Rate this Novel
Episode 5
ناول ””بندھے اِک ڈور سے““
از قلم زرش نور
قسط نمبر ٥
وہ دندناتا ہوا حیدر حسن کے کمرے میں داخل ہوا۔
انہوں نے اجنبھا سے بیٹے کو دیکھا وہ کبھی بھی اجازات لٸے بغیر نہیں آتا تھا۔۔جبکہ اس وقت وہ ساری تمیز ،اخلاقیات، شاٸستگی سب کچھ بھلاۓ سرخ آنکھیں ، بکھرے بالوں میں ٹوٹا ٹو ٹا سا ان کےکمرے میں موجو د ھا۔
جبکہ بیڈ پہ بیٹھی فاریہ نے ایک ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھ لیا۔۔
صبح سے ہی انہیں یہ آنے والا وقت دہلاۓ دے رہا تھا۔
بابا مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔
”انہیں وہ اس وقت کچھ ڈسٹرب لگا“۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے سامنے پڑے صوفے پر لے گٸے۔
بولو بیٹا کیا مسٸلہ ہے؟؟
بابا آپ روحا کے رشتے سے انکار کر دیں۔۔”انہوں نے زین کا ہاتھ چھوڑ دیا۔“
جانتے ہو کیا کہہ رہے ہو؟؟
جی جانتا ہوں۔۔
تو پھر یہ بھی جنتے ہو گے کہ ہمارے خاندان میں ایک بار زبان دے دی جاۓ ۔تو پھر مر تو سکتے ہیں لیکن اپنی زبان سے نہیں مکر سکتے۔۔۔۔
اگر روحا انکار کرے تو تب بھی نہیں۔۔
اب کی بار وہ خاموش ہو گٸے۔۔
بولیں نہ بابا۔
” فاریہ جاٸیں روحا کو بلا لاٸیں۔“حیدر حسن کے حکم پر وہ سست قدموں سے کمرے سے نکل گٸیں۔۔
تھوڑی دیر کے بعدفاریہ کی معیت میں معمول کے کپڑوں میں ملبوس روحا کمرے میں داخل ہوٸی۔۔
اس نے ڈرتے ڈرتے سر اٹھا کر حیدر حسن کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہے تھے۔
روحا کیا تمہیں اس رشتے پر کوٸی اعتراض ہے؟؟
اس نے نفی میں سر ہلایا۔
حیدر حسن نے فاتحانہ نظروں سے زین کی طر ف دیکھا جو ہونٹ بھینچے خونخوار نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا آپ جاٶ۔
اس کے جانے کے بعدوہ زین کی طرف مڑے۔
اب کیا کہو گے؟؟
اس نے نفی میں سر ہلایا اور باہر نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زور و شور سے اس کی اور روما کی اور دوسری طرف روحا اور عثمان کی شادی کی تیاریاں جاری تھیں۔۔اسے چنداں اس سب میں کوٸی انٹرسٹ نہیں تھا۔
زین سویرے گھر سے نکلتا اور رات گٸے گھر لوٹتا۔اسے اس سب سے کو ٸی دل چسپی نہیں تھی۔
اس وقت بھی سب لوگ شاپنگ سے لوٹے تھے اور لاٶنج میں محفل جماٸی ہوٸی تھی۔۔
تبھی اوپر سے تیزی سے زینے اترتا یاور نیچے آیا اور دارین کے سر ہو گیا۔۔
اب سیچوٸیشن کچھ یوں تھی کے وہ دونوں لاٶنج میں موجود صوفوں کے اطراف بھاگ رہے تھے۔ساتھ ساتھ دارین کی دٸیاں بھی جاری تھی۔کافی دیر کی بھاگ دوڑ کے بعد دونوں تھک ہار کر صوفوں پر گر گٸے۔۔
تبھی ذٶٸلہ نے اتنی بھاگ دوڑ کی وجہ جاننی چاہی۔۔
یاور نے بات کا آغازکیا۔
آج میں اپنے ایک دوست کے ساتھ مارکیٹ گیا تھا۔۔ وہاں کسی عقل کے اندھے نے میری جیب پر ہاتھ صاف کیا ۔۔جو کے وہ بعد میں پچھتایا بھی ہوگا۔۔
تو میں مدد کے لٸے ان صاحب یعنی دارین سر کو کال کی کہ یہ میری مددکریں ۔۔لیکن دس بار کال کرنےپر بھی اس نےکال ریسیو نہیں کی تو میں نے مسیج کیا لیکن سپیلنگ مسٹیک کی وجہ سے میں نے وہ ڈیلیٹ کر دیا۔۔
تبھی اس الوّ کے پٹھے کا مجھے مسیج ریسیو ہوا۔۔
کیا لکھ کر ڈیلیٹ کیا ہے؟
میں نے کہا”ایک کام تھا ۔“تےےو آگے سےمسیج کرتا ہے۔
یہ بھی ڈیلیٹ کر دے ۔۔
اور ساتھ ہی موباٸل بھی پاورڈ آف کر دیا۔۔۔
سب لوگ بہت سنجیدگی کے ساتھ اس کی روداد سن رہے تھے ۔لیکن اس کی بات مکمل ہونے پر سب کی دبی دبی ہنسی گونجی۔دارین بھی سب کو دیکھتے ہوۓ کھسیانی سی ہنسی ہنس دیا۔
اسی وقت داخلی دروازے سے زین حیدر داخل ہوا۔وہ کچھ تھکا تھکا سا لگ رہا تھا۔
اس نے سب کو مشرکہ سلام دیا۔
روحا کو مکمل طور پر نظر انداز کرتا ہوا روما سے مخاطب ہوا۔
”میرے کمرےمیں کافی دٕے جانا۔“
اور تیزی سے سیڑھیوں کی طرف مڑ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت جتنی تیزی سے گزرتا ہےاتنی ہی تیزی سےآنکھ کے سامنے کے منظر بھی بدل جاتے ہیں۔
وہ اس وقت اپنے آفس میں بیٹھا کسی گہری سوچ میں گم تھا۔آخر وہ وقت بھی آن پہنچا ۔کل روحا اور عثمان کا نکاح تھا۔۔
اس کی آنکھوں میں کل رات کا منظر گھوم رہا تھا۔۔۔۔
وہ گھر بہت لیٹ پہنچا تھا۔وہ اپنے کمرےمیں کسی فاٸل کی ورق گردانی میں مصروف تھا۔
تبھی دروازے پر دستک دے کر وہ اندر داخل ہوٸی۔
عام سے حلیے میں بڑی سی چادر اپنے گرد لپیٹے ہاتھ میں کافی کا کپ تھامے کھڑی تھی۔
اس نے آگے بڑھ کرکپ سٹڈی ٹیبل پر رکھا تو زین دوسری طرف دیکھنے لگا۔
وہ کپ رکھ کر مڑی تو غیر ارادی طور پر اس کی کلاٸی تھام لی۔
روحا نے تیزی سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اسے بھی تاٶ آ گیا۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کی طرف پیش قدمی کی۔۔
زین کو لگا وہ کانپ رہی ہے۔
وہ بھی الٹے قدموں چلنے لگی ۔
وہ تیزی سے دروازے کی طرف بھاگی لیکن اس سے پہلے ہی و ہ زین کی بانہوں میں تھی۔
مجھے چھوڑ دیں نہیں تو میں چیخ کر سب کو اکٹھا کر لوں گی۔
زین نے اس کی با ت پر اسے دھکادے کر خود سے الگ کیا۔
اس کا سر زور سے دیوار سے ٹکرایا۔
اور اسے وہیں چھوڑ کر خو د وہاں سے نکل گیا۔
موباٸل کی رنگ پر وہہوش کی دنیا میں لوٹا۔۔
کال ریسیو کر کے دوسری طرف کی بات سنی۔”
ٹھیک ہے کل تین بجے تک سب کچھ تیار ہونا چاہیۓ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحا پارلر سے تیار ہو کر ویٹنگ ایریا میں بیٹھی تھی۔تبھی اس کے موباٸل پر زین کی کال آٸی
وہ اپنالہنگا سنبھالتی آکر پچھلی سیٹ پر بیٹھ گٸی۔زین کی نظروں سے بچنے کےلٸے اس نے چادر بھی لے لی اور اپنا چہرہ ڈھک لیا۔
جب کے زین کے ہونٹوں پر اس کی اس حرکت پر مسکراہٹ رینگ گٸی۔
سر جھکاۓ اسے راستے کا ندازہ ہی نہیں ہوا۔
ہوش میں آٸی تو گاڑی کو انجان راستوں پر بھاگتے دوڑتے پایا۔
”
یہ آپ مجھے کہاں لے کہ جا رہےہیں؟“
میں آپ سے پوچھ رہی ہوں؟
لیکن جواب ندارد۔
زین نے موباٸل پر کوٸی نمبر ڈاٸل کیا۔
دوسری طرف کال ریسیو کی گٸی۔
ہیلو کے جواب میں بولا۔
بابا میں روحا کو اپنے ساتھ لے آیا ہوں۔
دوسری طرف کی بات سنے بغیر کال کٹ کر دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر حسن بھونچکا سے موباٸل ہاتھ میں لے بیٹھے تھے۔
وہ جانتےتھے زین کی خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے۔اوروہی ہوا جس کا انہیں ڈر تھا۔۔
اب وہ اس پریشانی میں تھے کے وہ عثمان اور اس کے گھر والوں سے سامنا کیسے کریں گے۔
تبھی روم میں فاریہ روم میں داخل ہوٸیں۔
حیدر حسن کو ساکت وجامد ایک ہی پوزیشن میں کھڑے دیکھ کر ”فاریہ نےان کا کندھا ہلایا۔“
وہ غاٸب دماغی سے ان کے چہرے کو دیکھنے لگے۔
”کیا ہوا ہے؟“
فا۔۔۔۔۔ریہ وہ اٹک اٹک کر بول رہے تھے۔
زین روحا کو لے کر نہ جانے کہاں چلا گیا ہے۔
کیا۔۔۔۔۔۔ فاریہ بیگم نے دل پہ ہاتھ رکھ لیا۔
اگر ہم اس کی مان لیتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اماں بی کو پتہ چلا تو پہلے پہل انہیں بھی دھچکا لگا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آیا تھا ان کے پاس ان کا ساتھ مانگنے لیکن انہوں نے انکار کردیا۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ مطمٸن تھیں عثمان اگر سونا تھا اور زین حیدر ہیرا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روحا کی چیخ و پکار اور دہاٸیوں پر کان دھرے بغیر وہ مہارت سے گاڑی چلاتا رہا۔
تھک ہار کر وہ اسے بددعاٸیں دینے لگی۔۔
تبھی گاڑی شہر سے باہر بنے ایک خوبصورت گھر کے گیراج میں روک کر زین حیدر نے اپنا رخ روحا کی طرف کیا۔۔۔۔
لگ رہا ہے تمہیں عثمان کے ساتھ نکاح نہ ہونے کا بہت دکھ کر ۔”اس نے چبا چبا کر لفظ ادا کیے۔
جب کہ اس کی بات پر وہ رونا بھول کر دکھ اور افسوس کے ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھنے لگی۔۔
اگر واپس گھر پہنچنا چاہتی ہو تو جو میں کہوں گا وہ کرنا پڑےگا۔
گر تم نے میری بات مانی تو اگلے آدھے گھنٹےمیں ہم دونوں واپس اپنے گھر میں ہو گے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر حسن کی سب مہمانوں کے سامنے بہت سبکی ہوٸی۔
اس وقت عجیب صورتحال تھی۔ سب لوگ جاچکے تھے طرح طرح کی باتیں کرتے ہوۓ۔
صبیحہ بیگم کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی۔ انہیں حیدر حسن سے خار تھی کے انہوں نے ان کی بیٹی کو چھوڑ کر بھانجی کے لٸے رشتہ منظور کر لیا۔۔
حیدر حسن ، وقاص حسن اورحماد حسن سر جھکاۓ بیٹھے تھے۔
تبھی روحا مین ڈور سے اندر داخل ہوٸی ۔اسے دیکھ کر سب سے پہلے عثمان اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔۔۔۔
وہ سب کو سامنے دیکھ کر اپنی جگہ پر منجمند ہو گٸی ۔
تبھی روما تیزی سے اس کی طرف بڑھی ۔
روحا شکر ہے تم آ گٸی ہو۔ جلدی سے چلو تأکہ تمہارا نکاح ہو سکے۔وہ اسے بازوں سے کھینچتے ہوۓ بولی۔
لیکن اس نے اپنا بازوں اس کی گرفت سے آزادکروایا۔۔
میرا نکاح ہو چکا ہے۔“ اس کے منہ سے نکلنے والے الفاظ سن کر عثما ن نے فورًا سے پہلے وہاں سے چلے جانا ہی مناسب سمجھا۔۔
اس کے پاس کچھ پل رک کر ایک ملامتی نظر اس پر ڈالی اور بیرونی دروازے کی طرف مڑ گیا۔
روما کو اس وقت اس کا خوبصورت چہرہ زہر لگا آگے بڑھ کر اس نے اسے تھپڑ مارنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی اس کا کسی کی گرفت میں تھا۔۔۔۔
زین کو دیکھ کر روما کافشارِ خون بڑھا۔
اوروہ نخوت سے اس کا ہاتھ جھٹک کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گٸی۔۔
زین باپ اور چحچاٶں کی طرف بڑا لیکن وہ اسے اگنور کرتے اپنے اپنے روم کی طرف بڑھ گۓ۔
زین اب کی بار باری باری سب کی طرف بڑھا لیکن سب نے ہی منہ موڑ لیا۔
آخر میں وہ دونوں اکیلے ہی رہ گٸۓ۔۔
تو وہ دونوں بھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گٸے۔
روحا کو اپنے کمرے کی طرف بڑھتے دیکھ کر زین کے چودہ طبق وشن ہو گٸے۔
اس نے درشتی سے اسے بازو سے پکڑا اور اپنے کمرے میں لا کر بیڈ پر پٹخا۔
