Rate this Novel
Episode 7
ناول ”بندھے اک ڈور سے “
از قلم زرش نور
قسط نمبر٧
محبت کسی وجہ، کسی کے کہنے یا سامنے والے کی محبت کی گہراٸی یا سچاٸی دیکھ کر نہیں ہوتی۔یہ بس ہو جاتی ہے اچانک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب ہونے لگتی ہے تو ایک لمحہ بھی نہیں لگتا۔
بس ایک پل۔۔۔۔۔کوٸی ایک پل ۔۔۔۔آپ کو قید کر لیتا ہے۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں بالوں میں پھنساۓ دونوں کہنیاں ٹیبل پر ٹکاۓ ماضی میں غرق تھا۔۔
وہ بھی ایک بہت خاص دن تھا۔۔۔وہ پورے چار سال کے بعد گھر آیا تھا۔۔
گھر میں سب نے اس کی خوب آٶ بھگت کی۔ کچھ سفر کی تھکان تھی،کچھ اپنے گھر کا سکون تھا۔جو وہ رات کوجلدی ہی سو گیا۔۔
صبح اس کی آنکھ سویرے ہی کھل گٸی۔وہ شاور لے کر نیچے آیا تو آخری سیڑھی پر اچانک ہی وہ اس کے سامنے آگٸی۔سفید یونیفارم میں سفید دوپٹہ رکھے بیگ کندھے پر ڈالے شاید وہ اپنے کمرے میں کچھ بھول گٸی تھی۔اور جلد بازی اور ہڑبڑاہٹ میں اس سے ٹکر ا گٸی ۔اس نے جلدی سے سوری کہا اور ساتھ ہی اسلام علیکم بھی دونوں الفاظ ایک ہی جملےمیں ادا کیے گٸے تھے۔۔
زین نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا اور آگے بڑھ گیا۔۔لیکن وہی لمحہ تھا جس میں وہ اپنے دل پر اس نے روحا کا نام درج کر لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل دھڑکنے کا سبب یادآیا
وہ تیری یاد تھی یاد آیا
نور جہاں کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔۔۔
روحا جو صوفے پر بیٹھی تھی اس نے چونک کر زین کی طرف دیکھا۔جو گہری نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
تمہاری ہنسی سے میری سانسیں چلتی ہیں،کاش تم سمجھ سکو ، اعتبار کر سکو۔“
روحا نے نگاہیں چرا لی ۔اور چپکے سے کمرے سے نکل کر اماں بی کے کمرے میں آ گٸی۔
فاریہ بے حد تلملاٸی ہوٸی تھی۔کیونکہ حیدر حسن نے انہیں سختی سے منع کیا تھا کے وہ زین اور روحا کے معاملے میں کچھ نہیں بولیں گی۔وہ روحا کو زین کے سامنے تو کچھ نہ کہہ سکیں لیکن اماں بی کے کمرے میں جا کر دونوں نانی نواسی کو خوب کھری کھری سنا آٸی تھی۔۔
جس کے جواب میں روحا نے تو سر جھکا لیا ۔لیکن اماں بی نےترکی بہ ترکی فاریہ کو جوا ب دٸیے۔
یہ سوال وجواب کرنے ہم سے کیوں آٸی ہو۔جاٶ اپنے بیٹے سے پوچھو نہ اس نے ایسا کیوں کیا۔
بڑی آٸی ہیں ہمیں باتیں سنانے والی۔
وہ اماں بی کے اصرار پر رات کے پچھلے پہر کمرے میں داخل ہوٸی ۔دبے پاٶں صوفے کی طرف بڑھی لیکن اس سے پہلے ہی اسے آواز آٸی”پردے برابر کر کے دروازہ بند کر دیں۔“
روحا نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا اور کسی معمول کی طرح اس کی بات پر عمل کر کے چادر سر تک تان کر سو گٸی۔
آدھی رات کو زین کا کندھا کسی نے ہلایا۔وہ گہری نیند میں تھا۔
آنکھیں کھول کر دیکھا روحا کھڑی تھی۔۔اس نے اپنی بند ہوتی آنکھوں سے بامشکل پوچھا۔
کیا ہوا؟
اے سی بند ہو گیا ہے۔
تو کہیں اور سو جاٶ نہ۔
اس کے بعد اس کی آوا ز دوبارہ نہیں آٸی۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ خود بھی اٹھ بیٹھا کمرے میں گرمی بڑھ رہی تھی۔
اس نے ٹیبل لیمپ آن کیا جب ہی وہ اسے اپنے پیروں والی ساٸیڈ پہ سوٸی نظر آٸی۔
اس نے ہاتھ بڑھا کراسے اٹھانا چاہامگر اسے گہری نیند میں دیکھ کر رک گیا۔اس نے تکیہ اٹھا کر اس کے سر کے نیچے رکھا۔پھر اسے دیکھنے لگاوہ سوتے ہوۓ بھی بہت پیاری لگ رہی تھیاس نے مسکراتے ہوۓ اس کے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور پھر جھجک کر رک گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ڈارک براٶن جینز پہ بلیک شرٹ زیب تن کیے تھا۔ڈارک براٶن کوٹ پہن رکھاتھا۔ وہ آفس جانے کےلٸے ریڈی تھا۔تبھی ڈریسنگ روم کا دروازہ کھلا خوشبو کا ایک جھونکا زین کے نتھنوں سے ٹکرایا۔اس نےرخ موڑ کر دیکھا تو ایکوا بلیو کلر کے سوٹ پر ہم رنگ دوپٹہ رکھے کندھوں تک آتے کھلے بال وہ ایک پل کے لٸے پلکیں جھپکنا بھول گیا۔
وہ نروس سی چلتی ہوٸی ڈریسنگ تک آٸی اور برش اٹھا کر بال سنوانے لگی۔
ایک ٹرانس کی کیفیت میں زین حیدر اس کی طرف بڑھا۔ اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ اس نے جلدی سے کنگی کی اور جانے کے لٸے مڑی لیکن وہ پہلے ہی اس تک پہنچ چکا تھا۔۔
روحا کا سر اس کے سینے سے آلگا۔ اس کے وجود سے اٹھتی خوشبو اسے اپنے حصار میں لے رہی تھی۔
زین نے آگے جھک کر ایک خوبصورت جسارت کی ۔روحا کی پلکیں بھاری ہونے لگیں ۔زین نے آگے بڑھ کر اسے خود میں بھینچ لیا ۔لیکن اس کے ساتھ ہی باہر سے زور زور سے کسی کے بولنے کی آوازیں آنے لگیں۔
