Baharon Ke Sang By Fari Shah Readelle50314 Baharon Ke Sang (Episode 9)
Rate this Novel
Baharon Ke Sang (Episode 9)
Baharon Ke Sang By Fari Shah
گھر آکر اسنے گرم پانی سے شاور لیا تھا وہ باہر آئی تو معیز نے اسکے آگے گرم گرم سوپ رکھا تھا
وہ سر جھکائے چپ چاپ اسکا کہنا مانتی رہی کیونکہ معیز صاحب کا منہ جو بنا ہوا تھا
وہ نا اس سے بات کر رہا تھا نا اس سے لڑ رہا تھا
معیز۔۔
ہوں۔۔ اسکی پکار پر وہ بس ہوں کہہ کر واپس سے اپنے کام میں مصروف ہوا تھا
آئی ایم سوری نا۔۔ میں جان کر تو نہیں ڈوبی تھی نا۔
مجھے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی ہے میں سونے جارہا ہوں گڈ نائٹ۔۔
سپاٹ لہجے میں کہتے وہ روم میں غائب ہوا تھا
اففف اب کیسے مناؤ اس انسان کو میں کہ یہ لڑ ہی لے مجھ سے۔۔
دماغ کے گھوڑے دوڑاتی وہ کمرے میں آئی تھی تبھی اسکی نظر معیز کے سرہانے رکھے الارم پر پڑی تھی اسکی آنکھوں میں چمک آئی تھی
میں بھی دیکھتی ہوں اب کیسے تم صبح مجھے اگنور کرتے ہو۔۔
اپنی سوچ پر ہنستے وہ الارم بند کرتی مزے سے اپنی جگہ پر آئی تھی
اور اسکی طرف رخ کیا تھا
سر کے نیچے ہاتھ رکھے وہ گہری نیند میں تھا
بلاشبہ وہ کسی کا بھی دل دھڑکا سکتا تھا
تم میرے ہو مجھے فخر ہے اس پر۔۔ دل میں اس سے مخاطب ہوتے اسنے آنکھیں بند کی تھیں ہلکا سا کھسک کر اسکے قریب ہوئی تھی۔۔۔
اسکی آنکھ کھلی تو وہ ہڑبڑا کر اٹھا تھا
شٹ۔۔ گھڑی میں ٹائم دیکھ اسکا دماغ گھوما تھا آج اسے جلدی اٹھنا تھا
اسنے مڑ کر الارم اٹھایا تو وہ بند تھا
زوبی۔۔۔۔ اسنے دانت کچکچا کر اسکا نام لیا تھا
ارے تم اٹھ گئے کب سے اٹھا رہی تھی تمہیں۔۔
بالوں کو تولیہ سے آزاد کرتی وہ وہیسنگ کے سامنے کھڑی اب اپنے بال ڈائیر کی مدد سے سکھا رہی تھی اور وہ سخت نظروں سے اسے گھور رہا تھا
ایسے مت دیکھو میں نے تمہارا الارم بند نہیں تھا۔۔
اور دیکھو میں تمہاری بیوی ہوں تو کیا فرق پڑتا ہے اگر میں پہلے تیار ہوجاؤ
اسکے گھورنے پر وہ جلدی سے بولی تھی
مگر وہ بنا کچھ کہے اپنی جگہ سے اٹھا تھا اور اسکے قریب آیا تھا
اسنے ناسمجھی سے اسے دیکھا جو اب عجیب انداز میں مسکرا رہا تھا۔۔
کیا ہے؟؟ اس نے کوفت سے پہلو بدلہ تھا تبھی وہ ہلکا سا جھکا تھا اور اسکے اردگرد سے ہاتھ نکال کر ڈریسنگ پر جمائے تھے
اور اب صورتحال یہ تھی کہ وہ اسکے دونوں ہاتھوں کے درمیان کھڑی تھی
ی۔۔۔یہ۔۔ کیا طریقہ ہے۔۔ وہ ایک دم بوکھلائی تھی
کچھ نہیں وائفی بس آپ کو تیار ہوتے دیکھ رہا ہوں۔۔ اسکے کان کی لو کو لبوں میں دبائے وہ ہولے سے ہنسا تھا جس پر وہ جی جان سے لزری تھی
پپ۔۔۔پاگل ہوگئے ہو دور ہٹو۔۔ اپنی گردن پر اسکا لمس محسوس کرتی وہ کانپی تھی
یہ کیا حرکت ہے دور رہو مجھ سے۔۔ وہ غرائی تھی
کیوں ہٹوں بیوی ہو میری۔۔ اس کے گال پر لب رکھتا وہ جیسے آج مقابلے پر اتر آیا تھا۔۔
کک۔۔۔کونسی بیوی یہ کانٹریک ہے دور رہو مجھ سے۔۔
کانٹریک کا کیا لیگلی طور پر تم میری بیوی میں تمہارے سر کا سائیں۔۔ آنکھوں میں چمک لئے وہ اسے کہہ کر ہنسا تھا
شٹ اپ معیز۔۔
اب بتاؤ تم نے الارم بند کیا تھا نا؟؟ اسکے بالوں کو سائیڈ کرتے اسکی گردن پر اپنی شیو رب کی تھی
معیز ڈونٹ ڈو دس۔۔۔ اسکے لمس کو برداشت کرنا اسکے بس کی بات ہی کہاں تھیں
نہیں میں نے نہیں کیا نا۔۔۔ تھوک نگلتے اسنے جھوٹ بولا تھا
تو تمہیں کیسے پتا میرا الارم بند تھا۔ اسکی کان کی لو کو چومتے وہ اسے خود میں سمٹنے پر مجبور کر رہا تھا
مم۔۔۔۔تت۔۔۔۔۔۔
معیز۔۔ آنکھیں بند کرتے اسنے بہت مشکل سے خود کو گرنے سے بچایا تھا۔۔
مجھ سے پنگا نہیں لیا کرو جان مشکل میں ڈال دونگا میں۔۔ اسکے کان کے قریب آکر اسنے سرگوشی کی تھی اور اپنی شرٹ اٹھاتا باہر کی جانب بڑھا تھا
اسکے جاتے ہی اسکی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی تھی
بدتمیز آدمی۔۔۔
وہ باہر آئی تو اسے حسب عادت سائیکل لئے کھڑا پایا۔۔
آجاؤ جلدی سے۔۔ اسکے بلانے پر وہ سر جھٹک کر آگے بڑھ گئی
مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ۔۔۔وہ سڑا ہوا منہ بناتی آگے بڑھ گئی
جب کے وہ اسکے یوں منہ بنانے پر قہقہ لگا کر ہنس پڑا تھا
چھچھورا آدمی۔۔ اسکے ہنسنے کی آواز سنتی وہ مزید تیز تیز چلنے لگی تھی سردی سے دانت بج رہے تھے
ٹرن ٹرن۔۔۔ آجا میری سائیکل پر بیٹھ جا۔۔۔۔
پیچھے سے گنگناتے وہ مزید اسے زچ کر رہا تھا
معیز میں کچھ اٹھا کر ماروں گی انسان بن جاؤ۔۔۔ وہ پیچھے مڑ کر چلائی تھی
مگر وہ ہنستا ہوا مزید سائیکل کو آگے پیچھے کرنے لگا تھا
اووو حیسنہ۔۔۔
معیز۔۔۔۔ وہ چلائی تھی
ارے آجاؤ یار سردی سے جم جاؤ گی۔۔
تم دور رہو مجھ سے۔۔۔ صبح کا منظر یاد کرتے اسکے گال تپے تھے۔۔
سردی سے دانت بجنے لگے تھے۔۔
زو۔۔۔ بیمار پڑ جاؤ گی آجاؤ یار۔۔ اس نے اچانک سامنے آکر سائکل روکی تھی
آجاؤ شاباش نہیں کرونگا کچھ۔۔ دانتوں تلے لب دبائے وہ مسکراہٹ چھپائے بولا تھا
اسنے ایک نظر اسے دیکھا سردی واقعی زیادہ تھی
کہاں بیٹھوں پیچھے تو اسٹینڈ ہی نہیں ہے۔۔ اسنے نظر گھما کر پیچھے دیکھا تھا جہاں اسٹینڈ ہی نہیں تھا
تو آگے بیٹھو اتنی سردی میں پیچھے بیٹھو گی تو جم جاؤ گی۔۔
ہٹو پیچھے۔۔ نخرے دیکھاتی وہ آگے بیٹھی تھی اسکے بیٹھتے ہی اسکے دونوں اطراف سے اسے قید کیا تھا آگے بڑھا تھا
اسنے ترچھی نظروں سے اسے دیکھا تھا اور زیر لب مسکرائی تھی
صبح کی اسکی حرکت سے اتنا تو ثابت ہوا تھا کہ وہ بھی اسکے لئے کچھ فیلنگ رکھتا ہے
ہلکی ہلکی ہوا اور سردی میں یوں سفر اسے وہ کسی ڈرامے کا حصہ لگ رہی تھی
یونی میں انہیں ایسے آتے دیکھ شیا نے جیکسن کو اشارہ کیا تھا
چلو بھئی نا کی لو اسٹوری بھی چل پڑی۔۔
جیکسن کے کہنے پر وہ ہنسی تھی
ہسبینڈ وائف میں محبت ہو ہی جاتی ہے اور ویسے بھی مسلم لوگ اپنے ریلیشن کو لے کر بجے پوزیسسو ہوتے ہیں چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ اپنے ریلیشن خراب نہیں کرتے۔۔
بات تو یہ بھی ٹھیک ہے جیکسن نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی تھی
کلاس کے بعد وہ سب گراؤنڈ میں بیٹھے تھے
چلو یار آج کوئی کلاس بھی نہیں ہے تھیم پارک چلتے ہیں
ہاں ہاں پلیز چلتے ہیں نا۔۔۔ شیا نے بھی جیکسن کی ہاں میں ہاں ملائی تھی
چلو بھئی اتنی سردی ہے۔۔ معیز کے کہنے پر اس نے گھور کر اسے دیکھا تھا
کیا ہے۔۔۔ اسکے گھورنے پر وہ سٹپٹایا تھا
ہر چیز پر منع بےزوق آدمی۔۔۔
میں تو تمہارے لئے منع کررہا تھا
نہیں تھینک یو میرے لئے اتنا مت سوچوں میں تو لازمی جاؤنگی۔۔
اسنے جنگجنگ کے گرد بازو حائل کئے تھے جس پر ہنس کر اسے گلے لگا گئی
کبھی مجھ سے تو اتنی محبت دیکھائی نہیں۔۔
اسے یوں اپنی دوست کے گلے لگے دیکھ وہ بڑبڑایا تھا
تو بس ڈن ہے ہم سب پارک چل رہے
ڈن ڈن ڈن۔۔۔ وہ سب ایک آواز میں بولے تھے
آدھا گھنٹہ ہے تم لوگوں کے پاس جو جو تیاری کرنی ہے کرو اسکے بعد یونی کے باہر سائیکل پر ملو۔۔۔ شوائین کے کہنے پر وہ سب منتشر ہوئے تھے
اور ٹھیک آدھے گھنٹے بعد وہ لوگ یونی کے باہر کھڑے تھے
کپل کی صورت میں وہ لوگ تین سائیکلوں پر امیوزمنٹ پارک پہنچے تھے
اتنا بڑا اتنا خوبصورت۔۔۔ ڈراموں میں جیسے دیکھتا تھا اس سے زیادہ پیارا۔۔۔
اووو مائے گاڈ معیز یہ کتنا بڑا ہے۔۔ اسکے بچوں کی طرح خوش ہونے پر وہ مسکرایا تھا اور اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما تھا
مختلف جگہوں پر گھومنے کے بعد وہ رولر کوسٹر کی طرف آئے تھے
معیز مجھے یہ رائیڈ کرنی ہے۔۔ اسکی فرمائش پر اسنے وہ خطرناک سے جھولا دیکھا تھا
میرے ساتھ بیٹھو گی تو ضرور۔۔
ٹکٹ لے کر وہ سارے رائیڈ پر بیٹھے تھے
تمہیں ڈر لگے تو میں یہی ہوں سیٹ بیلٹ باندھتے وہ اسے ہدایت دیتا بولا تھا
جس پر اسنے مسکرا کر سر ہلایا تھا
رائیڈ اسٹارٹ ہوئی تھی اور معیز کی چیخیں اور اسکے قہقے عروج پر تھے
آہہہہہہہہہہہ۔۔۔۔۔ آہہہہہہہہہ
معیز میرے کان پھٹ جائیں گے۔۔ ہنستے ہوئے اسنے معیز کا ہاتھ تھاما تھا
رائیڈ رکی تو وہ اسے سہارا دیتے باہر آئی تھی
ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔ معیز معیز۔۔۔۔
شٹ اپ یار میرا سر گھوم رہا ہے۔۔ وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوا تھا اچھی خاصی شرمندگی ہوگئی تھی
اچھا نا چلو کوئی نا میں کچھ بولتی ہنستے ہوئے اسکا ہاتھ تھامتی وہ آگے بڑھی تھی
اے فیرس ویل۔۔ شیا کے چیخنے پر وہ وہاں آئے تھے
ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے وہ ferris wheel
میں داخل ہوئے تھے۔۔۔
دیکھو معیز کتنا پیارا لگ رہا ہے یہاں سے یہ شہر۔۔
وہ خوشی سے چیختی باہر دیکھ رہی تھی وہ بے اختیار مسکرایا تھا
تمہیں پتا ہے اس رائیڈ کے حوالے سے ایک بات بہت مشہور ہے۔ معیز نے باہر دیکھتے ہوئے اس سے کہا تو اس نے آئی برو سے اشارہ کیا تھا جیسے پوچھ رہی ہو کہ کیا۔۔۔
اگر اس ویل میں کپل بیٹھیں تو وہ ہمیشہ کے لئے الگ ہوجاتے ہیں
اس کی بات پر اس نے چونک کر معیز کو دیکھا تھا
مگر جب ویل سب سے اونچائی پر جاتا ہے تو اگر وہ کپل ایک دوسرے کو کس کریں تو وہ ہمیشہ کے لئے ساتھ رہتے ہیں۔۔ معیز کی بات پر وہ سرخ پڑتی رخ موڑ گئی تھی دل کی رفتار ایک دم تیز ہوئی تھی
اس نے زرا سا گردن ترچھی کر کے معیز کو دیکھنا چاہا تھا مگر اسے دیکھ وہ اپنی جگہ ساکت ہوئی تھی وہ اسکے بےحد نزدیک تھا اسکی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی زوبیہ کو اپنا دل ان آنکھوں میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔
رائیڈ اس وقت سب سے اونچائی پر تھی
وہ دونوں اس فسوں خیز ماحول میں کھو سے گئے تھے بہت بے اختیار ہوکر زوبیہ نے معیز کے لبوں کو چھوا تھا اور فوراً سے پیچھے ہٹی تھی مگر اب یہ ممکن کہاں تھا تبھی معیز نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کیا تھا بہت قریب اور ایک ہاتھ سے چہرہ تھامتا اسکے نازک لبوں کو اپنی گرفت میں لیا تھا
وقت جیسے تھم سا گیا تھا وہ بس اسکے لبوں کو محسوس کر رہا تھا اور وہ آنکھیں بند کئے جیسے سب بھول گئی تھی
