Rate this Novel
Episode 2
ناول ”” بندھے اک ڈور سے““
از قلم زرش نور
قسط نمبر ٢
روحا نےہمیشہ سے ہی زین حیدر کو اپنے خول میں بند پایا۔ کچھ مخصوص لوگ تھے جن کے ساتھ وہ فرینک تھا۔
ان لوگوں میں اماں بی،حماد حسن اور فاریہ شامل ہیں۔
روحا کو پہلے پہل وہ بہت ہی کھڑوس لگتا تھا۔اور اس بات کا ذکر وہ کھلم کھلا اماں بی سے کرتی تھی۔لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کے اماں بی اس کے یہ نادر خیالات من وعن زین حیدر کے گوش گزار کرتی تھی۔
اس کی سوچ کے مطابق کھڑوس ، ضدی، اور خود پسند تھا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن دل پر اس کا اختیار نہیں تھا۔
دو سال پہلے تک وہ پر سکون زندگی گزار رہی تھی۔
لیکن پھر جب اس نے یونی میں ایڈمیشن لیا تب اپنے شوق کی تکمیل کے لٸے زین حیدر بھی اسی یو نیورسٹی میں پروفیسر کے فراٸض انجام دے رہا تھا۔۔
یونی کے پہلے دن اماں بی کےکہنے کے باوجود وہ اسے اپنے ساتھ یونی نہیں لٕے کر گیا۔۔۔۔
اسے بہت تاٶ آیا ، بات چیت تو ویسے بھی ضرورتاً ہی ہوتی تھی۔لیکن اب روحا نے سوچ لیا تھا کے وہ اب اس سے کسی قسم کی مدد نہیں لے گی۔۔
سارے راستے اس کے روٸیے کو لے کر بار بار اس کی آنکھوں میں آنسو آ رہے تھے۔۔۔
جب وہ یونی پہنچی تو اپنی سوچوں میں الجھتی وہ سنٸیرز کے ہاتھے چڑ گٸی۔۔
جو اسے ایک بڑے ہال میں لے آۓ۔ جہاں اس جیسے اور بھی بہت سارے فریشرز موجود تھے۔۔۔
تمام فریشرزکو فضول قسم کے کام کرنے کے لٸے دٸے گٸے۔۔
جب روحا کی باری آٸی تو اسے گانا سنانے کے لٸے بولا گیا۔
وہ کانپتی ٹانگوں اور لرزتے دل کے ساتھ سٹیج پر پہنچی تو اپنے سامنے اتنے سارے لوگوں کو دیکھ کر اسکا دل کانپ کر رہ گیا۔۔اس نے اپنے آپ کو کوسہ کے وہ کون سی منحوس گھڑی تھی جب میں نے ا س یونی میں ایڈمیشن لینا پرفٸیر کیا تھا۔۔۔
اسے یاد آیا کے زین نے اس کے اس فیصلے کی خوب مخالفت کی تھی۔۔اماں بی بھی زین کی حامی تھی لیکن روحا نے ولید ماموں اور فاریہ مامی کو اپنا وکیل بنا لیا جن کے آگے زین ولید کی بھی نہیں چلتی تھی۔۔
لیکن اس وقت وہ پچھتا رہی تھی لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔
اس نے ہمت کر کے ماٸیک پکڑا لیکن وہ جوں ہی سٹارٹ کرنے کی کوشش کرتی تو سب ہوٹنگ شروع کر دیتے۔
دو تین بار کی کوشش کے بعد اس کی ہمت جواب دے گٸی اور اس کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے۔۔
اس پل ہال کا دروازہ دھکیلتا ہوا زین حیدر اندر داخل ہوا۔
کیا ہو رہا ہےیہاں؟؟
اس کی آواز سن کر سب لوگ کچھ پل کے لٸے خاموش ہو گٸے۔۔
چلٸے سب لوگ یہاں سے۔
لیکن ایک گروپ کے لڑکے زین کے پیچھے پڑ گٸے۔
نہیں سر ہم سبکے ساتھ بھی یہ سب کچھ ہو چکا ہے۔۔۔۔۔
بس آج کے دن کی بات ہے ہمیں بھی تو اپنا بدلہ لینا ہے۔اور ان لوگوں نے اسے بھی ساتھ بٹھا لیا۔
تبھی زین کی نظر سٹیج پر کھڑی روحا پر پڑی۔
اس کی آنکھوں میں شناساٸی کی رمق دیکھتے ہی روحا نے اس کی طرف بڑھنا چاہا۔لیکن اس سے پہلے ہی وہ اسے نظر انداز کرتا ہوا نشست سنبھال چکا تھا۔۔۔
اور پھر سب سٹوڈنٹس کی ہوٹنگ اور شور میں اس کے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکل سکا۔۔
روحا کی آنکھوں میں آنسو کی چمک دیکھ کر زین سٹیج پر چڑ آیا اور سبکو سختی سے منع کیا کے اب کسی کی آواز نہ آۓ اور سٹیج پر اس کے برابر کھڑا ہو گیا۔۔
اور پھر ہال کی خاموشی میں روحا کی سریلی آواز گونجی۔۔۔۔
دہلیز پہ میرے دل کی
جو رکھے ہیں تو نے قدم
تیرے نام پہ میری زندگی
لکھ دی میرے ہمدم
ہاں سیکھا میں نے جینا
جینا جینا کیسا جینا
ہاں سیکھا میں نے جینا
میرے ہمدم
او آسماں کو ملا زمیں کو میری
۔
آدھے آدھے پورے ہیں ہم
تیرے نام پہ میری زندگی
لکھ دی میرے ہمدم
ہا ں سیکھا جینا جینا
ہال میں اس کی خو بصورت آواز گونج رہی تھی۔
وہ آنکھیں موندے بہت جذب کے عالم میں گا رہی تھی۔۔
اور اسی لمحے اس پر ادراک ہوا کے وہ پور پور اس شخص کے پیار میں ڈوب چکی ہے۔۔اور آج یہاں اس کا موسٹ فیورٹ گانا گا رہی تھی۔۔جو وہ اکثر گھر میں ہونے والے فنکشنز پر گٹار پر گاتا تھا۔۔۔
روحا کی آواز اس کے جتنی سریلی تو نہیں تھی لیکن پھر بھی بہت آچھی تھی۔۔
جب اس نے گانا مکمل کیا تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ اس نے آنکھیں کھول کر جو اسے تلاشنا چاہا تو وہ وہاں موجود نہیں تھا۔۔
بلیو جینز پر واٸٹ کلر کا ٹاپ پہنے دوپٹے کو گلےمیں مفلر کی طرح لپیٹے شانوں تک آتے گھنگھریالے بال بڑی روشن اور چمکدار آنکھیں روحا کمال ایک بہت خوبصورت لڑکی تھی۔ پہلی بار دیکھنےوالا کچھ پل کے لٸے مسمراٸز ہو جاتا تھا۔۔
اور اس کی یونی میں یہ بات جنگل کی آگ کی طرح پھیل گٸی تھی کے پروفیسر زین حیدر اپنا دل روحا کمال پر ہار بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔
اور پھر زین نے اپنے شوق کا گلہ گھو نٹا اور اسے کے بارے میں ہو رہی چہ میگو ٸیاں اپنی موت آپ ماری گٸی جب زین نے اسی ہفتے ریزاٸن دے کر اپنا خاندانی بزنس جواٸن کر لیا۔۔۔
لیکن روحا کمال کی زندگی بس اسی ایک پل میں مقید ہو کر رہ گٸی اور وہ خود بھی اس قید خانے میں بہت خوش تھی۔۔یہ میٹھا میٹھا درد اس کے اندر بہت انو کھا سا احساس جگا گیا تھا۔جس سے وہ اب باہر نکلنا نہیں چاہتی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راستے کا اندھیرا اور ویرانی اسے اپنے وجود میں اترتی محسوس ہو رہی تھی۔گاڑی میں گہری خاموشی چھاٸی ہوٸی تھی اور ویسی ہی گمبھیر خاموشی ان دونوں کے درمیان چھاٸی ہوٸی تھی۔
اس کی دل سے خواہش تھی کے ساتھ بیٹھا انسان اس سے کوٸی سوال وجواب نہ کرے وگرنہ اس کی آنکھوں میں چھپا درداس لمحے سارے راز افشاں کر سکتا تھا۔۔
”تم پریشان ہو؟“
”نہیں۔“ اس نے یک لفظی جواب کیسےدیاتھا یہ وہ ہی جانتی تھی۔
آج ہی اسےپتہ چلا تھا کے زین حیدر کا رشتہ بچپن سے ہی اس کے ماموں کی بیٹی روماسعد علی سے طہ پایا ہوا ہے۔ سعد علی آسٹریلیامیں مقیم تھے اور اگلےماہ وہ پاکستان تشریف لا رہےہیں ۔ تاکہ اپنے فرض سے سبکدوش ہو سکیں۔۔
آگاہی بڑی ظالم چیز ہے۔ جب تک وہ اس بات سے بے خبر تھی ۔ وہ پرسکون تھی رات کو سونے سے پہلے اس کےسنگ کچھ خواب بُن لیتی تھی ۔ لیکن اب وہ ان خوابوں کو اپنی آنکھوں سے نوچ لینا چاہتی تھی۔کیونکہ بعد میں ان سے دستبردار ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔اور وہ کسی مشکل میں نہیں پڑناچاہتی تھی۔
اور اپنی یہ تکلیف شٸیر کرنے کے لٸے ہی وہ اپنہ عزیزازجان دوست نوری کے گھر آٸی تھی۔
اس نے اماں بی کو واپسی کے لٸےڈراٸیور کو بھیجنےکے لٸےبولا تھا ۔لیکن جب وہ باہر آٸی تو دونوں بازو سینےپر باندھے گاڑی کے ساتھ ٹیک لگاۓ کھڑا تھا۔
اسے دیکھ کر بغیر سلام دعا کےاس نے ڈراٸیونگ سیٹ سنبھال لی۔
وہ بھی نوری کو خدا حافظ کرتی گاڑی میں بیٹھ گٸی ۔وہ سست روی سے گاڑی چلا رہا تھا جس کی وجہ سے پندرہ منٹ کاراستہ آدھا گھنٹا لگاکروہ لوگ گھر پہنچے۔
پتہ ہے تکلیف کیا ہے
کسی کو چاہنا
پھر اسے کھو دینا
اور خاموش ہو جانا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت ناشتے پر سبھی لوگ موجود تھے۔لیکن روحا نہیں تھی۔
حیدر حسن کے پوچھنے پر فاریہ بیگم نے انہیں بتایا کہ اس کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔اس کو رات سے بخار ہے۔کچھ کمزوری اور نقاہت بھی محسوس ہو رہی ہے۔
تواسے ڈاکٹر کے پاس لے کے جاٸیں نہ۔
تو ڈاکٹر کے پاس گٸی ہے وہ ؟۔”حیدر نے تشویش سے استفسارہ کیا۔“
نہیں ابھی اس کو ناشتے میں کچھ کھلا پھلا کر پھر لے جاتی ہوں۔
ہمم صیح ہے۔یاور آپ اپنی تاٸی کے ساتھ روحا کو ہاسپٹل کے جانا۔
جی تایا ابوّ۔
زین حیدر نے ناشتے سے ہاتھ کھینچ لیے اور اما ں بی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔جہاں وہ ہوش وحواس سے بیگانہ پڑی تھی۔
اماں بی اس کے سرہانے بیٹھی آیات پڑھ پڑھ کر اس پر پھونک رہیں تھی۔
زین نے آگے بڑھ کر اس کی پیشانی کو چھوا۔پھر اس کی نبض چیک کی اور فکر مندی سے دو انگلیوں سے اپنی پیشانی مسلی۔اس نے میڈیسن باکس سے دو پین کلر لی اور گلاس میں پانی ڈال کر اسے سہارا دے کر اٹھایا اور گولی اس کے منہ میں ڈال کر گلاس اس کے لبوں سے لگا دیا۔
اس نے کچھ اس طرح سے اسے سہارا دیا ہوا تھاکے روحا کی پشت اس کے سینے سے لگی تھی اور دروازے سے اندر داخل ہوتی فارحہ بیگم سے منظر چھپا نہ رہ سکا۔اور ان کی آنکھوں میں ناگواری چھا گٸی۔ اور انہوں نے زین کو ریز نظروں سے گھورا۔
جبکے زین انہیں اگنور کرتاہوا اس کو واپس لیٹا کر آچھی طرح سے کمبل رکھ کر بیرونی دروازے کی طرف مڑ گیا۔
