542.8K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Baharon Ke Sang (Episode 10)

Baharon Ke Sang By Fari Shah

اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرے وہ اسکے لبوں پر جھکا مکمل مدہوش ہوچکا تھا احساس تب ہوا جب زوبی نے اسکی شرٹ کو سختی سے پکڑ کر جھٹکا دیا تھا

وہ جیسے ہوش کی دنیا میں آیا تھا اور اسکے لبوں کو آزادی بخشی تھی مگر اس سے دور نہیں ہوا تھا بلکہ یونہی اسکی سانسوں کی مہک کو خود میں اتارا تھا

وہ گہرے گہرے سانس بھر رہی تھی

معیز نے اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکایا تھا

آئی لو یو۔۔۔۔۔۔

اسنے زوبی کے کانوں میں سرگوشی کی تھی

بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں مگر شاید آج یہ لفظ میرا ساتھ نہیں دینگے۔۔

مجھے لگا تھا کہ کسی کے لئے فیلنگز ہوں تو دل میں تو انہیں چھپانا آسان ترین کام ہے مگر یہ اعتراف کرتا ہوں کہ یہ دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔۔

تم سے محبت کب ہوئی کیسے کوئی پتا نہیں کیوں تم دل کو اچھی لگیں مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ میں تمہارے ہر دکھ ہر تکلیف میں تمہاری ڈھال بننا چاہتا ہوں تمہیں اس دنیا کے سرد و گرم سے بچانا چاہتا ہوں

میں چاہتا ہوں جب میں آنکھ کھولوں تو تم میرے سامنے ہو

اس دن کے واقعے نے مجھے ہلا کر رکھ دیا تھا میں تمہیں کھونے کا رسک نہیں لینا چاہتا

میں اپنی زندگی کے ہر موڑ پر تمہیں اپنے پاس دیکھنا چاہتا ہوں

I want you to stay by my side…

اپنی بات کہہ کر اسنے اپنے لب زوبیہ کے ماتھے پر رکھے تھے

اس نے ڈبڈبائی نظروں سے اسے دیکھا تھا اور بے اختیار اسکے سینے سے لگی تھی

آئی نو یہ سب سے ڈفیکلٹ ہے کہنا مگر جس دن وہ واقعہ ہوا میں بہت ڈر گئی تھی مجھے لگا میں تمہیں کبھی دیکھ نہیں سکوں گی اور یہ ڈر اس دنیا کا سب سے بڑا ڈر ہے میرے لئے

آئی لو یو معیز احمد۔۔۔

آئی لو یو ٹو معیز کی جان۔۔ اسکے گال پر لب رکھتے اسنے واپس اسے سینے میں بھینچا تھا

ویل بلندی سے اب نیچے کی جانب بڑھا تھا

نیچے آکر اسنے اپنا ہاتھ زو کی طرف بڑھایا تھا جسے اس نے فوراً تھاما تھا

ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے وہ باہر آئے تھے بلاشبہ آج کا دن ان کی زندگی کا سب سے خاص دن تھا

شیا وغیرہ انہیں ڈراپ کر کے گئے تھے

دونوں کی ہی فیلنگز چینج تھیں

زوبیہ کو اس سے شرم محسوس ہوئی تھی جبھی گھر میں جاتے ہی جلدی سے فریش ہوتی وہ بستر میں گم ہوئی تھی

وہ روم میں آیا تو اسے ہوں بستر میں دبکے دیکھ ہولے سے مسکرایا تھا اور اپنا ڈریس لے کر واشروم میں بند ہوا تھا

واپس آیا تو وہ ہنوز ایک ہی پوزیشن میں لیٹی ہوئی تھی

لائٹس آف کرتا وہ اسکے برابر میں آکر لیٹا تھا

زوبیہ سو گئیں؟؟ اسکے قریب ہوتے اسنے پکارا تھا مگر جواب ندارد۔۔

ڈرپوک۔۔۔ ہنس کر کہتے اسنے زرا سا کمفرٹر اسکے چہرے سے ہٹایا تھا

لزرتی پلکیں اس بات کی گواہ تھیں کہ وہ جاگ رہی ہے

جبھی اسنے اپنا ہاتھ اسکے سر کے نیچے رکھ اسے خود سے قریب کیا تھا اور اسکی کمر کے گرد بازو حائل کیا تھا

اب فرار ناممکن ہے بیگم۔۔ ہنس کر کہتے اسنے اپنے لب اسکے ہونٹوں پر رکھے تھے

اس اچانک افتاد پر وہ سخت جھٹپٹائی تھی

مگر وہ تو جیسے مدہوش ہوگیا تھا

اپنے لبوں سے اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو محسوس کرتا وہ اسے پگھلنے پر مجبور کر رہا تھا

زوبیہ نے سختی سے اسکی شرٹ کو مٹھی میں جکڑا تھا۔۔

اپنی بیوٹی بون پر اسکے لب محسوس کرتی اسکی جان نکلی تھی

مو۔۔۔۔مم۔معیز مم۔۔مجھے نیند آرہی ہے۔۔بہت مشکل سے اس نے یہ الفاظ ادا کیا تھا

اسکے کہنے پر وہ اسنے اپنا سر اٹھایا تھا اور اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے

سوجاؤ میری جان مگر اب مجھ سے دور ہونے کا سوچنا بھی نہیں اسکا سر اپنے سینے پر رکھتے اسنے زوبیہ کو سختی سے اپنے حصار میں لیا تھا

جس پر اسنے مسکراتے اسکے گرد اپنے بازو حائل کئے تھے۔۔۔

صبح اسکی آنکھ کھلی تو خود کو اسکے مضبوط حصار میں پایا۔۔

اسنے زرا سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا جو اس وقت بے خبر سو رہا تھا

اسکا ہاتھ بے اختیار اسکے بکھرے بالوں پر گیا تھا اپنے ہاتھ سے اسکے بال سمیٹتے اسکی کی انگلی نے اسکے ماتھے سے لکیر بنائی تھی آہستہ سے وہ لکیر نیچے لاتے وہ اسکے لبوں پر رکی تھی رات اسکی گستاخی کرتے وہ شرم سے لال ہوئی تھی

اہہہ۔۔۔ اچانک اسکی انگلی معیز نے اپنے دانتوں میں دبائی تھی

معیز۔۔۔۔

اسنے مکا بنا کر اسکے کندھے پر مارا تھا جس پر وہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا اور اسے مزید خود سے قریب کرگیا

کیوں صبح صبح ایمان خراب کر رہی ہو بیگم ان ڈبل محبت کرنی ہے میں نے۔۔

تو کرو میں نے کب روکا۔۔ اپنی کمر سے اسکا بازو ہٹاتے وہ اٹھ کر بیٹھی تھی

تبھی معیز نے اٹھ کر جلدی سے اسے واپس سے اپنے حصار میں لیا تھا اور اسکے بال سائیڈ کرتے اسکی گردن پر اپنے لب رکھے تھے

معیز۔۔۔۔ ڈونٹ ڈو دس چھچھورا پن۔۔ اسکے ہاتھ پر چونٹی کاٹتی وہ اسکی پہنچ سے دور ہوئی تھی

اہہ۔ظالم عورت۔۔

ہاہاہاہا مزہ آیا یہ کل کا بدلہ ہے۔۔۔

اسے منہ چڑاتا وہ جلدی سے باہر بھاگی تھی

تیار ہوکر وہ یونی کے لئے نکلے تھے

پیپر سر پر تھے تو تیاری بھی اسی حساب سے کرنی تھی

بزنس کے اسٹوڈنٹ ہونے کی وجہ سے انہیں سروے پر بھی جانا تھا

پورا دن انکا سروے کرنے میں گزرا تھا

پاس آتے ہوٹل سے کھانا کھاتے وہ پیدل ہی گھر کی طرف بڑھے تھے

اففف آج تو بہت تھک گئی میں۔۔ اپنا بیگ اسے تھماتی وہ سستی سے بولی تھی

کوئی نہیں اب گھر جاکر آرام کرنا۔۔ مسکرا کر کہتے وہ آگے بڑھا تھا تبھی اچانک پیچھے سے بائیک گل اسپیڈ سے آئی تھی

زو۔۔۔ بائیک کے ہارن پر اسنے تیزی سے اسے اپنی طرف کھینچا تھا

بائیک ان کے قریب سے ہوتی گزری تھی

جاہل آدمی۔۔۔ وہ چیخا تھا

آر یو اوکے؟؟؟؟ اسکے چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھ وہ پریشان ہوا تھا تبھی اسے پاس پڑی بینچ پر بیٹھایا تھا

پتا نہیں پاؤں مڑ گیا ہے شاید۔۔ درد کو ضبط کرتے اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں

دیکھاؤ مجھے۔۔ اسکے شوز اتارتے اسنے زوبی کا پاؤں اپنے پاؤں پر رکھا تھا اور چیک کیا تھا

کچھ نہیں ہے بس ہلکا سا مڑا ہے موچ نہیں آئی شکر ہے اسکے پیر کا جائزہ لیتے وہ تھوڑا ریلکس ہوا تھا

پر مجھے درد ہورہا ہے نا۔۔۔ چلا بھی نہیں جائے گا۔۔

اٹس اوکے میں ہوں نا۔۔۔ اسنے سر خم کرتے اسکی مشکل آسان کی تھی

کیا مطلب؟؟ اسنے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا

جس پر اسنے مسکراتے زوبیہ کا بیب کراس کر کے گلے میں ڈالا تھا اور موڑ کر اسکی طرف بیٹھا تھا

آجاؤ شاباش۔۔۔ اپنی کمر کی طرف اشارہ کرتے اسنے زوبیہ کو بلایا تھا

پاگل ہو گر جاؤنگی میں اور ساتھ تم بھی۔۔۔

کیوں گرو گی؟؟ مجھ پر بھروسہ نہیں ہے کیا؟؟ اسکے آئی برو اچکانے پر اسنے منہ بنایا تھا

ایک تم پر ہی تو ٹرسٹ ہے۔۔۔

تو آجاؤ پھر۔۔ اسنے دوبارہ کہا تو وہ ہچکچاتے اسکے گرد ہاتھ اور پیر باندھ کر اسے ٹائٹ سے پکڑ گئی تھی

یار ویسے تو اتنی موٹی لگتی ہو مگر چڑیا جیسا وزن ہے تمہارا۔۔ اسے پیٹھ پر لئے اسنے ہنستے ہوئے کہا تھا

معیز۔۔ میرے ویٹ کو لے کر کچھ نہیں کہنا۔۔ وہ چڑ کر بولی تو وہ قہقہ لگا گیا

تبھی بہت اچانک اسنے جھک کر اسکے گالوں کر کس کی تھی۔۔۔

وہ لمحے کو شاکڈ ہوا تھا پھر جیسے کھل کر مسکرایا تھا

غلط وقت پر پنگا لے لیا ہے جانم۔۔۔۔

جانم کے بچے گھر چلو کل تمہارا انٹرویو ہے۔۔ اسنے ہنس کر معیز کے بال نوچے تھے جس پر وہ کراہ کر رہ گیا

گراؤ تمہیں چڑیل۔۔ اسنے ہلکا سا جھک کر اسے گرانا چاہا تھا

نہیں نہیں نہیں معیز میں جان لے لوں گی تمہاری۔۔۔ وہ چلائی تھی

آس پاس کے لوگوں نے مڑ کر ان دونوں پاگلوں کو دیکھا تھا

مجھے بھی یہ بھی سمجھا دو۔۔ ٹیبل پر دودھ کا گلاس رکھتے اسنے جھک کر بک میں دیکھا تھا اور ایک ٹاپک کی طرف اشارہ کیا تھا

آجاؤ سمجھاؤ تمہیں معیز نے کہتے ساتھ اسکے ہاتھ کو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا تھا

معیز۔۔۔

یہاں بیٹھو گی تو سمجھاتا ہوں نا۔۔

اسے اپنی گود میں بیٹھائے اسنے معصومیت سے کہا تھا

تم جلدی سے یہ جاب حاصل کر لو اس سے تمہیں ایکسپرینس ملے گا پھر تم جا کر اپنا بزنس واپس حاصل کر لینا۔۔

اسکی محبت دیکھ اس نے مسکرا کر کہتے اس کے بال سنوارے تھے

انشاء اللہ۔۔

اور تم بھی پیپرز کے بعد انٹرن شپ کرنا اپنی پڑھائی کو ضائع مت کرنا میں ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہوں

ہممم مجھے ثابت کرنا ہے سب کو کہ ایک لڑکی بھی آگے بڑھ سکتی ہے۔۔

ان دونوں نے ایک دوسرے کو آگے بڑھنے میں مدد دی تھی اور اب مل کر آگے نا سوچ رہے تھے