Baharon Ke Sang By Fari Shah Readelle50314 Baharon Ke Sang (Episode 5)
Rate this Novel
Baharon Ke Sang (Episode 5)
Baharon Ke Sang By Fari Shah
اسنے رات کی ان تینوں کی غیر موجودگی میں اپنا سارا سامان پیک کرلیا تھا جبھی صبح شیا کے آنے پر اسنے سارا سامان اسکی کیب میں رکھوایا تھا تاکہ سامان پہلے پہنچ جائے۔۔
وہ شیا کے ساتھ آئی تھی تبھی اسے سامنے سے معیز آتا نظر آیا تھا سفید ٹی شرٹ اور بلیک جینز پہنے بال ایسے ہی ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے
چلیں ۔۔۔ معیز کو آتا دیکھ شیا نے اسکا ہاتھ تھام کر پوچھا تھا جس پر اسنے اثبات میں سر ہلایا تھا
تمہارے ہاتھ کیوں ٹھنڈے پڑ رہے ہیں؟؟ شیا کو اسکے ہاتھوں کے سرد پن کے چونکایا تھا مگر وہ نفی میں سر ہلاتی آگے بڑھ گئی۔۔
وہ لوگ سب سے پہلے اسلامک پرئیر حال آئے تھے جہاں معیز نے شاید پہلے ہی سب سیٹل کیا ہوا تھا
اس نے گھنٹوں تک آتی وائٹ فراک اور ٹراؤزر پہنا ہوا تھا سر پر اسکارف باندھے وہ سادگی میں بھی بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔
نکاح کی رسم شروع ہوئی تو اسکا دل کیا دھاڑے مار مار کے روئے۔۔
جس چیز سے بھاگ کر وہ یہاں آئی تھی اب یہاں بھی اسے یہی سب کرنا پڑ رہا تھا۔۔
نکاح نامے میں دونوں کے دستخط لئے گئے تھے۔۔
مولوی صاحب نے ان دونوں کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور انہیں دعا دی تھی۔۔
وہاں سے نکل کر وہ لوگ شیا کے ساتھ میرج رجسٹرار کے آفس آئے تھے
یہاں کچھ ضروری کاروائی کے بعد وہ قانونی اور شرعی طور پر ایک دوسرے سے جڑ چکے تھے۔۔۔
بہت بہت مبارک ہو تم دونوں کو۔۔ ان کے باہر آنے پر شیا جلدی سے اسکے گلے لگی تھی
ہمم۔۔ زوبیہ سے تو مسکرایا بھی نہیں گیا۔
چلو کیب ریڈی ہے نیا گھر تم لوگوں کا ویٹ کر رہا ہے۔۔ شیا کے بولنے پر وہ دل سے مسکرائی تھی
آدھے گھنٹے بعد وہ اپنے نئے گھر کے سامنے کھڑے تھے۔۔
آنٹ زو سامنے ہی کھڑی انکا ویٹ کر رہی تھیں
ان کے گاڑی سے اترنے پر وہ سب سے پہلے زوبیہ سے ملی تھی ان دونوں کو شادی کی مبارکباد دی اور پھر دونوں کے ہاتھ میں ریڈ پاکٹ تھمائی تھی
یہ ہماری رسم ہے شادی شدہ جوڑے کو یہ پیکٹ دینے کی۔۔
ان دونوں کے منع کرنے پر شیا نے انہیں سمجھایا تو ان دونوں نے وہ پیکٹ لے لئے۔۔
ان دونوں کو ہدایت دیتی آنٹ زی اور شیا دونوں ہی چلی گئی تب وہ دونوں اندر آئے تھے۔۔اور ایک بھرپور جائزہ لیا تھا گھر کا
دروازے سے اندر داخل ہوتے سائیڈ میں شو ریک رکھا تھا اور سائیڈ دیوار پر سامان ٹانگنے کے لئے ہینگر کا سیٹ دیوار میں نصب تھا
سامنے چھوٹا سا لاونج جس کے لیفٹ سائیڈ پر کچن تھا اور رائٹ سائیڈ پر چھوٹی سے بالکونی۔۔
بیچ لاؤنج میں صوفہ سیٹ تھا جس کے سامنے دیوار پر ٹی وی اور بک ریک رکھا تھا سامنے بیڈ روم کا دروازہ تھا اور اسکے کے برابر میں باتھ روم کا۔۔
یہ ایک کمرے کا اپارٹمنٹ تھا مگر بے حد خوبصورت لگا تھا انہیں۔۔۔
اپنا سامان دیوار گیر الماری میں سیٹ کرتے وہ بیڈ پر گری تھی
گھڑی رات کے آٹھ بجا رہی تھی تھکن سے اسکا برا حال ہوگیا تھا معیز کھانے کے لئے کچھ لینے گیا تھا اور اب تک غائب تھا اسے سخت کوفت ہوئی تھی۔۔
آنکھیں نیند سے بوجھل ہورہی تھیں تبھی اسکا انتظار کرتے کرتے وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔۔۔
وہ گھر میں داخل ہوا تو پورا گھر سناٹے کی زد میں تھا سامان کچن میں رکھ اسنے نوڈلز بوائل کرنے کے لئے رکھے اور خود کمرے تک آیا تھا مگر اسے سامنے یوں بےڈھنگے طریقے سے سوئے دیکھ اسکا دل دھڑکا تھا
اسکے سونے کا انداز ایسا تھا کہ اسکے دلکش خدو خال نمایاں ہورہے تھے اسکے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی تھی
نظروں کا زاویہ تبدیل کرتا وہ اسکے پاس آیا تھا اور اسکی شرٹ اور ٹراؤزر ٹھیک کئے تھے وہ اس پر سارے اختیارات رکھتا تھا مگر پھر بھی ایک عجیب سی جھجھک تھی جو آڑے آئی تھی
اسے بانہوں میں بھر کر اسنے بیڈ پر سیدھا لیٹایا تھا اور اس پر کمفرٹر اڑھا کر کچن میں آیا تھا
نوڈلز بوائل ہوچکے تھے اس لئے اس نے جلدی سے سبزیاں کاٹی تھیں
اسکے ہاتھ کسی ماہر شیف کی طرح چوپنگ کر رہے تھے
آدھے گھنٹے میں وہ سارا کام کرکے اور کچن صاف کرکے فارغ ہوا تھا۔۔
ٹیبل لگا کر وہ کمرے میں آیا جہاں وہ واپس سے پرانی پوزیشن میں تھی
اسکو دیکھ وہ نفی میں سر ہلا کر رہ گیا۔۔
زوبیہ؟؟ اٹھو۔۔۔
اسکا کندھا ہلاتے معیز نے اسے پکارا تھا جس شاید گدھے گھوڑے بیچ کر سو رہی تھی کیونکہ نیند ہی اتنے دنوں بعد سکوں سے آئی تھی۔۔
زوب۔۔۔ اب کی بار وہ اسکے کان نے پاس آکر چیخا تھا جس پر وہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی
کیا ہوا کیا ہے چور کس نے مارا کس کو؟؟ اوئے چور سامنے آ۔۔۔۔
وہ شاید خواب کے زیر اثر تھی
اسکی حالت پر معیز کا قہقہ گونجا تھا جس پر اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا
کیا یہ پاگل ہے جو یوں ہنس رہا؟؟ اسنے مشکوک نظروں سے معیز کو گھورا تھا
میڈم کوئی چور نہیں ہے اٹھ جائیں خواب ختم ہوگیا ہے فریش ہو جائیں کھانا ریڈی ہے۔۔۔
معیز کے بولنے پر اسنے ایک دم خود کو اور پھر گھڑی کو دیکھا تھا
اور پھر وہ ایسے بھاگی تھی کہ معیز کا منہ کھل گیا۔۔
وہ سیدھا جاکر واشروم میں بند ہوئی تھی
یا اللہ میں اس کے سامنے اتنے برے حلیے میں پڑی تھی کیا سوچ رہا ہوگا وہ۔۔۔
بےدردی اے لبوں کو کچلتی وہ یہاں وہاں ٹہل رہی تھی
زوبیہ کھانا ٹھنڈا ہورہا ہے۔۔ معیز کی پکار پر مرتے ہوئے اس نے منہ ہاتھ دھویا اور اپنا حلیہ درست کرتی باہر آئی تھی جہاں ٹیبل پر کھانا لگا ہوا تھا
اس گھر کی سب سے اچھی بات انہیں یہی لگی تھی کہ گھر فرنش تھا..
زوبیہ۔۔۔ نوڈلز کا نوالہ منہ ڈالتے معیز نے اسے پکارا تھا
ہمم.. اسنے سر اٹھا کر معیز کو دیکھا تھا
اب جب کے ہم اس گھر میں رہ رہے ہیں اور ہماری مصروفیات بھی سیم ہیں تو کیوں نا ہم ہر چیز آپس میں ڈیواڈ کرلیں۔۔
اسکی بات پر زوبیہ نے فوراً سے سر ہاں میں ہلایا تھا
کیونکہ آج کام کرکے وہ واقعی تھک گئی تھی
ٹھیک ہے۔۔ ابھی تم نے کھانا بنایا ہے تو کچن میں صاف کردوں گی۔۔
ایک دن تم کھانا بنانا ایک دن میں۔۔ صفائی یہ ہے کہ گھر اتنا بڑا تھا نہیں ہے تو کوئی بھی کردے۔
ٹوائلٹ تم صاف کرنا اور ایک دن میں۔۔۔
وہ اسے کام گنوانے کے ساتھ ساتھ بتاتی بھی جارہی تھی جسے وہ سر ہلا کر سن رہا تھا اور ان کی ساری ملاقاتوں میں آج کا دن واحد تھا جب وہ لڑے نہیں تھے۔۔
اور ہاں گھر کی چیزوں کے استعمال کی ٹائمنگ بھی ہوگی۔ ۔
اسنے معیز کی معلومات میں اضافہ کیا تھا
کیا مطلب؟؟ وہ واقعی نہیں سمجھا تھا
کل سمجھ جاؤ گے۔۔ اسکے خرافاتی دماغ میں پھر کچھ چلا تھا معیز نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا تھا مگر وہ اپنی سوچ میں گم تھی وہ سر جھٹکتا اپنی کتابیں لئے بالکونی میں آکر بیٹھ گیا تھا۔۔
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا پرسکون ماحول کتنے وقت بعد وہ ایسے بیٹھا تھا۔۔
وہ اس ماحول اور پڑھائی میں اتنا کھو گیا کہ اسے وقت کا احساس ہی نہیں ہوا ہوش آیا تو رات کے دو بج رہے تھے ۔۔
کل یونی میں کوئی فنکشن م تھا تو صبح اٹھنے کی ٹینشن نہیں تھی۔۔
اپنی کتابیں رکھتا وہ روم میں آیا تھا اور بیڈ پر گر پر کمفرٹر چہرے تک اوڑھ کر آنکھیں موند گیا۔۔۔
اس نے بھرپور انگڑائی کے ساتھ کروٹ لی تھی لاشعور میں کچھ عجیب سا احساس جاگا تھا
یہ بیڈ انسان کی باڈی جیسا کب سے ہوگیا۔۔ آنکھیں بند کئے وہ نیند میں بڑبڑاتی اس بیڈ پر ہاتھ اوپر نیچے کرنے لگی جیسے کچھ محسوس کرنا چاہ رہی تھی تبھی اپنی کمر کے گرد گرفت سی محسوس کر اس نے پٹ سے آنکھیں کھولی تھیں
آنکھیں کھولتے ہی اسے معیز کا چہرہ سامنے آیا تھا جو اسکے بے حد قریب تھا۔۔
اسنے زرا سا سر اٹھا کر اردگرد کا جائزہ لیا تھا
جسے دیکھ اسکی آنکھیں پھٹی تھیں وہ مکمل معیز کے حصار میں تھی یہ دیکھ وہ ایک چیختی ہڑبڑاتی بیڈ سے چھلانگ لگا کر نیچے اتری تھی
اسکی چیخ پر وہ بچارا بھی حواس باختہ سا اٹھ کر بیٹھا تھا
کیا ہوا ہے زوب کیوں چلا رہی ہو؟؟؟
تتم۔۔ تم یہاں میرے بیڈ پر کیا کر رہے ہو؟؟ اسنے انگلی کے اشارے سے بیڈ کی طرف اشارہ کیا تو اسے جیسے سب سمجھ آیا تو ماتھے پر بل پڑے تھے
کیا مطلب ہے تمہارا کہ یہ تمہارا بیڈ ہے؟! ماتھے پر تیوری چڑھائے اسنے سوال پوچھا تو وہ سٹپاٹا گئی
جتنا تمہارا حق ہے اتنا ہی میرا ہے اور اگر تمہیں لگتا ہے میں صوفے پر سوؤں گا تو سوری۔۔۔
اگر تمہیں میرے بیڈ پر سونے سے تکلیف ہے تو وہ رہا باہر صوفہ تم وہاں سو سکتی اور اب مجھے سونے دو میرا سر درد کردیا ہے تم نے۔۔۔ ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتا وہ کمفرٹر میں غائب ہوا تھا
زوبی نے غصے سے دانت پیسے تھے جیسے ان دانتوں کے بیچ وہ ہو
تمہیں تو میں دیکھ لونگی۔۔۔
لومڑ آدمی۔۔۔
وہ جلتی بھنتی باہر آئی تھی اور دروازہ کھٹکاک سے بند کیا تھا
جس پر اس نے کمفرٹر ہٹا کر دروازے کو گھورا تھا
جنگلی لومڑی۔۔ منہ بنا کر کہتا وہ واپس نیند کی آغوش میں گم ہوا تھا۔۔
وہ فریش ہوکر باہر آیا تو وہ سامنے ہی صوفے پر بیٹھی ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی دونوں ٹانگیں آگے ٹیبل پر رکھی ہوئی تھیں۔۔
وہ سر جھٹکتا کچن میں آیا جہاں دودھ اور کارن فلیکس رکھے تھے
اسے حیرت ہوئی تھی کہ جنگلی لومڑی نے اسکے لئے ناشتہ رکھا ہے۔
ناشتہ کرلو تو مجھے بتا دینا کیونکہ مجھے بینک جانا ہے اور پھر کچھ گروسری کرنی ہے جب تک یہ نوڈلز اور کورن فلیکس کھائیں گے۔۔
چپس کا پیکٹ کھولتے اسنے معیز کو کہا تھا جسے سن اسکے لبوں پر مسکراہٹ آئی تھی
کیسے گھر گھر والی فیلنگ آرہی تھی اسکے دل میں عجیب سا احساس جاگا تھا مگر اسنے زبردستی اسے سلا دیا۔
ناشتے سے فری ہوکر وہ بینک آئے تھے دونوں نے ہی اپنے اپنے کارڈ ایکٹو کروائے تھے
اتنے تو پیسے ہیں تمہارے پاس پھر بھی غریب غریب کا رونا۔۔ اس کے کارڈ پر اماونٹ دیکھ اسنے معیز کو گھورا تھا
محترمہ یہ پیسے میری پڑھائی کے لئے ہیں اگر یہ سب خرچ کردیے تو سمسٹر کی فیس آپ دینگی؟؟ اپنا کارڈ جیب میں رکھتا وہ طنزیہ بولا تھا
میں کیوں دوں تم کیا میرے مامے کے لڑکے ہو؟؟
مامے کا تو پتا نہیں مگر تمہارا مجازی خدا ضرور ہوں۔۔ ایک آنکھ ونک کرتا وہ اسے سر تا پا سلگھا گیا تھا
یو۔۔۔ لومڑ آدمی۔۔۔ وہ جل کر بولی تھی
ویسے تم جل کیوں رہی ہو میری بیوی ہو ان پیسوں پر تمہارا بھی حق ہے۔۔ اسکا ہاتھ تھام کر وہ لفٹ میں داخل ہوئے تھے
بیوی۔۔ یونہہ خود ہی رکھو اپنے پیسے۔۔ بیوی لفظ پر اسکے دل میں گدگدی سی ہوئی تھی مگر اپنا آپ چھپا کر اسنے منہ بنا کر کہا تھا جس پر وہ کندھے آچکا گیا۔۔
گروسری کرنے کے بعد وہ بالآخر گھر آئے تھے ۔۔
تبھی ڈور بیل کی آواز پر ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا
ہمارے گھر کون آیا ہے؟؟
مجھے کہا پتا میں بھی تمہارے ساتھ آئی ہوں جاؤ جاکر چیک کرو۔۔ دونوں پاؤں پسارے اسنے آرڈر پاس کیا تھا جس پر وہ دانت پیستا اٹھا تھا
ارے آنٹی آپ آئیں۔۔ لینڈ لورڈ اور شیا کو دیکھ وہ جلدی سے اندر آیا تھا وہ ان لوگوں سے ملنے آئی تھیں اور شیا کی آفر کو حقیقت بنانے یعنی ان کی جاب کے حوالے سے انہیں خوشخبری سنانے۔۔
زوب تمہیں نہیں لگتا تم دونوں ایک دوسرے کے لئے لکی ثابت ہورہے ہو؟؟ شیا کی بات پر اسنے ہنس کر سر جھٹکا تھا مگر واقعی یہ بات سچ بھی تو تھی
ان لوگوں کے جانے کے بعد وہ واقعی سوچ میں پڑ گئی تھی..
