62.1K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

ناول ”” بندھے اِک ڈور سے ““

از قلم زرش نور

قسط نمبر ٤

بارش کی ٹھنڈک موسم کو سرد کر رہی تھی ۔سورج گہرے بادلوں کی آغوش میں سو رہا تھا۔
تیز بارش میں برستی بوندوں میں سب کے قدموں کی رفتار تیز سے تیز تر ہو رہی تھی۔
وہ یونیورسٹی گیٹ سے باہر نکلی تو سامنےہی وہ اطمینان سے گاڑی کے ساتھ ٹیک لگاۓ آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔

بادل پوری طاقت سے گرج رہے تھے اور اس کے چہرے پر ایک سلوٹ بھی نہیں تھی ۔وہ بارش کو بھی انجواۓ کر رہا تھا۔

روحا کےقدم سست ہوۓ وہ دھیمی چال چلتی ہوٸی اس کے قریب آٸی اس نے اس کیطرف ایک دلکش مسکراہٹ اچھالی اور چہرے پر ہاتھ سے بارش کی بوندیں صاف کیں اور سر پر ہاتھ پھیر کر بال ٹھیک کیے اور فرنٹ سیٹ سنبھال لی۔
روحا نے بھی اس کی تقلید میں سیٹ سنبھالی اور زین حیدر نے گاڑی زن سے آگے بڑھا لی۔

روحا نے ایک نظر اپنے برابر بیٹھے شخص پر ڈالی ۔دونوں کی نظریں ایک لمحے کے لٸے ٹکراٸیں اور دونوں نے ہی نظروں کا زاویہ بدل لیا۔
روحا باہر نظر آتے مناظر پر توجہ مبزول کر لی۔ زین وقتاً فوقتاً ایک نظر اس پر ڈالی دیتا تھا لیکن وہ پوری توجہ سے باہر بھاگتے دوڑتے مناظر میں کھوٸی ہوٸی تھی۔

ہوش تب آٸی جب گاڑی ایک جھٹکے سے رکی ۔

وہ گاڑی سے اتری تو سامنے ہی ایک بے حد گوری رنگت کی خوبصورت نقوش والی لڑکی ٹاٸٹ جینز پر شارٹ سی کھلے گلے والی بلیک شرٹ پہنے بارش میں بھیگ رہی تھی۔

روحا نے جلدی سے زین کی طرف دیکھا لیکن اس کا دھیان ادھر نہیں تھا۔
اس لڑکی کی جوں ہی نظر ان پرپڑی وہ بھاگ کر ان تک پہنچی اور زین کے گلے سے آ کر جھول گٸی۔

زین کی نظریں غیر ارادی طور پر روحا کی طرف اٹھیں جو کے ان کی طرف ہی دیکھ رہی تھی اور اندر کی طرف بڑھ گٸی۔

زین نے درزیدہ نظروں سے اسے جاتے دیکھا اور درشتی سے روما کو خود سے الگ کیا۔لیکن بہت ہی ڈھیٹ لڑکی تھی اسے زرہ برابر بھی فرق نہیں پڑا اور وہ اس کا بازو تھامے اندر کی طرف بڑھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اپنی کتابیں بک شیلف پر سیٹ کر نے میں مصروف تھی۔
مامی ایک بات پوچھوں ؟“اس نے صوفے پر بیٹھی زوٸلہ سے مخاطب ہوتے ہوۓ پوچھا۔
”ہاں بیٹا ۔“ انہوں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔چاۓ کے سپ لیتے ہوۓ جواب دیا۔

کیا مما اور پاپا کی لو میرج تھی؟؟؟
اس نےکتاب کو کپڑے سے صاف کرتے ہوۓ پوچھا۔

یہ تم کیوں پوچھ رہی ہو؟؟

ویسے ہی آج روما اور صبیحہ مامی باتیں کررہے تھیں ۔مما اور بابا کے متعلق تو اس لٸے پوچھ لیا۔

”کیا باتیں کر رہی تھیں؟“انہوں نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا۔

کچھ نہیں بس عام سی باتیں۔وہ اصل بات چھپا گٸی کہ صبیحہ مامی روما کو خبردار کر رہی تھیں کہ وہ زین کو جتنا ممکن ہو سکے روحا سے دور رکھے کیونکہ یہ ہے تو ماں کی بیٹی ہی۔

روحا کو گہری سوچ میں گم دیکھ کر زوٸلہ کو بھی کوٸی بات یاد آ گٸی ۔اور وہ اٹھ کر چلی گٸی ۔
اصل بات کہیں درمیان میں ہی رہ گٸیں۔

سب ینگ پارٹی اسوقت ایک جگہ پر اکٹھی تھی۔سب مل کر رویحا کا ریکارڈ لگا رہے تھے۔ جس کی اگلے ماہ شادی طہ پاٸی تھی اور پھر سب زین کے سر ہو گٸے ۔

روحاجوچپ چاپ صوفے پر بیٹھی تھی۔زین حیدر اس کے برابر اس کے بے حد قریب بیٹھ گیا۔جس پہ روحا نے سر اٹھا کر اپنے داٸیں طرف دیکھا جہاں سفید شلوار قمیض میں ملبوس ڈارک براٶن چادر کندھوں پر پھیلاۓ مسکراتا ہوا زویا کی طرف متوجہ تھا۔
جو کے اس کے سر پر سہرا سجانے کی بات کر رہی تھی۔

اس کی بات پر لاشعوری طور پر اس نے گردن گھما کر روحا کو دیکھا۔جب کہ روحا نے نظروں کا زاویہ بدل لیا۔

لیکن زین کی یہ حرکت روما سے چھپی نہیں رہ سکی ۔اس نے زہر خندہ نظر روحا پر ڈالی اور جھٹکےسے اٹھ کر باہر نکل گٸی۔

اس کے پاس بیٹھی رویحانے اجنبھا سے اسے دیکھا۔”انہیں کیا ہوا ہے؟“اس نے سب کو مشترکہ سوال کیا ۔

جس پہ سب نے کندھے اچکاۓ۔

………………………………………..

آج چھٹی کا دن تھا وہ ناشتے کے بعد کچن کےبرتن سمیٹ رہی تھی۔
تبھی کچن میں روما داخل ہوٸی ۔۔۔۔ بات سنو۔۔۔۔ایک کپ چاۓ بنا دو۔

روحا نے سپاٹ چہرے کے ساتھ چاۓ کا پانی چڑھایا ۔

تبھی فاریہ بیگم کچن میں داخل ہوٸیں ۔

بیٹا بھاٸی بتا رہے تھے تمہاری طبعیت خراب ہے۔
کیا ہوا طبعیت کو ؟رات تک تو ٹھیک تھی۔“
آپ کو کیا پتہ رات کو ٹھیک تھی یا نہیں۔میری ساری رات جاگتے ہوۓ گزری ہے۔“اس نے چڑ کر جواب دیا۔

اس کے بات کرنے کے اندازپر روحا نے مڑ کر دیکھا۔
فاریہ بیگم کچھ دیر کے لٸے چپ سی رہ گٸیں۔

کوٸی مسٸلہ ہے تو بتاٶ۔ انہوں نے اپناٸیت سے اس سے پوچھا۔

کوٸی بات نہیں ہے آپ تو پیچھے ہی پڑھ گٸٕں۔
آچھا تم باہر جاٶ میں تمہارے لٸے ناشتہ بنواتی ہوں ۔

شکریہ آپ اپنا کام کریں میں بس چاۓ اور بریڈ لو ں گی۔وہ تڑخ کر جاب دیتی روحا کے ہاتھ سے چاۓ کا کپ لے کر کچن سے باہر نکل گٸی۔
فارحہ بیگم اپنی جگہ سن کھڑی رہ گٸیں۔

شاید طبعیت خراب ہے ورنہ بہت ملنسار ہے۔وہ روحا کے سامنےتردید دےرہی تھیں۔

اس نےاثبات میں سر ہلایا اور اپنے کام میں مصروف ہو گٸی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج گھر میں خوب رونق اور چہل پہل تھی۔لیکن اس کے دل کے اندر ویرانیاں سی اتری ہوٸی تھی۔آج کا دن اس کے لٸے منحوسیت بھرا تھا۔

رشتہ تو رویحا کے لٸے آیا تھا۔لیکن بقول عثمان کی والد اور والدہ کے عثمان کو روحا پسند ہے اور وہ اس کے رشتے کے لٸے ہی آۓہیں۔

روحا کے مانو تو ساتواں آسمان اس کے سر پر آ گرے ہوں۔۔۔

رویحا اور صبیحہ مامی کی طرف دیکھنے سے بھی کترا رہی تھی۔کیونکہ جن نظروں سے وہ اسے دیکھ رہی تھیں ۔اس کا دل چاہتا تھا کے وہ زمیں میں سما جاۓ۔۔۔۔۔

رومابہت خوش تھی اس نے بہت خوشدلی سے روحا کو مبارک دی۔

زین حیدر اس وقت گھر نہیں تھا۔اور پھر آناً فاناً اسے تیار کر کے عثمان کے پہلو میں بٹھا دیا گیا۔۔۔

اس نے غاٸب دماغی سے اپنے ہاتھ کی تیسری انگلی میں پہنی بیش قیمت ڈاٸمنڈ رنگ پر ڈالی ۔ اور اس کی آنکھوں سے آنسو لڑی کی طرح بہنے لگے۔ شدتِ گریہ سے اسکی آنکھیں سرخ انگارا ہو گٸیں۔

اور پھر اس کی نظر ایک ساٸیڈ پر الگ تھلگ کھڑی فاریہ بیگم پر پڑی۔روحا کو گمان گزرا کے وہ رو رہی ہیں۔۔اس نے دوبارہ سے ان کی طرف دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ چہرہ موڑ گٸی۔۔۔

حیدر حسن نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
حیدر حسن کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل کر اس کے بالوں میں جذب ہونے لگے۔۔

لیکن اماں بی مطمٸن تھیں۔
خو بروسا عثمان سکندر انہیں بہت پسند تھا۔۔وہ بہت شاٸستہ اور مہذب تھا۔۔۔

وہ زین کے ساتھ اکثر اماں بی کے پاس آتارہتا تھا۔۔
انہیں اس سے بہت انسیت تھی۔۔

وہ سرشار سا بیٹھا سبکے چھوٹے موٹے سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔جبکہ ایک اچٹتی نظر سر جھکاۓ بیٹھی روحا پر بھی ڈال لیتا تھا۔۔

روحا کی تھکن کا احساس کر کے فاریہ بیگم آگے بڑھیں اور اسے سہارادے کر اماں بی کے کمرے میں لے آٸیں۔۔وہ باہر
جانے لگیں تو روح نے ان کا ہاتھ تھام لیا۔۔اور وہ بھی شاید ایسے ہی کسی موقعے کی تلاش میں تھیں ۔
اس کے گلے لگ کر خوب روٸیں اور اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں بھرتے ہوۓ بولیں”سدا خوش رہو۔“

ان کے باہر نکلتے ہی دروازہ ایک زوردار دھماکہ سے کھلا اور زین حیدر اندر داخل ہوا۔اس کی آنکھو ں سے لہو ٹپک رہا تھا۔

وہ تو لمبے لمبے ڈگ بھرتا روحا تک پہنچا ۔

وہ غیر ارادی طور پر پیچھے ہوٸی۔
زین حیدر نے قریب آ کر اسے دونوں بازو سے دبوچا۔۔

تم اگر میری نہ ہو سکی تو میں تمہیں کسی اور کا بھی نہیں ہونے دوں گا یہ زین حیدر کا وعدہ ہے تم سےروحا کمال حسن۔۔
اپنی بات کہہ کر وہ رکا نہیں اور سجی سنوری روحا کمال پریشانی میں گری تھی نہ جانے اب وہ کیا کرے گا۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ وہ جانتی تھی وہ اپنی ضد کا پکا ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔