542.8K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Baharon Ke Sang (Episode 13)

Baharon Ke Sang By Fari Shah

وی ول مس یو بوتھ۔۔۔ اسکے گلے لگے شیا نے نم آنکھوں سے اسے کہا تھا

اداس تو وہ بھی بہت تھی دو سال تک ان لوگوں نے یہاں زندگی کے کئی پہلو جیئے تھے

تم لوگوں نے واپس آنا ہے سمجھے۔۔ اسکا ہاتھ تھامے شیا نے ان دونوں کو مخاطب کیا تھا

ضرور ساری پرابلم سالو ہوجانےکےبعد ہم یہاں ہنی مون پر آئیں گے۔۔ زو کے گرد بازو باندھتے اسنے مسکرا کر جواب دیا تھا

گڈ۔۔ اسکی بات پر جہاں وہ سب خوش ہوئے تھے وہیں زو نے کہنی اسکی کمر پر ماری تھی

کیا کچھ بھی بولتے ہوں معیز۔۔ اسنے گھور کر اسے دیکھا تھا

میں نے کیا کیا؟؟ وہ فوراً سے معصوم بنا تھا

فلائٹ کی آناؤنسمنٹ پر وہ دونوں ان سب سے ملتے اندر کی طرف بڑھے تھے

جہاز میں بیٹھ کر اس نے باہر دیکھا تھا جہاں شنگھائی شہر پوری خوبصورتی کے ساتھ موجود تھا

کتنا کچھ دیا تھا اس انجان شہر نے اسے۔۔

دوست محبت ایک مخلص ساتھی ڈھیروں خوشیاں

اسکا بس چلتا تو وہ ہمیشہ کے لیے یہاں رہ جاتی مگر یہ کہا ممکن تھا

اسکی آنکھیں نم تھیں اسکے معیز کے کندھے پر سر رکھا تھا وہ اسکی فیلنگ اچھے سے سمجھ رہا تھا کیونکہ اسکی بھی یہی تو حالت تھی اسنے یہاں رشتے نبھانا سیکھا تھا

انٹی انکل نے اسے غیر ہوکر بھی بتایا تھا کہ ماں کی محبت اور باپ کی شفقت کیا ہوتی ہے

خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں پردیس میں اچھے لوگ ملتے ہیں اور ان کی زندگی سہل کردیتے ہیں

میں بہت مس کروں گی یہاں کی ہر ایک چیز کو۔۔ نیچے دیکھتے اسنے اداسی سے کہا تھا

میں بھی مگر زندگی کسی ایک جگہ رکنے کا نام نہیں ہے نا یہ جگہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں ایسے ہی رہے گی جیسے اب ہے چاہے ہم کہیں بھی چلے جائیں۔۔

اسکے ہاتھ کو تھام وہ اسے تسلی دیتے بولا تھا

معیز ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جو چیز ہمیں اپنوں سے ملنی چاہیے وہ ہمیں دوسروں سے ملتی ہے لیکن پھر وہ ہم سے دور ہوجاتی ہے وہ بھی بہت جلدی۔۔

یہی تو اس زندگی کا نام ہے یہاں کوئی بھی چیز پرمیٹینٹ نہیں ہوتی یہاں ہر چیز وقتی ہوتی ہے سوائے اللّٰہ کی محبت کے وہ دائمی ہوتی ہے کبھی نا ختم ہونے والی۔۔

ہم انسان اس دنیا میں محبت تلاش کرنے میں لگے رہتے ہیں مگر جس کی محبت کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے ہم اس تک صرف اپنے برے وقت میں پہنچتے ہیں

جب ہمیں اسکی ضرورت ہوتی ہے تبھی ہم اسکے پاس جاتے ہیں اس سے مانگتے ہیں اگر ہمیں اسے ہی اپنا سب کچھ سمجھ لیں اپنا دوست اپنی فیملی تو ہمیں کسی اور کی ضرورت ہی محسوس نا ہو۔۔ اسکے گال سہلاتے اسنے مسکرا کر اپنی بات ختم کی تھی

کچھ آیا سمجھ۔۔ ۔

بلکل اینڈ آئی تھنک اس چیز کی مجھے بہت ضرورت تھی اسکے کندھے پر سر ٹکائے اس نے آنکھیں موندی تھیں

اب ریلکس رہو اور اچھا اچھا سوچو وہاں جاکر سب سے پہلے تمہارے بابا سے ملنا ہے میں نے۔۔

اسے کہتے اسنے خود بھی آنکھیں موندی تھیں

ایک لمبی فلائٹ کے بعد بالآخر وہ وہاں تھے جہاں انکا اصل تھا

اسنے دھڑکتے دل کے ساتھ اپنی سر زمین پر قدم رکھا تھا رگ و پے میں سکون سا اتر گیا تھا

اس نے ایک گہرا سانس بھرا تھا جیسے اس خوشبو کو سینے میں اتارا ہو۔۔

فائنلی۔۔ دونوں ہاتھ فضا میں لہرائے وہ مسکرائی تھی

چلیں۔۔ معیز نے اسکے آگے اپنی ہتھیلی پھیلائی تھی جسے وہ فوراً سے تھام گئی تھی

یہ ساتھ یہ شخص اسکا سب کچھ تھا

وہ دونوں رات دس بجے کے قریب ہوٹل پہنچے تھے

معیز کا ارادہ تھا کل وہ اسے لے کر اسکے گھر جائے گا جہاں وہ پوری کوشش کرے گا اسکے ڈیڈ کو منانے کی

مگر دل میں کہیں یہ بھی ڈر تھا کہ اگر وہ نہیں مانے اور زو کو اس سے دور کردیا تو۔۔

وہ اگر مگر میں پڑنا نہیں چاہتا تھا مگر اس دل کا کیا کرتا

آنے والے کل کی بے چینی تھی جو حد سے سوا تھا

اسنے ایک نظر اپنے پاس سوئی ہوئی زوبیہ کو دیکھا تھا اور سختی سے اسے خود میں بھینچا تھا

دل کی رفتار یک دم تیز ہوئی تھی

وہ اب اس قابل تو تھا کہ اسنے باپ کے سامنے جاکر اپنی بات رکھ سکتا

اسنے بہت پہلے ہی یہاں کی کمپنی میں جاب کے لئے اپلائی کیا تھا

اور کال آنے پر ہی وہ یہاں آیا تھا

البتہ رہنے کے لئے اسنے اپنے دوست کو کہا تھا

سوچوں میں گم کب اسکی آنکھ لگی اسے پتا ہی نہیں چلا ۔۔

آنکھ کھلی تو اسنے سب سے پہلے گھڑی کو دیکھا تھا جو اس وقت بارہ بجا رہی تھی

شٹ میں اتنی دیر کیسے سوگیا۔۔۔ اسنے پریشانی سے ماتھا مسلا تھا

کیونکہ آپ کل بہت تھک گئے تھے۔۔ گیلے بالوں کو تولیے میں قید کئے وہ اسکے گلے میں بانہیں ڈالتی اسکے پاس بیٹھی تھی

معیز نے اسکی گردن میں منہ دے کر اسکی خوشبو کو اپنے اندر اتارا تھا

ایڈکٹ ہورہا ہوں میں اس خوشبو کا۔۔ اسکی گردن کو لبوں سے چھوتے وہ اسے سمٹنے پر مجبور کرگیا تھا

معیز۔۔ اسکی بڑھتی جسارتوں پر وہ ایک دم بوکھلائی تھی اور اسکے کندھوں کو مضبوطی سے تھاما تھا

معیز۔۔۔ اسنے ایک بار پھر اسے خود سے الگ کرنا چاہا تھا

مگر وہ تو جیسے بہرہ ہوگیا تھا

اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے وہ اسکے ہونٹوں پر شدت سے جھکا تھا اور پھر جیسے ہٹنا بھول گیا تھا

سہارے کے لئے اسنے خود کو ڈھیلا چھوڑا تھا تبھی معیز نے ہلکا سا جھکا کر اسے بیڈ پر لٹایا تھا اور خود اس پر حاوی ہوا تھا

آئی ڈونٹ وانٹ ٹو لوز یو۔۔ اسکے کان میں سوگرشی کرتے اسنے گاؤن کی روب کو کھول کر دور پھینکا تھا

معیز۔۔۔

شش۔۔ اسکے پکارنے پر اسنے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا اور اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھی تھی

اسکی آنکھوں میں سرخی سی تھی

مجھے ڈر لگ رہا ہے تمہیں کھونے سے میں جن سے محبت کرتا ہو وہ دور چلے جاتے ہیں تمہیں کھویا تو اب مزید نہیں جی سکوں گا مر جاؤں گا۔۔

معیز۔۔ اسکی بات پر زوبیہ نے تڑپ کر اسکے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھا تھا

اتنے نازک لمحے میں وہ موت کی بات کیوں کر رہا تھا

میں کہیں نہیں جارہی ہوں میں اس دنیا سے لڑ لونگی مگر تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گی۔۔ اسکی ٹھوڑی چومتے اسنے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکا چہرہ تھاما تھا

مجھے ڈر لگ رہا ہے اسکے بالوں میں چہرہ چھپاتے اسنے نرمی سے کہا تھا مگر اسکے لہجے کی نمی نے زوبیہ کو ساکت کیا تھا

تبھی اسنے اچانک اسکا چہرہ سامنے کرتے اسکے لبوں کو اپنی نرم سی گرفت میں لے کر آزاد کیا تھا

میں تمہاری ہوں اور کوئی ہم دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرسکتا۔۔

اسکے کہنے پر اسنے جھک کر اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو لبوں سے چھوا تھا

اسکا ایک ایک نقش چومتے اسنے اسکی شہہ رگ پر اپنے لب رکھے تھے

اسکی بے تابی جنون شدت نے زو کو بوکھلا کر رکھ دیا تھا

وہ آہستہ سے اسکی روح میں اترا تھا ان کی محبت معتبر ہوئی تھی

اسنے خود سپردگی کے عالم میں خود کو اس شخص کے حوالے کیا تھا جس نے اسے کئی چیزیں سیکھائیں تھیں جس نے اسے محبت کے صحیح معنوں سے روشناس کروایا تھا

معیز نے آگے بڑھ کر لائٹس آف کی تھیں اور دونوں ہر بلینکٹ کور کرتا اس میں واپس سے گم ہوا تھا۔۔

اسکی آنکھ کھلی تو سورج کی روشنی نے سیدھا اسکے چہرے کو چھوا تھا

اسنے آنکھیں چھوٹی کر کے اپنے حصار میں سوئی اس پری کو دیکھا تھا اور اسکی نیند کے خیال سے اپنا ہاتھ اسکے چہرے کے آگے گیا تھا

جس پر وہ ہلکا سا مسکرائی تھی

سوئی ہوئی شہزادی سونے کا ناٹک بند کریں اور اٹھیں شاباش۔۔ اسکے بالوں میں منہ دیتا وہ ہنس کر بولا تھا

افف کیسے پتا چلا میں جاگ رہی؟؟ اسنے منہ بنایا تھا

کیونکہ آپ مسکرائی تھیں میڈم۔۔

اسکا رخ اپنی طرف کرتے اسنے مسکرا کر کہا تھا

شہہ۔۔۔ منہ بنا کر اسنے اٹھنا چاہا تھا مگر معیز نے واپس سے اسے اپنی طرف کھینچا تھا

کیا ہوا؟؟ ابھی کہیں نہیں جانا نا۔۔ منہ بنا کر کہتے اسے ٹائٹ سے ہگ کیا تھا

جس پر وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی

چھوٹے سے بچے لگ رہے ہو آپ معیز۔۔ اسکے بالوں کو ماتھے سے ہٹاتے اسنے اپنے لب وہاں رکھے تھے

اسکے آپ کہنے پر وہ چونکا تھا اور اسے غور سے دیکھا تھا جس پر اسنے بے ساختہ نظریں جھکائی تھیں

ڈو لک ایٹ می لائک دس۔۔ اسکے مسلسل دیکھنے پر اسنے جھنجھلا کر اسکے کندھے پر مکا مارا تھا

اچھا لگا مجھے تم نے مجھے ایسے مخاطب کیا۔۔ اسنے ہلکے اسکی ناک دبائی تھی

میں جارہی ہوں فریش ہونے آپ بھی اٹھیں شاباش ہمیں بابا کے پاس بھی جانا ہے

اسے کہتی وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھی تھی اسنے جاتے وہ بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا

گہرا سانس بھرتے اسنے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا

دور نہیں جانے دونگا میں کبھی بھی تمہیں۔۔

چاہے کچھ بھی ہوجائے۔۔

اسکے چہرے پر سایہ سا لہرایا تھا۔۔۔