Rate this Novel
Episode 10
ناول ”” بندھے اک ڈور سے ““
از قلم زرش نور
قسط نمبر ١٠
اماں بی اور حیدر ماموں کمرے میں داخل ہوۓ ۔وہ احتراماًکھڑی ہو گٸی ۔حیدر حسن نے اسے بیٹھنے کے لٸے کہا اور خود اس کے برابر بیٹھ گٸے۔
”روحا“ اماں بی کی آواز کسی کھاٸی سے آٸی تھی۔کتنا دکھ تھا اس ایک لفظ میں۔وہ ایک دم سے جیسے نیند سے جاگی تھی۔
زویا اپنے منگیتر سے وڈیو کال پہ بات کر رہی تھی۔جب میں اچانک اس کے کمرے میں چلی گٸی۔ اپنے کردار کی وکالت کتنا مشکل کام تھا۔اسے آج ہی پتہ چلا تھا۔
میرےپاس کوٸی فون، کوٸی رابطے کا زریعہ نہیں،اماں بی یہ بات جانتی ہیں۔
ایک ایسےشخص نے جیسے میں جانتی ہی نہیں ۔میرے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا۔”مجھ سے قسم لے لیں میں نے کچھ نہیں کیا۔میں نے ماموں سے جو کہا ہے سچ کہا ہے۔
ماموں بنا ٕ کچھ کہے چلے گۓتھےاور آج پہلی بار وہ اماں بی کی موجودگی کی پرواہ کیے بغیر رو دی۔
کچھ نہیں ہوتا میری بچی۔صبر رکھ بس صبر۔
اماں بی نے اسے ایک ہاتھ سے قریب کرتے تسلی دی تھی۔ایک عرصے سے وہ اس کمرے تک محدود تھیں لیکن انہوں نے دنیا دیکھ رکھی تھی۔گھر کے بڑوں سے لے کر بچوں تک سب کے رنگ ڈھنگ پہچانتی تھی۔
روحا کے لٸے یہ رات اس گھر میں گزر ی ہر رات پر بھاری تھی۔رہ رہ کر حیدر ماموں کا خیال آ رہا تھا۔وہ بہت بےاعتبار ٹھہری تھی سب کی نظروں میں۔اپنا دفاع کرنا اس کا پہلا حق تھا۔
اگلی صبح ساری رات جاگنے کے باوجود وہ وقت پرکچن میں موجود تھی۔
مما ایک کپ چاۓ بنا دیں۔، سر بہت درد کر ہا ہے۔
روحا نے برتن دھوتے ہوۓ گردن موڑ کر پیچھے دیکھااور پھر سے برتن دھونے لگی۔
کوٸی جواب نہ پا کر زویا نے سر اٹھا کر دیکھا وہ وہی تھی جس کی وہ شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔اس کے خون میں ابال اٹھاتھا۔
او ۔۔۔ تو غیرت نام کی کوٸی چیز تم میں ہے۔
ایک منٹ۔۔۔انگلی اٹھاکر وارن کرتے ہوۓ اس کی بات کاٹ کر وہ پیچھے مڑی۔لیکن تب تک زویا پیر پٹختی وہاں سے چلی گٸی تھی۔
اپنی انا کو جلتے چولہے میں جھونک کر اس نے زویا کے لٸے چاۓ کا پانی چڑھایا۔
چاۓ بنا کر وہ بےجھجک اس کے کمرے میں آٸی تھی۔چاۓ اس نے ساٸیڈ ٹیبل پر رکھ دی۔
لوگ کہتے ہیں کردار پر بات آ جاۓ تو وہاں ہر بات ختم کر دینی چاٸیے۔میں کہتی ہوں کردار پر بات آ جاۓ تو کھل کر بات کرنی چاٸیے۔
”مجھے کوٸی غرض نہیں تمہارےاقوال زریں سے۔“وہ پھنکاری تھی۔
بلکل۔ہونی بھی نہیں چاہٸےلیکن میں ایک غلط فہمی کی بنا ٕ پر زندگی بھر کے پچھتاوے نہ لینا چاہتی ہوں اور نہ دینا چاہتی ہوں۔تم جانتی ہو میرا تمہارےمنگیتر سے نہ کوٸی رابطہ ہے اور جو تم دونوں کے درمیان ہوا تم بخوبی جانتی ہو۔
جس وقت میں تمہارے کمرے میں داخل ہوٸی تھی ۔تم اس کے پوچھنےپر کہہ سکتی تھی کہ میں تمہاری بھابھی ہوں۔لیکن تم نے تو خود کو مجھ سے بہتر ظاہر کرنا تھا۔
اس لٸے تم نے بتایا کہ میں تمہاری مرحومہ پھوپھو کی بیٹی ہوں جسے آپ جیسے دریا دل لوگوں نے نہ صرف اپنے گھر میں رہنےکی جگہ دی بلکہ پڑھایا لکھایا بھی ہے۔
ویسے بھی تم مان لو ایسا شخص جس نے فون پر ایک لڑکی کی ایک جھلک دیکھ کر آپ کی فیلینگز کی پروا نہ کرتے ہوۓ تم سے رشتہ توڑ کر اس سے رشتہ جوڑنا چاہا، وہ تمہارے قابل نہیں ہو سکتا۔تمہں شکر ادا کرنا چاٸیے کہ اللّہ نے ایسے شخںص کے ہاتھوں آپ کی زندگی محفو ظ رکھی۔
روحا کی باتوں کا اس پر آچھا خاصا اثر ہوا تھا۔اس نے دو نفل ادا کیے اور اللّہ سے اپنے منفی رویہ کی معافی مانگی اور شکر ادا کیا وقت پر جان چھوٹ گٸی۔
منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر وہ کچن میں چلی آٸی جہاں روحا اور زوٸلہ ناشتہ بنانے میں مصروف تھی۔
شہادت کی انگلی موڑ کر میز پر مارتے ہوۓ دونوں کو متوجہ کیا۔چہرے پر زردی لیکن ڈھیر سارا سکون تھا۔روحا سے نظریں ملیں تو دونوں مسکرادیں۔یہ دوستی کی ابتدا ٕ تھی۔
ناشتے کی میز پر زویا نے سب کے سامنے روحا کی پوزیشن کلٸیر کی تھی۔
حیدر حسن نے بھانجی پلس بہو پر ایک مشفق نظر ڈالی اور ناشتے میں مصروف ہو گٸے۔
روحا تم واقعی میں ہیرا ہو۔نم آنکھوں سے زویا نے اسے گلے لگا لیا۔
یہ کب اور کیسےہوا؟دارین کی حیرت بھری آواز سناٸی دی۔
دارین کی بات پر وہ دونوں کھلکھلا کر ہنس دیں اور ڈاٸینگ روم میں داخل ہوتے زین حیدر نےیہ خوبصورت منظر دیکھا اور روحا کی ہنسی کی بھل بھلیوں میں گم ہو گیا۔
زین حیدر میٹنگ کے لٸے اسلام آباد گیا ہوا تھا۔روحا نے اس کی غیر موجودگی سے فاٸدہ اٹھاتے ہوۓ وہ حیدر کے کمرے میں ہی سو گٸی۔
حیدر کا کام جلدی ختم ہو گیا تو وہ رات کو ہی لوٹ آیا ۔سہری کے وقت وہ گھر پہنچا تو سارے دن کے سفر کی وجہ سے بہت تھکن ہو رہی تھی۔وہ کمرے میں آیا تو سامنے روحا کو بستر پر سوتے دیکھا۔کھلے بال اس کےتکیے پر بکھرے پڑے تھے۔ایک ہاتھ تکیے پر جبکے دوسرا پہلو میں تھا۔لمبی انگلیوں کی پوریں مہندی سے سرخ ہوٸی تھی۔وہ گہری نیند میں تھی۔۔روحا۔۔۔۔یہاں۔۔اس کےکمرے میں۔اس کا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا۔شاید اس کی نیند کی وجہ اے کہ کہیں اس کی نیند میں مخل نہ آ جاۓ۔وہ اس سے چند قدم کی دوری پر تھی۔وہ اس کےقریب ہوا۔اس کی پرشوق نگاہیں اس کے چہرے پر جمی تھیں۔وہ سوٸی ہوٸی بھی کھل کر مسکرا دی۔
مند ی مندی سی آنکھیں کھل کر مسکراٸی اور اگلے لمحے پوری ہی کھل گٸی۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟
میں تمہیں سویا وا دیکھ چکا ہوں اس لٸے یہ نہیں پوچھوں گا۔تم بتاٶ میرے کمرے میں کیوں سو رہی ہو۔اس کا لہجہ شریر ہوا تھا۔
اوو ۔۔۔سوری وہ ایک جھٹکے سے بستر سے اٹھی تھی۔
”تم چاہو تو یہاں سو سکتی ہو۔“
نہیں ۔۔۔۔ نہیں ۔۔شکریہ۔گھڑی پر نظر پڑتے ہی اس کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہوۓ تھے۔اس نےپہلا قدم اٹھایا اور پہلا قدم اٹھاتے ہی وہ ڈگمگا گٸی۔
”سنبھل کر۔“لو دیتی نظروں سے تکتے زین نے اس کا بازو پکڑ کر سہارا دیا۔وہ اس سے چند قدم دور ہو ٸی تھی۔اس کے لمس کی گرماٸش اس کے دل کو پگھلا رہی تھی۔جانے کے لٸے وہ اس کے قریب سے گزری جب بے اختیار زین نے اس کا راستہ روک لیا۔اوراس کے حناٸی ہاتھوں کو ہاتھ میں لے کر اس کی ہتھلیوں پر اپنے لب رکھ دٸیے۔اور اس کا راستہ چھوڑ دیا۔وہ دھڑکنیں سنبھالتی باہر نکل گٸی۔حناٸی خوشبو میں بسے تکیےپر اس نے باقی رات جاگ کر گزارنی تھی۔
