Rate this Novel
Episode 1
ناول “”بندھے اک ڈور سے””
از قلم زرش نور
قسط نمبر ١
باہر شام کی سیاہی دھیرے دھیرے گہری ہو رہی تھی۔ کمرے میں نیم اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔۔
ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔۔روحا کسلمندی سے بیڈپر آنکھیں بند کیے پڑی تھی۔۔
اسے یہ خاموشی بہت بھلی لگ رہی تھی۔۔ کیونکہ اس گھر میں خاموشی شاز و نادر ہی ہوتی تھی ۔۔
اس گھر میں ہروقت قہقے گونجتے ہیں ۔بہت سارا پیار ،رشتے ناتے، اپنوں کا ساتھ ، ایک مکمل گھر کا سکون سب کچھ تھا یہاں۔
ایک دوسرے پہ جان نچھاور کرنے والے لوگ لیکن اس کے ساتھ ہی ہر گھر میں جیسے کچھ لوگ اپنے اندر زہر بھرے ہوتے ہیں۔ایسے ہی کچھ سانپ ہر وقت ڈسنے کوتیار رہتے ہیں۔۔
روحا آنکھیں موندے اس سکون کو محسوس کرنا چاہتی تھی۔۔
تبھی خاموشی کو چیرتی ہوٸی اماں بی کی تیز آواز آٸی ۔ساتھ ہی ان کی چھڑی کی ٹک ٹک کی آواز بھی قریب آ رہی تھی۔
روحا نے جھٹ سے بستر سے نکلی اور دوپٹہ آچھی طرح لپیٹ کر باہر نکل آٸی۔۔
ارے بیٹا آج خوب سوٸی ہو تم۔۔ میں کب سے تمہارا نیچے آنے کاانتظار کر ریی ہوں۔۔
سوری اماں بی بس آنکھ لگ گٸی تھی۔۔
چلو کوٸی بات نہیں بیٹا۔”وہ لجاجت سے بولی۔“
آپ اوپر کیوں آٸیں؟
بیٹا زین کب کا آ چکا ہے ۔تمہیں پتہ ہے آج ملازمہ بھی کوٸی نہیں گھر میں وہ بے چارہ بھوکا بیٹھا ہے۔۔
جی اماں چلیں پھر ۔”وہ انہیں شانوں سے تھامتی ہوٸی آگے بڑھی۔“
وہ سیڑھیوں سے نیچے اتری تو سامنے ہی وہ جان دشمن اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ موجود تھا۔
بلیک کلر کے ڈھیلے ڈھالے شلوار قمیض میں ملبوس ، ہا تھ میں ریموٹ اٹھاۓ کوٸی بزنس پروگرام دیکھ رہا تھا۔۔
روحا نے قریب آ کر اسے سلا م کیا۔
جس کا اس نے بغیر دیکھے جواب دیا۔
روحا کچن کی طرف بڑھ گٸی۔
کھانا ٹیبل پر لگا کر اسے اطلاع دی تو وہ ہاتھ سے ریموٹ چھوڑ کر کچن میں چلا آیا۔ساتھ ہی اماں بی کو کھانے کی دعوت دینا نہیں بھولا۔
اماں بی نے نفی میں سر ہلایا اور نماز کے لٸے اٹھ گٸی۔
اس نے ہاتھ دھو کر کھا نا شروع کیا اور ایک بار بھی اسے کھانے کے لٸے نہیں پوچھا۔
وہ تھوڑی دیر اسے دیکھتی رہی پھر مڑ کر چاۓ کا پانی چولہے پر چڑھا دیا۔
وہ چاۓ کا پانی چڑ ھا کر خیالوں میں کہیں اور ہی پہنچ گٸی۔
ہوش میں تب آٸی جب کسی کا دھکا لگا۔
جلدی سےگرم پین کو ہاتھ لگانا چاہا لیکن درمیان میں ہی زین نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
کیا کر رہی ہو؟ ہوش میں ہو؟
ہاتھ جل جاتا تمہاراابھی تو ”وہ اب خشمگیں نظروں سے اسے گھور رہا تھا ۔“
روحا نے نظریں جھکا لیں۔
اس کا ہاتھ ابھی بھی زین کے ہاتھ میں تھا۔
روح نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس نے جلدی سے اس کا ہا تھ چھوڑ دیا۔
چاۓ میرے کمرے میں دے جانا۔”وہ حکم سنا کر تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔“
گھر میں سب لوگ اوکاڑہ شادی پر گٸےہوۓ تھے۔
اماں بی نگینہ حسن، حسن احمد کی بیوہ ہیں۔
ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔
سب سے بڑا بیٹا حیدر حسن ہیں جن کی بیوی فاریہ بہت سلجھی ہوٸی خاتون ہیں۔ان کا ایک بیٹا زین ولید ہے۔ جو امریکہ سے بزنس ایڈمینسٹریشن کی ڈگری لے کر آیا ہے۔
ان سے چھوٹے وقاص حسن ہیں جن کی بیوی صبیحہ تیز مزاج کی ہیں۔ ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ زویا، رویحا اور یاور جو کے ماں کا پر تو ہیں۔
سب سے چھوٹے حماد حسن ہیں ان کی بیوی زوٸلہ بہت آچھی اور دھیمے مزاج کی ہیں۔ ان کے ایک بیٹا اور ایک بیٹی مریم تھی۔
سب سے چھوٹی ان کی لاڈلی بیٹی دریہ تھی۔ جو بہت نازو نعم سے پلی تھی۔اس نے اپنی پسند سے کمال احمد سے شادی کی اور شادی کے صرف ایک سال بعد کچھ دنوں کی روحا کو چھوڑ کر ایک ایکسیڈنٹ میں اس دار فانی سے کوچ کر گٸے۔
اور روحا کو اماں بی نے اپنی آغوش میں بھر لیا۔
روحا سب کی لاڈلی تھی۔ لیکن جب سے وہ جوان ہوٸی تھی ۔اس کی خوبصورتی کی وجہ سےوہ کچھ لوگوں کی نظروں میں کھٹکنےلگی تھی۔
وہ چاۓ لے کر کمرے میں گٸی تو وہ بیڈ پر کوٸی فاٸل کھولے اس میں انہماک تھا۔
وہ چاۓ رکھ کر مڑی تو اس نے پکار لیا مڑ کر دیکھا جو سر اٹھاۓ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
اس نے سامنے رکھے اپنے کوٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ روحا کو دینے کے لٸے کہا۔
روحا کوٹ لے کر اس کے ہاتھ میں دیا تو اس نے کوٹ کی پاکٹ سے نوٹوں کی گڈی روحا کی طرف بڑھاٸی ” اماں بی نے بتایا تھا تم نے سمیسٹر کی فیس جمع کروانی ہے ۔“
یہ اماں بی کو دے دینا اور اپنی فیس سلپ مجھے دے دینا۔
روحا نے اثبات میں سر ہلایا اور بیرونی دروازے کی طرف مڑ گٸی۔
اس کے باہر نکلتے ہی زین حیدر نے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا لی اور ساتھ ہی سیگریٹ بھی سلگا لیا۔
اور دروازے کی طرف دیکھنے لگا جہاں سے وہ ابھی نکل کے گٸی تھی۔۔۔۔۔۔۔زین حیدر نے جب سے ہوش سنبھالا اس نے اماں بی سے ایک ہی بات سنتا آیا کے اسے روحا کا خیال رکھنا ہے۔ جیسے اس کی پھپو دریہ بچپن میں اس کا خیال رکھتی تھی۔
اسے دریہ پھپو کی تھوڑی تھوڑی یاد آتی تھی۔ وہ روحا سے پورے دس سال بڑ ا تھا۔
وہ بغیر کہے اس کی ہر ضرورت پوری کرتاتھا۔۔
وہ جب بھی اسے چھپ چھپ کر دیکھتی تھی وہ جانتا ہوتا تھا۔لیکن زین کے دیکھنے پر وہ نظریں پھیر لیتی۔۔۔
وہ جانتا تھا وہ اس کے لیۓ دل میں الگ جزبات رکھتی ہے۔لیکن وہ اس کی حوصلہ آفزٸی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
کیونکہ ایک تو وہ بہت چھوٹی تھی دوسرا وہ ابھی پڑھ رہی تھی۔۔
لیکن وہ اس کے لٸے ایک ساٸبان کی طرح تھا۔ ہر جگہ بغیر اس کو پتہ چلے اس کی ڈھال بن جاتا۔
جب بھی کسی کو اس کی کسی بات پر غصہ ہوتا یا اس سے کوٸی الٹا کام ہو جاتا تو وہ کچھ نہ کچھ کر کے اسے بچا لیتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات گٸے سب لوگ لوٹ آۓتھے۔ روحا جلدی سو گٸی تھی۔ ا
صبح اٹھی سارے گھر پر سناٹے کا راج تھا۔سب لوگ ابھی تک سو رہے تھے۔
چھٹی کا دن ہونےکی وجہ سے سب مرد بھی سو رہے تھے۔
وہ کچن میں اماں بی کے لٸے چاۓ بنا رہی تھی۔ تبھی زین نے دروازے سے ہانک لگاٸی ۔”ایک کپ میرے لٸے بھی۔“
روحا نے مڑ کر دیکھا تو وہ غاٸب ہو چکا تھا۔
وہ چاۓ لے کر اماں بی کے کمرے میں آٸی تو وہ ان کے ساتھ باتوں میں مشغول تھا۔
ان دونوں کو چاۓ کے کپ تھما کر وہ الماری میں سے اماں بی اور اپنے کپڑے نکالنےلگی۔
اماں بی اپنے پسندیدہ ٹاپک پر پہنچ چکی تھی اور وہ تھا زین حیدر کی شادی اور وہ تھا کے یہ بات سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ جاتا۔
اس وقت اماں بی اسے کینونس کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
روحا کی ایک سانس آ رہی تھی تو ایک جا رہی تھی۔
آخر کب کرو گے تم شادی؟پورے تیس سال کے ہو گٸےہو تم۔
وہ بھی بضد تھا کے بس اسے ابھی شادی نہیں کرنی۔
بیٹا اگر کوٸی پسند ہے تو بتا دو۔
اماں بی پسند تو ہے لیکن وقت آنے پر بتاٶں گا۔
روحا اب مزید نہیں سن سکتی تھی۔اس لیۓ کمرے سے باہر نکل آٸی۔
آچھا تو زین حیدر آپ نےکسی کو پسند کر لیا ہے۔وہ اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں الجھ گٸی۔
یہ تو جانتی ہوں آپ میرے نہیں ہو سکتے لیکن یہ بھی ایک دردناک لمحہ ہو گا جب آ پ کو کسی او ر کا ہوتا ہوا دیکھوں گی۔
