Rate this Novel
Episode 13
ناول “”بندھے اک ڈور سے””
از قلم زرش نور
قسط نمبر ۱۳سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ
رات اپنے پر پھیلاۓ پھر سے سارے ماحول پر قابض ہونے کو تیار تھی۔وہ کروٹ پہ کروٹ بدل رہی تھی لیکن نیند جیسے اس سے روٹھ گئی تھی۔تبھی اماں بی کی چھڑی کی ٹک ٹک سنائی دی ۔
وہ کمرے میں داخل ہوئی تو روحا نے کمبل منہ پر رکھ لیا ۔وہ آ کر بیڈ کی دوسری سائیڈ ٹک گئی۔تھوڑی دیر بعد ان کی تشویش بھری آواز سنائی دی۔
ارے پتر آج سرشام ہی کیوں لیٹ گئی ہو۔”ان کی آواز پر اس کا دل بھر گیا ۔”
وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور ڈبڈبائی آنکھوں سے اماں بی کو دیکھنے لگی۔
اماں بی نے اپنا چشمہ درست کیا اور غور سے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔اور ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے قریب کیا۔
میری بیٹی کو آج کیا ہوا ہے؟
اس نے نفی میں سر ہلایا اور زور و شور سے رونا شروع کر دیا۔اماں بی نے اسے گلے لگا لیا ۔اور خود بھی رونے لگی۔
کافی دیر رونے کے بعد جب دل کا غبار چھٹا تو روحا بولی۔
اماں بی اگر آج میرے ماں باپ زندہ ہوتے تو کیا میرے ساتھ ایسا ہوتا۔
کیا ہوا پتر؟
اماں جب جس کا دل چاہے ۔اپنے کمرے سے نکال دے اور جب جی چاہا شادی کا اعلان کر دے۔میں بھی تو انسان ہوں میری مرضی بھی تو پوچھی جاۓ نہ۔
تبھی زوردار آواز سے دروازہ کھلا اور زین حیدر غصے میں کمرے میں داخل ہوا۔
جی بولئے آپ کی مرضی کیا ہے؟؟لیکن ایک بات یاد رکھنا مجھ سے دور جانے کے بارے میں سوچا بھی تو تمہیں بھی مار دوں گا اور خود کو بھی۔
اس کی بات پر وہ دہل گئی۔اور اماں بی کہ بازو کو زور سے پکڑ لیا۔
زین حیدر تھوڑی دیر کھڑا اسے گھورتا رہا پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے نکل گیا۔
بیٹا اس نے تمہیں کمرے سے نکل جانے کے لئے کہا بہت غلط کیا ۔ لیکن اپنی جگہ پر وہ بھی ٹھیک تھا۔ماں سے کیا وعدہ نبھایا۔
تم کیا چاہتئ ہو وہ ماں کو مرنے دیتا۔
روحا نے نفی میں سر ہلایا۔
تو بیٹا اگر ماں کو چھوڑ کر تمہارے پاس آتا تو کیا آچھا تھا۔ پھر تو وہ بہت خود غرض ہوتا اور میں خود تمہیں کہتی کہ اسے چھوڑ دو۔جو جنم دینے والی ماں کا نہ ہو وہ کسی اور کا کیا ہو گا۔ لیکن اس نے اپنی ماں کا مان رکھا۔ لیکن پھر تمہارے لئے ماں کے آگے ڈٹ بھی گیا۔آخر اس نے ماں کو منا لیا۔ اور تمہیں وہ پوری عزت واحترام سے لے کر جانا چاہتا ہے۔وہ ایک مضبوط سائبان ہے تمہارے لئے۔ابھی سے نہیں جب تم اس گھر میں آئی تھی تب سے۔
وہ تمہاری ماں کا بہت لاڈلا تھا۔وہ ہر وقت اس کے ساتھ ہوتا تھا۔ہم اسے کہتے تھے کہ دریہ جب تمہاری شادی ہو جاۓ گی پھر کیا کرو گی۔تو کہتی تھی اماں میں اپنی بیٹی کی شادی زین سے کروں گی اور زین کو گھر داماد بنا لوں گی۔اور وہ بہت خوش ہوتا تھا اس کی اس بات پہ کہ وہ پھر ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا۔
جب تمہاری ماں کا ایکسیڈنٹ ہوا تو ہاسپٹل میں حیدر کے ساتھ زین بھی گیا تھا۔اور جانتی ہو تمہاری ماں نے اس سے کیا کہا تھا؟؟
روحا نے نفی میں سر ہلایا۔
اس نے زین سے وعدہ لیا تھا کہ وہ ہمیشہ تمہارا خیال رکھے گا۔جب دریہ کا جنازہ لایا گیا تو وہ بہت رویا لیکن جب فاریہ تمہیں اٹھا کر لائی تو اس نے جھٹ سے ماں سے تمہیں لے لیا۔ اور اپنے آنسو پونچھ لئے۔
پھر وہ ہر وقت ساۓ کی طرح تمہارے ساتھ رہتا تھا۔جب حیدر نے اسے زبردستی انگلینڈ بھیجا تو اس نے بہت احتجاج کیا کہ وہ نہیں جاۓ گا۔کیونکہ تم اکیلی ہو جاؤ گی۔لیکن پھر وہ تمہاری زمہ داری مجھے سونپ گیا۔
لیکن جب وہ واپس پاکستان آیا تووہ سمجھدار ہو گیا تھا ۔وہ جانتا تھا کہ اب تم بڑی ہو گئی ہو اور اب وہ تمہارا ویسے خیال نہیں رکھ سکتا لیکن وہ ہمیشہ سے تمہیں اپنی زمہ داری سمجھتا تھا۔
تمہیں یاد ہو گا نہ کیسے وہ تمہاری یونی کی فیس بغیر کہے بغیر کسی کو بھی بتاۓ جمع کروا دیتا تھا۔گھر میں سب سمجھتے تھے کہ تمہاری پڑھائی کا اورتمہارے دوسرے اخراجات میں تمہارے نانا کی پینشن سے پورے کرتی ہوں لیکن اصل میں یہ اخراجات زین کا سردرد تھا۔ مجھے تو کبھی پتہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ تمہارا ایڈمیشن تمہاری فیس تمہاری ٹیوشن فیس کسی بھی چیز کااور وہ جو ہر مہینے مجھے پیسے دیتا ہے وہ تمہارے لئے ہی دیتا ہے۔
اگر اس کی ماں مان جاتی تو وہ کبھی بھی ایسا قدم نہ اٹھاتا مطلب ایسے تم سے نکاح نہ کرتا ۔لیکن پھر بھی ایک بات بتاؤں وہ مجھ سے اجازات لے کر گیا تھا۔اور ہاں حیدر سے بھی ۔حیدر نے فاریہ کی ضد دیکھ کر ہی اسے اجازات دی تھی۔اب جو بھی فیصلہ تم کرو میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن میرے بچے کا دل نہ توڑنا۔اپنی بات مکمل کر کے وہ چلیں گئیں اور روحا سوچنے لگی کہ اسے کبھی یہ سب کیوں نہیں دیکھائی دیا۔
اسے تو یہ سوچ کہ ہی خوشی ہو رہی تھی کہ جسے اس نے لڑکپن سے چاہا وہ تو بہت پہلے ہی اس کے مقدر میں لکھ دیا گیا تھا۔شاید اس کے پیدا ہونے سے بھی پہلے۔
اور آج پہلی بار وہ بہت سکون سے سو گئی۔گہری میٹھی نیند۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح نماز کے وقت اس کی آنکھ کھلی تو وہ جلدی سے بسترسے نکل گئی۔اس نے رب کا شکر ادا کرنا تھا اتنا آچھا اور محبت کرنے والا شخص کو اس کا نصیب بنانے کے لئے۔
دوسری طرف زین ساری رات کروٹ پہ کروٹ بدلتا رہا تھا۔روحا کی باتیں سننے کے بعد وہ بہت پریشان ہو گیا تھا۔ نییند آج اس سے کوسوں دور تھی۔
وہ ناشتہ کیے بغیر آفس آ گیا ۔اپنی سیٹ سنبھالتے ہی اس نے اپنے سیکریٹری کو بلایا اور اسے کہا کہ ہمدانی انڈسٹریز کو پیغام بھیجو کہ اگر انھیں ہمارے ساتھ کام کرنا ہے تو ہماری کچھ شرائط ہیں ۔اور ہماری پہلی شرط آج ہی پوری ہونی چاہئے۔
اپنے سیکریٹری کے جانے کے بعد اس نے سکون سے سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔
روحا آج وقت پر آفس آ گئی تھی لیکن ابھی اس نے ابھی اپنی سیٹ سنبھالی ہی تھی کہ اس کے باس کا پیغام آ گیا۔
روحا شاویز حمدانی کے آفس میں داخل ہوئی تو تھوڑی دیر فارمل گفتگو کرنے کے بعد اس نے روحا کو یہ خبر سنائی کہ وہ اس کے کام سے مطمئن نہیں ہیں سو اسے آئندہ وہاں آنے کی ضرورت نہیں۔
روحا بے دلی سے اٹھ کر چل دی لیکن دروازے تک پہنچ کر اسے زین کی بات یاد آئی ۔وہ ایک جھٹکے سے پیچھے مڑی۔
سر اف یو ڈونٹ مائنڈ پلیز کیا آپ مجھے بتائیں گے کہ مجھے جاب سے کیوں نکالا جا رہا ہے۔
جی نہیں میں بالکل بھی مائنڈ نہیں کروں گا ۔ان فیکٹ جس کے کہنے پر آپ کو نکالا جا رہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ آپ ضرور جاننا چاہیں گی کہ وہ کون ہے تو میم روحا آپ کو زین حیدر کے کہنے پر اس جاب سے نکالا جا رہا ہے۔
روحا کو یہی امید تھی اور وہ یہی نام سننا چاہتی تھی۔لیکن حقیقتا اسے اس وقت غصہ آنا چاہئے تھا۔لیکن اس کے ساتھ ایسا بالکل نہیں ہوا ۔بلکہ اس کے ہونٹوں ہر ایک جاندار مسکراہٹ آ گئی تھی۔
