62.1K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

ناول “”بندھے اک ڈور سے “”

از 🖋 زرش نور

قسط نمبر ۸

باہر سے آتی آوازیں تیز ہوتی جا رہی تھی۔

پھر کسی نے دروازہ پر زور زور سے دستک دی۔

زین نے ایک سرد آ بھرتے ہوۓ روحا کو نرمی سے خود سے الگ کیا ۔ اس نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی اور اس کے دونوں گال چوم لیے۔ روحا کے لئے نظر اٹھا کر دیکھنا دو بھر ہو گیا۔

وہ اس کی طرف دیکھتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا۔ دروازہ کھولنے پر سامنے حواس باختہ سی زویا کھڑی تھی۔زین بھیا پتہ نہیں تائی جی کو کیا ہو گیا ہے؟

اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اس نے نیچے کی طرف دوڑ لگا دی۔ جہاں فاریہ بیگم ہوش وخرد سے بیگانہ پڑی تھی۔

زین نے آگے بڑھ کر انہیں بانہوں میں اٹھا لیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس وقت وہ لوگ ہاسپٹل پہنچے تو فاریہ بیگم کو آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا۔انہیں انجائنا کا اٹیک آیا تھا۔ لیکن بروقت ہاسپٹل پہنچنے سے وہ بچ گئیں تھیں۔۔۔

جب تک ڈاکٹرز کوئی مثبت جواب دیتے زین کی سانس سینے میں ہی اٹکی رہی۔

وہ ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ دونوں نے اسے بہت لاڈ پیار سے پالا تھا۔ اس کی ہر بات مانی تھی۔ روحا سے شادی کر کے وہ ان کا دل دکھا چکا تھا۔وہ اس سے ناراض تھیں تو وہ بھی اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش کے پورا ہو جانے پر بھی خوش نہیں ہو سکا۔کہ اس کی جنت اس سے ناراض ہے۔

وہ اسے کچھ نہیں کہتی تھی۔ لیکن وہ ان کی ناپسندیدگی جانتا تھا۔وہ جن نظروں سے روحا کو دیکھتی تھی۔ اس کا دل زخمی ہو جاتا تھا۔

وہ دونوں ہی اس کی زندگی میں بہت خا ص تھی اور وہ چاہتا تھا کے وہ اپنی خوشی سے روحا کو اس کی زندگی میں قبول کر لیں۔

وہ جانتا تھا روحا بہت آچھی لڑکی ہے ۔وہ اس کے ماں باپ کی بہت عزت کرتئ ہے۔ اس سے شادی کی ایک بڑی وجہ اس کا اس کی اس کے ماں باپ کے ساتھ محبت بھی تھی۔ فاریہ بیگم بھی اس سے بہت محبت کرتی تھی۔لیکن نہ جانے اب وہ محبت کہاں جا سوئی تھی۔

فاریہ بیگم کی حالت کچھ سنبھلی تو انہوں نے سب سے پہلے زین کو اپنے پاس بلایا۔

ماں کو بہت ساری مشینوں میں مقید دیکھ کر اس کا دل دکھ سے بھر گیا۔

انہوں نے اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا۔ زین کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے۔
اس نے ماں کا سرد ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔

وہ بولنے کی کوشش کر رہی تھیں ۔لیکن انہیں بولنے میں دقت ہو رہی تھی۔

میری۔۔۔ایک بات۔۔۔۔مانو گے؟

زین نے اثبات میں سر ہلایا۔

مجھ سے۔۔۔ مجھ سے ۔۔۔۔ وعدہ کرو تم اس لڑکی کو اپنے ساتھ نہیں رکھو گے۔

زین کی گرفت ماں کے ہاتھوں پر کمزور ہوئی۔ اس نے بہت دکھ سے ما ں کی طرف دیکھا۔
جنھوں نے بیٹے کے چہرے پر دکھ کے ساۓ لہراتے دیکھ کر بھی نظریں چرا لئ۔

وعدہ کرو مجھ سے زین۔۔۔

اور زین نے دل میں اٹھتے درد کو نظر انداز کرتے ہوۓ اثبات میں سر ہلا دیا۔

اور فاریہ بیگم کی آنکھیں بند ہوتے ہی وہ آئی سی یو سے باہر نکل کر ہاسپٹل سے بھی باہر نکل آیا۔

رات گئے تک سڑکوں کی خاک چھان کر صبح کے وقت وہ گھر میں داخل ہوا تو سامنے ہی وہ کھڑی تھی۔

لگتا تھا وہ ساری رات روتی رہی ہے ۔ لال آنکھیں سوجے پیوٹے۔ اور پہلی بار زین کو احساس ہوا کہ وہ رونے کے بعد اور بھی پیاری لگتی ہے۔

زین کو سامنے دیکھ کر وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی۔

ممانی کیسی ہیں؟”اس کے لہجے میں تشویش تھی۔”

ٹھیک ہیں اب۔

اماں بی بھی اپنے کمرے سے نکل آئیں ۔ بیٹا بہو کیسی ہے اب؟
ٹھیک ہیں اماں بی آپ پریشان نہ ہوں۔

اماں بی اپنے دوپٹے سے آنکھیں صاف کی اور دعا کے انداز میں ہاتھ اٹھاۓ۔” اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر۔””

میں جا رہی ہوں شکرانے کے نوافل ادا کرنے ۔روحا بیٹا زین کو کھانا دو ۔

جی اماں!

روحا کچن کی طرف بڑھ گئی اور وہ گہری سوچ میں گم صوفے پر پاؤں لمبے کر کے بیٹھ گیا۔

آج فاریہ بیگم کو گھر لایا گیا۔ اور انہوں نے گھر آتے ہی اعلان کیا کہ روحا ان کی آنکھوں کے سامنے نہ آۓ۔
ان کی طرف بڑھتی روحا نے شکوہ کناں نظروں سے زین کی طرف دیکھا جس نے اپنی نظریں پھیر لیں۔

وہ تیزی سے کچن کی طرف بڑھ گئی ۔ اس کے لئے سب سے محفوظ جگہ تھی جہاں بیٹھ کر وہ اپنا ہر دکھ آنسو کے صورت میں بہا دیتی تھی۔

تھوڑی دیر اندر کا غبار نکالنے کے بعد وہ اپنے کاموں میں مصروف ہو گئی۔

رات گئے وہ کمرے میں لوٹی تو زین کو لبوں میں سیگریٹ دباۓ کسی گہری سوچ میں گم پایا۔

وہ چینج کر کے لیٹنے کے لئے بیڈ کی طرف بڑھی ۔ تبھی زین کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔

روحا تم اپنا سامان لے کر اماں بی کے کمرے میں شفٹ ہو جاؤ۔

زین کی بات پر لمحہ بھر کے لئے اس کا دل اور ہاتھ دونوں کانپے ۔لیکن وہ خود کو کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔
اس لئے تیزی سے وارڈروب کی طرف بڑھی اور ایک بیگ میں اپنے کپڑے بھر کر تیزی سے باہر نکل گئی۔
اس کے نکلتے ہی زین نے پاس پڑا گلدان زور سے سامنے دیوار پر دے مارا۔

اسے خود پر غصہ تھا جب ہمت کر کے شادی کر ہی لی تھی تو پہلے دن ہی ڈٹ کر سب کے سامنے اس کے حق کے لئے کھڑا کیوں نہ ہوا ۔سب کو یہ باور کیوں نہ کروا دیا کہ وہ اس کی زندگی میں کیا معنی رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روحا اماں بی کے کمرے میں پہنچی تو وہ بھی حیرت سے اسے دیکھنے لگی جس نے پٹخنے کےاندز میں بیگ زمیں پر رکھا ۔

سمجھتے کیا ہیں خود کو جب دل چاہا اپنا لیا اور جب دل چاہا چھوڑ دیا۔

ارے ارے! لڑکی باؤلی ہو گئی ہے کس کی بات کر رہی ہے۔

آپ کے پوتے کی بات کر رہی ہوں ۔اور اب اگر آپ نے مجھے سمجھا کر واپس اس کے پاس بھیجنےکی بات کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔
وہ اماں بی پر بھی چڑھ دوڑی جو کہ اسے اتنے غصے میں دیکھ کر منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے دیکھنے لگیں۔

ارے لڑکی باؤلی ہو گئی ہے کیا؟ مجھ بے چاری کو کیوں غصہ کررہی ہے۔
صیح کہہ رہی ہوں آپ نے ہی میرا دماغ بھی خراب کیا ہے۔ ہر وقت اس کی تعریفیں کر کر کے میرا پوتا یہ ہے اور وہ ہے۔

اپنی بیوی کے لئے تو سٹینڈ لے نہیں سکتا۔ خاک کچھ اور کرے گا۔
اماں بی اگر آج کے بعد مجھے وہ شخص اس کمرے میں نظر آیا نہ تو میں نے اس گھر میں نہیں رہنا۔
وہ غصے میں بولے جا رہی تھی۔ تبھی پلٹ کر دیکھا تو وہ دونوں بازو سینے پر باندھے اس کا جاہ وجلال دیکھ رہا تھا۔