Rate this Novel
Episode 6
ناول ” بندھے اک ڈور سے“
از قلم زرش نور
قسط نمبر ٦
مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ آپ نے دھوکہ کیا ہے میرے ساتھ آپ کی وجہ سے آج میری عزت دو کوڑی کی ہو گٸی ہے۔۔۔۔
آپ کو تو کوٸی اثر نہیں ہوا نہ لیکن جن نظروں سے میرے تینوں ماموٶں نے مجھے دیکھا تھا میں اپنی ہی نظروں میں گر گٸی۔میرا آخری فیصلہ یہی ہے کہ مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا۔
آپ مجھے آزاد کر دیں۔
وہ روحا کی بات پر غصے سے بپھر گیا اور اس کی بلند دھاڑ پہ وہ دو قدم پیچھے ہٹ گٸی،اسے زین کے اس قدر غصے سے خوف محسوس ہوا وہ اس کے سامنے سے جاتے جاتے پھر ٹھہر گیا۔
اور ہاں۔۔۔۔یہ جو تم بار بار کہہ رہی ہو نہ مجھے چھوڑ دو یہ اتنا آسان نہیں ہے۔
تمہارے کہنے پہ میں سب کچھ چھوڑ سکتا ہوں،مگر تمہیں نہیں چھوڑ سکتا۔۔
اس نے انگلی اٹھا کر روحا کو وارننگ دی اور وہ چپ کی چپ رہ گٸی ۔جبکہ وہ لمبٕے لمبے ڈگ بھرتا بیڈ روم سے نکل گیا۔
روحا کچھ دیر کے لٸے چپ چاپ کھڑی رہی ،پھر دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو غلط فیصلے ہم کرتے ہیں ۔انہیں درست تقدیر کرتی ہے۔
جن خوش گمانیوں میں ہم مبتلا ہوتےہیں۔وہ خوش گمانیاں انسان توڑتے ہیں۔
جس خواب مں ہم رہ رہے ہوتے پیں ۔اس کو حقیقت جھٹلاتی ہے۔
وہ پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے رات کے پچھلے پہر آوارہ گردی کر رہا تھا۔گھر جانے کا اس کا کوٸی موڈ نہیں تھا۔ گھر میں سب ہی اس سے خفا تھے۔اور جس کی وجہ سے سب کو خفا کیا تھا اس کی اپنی ہی منطق تھی ۔وہ سب کے خفا ہونےپر خفا تھی۔
لیکن وہ پھر بھی مطمٸن تھا۔اس نے اسے اپنی زندگی میں شامل کر لیا تھا۔جیسے بھی صیح کیونکہ اس نے غلط صیح تو کچھ سوچا ہی نہیں تھا۔وہ تو بس اتنا جانتا تھا اس کی متاع زیست کسی اور کی ہو رہی ہے اور ایسا وہ مر کے بھی نہ ہونے دیتا۔۔۔۔۔
دُور کہیں سے آزانوں کی آواز آٸی تو اس کے قدم خودبخود مسجد کی طرف اٹھ گٸے۔۔
نماز پڑھ کر اسے بہت سکون حاصل ہوا۔وہ نماز کے بعد بھی کافی دیر وہاں بیٹھا رہا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے کمرے میں قدم رکھا تو اسے ایک پل کے لٸے گمان گزرا کے وہ کسی اور کے کمرے میں آ گیاہو۔
اسے لگا کمرا اپنی حالت زار پر ماتم کناں ہے۔۔
کمرے میں جابجا کشن ہی کشن پڑے تھے۔الماری سے اسکے سارے کپڑے نکال کر ادھر ادھر پھینکے گٸے تھے۔ساٸیڈ ٹیبلز پر رکھے قیمتی ڈیکوریشن پیس بہت بری طرح سے توڑے گۓ تھے۔
وہ بہت احتیاط سے چلتا ہوا کانچ سے بچتا بچاتا واش روم تک پہنچا ۔کپڑے چینج کر کے بیڈ پر لیٹا تو وہ دشمنِ جان پر نظر پڑی جو تھک ہار کر گہری نیند سو رہی تھی۔
اس نےغور کیا تو اس کے ہاتھوں میں مہندی کے ساتھ خون کے دھبے بھی نظر آۓ۔
یہی حال اس کے پیروں کا تھا۔۔
اور یہی وہ لمحہ تھا جب زین حیدر کو اس پہ بھلا کا غصہ آیا ۔اور اس نے اس کی نیند کی روا کیے بنا اسے بازو سے پکڑ کر بٹھایا۔
وہ جو گہر ی نیند میں تھی ہڑبڑاہٹ میں زین حیدر کے گلے سے ہی جھول گٸی۔۔
زین حیدر بھی بھول گیا کے اس نے کیوں اسے جگایا تھا۔
وہ جب حواسوں میں لوٹی تو تیزی سے پیچھے ہوٸی۔
زین حیدر بھی ہوش میں لوٹا اور درشتی سے اس کا بازو پکڑ کر زوردار جھٹکا دیا۔۔
روحا کمال ایک بات یادرکھنا اگر آج کے بعد خود کو تکلیف دینے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوٸی نہیں ہو گا۔۔
ساتھ ہی انٹر کام پر ملازمہ کو بلایا ۔اسے کمرہ صاف کرنےکی ہدایت دے کر وہ روحا کو بازوٶں میں اٹھاۓ اماں بی کے کمرے میں آیا جو کے گہری نیند میں تھیں ۔روحا کو ان کے برابر لیٹا کر خود صوفے پر لیٹ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحا چپکے سے کمرے سے نکل کر کچن کی طرف بڑھی ۔اس چاۓ کی طلب ہو رہی تھی۔لیکن راستے میں ہی اس کی مدبھیڑ روما سے ہو گٸی۔
روما تو ہر وقت نک سک سے تیار پراپر ڈریسنگ اور میک اپ میں رہتی تھی۔روحا کو ہمیشہ گمان گزرتا کے وہ کہیں جانے کو تیار ہے۔ لیکن یہ روما۔۔۔۔۔جو اس کے سامنے کھڑی تھی بالکل مختلیف تھی۔بکھرے بال، ملگجا لباس،میک اپ سے عاری سپاٹ ستا ہوا چہرہ۔۔۔۔۔روحا کر اجڑے حال نے اسے چونکا دیا۔
اس سے پہلے کے روما کچھ کہتی وہ اسے دھکا دیتی وہاں سے نکل گٸی۔۔
اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا۔وہ کچن کی بجاۓ لان میں نکل آٸی اور قدرے پرسکون گوشے میں بیٹھ گٸی۔۔
پھر اا نے اندر سے روما اور سعد انکل کو نکلتے دیکھا فاریہ اور حیدر حسن ان کے ساتھ باہر تک آۓ تھے۔۔
فاریہ نے روما کو گلے لگایا تو اس کی آنکھوں سے آنسو کا سیل رواں ہو گیا۔۔اور وہ ان سے الگ ہوتی ہوٸی گاڑی میں جا بیٹھی اور پھر یکے بعد دیگرے تین گاڑیاں وہاں سے نکلتی چلی گٸیں۔۔۔
روحا فاریہ اور احمد حسن کی آنکھوں سے اوجھل ہو کر ایک ساٸیڈ پر بیٹھ گٸی۔۔
جبکہ اپنےروم کی کھڑکی میں کھڑا زین اس کی بزدلی پر مسکرا بھی نہ سکا۔
جب کہ روحا گہری یاسیت کاشکار تھی۔اس کی وجہ سےدو زندگیاں خراب ہو گٸیں تھیں۔۔
اورروما تو اب کبھی بھی اس کی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے والی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
