542.8K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Baharon Ke Sang (Episode 11)

Baharon Ke Sang By Fari Shah

معیز رکو نا۔۔۔ وہ نک سک سے تیار جانے کے لیے تیار تھا تبھی وہ بھاگتی ہوئی آئی تھی

کیا ہوا؟؟ بیگ پہنتے اسنے ہاتھوں میں گلوز چڑھائے تھے

رکو تو۔۔ سر پر دوپٹہ ڈالتی اس نے زیر لب کچھ پڑھا تھا اور اوپر دم کیا تھا

اسکے یوں دم کرنے پر وہ مسکرا کر اسے قریب کر گیا تھا

پہلے ہی تم کر عاشق ہوں اب کیا دم کر رہی ہو۔۔ شرارت سے کہتے اس نے لبوں سے اسکے گالوں پر پیار کیا تھا

بس کردو تمہیں کون قابو کرے گا۔ ناک سکڑ کر کہتی وہ اسکے سینے سے لگی تھی

اب جاؤ اور اچھے سے انٹرویو دینا میں بہت ساری دعا کرونگی

جزاک اللہ بیگم۔۔۔ اسکے ماتھے پر پیار کرتا وہ مسکراتا ہوا باہر کی جانب بڑھا تھا اور اسکے جاتے ہی اسنے اپنی تیاری مکمل کی تھی اور گھر سے باہر نکلی تھی

ہیلو آنٹی۔۔۔ بیکری پہنچ کر اس نے انہیں سلام کیا تھا

آجاؤ زو بچے۔۔ انہوں نے محبت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا

معیز انٹرویو کے لئے گیا ہے؟ ٹرے کو اون میں رکھتے انہوں نے کہا تھا

جس پر اسنے اثبات میں سر ہلایا تھا

تمہیں کب جانا ہے ؟؟

میرا اسائمنٹ تو سبمٹ ہے بس کبھی بھی کال آجائے۔۔ بیٹر کی مدد سے مکسچر مکس کرتے اسنے جواب دیا تھا

ویسے تم دونوں کو یوں ساتھ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے بہت کم لوگ رشتوں کو سمجھتے ہیں اور آج کل کے بچے کہاں رشتے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں میں اسی لئے ان میرڈ کپل کو اپنا اپارٹمنٹ دینے کے حق میں ہی نہیں تھی کیونکہ رشتوں کو مذاق سمجھنے والے کبھی دل کے سچے نہیں ہوتے۔۔

ان کے کہنے کر اسے وہ وقت یاد آیا تھا جب انہوں نے نکاح کیا تھا وہ ایک فیک میرج ہی تو تھی دوسرا اپنے گھر کو چھوڑ کر وہ یہاں آئی تھی

دل اچانک ہی اداسیوں میں گھرا تھا باقی کا کام اسنے یونہی بجھے دل سے کیا تھا

گھر والوں کی یاد جسے کب سے دل میں چھپائے ہوئے تھی ایک دم سے غالب آئی تھی آنکھوں کی نمی چھپائے وہ اپنا کام مکمل کرتی جلدی سے گھر آئی تھی اور دروازہ لاک کرتی بیڈ پر گرتے پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی

چاہے کچھ بھی ہو وہ اسکے ماں باپ تھے بہن بھائی تھی لاکھ ناراضگی کے باوجود وہ ان سے منہ نہیں موڑ سکتی تھی

اسکا دل پھٹنے کو تھا بس یونہی آج ماضی کو یاد کر اسکا دل رو رہا تھا

وہ بہت مضبوط تھی اسنے یہ قدم اٹھایا تھا صرف اس لئے تاکہ کچھ کر سکے کچھ بن کر دیکھائے یہ اسکا نصیب تھا کہ اسے یہاں معیز کا ساتھ ملا

اس سے نکاح کرنا بھی ایک مجبوری ہی تھی مگر اب اس سے محبت بے تحاشہ ہوگئی تھی وہ اپنے رشتوں کو لے کر ہمیشہ سے مخلص رہی تھی وہ کبھی گھر چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کرتی اگر اسکے بابا اسکو سمجھتے اسکی خواہش کو سمجھتے مگر انہیں تو اپنی سیاست اور کاروبار کی زیادہ پڑی تھی

اسکا دل کیا چاچی کو کال کرے ان سے بات کرے مگر ابھی اسکے پاس تین مہینے تھے وہ کچھ بن کر ان کے سامنے جانا چاہتی تھی اگر وہ ابھی ان سے بات کرتی تو کمزور پڑ جاتی

اس نے جاب کے لئے اپلیکیشن دی تھیں

جاب سے اسے بزنس کا ایکسپرینس ملتا تو وہ آرام سے کوئی بھی بزنس کر سکتی تھی اور معیز کے تو اسے کہا تھا وہ مل کر اپنا بزنس کرینگے

آئی ایم سوری بابا بٹ میں جلد آؤنگی اور آپ سے معافی مانگ لونگی۔۔ ہاتھ کی پشت سے آنسو پونچھتے وہ خود سے بولی تھی۔۔۔

تم رو رہی ہو زو۔۔۔۔ اپنے عقب سے معیز کی آواز پر وہ ایک دم چونکی تھی اور جلدی سے اپنے آنسو صاف کئے تھے

وہ کب اندر آیا اسے پتا ہی نہیں چلا۔۔

نہیں تو میں بھلا کیوں روؤں گی۔۔ جلدی جلدی سے آنسو صاف کرتے اسنے خود کو کمپوز کیا تھا

ادھر دیکھو میری طرف۔۔ بیگ سائیڈ رکھتے وہ اسکے پاس آیا تھا اور اسکا رخ اپنی طرف کیا تھا

ادھر دیکھو اور بتاؤ کیوں رو رہی ہو؟؟

میں کہاں رو رہی ہوں یار۔۔اسکے کندھے پر سر رکھتے وہ ہلکے سے بولی تھی

دل ایک بار پھر بھر آیا تھا

کتنا مشکل تھا اس انسان سے اپنا آپ چھپانا۔۔

تم بتاؤ جاب کا کیا ہوا؟ اسے الگ ہوکر اسنے مسکرا کر پوچھا تھا

میں جاؤں اور جاب نا ملے ایسا ام پاسیبل ہے میری جان۔۔

اسکے آگے جوائننگ لیکر لہراتے وہ ہنسا تھا

اووو مائے گاڈ فائنلی۔۔ وہ خوشی سے چلاتے اسکے گلے لگے تھی

بہت بہت مبارک ہو معیز میں بہت خوش ہوں سیریسلی۔۔ اسکے بال بگاڑتی ہنس کر بولی تھی

اسی بات پر اب بتاؤ کیوں رو رہی تھیں؟

اسکی سوئی اسی بات پر اٹکی تھی اسنے خفگی سے اسے گھورا تھا

گھورو نہیں وجہ بتاؤ۔۔۔

کچھ نہیں کا یونہی دل اداس ہوگیا تھا اسکے سہارے لگ کر بیٹھتی وہ ہلکے سے بولی تھی

گھر والے یاد آرہے ہیں نا؟؟

اسنے کھینچ کر اسے اپنے قریب کیا تھا اور اسکے گرد مضبوط حصار بنایا تھا

ہمم۔۔۔ ہولے سے سر کو ہلاتے اسنے معیز کے سینے میں منہ چھپایا تھا

میں ان سے ناراض تھی بہت مگر آج بہت یاد آرہی ہے ان کی میں ان کا سوچتی بھی نہیں ہوں۔۔

سوں سوں کرتی روتے وہ بولتی گئ تھی

اےے ششش رونا بلکل نہیں یے بس کچھ وقت کی بات ہے ہم دونوں واپس جائیں گے اور سب ٹھیک ہو جائے گا یہ میرا پرامس ہے تم سے۔۔ اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے اسنے محبت سے اسے پچکارا تھا

میں خود انکل سے بات کرونگا گا کہ آپ کی بیٹی بہت ذہین ہے اسے معاف کردیں یہ برے مقصد کے لئے گھر سے نہیں گئی تھی

پھر بھی میں کہلاؤں گی تو بھاگی ہوئی نا۔۔۔

اسکے دل کی بات زبان پر آئی تھی

اوئے بری بات خود کو ایسے نہیں کہتے ایسے تو میں بھی گھر سے بھاگ کر آیا ہوں تو کیا لوگ مجھے بھی یہی بولیں گے؟؟

اگر بولیں گے تو میں منہ توڑ دونگا کیونکہ جب ہمیں ضرورت تھی کہ کوئی ہمارے لئے بولے تو تب کوئی ایک بھی آگے نہیں آیا اور اب اگر آیا تو کیوں آیا جب ہمیں اب کسی کی ضرورت نہیں ہے

ہم اس دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ہمارے صحیح ہونے پر بھی کوئی ہمیں سپورٹ نہیں کرے گا ہاں مگر ہم غلط ہونگے تو سب سے پہلے وہی لوگ ہم پر انگلی اٹھائیں گے

کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ کیا وجہ تھی کہ تم نے اتنا بڑا قدم کیوں اٹھایا کیسے اٹھایا کیا وجہ تھی بس وہ تمہیں لعنت ملامت کریں گے تو اس بات کو دماغ سے نکال دو کہ کوئی تمہیں کچھ بولے گا اب میں ہوں تمہارے ساتھ کوئی تم پر انگلی اٹھا کر دیکھائے میں وہ انگلی ہی توڑ دونگا۔۔۔

سمجھیں میری بدھو۔۔ اسکے ماتھے پر انگلی مارتے اسنے پیار سے کہا تو وہ مسکرا کر سر ہلا گی

اسکی باتوں سے دل کو کتنا سکون ملا تھا

معیز میں واقعی بہت خوش قسمت ہوں جو مجھے تمہارا جیسا ہسبینڈ ملا تھا میری امی ہمیشہ کہتی تھیں کہ میں بہت پچھتاؤ گی یا میں کبھی کامیاب نہیں ہونگی مگر آج میں سوچتی ہوں وہ شاید اس لئے کہتی تھیں تاکہ میں بابا سے بحث نا کروں وہ میرے لئے ہی بولتی تھیں۔۔

ظاہر ہے نا میری جان کون ماں اپنی اولاد کو برا بولتی ہے اور اگر وہ ایسا کرتی ہے تو اسکے پیچھے کوئی نا کوئی مصلحت ہوتی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارے خلاف ہے ہم بغاوت کرتے ہیں مگر جب وقت گزرتا ہے تو ہمیں احساس ہوتا کہ ہم کتنا غلط تھے

وہ تمہیں ڈانٹتی ہونگی یا کچھ بھی ایسا بولتی ہونگی کو تمہیں رلاتا ہوگا تو اسکا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ وہ تم سے نفرت کرتی ہیں بلکہ وہ تمہیں اور تمہارے بابا کو ایسے لڑتے نہیں دیکھ سکتی وہ دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کر سکتی تھیں انہوں نے دوسرا طریقہ اپنایا جو تلخ ضرور تھا مگر تمہارے لئے ہی تھا

اسکے ماتھے پر پیار کرتے وہ اسے محبت سے سمجھا رہا تھا

زوبیہ کا ہاتھ اسکے ہاتھ کی مضبوط گرفت میں تھا جو وہ ہولے سے سہلا رہا تھا

زوبیہ کو آج سمجھ آیا تھا کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کیوں کہا تھا ہے اس لئے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے عیب ڈھانپ کر رکھتے ہیں وہ ایک دوسرے کو رسوا کرنے کا سبب نہیں بنتے۔۔۔

چلو اب موڈ اچھا کرو آج اپنے ہاتھوں سے سینڈوچ بنا کر کھیلاتا ہوں

اسکی ناک پر انگلی سے ٹچ کرتا وہ اسے لئے باہر کچن میں آیا تھا اور اسے ٹیبل پر بیٹھا کر خود کام کرنے لگا

زو نے کچھ دیر یونہی اسے مسکراتے دیکھا تھا اور پھر اٹھ کر اسکے پاس آئی تھی اور اسے پیچھے سے ہگ کیا تھا

کیا ہوا؟؟ اسے یوں اپنی پشت سے لگے دیکھ اسنے گردن موڑ کر محبت سے اسے دیکھ کر پوچھا تھا

اونہوں۔۔ اسنے نفی میں سر ہلا کر اسے مزید سختی سے پکڑا تھا جس پر اسنے زرا سا مڑ کر اسکے ماتھے پر لب رکھے تھے

آئی لو یو معیز تھینک یو سو مچ میری زندگی کا حصہ بننے کے لئے۔۔ اسکے ہاتھ پر عقیدت سے بوسہ دیتے وہ آسودگی سے مسکرائی تھی