62.1K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

ناول ” بندھےاک ڈور سے“

از قلم زرش نور

قسط نمبر ٣

زین جوں ہی اپنے کمرے میں پہنچا ساتھ ہی فاریہ بھی پہنچ گٸی۔۔

زین مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔

جی بولٸے ماں ”میں سن رہا ہوں۔“

اگلے ماہ تمہارے ماموں پاکستان آ رہے ہیں۔

جی آچھی بات ہے۔” وہ اپنے کام میں مصروف بولا۔“

روما بھی آ رہی ہے ان کے ساتھ۔”اب کی بار ان کی آواز دھیمی تھی۔“

زین جھٹکے سےماں کی طرف مڑا۔” میں اپنا فیصلہ سنا چکا ہوں۔“

بیٹا سمجھنے کی کوشش کرو وہ پورے باٸیس سال کی ہو چکی ہے۔ بھیا مجھے ہر سال یہ بات باور کرواتے رہے ہیں کہ روما میری امانت ہے۔
اب میں انہیں کیسے کہہ دوں کہ وہ اپنی بیٹی کو کہیں اور بیاہ دیں۔

یہ سوچنا آپ کا کام ہے۔

زین میں روحا کو بھی اپنی بہو نہیں بناٶں گی۔” انہوں نے ترپ کا آخری پتہ پھینکا۔“

ماں زندگی میں نےگزارنی ہے تو یہ فیصلہ بھی میرا ہونا چاہیے کے میری زندگی میں کون شامل ہو گا۔”اب کی بار وہ نرمی سے ماں کو سمجھارہا تھا۔“

جہاں اِس لڑکی کی بات آتی تھی وہ ایسے ہی نرم پڑ جاتا تھا۔

تبھی ڈور ناک کر کہ دارین اندر داخل ہوا۔
ا”بھاٸی تایا ابوّ بلا رہے ہیں آپ کو ۔“

جی میں آیا بس۔

وہ اپنا بیگ ایک ہا تھ سےدوسرےہاتھ میں منتقل کرتا ہوا ماں کے پاس آیا۔

نرمی سے انہیں اپنا ساتھ لگایا ان کےسر کا بوسہ لیا اور بیرونی دروازے کی طرف مڑ گیا۔

تبھی یاور دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوا اور مودب سے انداز میں بولا ، تاٸی جی گاڑی تیار ہے چلیں۔

نہیں اب ضرورت نہیں ہے ۔تم جاٶ آفس۔

اوکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ آج کافی دنوں کے بعد یونی آٸی تھی۔
تمہیں کیا ہوا ہے؟ یمنی روحا کی دوست صبح سے اسے نوٹ کررہی تھی۔

روحا کی آنکھوں میں ٹوٹے کانچ سی چھبن تھی اور آنکھیں رتجگے کی غماز تھیں۔

وہ دونوں اس وقت کینٹین میں موجود تھی۔یمنی نے نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑا تو روحا کا ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔اور آنسو پلکوں کی باڑ پر اکٹھاہونے لگے جنہیں روکنے کی کوشش میں روحا نے نچلہ لب سختی سے دانتوں تلےداب لیا۔بکھری بکھری روحا نے یمنی کو پریشان کر دیا۔

”پلیز روحا بتاٶ کیا ہوا ہے۔“ کینٹین میں اس وقت بہت سےسٹوڈنٹ تھے۔وہ کوٸی سچویشن کری ایٹ نہیں کرنا چاہتی تھی۔روحا اپنے آنسو پونچھتی کھڑی ہو گٸی ۔

یمنی میں لاٸبریری جا رہی ہوں۔روحا خود ترسی کا شکار ہو رہی تھی۔
یمنی حیرانی سے اسے جاتا دیکھتی رہ گٸی۔پھر وہ تیزی سے اس کےپیچھے لپکی۔وہ ہمیشہ سےہر بات اس سے شٸیر کرتی تھی۔
وہ لاٸبریری کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی کہ یمنی نے اسے پکارا۔

روحا اس کی پکار سنی ان سنی کرتی تیزی سے سیڑھیاں چڑھنےلگی۔ آنسواس کی آنکھوں سے ابھی تک جاری تھے۔

وہ لاٸبریری کےدروازے تک پہنچی تو یمنی نے اسکی راہ روک لی۔اور اس کا بازو تھام کر لاٸبریری کے نسبتاً پرسکون گوشے میں لے گٸی۔

”بولو اب۔“
اور وہ اسے سب کچھ بتاتی چلی گٸی۔
یمنی نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا۔

اگر تم میری جگہ ہوتی تو کیا کرتی؟

تو میں ایسے خواب دیکھنا چھوڑ دیتی۔یمنی نے قطعیت سے کہا۔

روحا نے اسے حیرانگی سے دیکھا۔

ہماری عزت اور انا سب سے پہلے ہونی چاہٸے۔تم نے خو د بتایا ہے کے وہ تمہیں گھاس بھی نہیں ڈالتا تو تم کیوں خود کو ایسے شخص کے پیچھے برباد کر رہی ہو۔محبت کا دم تو تب برتے ہیں جب دوسرا بھی آپ کو چاہے ۔لیکن تم اتنی بے وقوف کیسے ہو سکتی ہو جو یک طرفہ محبت میں اتنے آگے بڑھ جاٶ۔یمنی اس کی مخلص اور دیرینہ دوست تھی۔

وہ بت بنی بیٹھی یمنی کی باتیں سنتی رہی اور پھر ایک جھٹکے سے اٹھی اورلمبے لمبے ڈگ بھرتی لاٸبریری سے نکلتی چلی گٸی۔


یمنی کی باتوں کا ہی اثر تھا کے وہ اس وقت سب کے ساتھ کھانا کھارہی تھی۔زین حیدر معمول کے مطابق سب سے آخر میں تشریف لایا اور روحا کے برابر موجود کرسی سنبھال لی۔

کھانے کی میز پر اس وقت کم و بیش پندرہ افراد موجود تھے۔
سب کی نظریں یکبارگی زین کی طرف اٹھی تھی ۔کیو نکہ وہ ہمیشہ اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھتا تھا۔چاہے کچھ بھی ہو جاۓ اس کی چٸیر پر کوٸی نہیں بیٹھتا تھا۔لیکن آج بےدھیانی میں روحا کو خبر ہی نہ ہوٸی کےوہ زین کی چٸیر سنبھال چکی ہے۔
سب کی نظریں خود پر محسوس کر کے اس نے اپنے آس پاس دیکھا تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس نے جلدی سے وہ کرسی چھوڑی لیکن اتنی ہی تیزی سے زین نے اس کاہاتھ پکڑ کر اسے واپس بٹھا دیا۔سب کے لٸے یہ حیرت کاایک اور جھٹکا تھا۔ فاریہ بیگم آنکھوں میں چنگاریاں بھرے اسے دیکھ رہی تھی اور یہی لمحہ تھا جب روحا نے اپنے خوابوں سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا۔وہ اتنے محبت کرنے والے لوگوں کی آنکھوں میں اپنے لٸے نفرت نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج صبح سے ہی روحا ،زویا اور رویحا کچن میں مصروف تھیں ۔رویحا کو دیکھنے کچھ لوگ آ رہے تھے۔

لڑکا حیدر حسن کے بزنس پارٹنر کا بیٹا تھا۔ فیملی فرینڈز ہونے کی وجہ سے لڑکے سے سبھی واقف تھے۔عثمان بہت سلجھا ہوا لڑکا تھا۔رشتہ تو پکا تھا بس فارمیلٹی کے لٸے آج وہ لوگ کھانے پر مدعو تھے۔

بنو رے بنو میری چلی سسرال کو
اکھیو ں میں پانی دے گٸی
دعا میں میٹھی گڑ دانی لے گٸی

دارین کچن میں داخل ہو اور فل والیوم میں گانا گنگناتے ہوۓ رویحا کے اطراف چکر لگانے لگا۔

رویحا نے شرمانےکی ایکٹنگ کرتے ہوۓ دوپٹے کا کونہ منہ میں داب لیا۔

یار ویحا تم تو جارہی ہو لیکن یہ ہو باقی پیس رہ گٸے ہیں یہ کب سسرال سدھارے گے جو ہماری زندگیوں میں سکون آۓ گا۔

کیا؟ تینوں نے یک بیک ہو کر کہا ۔

ہم نے کون سا تمہارے بستر پر کانٹے بچھاۓ ہوۓ ہیں۔

وہ تینوں اس کی طرف بڑھیں رویحا کےہاتھ میں چھری تھی جبکہ روحا نے ہاتھ میں چمچہ اٹھایا ہوا تھا۔

دارین نے کچن سے بھاگنا ہی مناسب سمجھا ۔ وہ آگےآگے
بھاگ رہا تھاجبکہ رویحا اور روحا اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔وہ بیرونی دروازے کی طرف بھاگا تو رویحا تو پیچھے رہ گٸی لیکن روحا دروازے سے اندر آ رہے زین کے سینے سے جا ٹکراٸی ۔

پیچھے دارین کی دبی دبی ہنسی گونجی تو روحا تیزی سے پچھے ہوٸی ۔جبکہ زین حیدر نے اسکے گلال ہوتےچہرے کو بہت دل چسپی سے دیکھا۔