62.1K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

ناول ””بندھے اِک ڈور سے““

از قلم زرش نور

قسط نمبر ١١

اسے لگ رہاتھا اس کی زندگی جمود کا شکار ہو گٸی تھی۔۔صبح آٹھ سے شام چار بجے تک آفس میں سر کھپانے کے بعد گھر لوٹتی تھوڑی دیر اماں بی کے اس بیٹھ کر انکی دن بھر کی روداد سن کر جو کچن کا رخ کرتی پھر رات نو بجے کچن میں ہی گزرتا۔

کہیں دن سے اسے زین نظر نہیں آ رہا تھا۔وہ رات گٸے گھر لوٹتا تھا اور صبح سویرے نکل جاتا۔
وقاص ماموں کی زبانی ہی پتہ چلا تھا کے وہ اور زین آج کل ایک نٸی فیکٹری کی بنیاد رکھ رہے تھے۔اس لٸے انہیں سر کھجانے کا وقت بھی نہیں ملتا تھا۔
ایسے ہی بورنگ دنوں میں دارین اور سب بڑوں کی رضامندی سے زویا اور دارین کا رشتہ طہ کر دیا گیا تھا۔اور صدا کے بےباک دارین کی شوخ جملوں سے بچنے کے لٸے زویا کمرہ نشین ہو چکی تھی۔روحا اور رویحا کی زمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاریہ بیگم کارویہ جوں کا توں تھا۔بس اتنی سی تبدیلی آٸی تھی کہ اب وہ روحا کی موجودگی میں ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کرتی تھیں۔روحا ان کے لٸے کھانا بنا تو دیتی لیکن خود جا کر انہیں سرو کرنے کی ہمت نہیں تھی۔
وہ اس وقت بھی کھانا ٹرے میں رکھ کر اب لاٶنج سے زوٸلہ ممانی کو بھلا لاٸی تھی۔وہ ٹرے اٹھا کر فاریہ بیگم کے آگے رکھنے لگی ۔فاریہ نے کچن کے دروازے میں ایستادہ روحا کو مخاطب کیا ۔کل سے میرا کھانے کی زمہ داری تمہاری ہے۔
روحا نے خوشگوار حیرت سے ان کی طرف دیکھا لیکن وہ اب مگن سی کھانا کھا رہی تھی۔

زوٸلہ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے وکٹری کا نشا ن بنایا تو وہ بھی سرشار سی مسکرا دی۔

اس کی زین سے بھی ناراضگی کچھ کم ہو گٸی تھی۔وہ جانتی تھی وہ ماں کی محبت میں مجبور ہے۔اس نے ایک دن رات کو ماں بیٹے کی بحث سنی تھی۔اور تبھی سے اس کا دل بدل گیا۔
اب کہیں دنوں سے و ہ رات کو اس کا انتظار کر رہی تھی۔لیکن وہ شاید گھر آ ہی نہیں رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھر میں دارین اور زویا کی شادی کا ہنگامہ جاگ اٹھا تھا۔لڑکیوں کو کپڑوں اور کپڑوں کے ساتھ میچنگ چیزوں کی فکر ستا رہی تھی۔بارات اور ولیمے کے لٸے ہال بک کروا لیا گیا تھا۔لیکن مہندی کے لٸے لڑکیاں کسی طور پر بھی ہال کے لٸے راضی نہیں ہوٸی تھی۔
”دس بجے تو ہال کا ٹاٸم ختم ہو جاتا ہےجبکہ دس بجے ہمارا فنکشن شروع بھی نہیں ہوتا۔“
سب کی متفقہ راۓ یہی تھی اس لٸے مہندی کے فنکشن کے لٸے گھر ہی سجایا گیا تھا۔
گیندے اور موتیے کے پھولوں سے گھر کی سجاوٹ کی گٸی تھی۔فنکشن کے لٸے لان میں انتظام کیا گیا تھا۔وسیع لان کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوۓ گرین کارپٹ کی راہ گزر بناٸی گٸی تھی۔ راہ گزر کے اختتام میں سفید اور پیلے پھولو ں سے سٹیج بنایا گیا تھا۔سٹیج کے علاوہ پورا لان تاریکی میں ڈوبا ہوا ھا۔زویا روایتی پیلے رنگ کے جوڑے میں ملبوس تھی۔جب کے دارین سفید قمیض شلوار پر پیلا دوپٹہ گلے میں ڈالے زویا کے برابر بیٹھا تھا۔ہر پانچ منٹ کے بعد وہ زویا کی طرف جھک کر سرگوشی میں کچھ نہ کچھ کہہ رہا تھا۔جس کی وجہ سے اسکا جھکا سر مزید جھک گیا تھا۔
گرین کلر کے لہنگے کے اوپر پنک کلر کی شرٹ کمر تک آتے بالوں جو کے پیچھے سے کرل کیے گٸے تھے کشادہ پیشانی پر ایک ساٸیڈ پر جھومر ٹکاۓ ، ہلکے پھلکے میک اپ میں روحا اپسرا لگ رہی تھی۔سب نے اس کی بہت تعریفیں کی تھی ، لیکن جس کے لٸے یہ سب تیاری کی گٸی تھی وہ کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔
دونوں ہاتھوں میں مہندی کی پلیٹیں پکڑیں وہ سیڑھیوں سے اتررہی تھی۔اس کا دھیان پاٶں میں الجھتے لہنگے کی طرف ہوا تھاجب کسی لڑکی کے پاس سے گزرتے ہوۓ اسے ہلکا سا جھٹکا لگا اور وہ اپنے لہنگے سے الجھتی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے زین کی بانہوں میں جھول گٸی۔مہندی کی پلیٹیں ہلکے سے شور سے زمین بوس و چکی تھیں۔اسے لگا جیسے وہ مہک گیا ہو۔ وہ اسے بانہوں میں تھامے اس کی بند آنکھوں کو دل چسپی سے دیکھ رہا تھا۔
اس کی بند آنکھیں ایک دم سے کھلی تھیں ۔وہ تیزی سے اس کی بانہوں سے نکلی تھی۔زین کو اس کی یہ تیزی ایک آنکھ نہ بھاٸی اس نے ایک تیز نظر اس کے سجے سنوارے روپ پر ڈالی اور اسے بازوں س پکڑ کر کھینچتے ہوۓ کمرے تک لے کر آیا۔
کمرے میں لا کر اسے ایک ساٸیڈ پر پڑے صوفے پر پھینکتے ہوۓ اس نے کو ٹ اتار کر غصے میں ایک ساٸیڈ پہ پھینکا ، جیب سےسیگریٹ اور لاٸٹر نکالا اور سیگریٹ سلگاتے ہوۓ ، سرخ آنکھیں روحا کے چہرے پر گاڑے اس کی طرف بڑھا ۔اس کے برابر صوفے پر بیٹھتے ہوۓ اسے شانوں سے پکڑ کر اپنے قریب کیا۔ٹھوڑی سے اس کا چہرہ پکڑ کر اونچا کیا۔
روحا نے اپنی نگاہیں جھکا لیں۔ اس کے گال دھک اٹھے۔
اس کی گرفت تھوڑی سخت ہوٸی۔
تم کیا سمجھتی ہو تم مجھ سے دور جانا چاہو گی اور میں ایسا ہونے دوں گا۔میں تم اے دور ہوں صرف ایک وعدے کی پاسداری میں لیکن ایک بات یاد رکھنا میں تمہیں بھی کچھ وقت دینا چاہتاہوں نہیں تو میں جب چاہوں اپنا حق وصول کر سکتا ہوں۔اس لٸے آج کے بعد مجھے ایسے جھٹکنے کوشش بھی مت کرنا ۔نہیں تو تم میرے جزبات کی شدت کو برداشت نہیں کر سکو گی۔ا س نے جھک کر ایک شوخ جسارت کی اور اسے چھوڑ دیا۔جب کہ روحا اس کے اس روپ سے ڈر کر ہلکے ہلکے کانپ رہی تھی۔
زین نے سیگریٹ کا آخری کش لیا اور مسکرا کر اس کے شرماۓ گھبراۓ روپ کو دیکھا۔

میں فریش ہونے جا رہا ہوں ۔تم میر ےکپڑے نکال دو۔

باتھ روم کادروازہ بند ہونے کی آواز پر وہ وارڈروب کی طرف بڑھ گٸی۔وارڈروب کھول کر وہ خود ہی پریشان ہو گٸی کہ کیا پتہ کون سے کپڑے پہننے ہیں۔
تبھی فریش ہو کر زین باہر نکلا اور کشمکش میں کھڑی روحا کو دیکھا اور اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا۔روحا کی سانس سینے میں اٹکنے لگی۔اس کی پشت زین کے سینے سے ٹکرا رہی تھی۔زین نے ہاتھ بڑھا کر بلیک قمیض شلوار نکالے تو اس کا چہرہ روحا کے ساٸیڈ فیس سے مس ہوا۔وہ اپنے آپ میں سمٹ گٸی۔

تیار ہو کر دونوں جانے کےلٸے مڑے تو زین نے روحا کو اپنے بال ٹھیک کرنے کے لٸے بولا ۔جو اسے زبردستی کمرے میں لاتے ہوۓآچھے خاصے الجھے ہوۓ لگ رہے تھے۔
اپنے بال سنوار لو یہ نہ ہو لوگ تمہیں دیکھ کر کچھ اور سمجھیں۔اس نے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوۓکہا۔جبکہ روحا اس کی بات کے معنی سمجھتے ہوۓ شرم سے لال انگارہ ہو گٸی۔
وہ دونوں جس وقت ساتھ چلتے ہوۓ سیڑھیوں سے نیچے اترے تو بہت ساری آنکھوں نے حسد اور رشک کی نگاہ سے دونوں کو دیکھا۔دونوں ساتھ چلتے ہوۓ بہت خوبصورت لگ رہے تھے۔
فاریہ بیگم صبحیہ ممانی کے ساتھ باتوں میں مصروف تھیں جب انہوں نے آنکھ کے اشارے انہیں ان دونوں کی طرف متوجہ کیا۔فاریہ بیگم نے ایک نظر اس طرف ڈالی اور پھر سے باتوں میں مشغول ہو گٸیں۔صبیحہ بیگم نے فاریہ کے چہرے پر کوٸی جزبات ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہی۔

بارات اور ولیمے بھی بہت آچھے سے گزرا لیکن زین مہندی والی رات ہی کسی ضروری کام سے اسلام آباد چلا گیاتھا۔
اس کے اس رات والے روپ کے بعد روحا نے بھی اس کے جانے پر شکر کا کلمہ پڑا ۔
شادی کے بعد زندگی پھر سے پرانی ڈگر پر آگٸی۔زویا اور دارین ہنی مون کے لٸے شمالی علاقہ جات کی طرف نکل گٸے۔شادی کے ہنگاموں کے بعد گھر میں خاموشیوں کا راج تھا۔
فاریہ بیگم بھی ان دنوں کچھ کھوٸی کھوٸی سی رہتی تھی۔اکثر روحا کو محسوس ہوتا کہ وہ اس پر نظریں ٹکاۓ کچھ کھوج رہی ہیں۔وہ ان کی طرف دیکھنے سے گریز ہی کرتی۔
زین کٸی بار ان کے سامنے اپنی خوشی کے لٸے کھڑا ہو چکا تھا۔وہ جانتی تھی اس کی طبعیت میں لہروں سی شوریدگی نہیں ہے۔وہ گہرا اور ٹھرا سمندر ہے۔وہ تو کبھی اپنی ضرورت کے لٸے بھی ان تک نہیں آیا ۔لیکن روحا ایک ایسی خوشی اور خواہش تھی جس کے لٸے وہ بار بار ان تک آتا رہا، اسکی ہر نظر سوال بن جاتی تھی۔اب وہ اس کی خواہش پوری کر کے پوری زندگی کے لٸےاس کے آگے سرخرو ہو سکتی تھیں۔

وہ آج آفس آٸی تواسے اپنے باس شاویز حمدانی کی طرف سے پیغام ملا کہ وہ آج ایک میٹنگ کے لٸے اس کےساتھ ہوٹل بلیو لاٸٹ میں ڈنر پر جا رہی ہے۔
اس نے گھر کال کر اماں بی کو لیٹ آنےکی بابت بتایا ۔اماں بی کواعتراض تو بہت کیا لیکن روحا نے انہیں بتایا کہ یہ اس کی جاب کی ریکواٸرمنٹ ہیں تو وہ بھی ہوں ہاں کہہ کہ خاموش ہو گٸیں۔

اس نے آج ڈارک بلیو کلر کہ سادہ سے لان کے سوٹ میں ملبوس تھی۔وہ جس وقت شایز حمدانی کے ساتھ اس کی گاڑی میں سوار ہوٸی ا س نے ایک تنقیدی نظر اس کے حلیے پر ڈالی لیکن خاموش رہا۔وہ آج پہلی بار کسی ایسے ڈنر پر جا رہی تھی تو تھوڑی کنفیوژ بھی تھی۔وہ لوگ جس وقت ہوٹل پہنچے تو ویٹر کی میعت میں ریزرو سیٹ پر بیٹ گٸے۔
دوسری پارٹی ابھی تک نہیں پہنچی تھی۔
روحا وقت گزارنے کے لٸے اپنے آس پاس دیکھنےلگی۔
تبھی کسکےویلکم کےلٸے شاویز حمدانی کھڑا ہوا تو اس کی تقلید میں وہ بھی کھڑی ہو گٸی۔وہ آنے والی شخصیت کو نہیں دیکھ سکی ۔کیونکہ روحا کی اس کی طرف پشت تھی۔لیکن جس وقت شاویز حمدانی سے مل کر وہروحا کی سمت مڑا ۔روحا کولگا ا س کی سانس سینے میں اٹکنے لگی۔
سامنے موجود شخصیت کی غصے سے رگیں تن گٸی ۔اس نے اپنا غصہ کنٹرول کرنے کے لٸے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر لی۔جبکہ اس سب سے بے خبر شاویز حمدانی ان دونوں کا تعارف کروا رہا تھا۔یہ ہیں حسن انڈسٹریز کے مالک زین حیدر حسن اور زین حیدر یہ ہیں میری پرسنل سیکرٹری روحا کمال۔
روحا نے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا لیکن زین نے ایک نگاہ غلط نہ ڈالی۔اور ڈاٸریکٹ مین مدعے پر آیا ۔اور اس کے ساتھ اس کا پرسنل سیکریٹری مناف تھا۔ ان کی میٹنگ ڈیڈھ گھنٹہ جاری رہی ۔لیکن اس سارے وقت میں روحا کو ٹھنڈے پسینے آ رہےتھے۔ اس نے ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالا۔شاویز حمدانی نے روحا کو کوٸی فاٸل زین دینے کے لٸے کہا۔روحا نے فاٸل کھول کر زین کی طر ف بڑھاٸی لیکن زین نے اس کے ہاتھ سے فاٸل لینے کے لٸے ہاتھ نہیں بڑھایا۔روحا نے کانپتے ہاتھوں سے فاٸل زین کے آگے رکھی تب اس نے ایک تیز نظر روحا پر ڈالی ۔میٹنگ کے اختتام پر وہ شاویز حمدانی سے مصحافہ کرتا ہوا لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔
روحا کمال جس وقت گھر میں داخل ہوٸی رات کافی بیت چکی تھی۔اس کا سارا جسم ہو لے ہولے کانپ رہا تھا۔ وہ اندر داخل ہوٸی تو سامنے پورا لاٶنج اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔جبکہ ٹی وی چل رہا تھا۔روحا نے اندھیرے کو غنیمت جان کر آنکھیں بند کر جلدی سے مامں بی کے کمرے کی طرف بڑھی۔
لیکن پہلی سیڑھی پر ہی اس کے قدم رک گٸے۔
یہ کون سا وقت ہے گھر آنے کا۔اس نے مڑ کر دیکھا تو سامنے ٹی وی ے آگے سپاٹ چہرہ لیۓ زین حیدر براجمان تھا۔
رو کے قدم وہیں زمین کے ساتھ جم گٸے۔وہ اٹھ کر آہستہ سے چلتا ہوا روحا کے پاس پہنچا۔
روحاکی سانس سینے میں اٹکنے لگی۔اسے وہاں سے بھاگنا چاہا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔وہ اس تک پہنچ چکا تھا۔اسسے پہلے کہ وہ اپنے ارادے پر عمل کرتی اس کا بازو زین کی گرفت میں تھا۔جس نے ایک زوردار جھٹکا دیا اور وہ اس کے سینے سے آ لگی۔زین نے اس کا بازو پیچھے کی طرف لے جا کر جھٹکا تو درد کی شدت سے روحا کے آنسو نکل گٸے۔
چھوڑیں مجھے کیا کر رہے ہیں؟

آچھا چھوڑ دوں گا۔پہلے میرے سوال کا جواب دو ۔
کتنی پے ملتی ہے تمہیں؟پینتیس ہزار۔۔۔۔۔۔۔وہ جلدی سے بولی۔
کل تم ریزاٸن کر رہی ہو ۔اس نے چبا چبا کر لفظ ادا کیے۔

نہیں میں کیوں ریزاٸن کروں گی۔
اس نے ایک اور جھٹکا اسے دیا ۔
آچھا تم نہیں کرو گی ۔

نہیں کسی بھی صورت نہیں۔
زین حیدر نے اسے اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر سختی سے ایک جھٹکا دیا اور اس کا چہرہ اونچا کرتے ہوۓ اسے وارن کیا۔
ایسے تو ایسے ہی صیح میں دیکھتا ہوں تمہیں کون جاب پہ رکھتا ہے۔اور ساتھ ہی وہ اسے چھوڑتا ہوا تیزی سے زینے چڑھ گیا۔
روحا نے ایک نظر اپنی سر خ ہوتی کلاٸی پر ڈالی اور بیٹھ کر رونے لگی۔