62.1K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

ناول ”” بندھے اک ڈور سے““

از قلم زرش نور
قسط نمبر ١٢

وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی ہوٸی اپنٕے اور اماں بی کے مشترکہ کمرے میں پہنچی ۔۔اماں بی سکون سے سو رہی تھی۔
روحا آہستگی سے واش رو م گھس گٸی۔دل کی بھڑاس آنسو کی صورت نکال کر وہ واپس کمرے میں آٸی اور اماں بی کے پاس لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔
رہ رہ کر اسے زین حیدر کی آنکھیں یاد آ رہی تھیں کہ ہوٹل میں اسے دیکھ کر اس کے چہرے پر کیسی بے یقینی تھی۔
یہی کچھ سوچتے نہ جانے رات کےکس پہر اس کی آنکھ لگ گٸی۔
صبح اس کی آنکھ کھلی تو اماں بی کمرے میں کہیں نہیں تھی۔وہ کسلمندی سے کافی دیر چھت کوتکتے بیڈ پر ہی پڑی رہی۔
پھر گھڑی پر وقت دیکھتےہوۓ اٹھ گٸی۔آج سنڈے ہونے کی وجہ سے وہ بے فکر سی تھی ۔
تبھی دروازے پر دستک دے کر زین حیدراندر داخل ہوا۔رات کی نسبت اس وقت اس کا موڈ ٹھیک تھا۔
سامنے کا منظر اس کے لٸے خاصہ دل چسپ تھا۔جہاں کھلے گلے والی ڈھیلی ڈھالی شرٹ پہنے دوپٹے سے بے نیاز دونوں ہاتھ اٹھے ہوۓ تھے جن سے وہ اپنے بال سنوار رہی تھی۔

زین کو سامنے دیکھ کر اس نے جھٹ سے بازو نیچے کیے جس کے نتیجے میں سارے بال اس کے کندھوں پر پھیل گٸے۔

زین حیدر بھول گیا کہ وہ کس کام سے آیا تھا۔
اماں بی کدھر ہیں۔

میں نہیں جانتی۔میری ابھی آنکھ کھلی ہے تو وہ کمرے میں نہیں ہیں۔”اس نے سر جھکاۓ جواب دیا۔“

ہممم۔۔۔۔۔یہ کون سا وقت ہےاٹھنےکا۔
جی۔۔۔۔۔
جی کیا؟
وہ ہونق بنی اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔
مجھے دیرسے اٹھنےوالی لڑکیاں بالکل پسند نہیں ہیں۔

تو میں کیا کروں۔”اب کی بار دوبدو جواب آیا تھا۔

کرنا یہ ہے کہ آج کےبعد صبح سویرے اٹھنا ہے۔

میں آپ کی پابند نہیں ہوں۔

آپ میری پابند ہیں۔آپ اپنے تمام جملہ حقوق مجھے سونپ چکی ہیں۔
آپ پر بھی کچھ حقوق لازم ہیں۔

آپ حکم کریں۔ہم بجا نہ لاٸیں تو کہٸے گا۔

وہ تھوڑا سا اور آگے بڑھا اور ساٸیڈ ٹیبل پر ایک موباٸل اور نوٹوں کی گڈی رکھ کر پاس پڑے صوفے پر پڑا دوپٹہ اس کی گود میں پھینکا۔جیسے اس نے جلدی سے اپنے گرد لپیٹ لیا۔

یہ تمہارے لیا ہے۔اس نے ساٸیڈ ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔

مجھے نہیں چاٸیے۔

آپ کو پھر بھی لینے پڑیں گے۔یہ کہہ کر وہ رکا نہیں اور باہر نکل گیا۔
روحا نے اپنا کب کا رکا سانس بحال کیا اور واش روم میں گھس گٸی۔

سب لوگ اس وقت ٹی وی لاٶنج میں موجود تھے۔سب لوگوں نے اپنی اپنی محفل جماٸی ہوٸی تھی۔ روحا اماں بی کے پیچھے فاریہ بیگم کی نظروں سے چھپ کر بیٹھی تھی۔ زین اپنے موباٸل میں بزی کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔ کال بند کر کہ آ کر وہ آیا اور اماں بی اور حیدر حسن کے سامنے بیٹھ گیا۔
اماں ، بابا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔

بولوبیٹا ! اماں بی کی طرف سے جواب آیا ۔حیدر حسن بھی اسےسوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔

اماں بی میں چاہتا ہوں میرا اور روحا کا ولیمہ ہو جاۓ۔

چھنک کی آواز کے ساتھ روحا کے لبوں کو جاتا پانی کا گلاس زمین بوس ہو گیا۔

سب اس کی طرف دیکھنے لگے۔جبکہ زین نے اپنے قہقے کا گلہ گھونٹا۔وہ روحا کی حالت سے خوب لطف اندوز ہوا۔

بیٹا ہمیں تو کوٸی اعتراض نہیں ہے ۔تم اپنی ماں سے پوچھ لو ۔

مجھے کوٸی اعترا ض نہیں ہے۔فاریہ بیگم کی طرف سے جواب آیا۔
تو پھر نیک کام میں دیر کیسی۔
اگلے ماہ کی کوٸی تاریخ رکھ لیتے ہیں۔
ان کا جواب سننے سے پہلےہی روحا نے اپنے کمر ے کی طرف دوڑ لگا دی۔
نہیں اگلے ماہ نہیں ۔میں نے اگلے سنڈے کے لٸے ہال بک کروا لیا ہے۔

بیٹا تم نے تو ساری تیاری کر رکھی ہے۔
وہ مسکرا دیا۔
سب ہی اس کےولیمے کا سن کر پرجوش ہو گٸے۔
اتنا کم وقت کا سن کر سب کو اپنے اپنے ڈریسز کی فکر ستانے لگی۔

جبکہ اماں بی نے خوشی سے زین کو گلے لگا لیا۔