخل ہوٸی۔۔

سامنے ایک ادھیڑ عمر شخص بیٹھا تھا۔روحا نے اپنی فاٸل ان کے سامنے رکھی تو وہ کچھ پروفیشنل سوال کرنے لگے۔

وہ اپنی ڈگریوں کی بابت بتا رہی تھی تبھی اسے اپنے داٸیں جانب بیٹھ شخص کی جانب سے سوال آیا۔

میڈم آپ کے پاس کوٸی تجربہ ہے؟
روحا نے گردن موڑ کر دیکھا تو سامنے ایک نہایت ہی خوبصورت اور ڈیشنگ بندہ بیٹھا تھا۔

سر کام کروں گی تو تجربہ بھی حاصل ہو جاۓ گا۔

لیکن ہمیں تو تجربہ کار شخص چاہٸے ہے۔

روحا نے ان کے آگے سے اپنی فاٸل اٹھاٸی اور باہر نکل آٸی۔۔

جب کے دو نیلی آنکھوں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن خلاف توقع اسے کال آٸی کے اسے سلیکیٹ کر لیا گیاہے۔ اس کی خوشی کی تو انتہا ٕ نہ رہی۔
تبھی اماں بی کوٸی دم کیا ہوا پانی اس کے پاس لاٸیں اور زبردستی اسے پلایا ۔ساتھ کچھ د م بھی کر رہی تھی۔
روحا نے اکتاہٹ سے ان کایہ سارا عمل دیکھا۔

اماں بی کتنے پیسے لوٹا کر یہ کاغذ کے ٹکڑے لاٸی ہیں۔

انہوں نے صرف خاموش نظروں سے اسے گھورا۔۔
روحا سمجھ گٸی کہ اماں بی کو اس عمل کے دوران بولنے سے منع کیا گیا ہے۔ورنہ مجال ہے جو وہ بولنے سے باز رہتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔آج اس کا آفس میں پہلا دن تھا۔سفید قمیض شلوار پر ہم رنگ بڑا سا دوپٹہ لٸے وہ جانے کے لٸے تیار تھی۔۔
اس نے گھڑی پر وقت دیکھا تو وہ کافی لیٹ ہو چکی تھی۔
تیزی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آٸی سامنے بیٹھی فاریہ بیگم کو دیکھ کر اس کے پاٶں سست ہوۓ۔۔
لیکن انہوں نے اسے دیکھ کر رخ موڑ لیا تو وہ بھی مطمٸن ہو نر بیرونی دروازے کی طرف مڑ گٸی۔

دروازےسے نکلتے ہی اس کی جاگنگ سے لوٹ رہے زین سے زوردار ٹکر ہوٸی اور وہ گرنے والی تھی لیکن زین حیدر نے اسے اپنے مضبوط بازٶں کے حصار میں لے لیا۔وہ جھٹکے سے خود کو چھڑانا چاہتی تھی۔لیکن تبھی اس کی نظر لاٶنج سے نظر آتی فاریہ بیگم پر پڑی جو کینہ توز نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

شین اس کے سجے سنورے روپ میں کھو کر سارے وعدے بھول چکا تھا۔

ہوش میں تو تب آیا جب روحا نے اپنی کمر کے گرد اسکے بازو کو اپنے ہاتھوں سے نرمی سے پیچھے کیا۔۔

اس کے نرم لمس پر زین کا دل ایک پل کے لٸے دھڑکنا بھول گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کچن میں اپنے سامنے روٹی اور تھوڑا سا سالن رکھے بیٹھی تھی۔جب وہاں صبیحہ ممانی چلی آٸی۔

”کتنی گھٹیا نکلی تم ۔تمہیں تو یہ بھی خیال نہ آیا کہ جن لوگوں نے تمہیں تمہیں پناہ دی ،اپنے گھر کی چار دیواری دی تم ان ہی گھر نقب لگا رہی ہو۔

وہ نہا کر تولیے سے بال خشک کرتی ہوٸی باتھ روم سے باہر نکلی ہی تھی جب بے چینی سے ٹہلتی زویا اس پر بس پڑی۔

کیا ۔۔۔۔۔کیا ہے میں نے ؟ اس نے الجھ کر پوچھا۔

پہلےرویحا کے آۓ عثمان کے رشتے کو پتہ نہیں کیسے اپنے جال میں پھنسایا اور اب اشعر نے بھی زویا سے شادی سے انکار کر دیا ہے۔

لیکن کیوں بیٹا؟اماں بی نے وقاص ماموں سے دریافت کیاچند دن پہلے شہر کے مہنگے ہوٹل میں منگنی کی گٸی تھی۔

ماموں نے ایک نظر اماں بی کے پاس بیٹھی روحا کو دیکھا۔

وہ کہتے ہیں اشعر کہتا ہے کہ وہ زویا سے نہیں روحا سے شادی کرنا چاہتا ہے۔

تبھی زویا تیزی سے روحا پر جھپٹی۔او ر اس کے بال پکڑ کر کھینچے ۔
ساتھ ممانی بھی اسے کوسنے لگی ۔
تبھی زین کی تیز آواز سناٸی دی ۔
خبردارجو اب کسی نے اس کی کردار کشی کی تو ، بیوی ہے وہ میری، خبردار اگر اب کسی نےمنہ سے ایک لفظ بھی نکلالا تو اس نے انگلی اٹھا کر سب کو وارن کیاتھا۔

روحا نے ایک شکایتی نظر زین پر ڈالی اور کمرےمیں بند ہو گٸی۔۔