Baharon Ke Sang By Fari Shah Readelle50314 Baharon Ke Sang (Episode 3)
Rate this Novel
Baharon Ke Sang (Episode 3)
Baharon Ke Sang By Fari Shah
صبح اسکی آنکھ عجیب سے احساس سے کھلی تھی لمحے کو تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے مگر جیسے جیسے وہ اسمیل بڑھتی گئی اسکا کیلجہ منہ کو آیا تھا دماغ بھک سے اڑا تھا جبھی وہ پوری تھی اٹھی تھی
اسکی روم میٹس اپنے اپنے بستروں پر آڑھی ترچھی پڑی تھیں یقیناً وہ نشے میں تھیں۔۔
اسکا دل کھول اٹھا تھا تبھی جلدی سے شال لے کر وہ باتھ روم میں بند ہوئی تھی ۔۔
اس نے اپنے لحاظ سے تھوڑے سستے روم کا انتخاب کیا تھا مگر یہ دل کر اسکا کیلجہ منہ کو آیا تھا وہ لڑکی جس نے کبھی ایسی چیزیں دیکھی تک نہیں اس کے لئے بہت مشکل تھا یہ سب برداشت کرنا ۔
جلدی سے فریش ہوکر وہ ریڈی ہوکر یونی کے لئے نکلی تھی
اور حلال فوڈ اسٹور سے اسنے اپنے لئے کھانے کی چیزیں لی تھیں
کیونکہ چائنا میں مسلم کمیونٹی بھی کثیر تعداد میں ہے تو یہاں آسانی سے حلال اسٹور اور حلال فوڈ ریسٹورنٹ موجود تھے۔۔
اور شنگھائی تو تھا بھی سینٹرل کوسٹل۔۔
ناشتہ کرتے وہ جلدی سے یونی پہنچی تھی
تبھی اسے وہ دیکھائی دیا تھا
بلیک پینٹ شرٹ پر جیکٹ پہنے وہ یقیناً معیز احمد تھا
وہ بھی اسے دیکھ چکا تھا مگر نظر انداز کرگیا تھا۔۔
وہ اسی کے ڈپارٹمنٹ میں تھا اور اب اسی کی کلاس میں۔۔
اسے حیرت نہیں ہوئی تھی۔
وہ دونوں آگے پیچھے ڈیسک پر بیٹھے تھے پروفیسر کلاس میں آئے انٹرو ہوا۔۔
سب کچھ جیسے خواب سا تھا مگر اس خواب کے آگے ایک تلخ حقیقت تھی وہ تھی یہاں سرائیوو کرنے کی ۔۔
اسے حیرت ہوئی تھی یہاں موجود مسلم لڑکیوں کو دیکھ کر جنہوں نے اسے منہ تک نہیں لگایا تھا
اس نے سوچا تھا کسی مسلم لڑکی کو دوست بنا کر وہ اپنا روم اسکے ساتھ شفٹ کروا سکتی ہے مگر یہاں تو کوئی بات بھی سیدھے منہ نہیں کر رہا تھا سوائے شیا کے۔۔
چینی نقوش ہونے کے باوجود وہ بے پناہ حسین تھی دوسرا جس پر اس نے یہاں اسے ویلکم کیا تھا وہ واقعی قابل تعریف تھا۔۔۔
پورا دن کلاسس اور کارڈز بنانے کے چکر میں وہ گھن چکر بن گئی تھی اس لئے رات کے کھانے میں نوڈلز کھا کر وہ اپنی جگہ پر لیٹی تھی مگر تھوڑی ہی دیر بعد روم میں عجیب طوفان بدتمیزی مچا تھا
اسکی دو روم میٹس آپس میں کسی بات پر الجھ پڑی تھی اور ایک دوسرے کو انگلش میں گالیوں سے نواز رہی تھی
اسے پتا نہیں کیوں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے یہ گالیاں ان ڈائریکٹ اسے دی جارہی ہوں۔۔
آدھی چائینز اور آدھی انگلش میں لڑائی نے اسکا سر دکھا دیا تھا
وہ بے سی سے انہیں دیکھ رہی تھی اب یہاں سے اٹھ کر اتنی رات کو جاتی بھی تو کہاں؟
وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی کون کہتا ہے کہ باہر کی زندگی بہت مزے والی ہوتی اسے تو ایک ہی دن میں اندازہ ہوگیا تھا کہ کیا ہونے والا ہے اس کے یہاں۔۔۔
تبھی ایک بھاری بھرکم بوٹل اسکے بیگ کر گری تھی
اسکی ایک دم چیخ نکلی تھی
یہ ہو کیا رہا تھا اسکے ساتھ ڈراموں میں تو ایسا کچھ نہیں ہوتا تھا۔۔
وہ تیزی سے بیڈ سے اتر کر کمرے سے باہر بھاگی تھی کیونکہ اب بات گالیوں سے آگے نکل گئی تھی وہ رک کر مزہ لیتی ضرور اگر اپنی جان کو خطرہ نا ہوتا۔۔
اپنے گرد شال اچھے سے لپٹتی وہ باہر بینچ پر بیٹھی تھی وہ تو شکر تھا کہ زیادہ سردی تھی ورنہ تو اس نے باہر بیٹھے بیٹھے جم جانا تھا۔۔
اسے لگتا تھا گھر سے فرار اسکے سارے مسئلے حل کردے گی ہر کوئی فرار ہی چنتا ہے مگر گھر کی دہلیز پار کرنے کے بعد وہ مسئلے ضرور ختم ہوجاتے ہیں جن سے آپ تنگ تھے مگر ایک نا ختم ہونے والے مسئلے آپ کو پوری طرح جکڑ لیتے ہیں اس سب میں آپ کو صرف پچھتاوے ہوتے ہیں کاش اور اگر مگر کی بحث ہوتی ہے۔۔
وہ کافی دیر سے یونہی سڑکوں پر بے مقصد گھوم رہا تھا کتنا کچھ سوچ کر آیا تھا وہ یہاں کہ یہ ہوگا وہ ہوگا مگر اب۔۔
ہوٹل میں پارٹی تھی شور ہنگامہ ایسے میں اسنے خود کو بہت اکیلا فیل کیا تھا
گہرا سانس لیتے اسنے دونوں ہاتھوں کو مالا تھا
موسم آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہورہا تھا
اس نے ہاسٹل میں بات کی تھی مگر فلحال وہاں کوئی روم خالی نہیں تھا باقی کے ہاسٹل جو تھے یا تو بھرے ہوئے تھے یا پھر بہت زیادہ مہنگے تھے
اسے یہاں ابھی کافی عرصے تک رہنا تھا اس لئے پھونک پھونک کر قدم رکھنا تھا یہ رہنے کا بندوبست ہوجاتا تو پھر آپ کوئی جاب کے لئے اپلائی کرتا۔۔
اس وقت وہ ریور کوسٹ کے پاس دیوار پر ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔
روشنیاں آتے جاتے بڑے بڑے جہاز۔۔۔
کتنا خوبصورت تھا یہ شہر صاف ستھرا۔۔۔
وہ آگے بڑھا تھا مگر اچانک اسکی نظر زوبیہ پر پڑی تھی۔
یہ یہاں کیا کر رہی ہے؟ اسے حیرت ہوئی تھی تبھی آہستہ سے چلتا اسکے پاس آکر کھڑا ہوا تھا
تم یہاں کیا کر رہی ہو اس وقت؟؟
وہ جو اپنی ہی سوچوں میں گم تھی اسکی آواز پر چونکی تھی اور مڑ کر اسے دیکھا تھا
معیز۔۔۔
ہمم۔۔ کیا ہوا تم ٹھیک ہو؟؟ اس کے لہجے کی نرمی محسوس کرتے اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔
اے۔۔ رو کیوں رہی ہو؟ ریلکس کیا ہوا ہے؟
کچھ نہیں بس بہت اکیلا فیل ہورہا ہے۔۔۔
تم کیوں اداس لگ رہے ہو؟
میں بھی بہت اکیلا فیل کررہا ہوں۔۔ سامنے دیکھتے اس نے کہا تھا
مجھ سے شئیر کرسکتے ہو ؟؟
زوبیہ کی بات پر اسنے کچھ سوچ کر ہاں میں سر ہلایا تھا اور پھر شروع سے آخر تک وہ اسے بتاتا چلا سب کچھ سچ۔۔۔
اسے دھچکا لگا تھا وہ تو سمجھتی تھی اسکے ساتھ بہت برا ہوا ہے مگر نہیں معیز کی کہانی سن کر اسے احساس ہوا تھا کہ اسکی زندگی میں بھلے پابندیاں تھیں مگر وہ کسی اور کے رحم و کرم تو نہیں پڑی تھی نا۔۔
تمہاری کیا کہانی ہے؟؟ معیز کے سوال کر اسنے نفی میں سر ہلایا تھا
اتنی کوئی خاص نہیں ہے۔۔
خاص نا ہوتی تو تم یوں گھر چھوڑتیں؟؟ معیز کے سوال پر اسنے لبوں پر زبان پھیری تھی
اور اسے سب بتاتی گئی اس اجنبی شہر میں کوئی اسے سننے والا ملا تھا وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس سے سب شئیر کر گئی تھی
اسکی بات ختم ہونے پر وہ گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔۔
ہم دونوں کی تکلیف اپنی اپنی جگہ بہت زیادہ ہے میں یہاں آیا یوں تاکہ جب واپس جاؤں تو جم کر مقابلہ کرسکوں میں نے سنا تھا باہر ملک جا کر لوگ امیر ہوجاتے ہیں مگر ایسا صرف کہانیوں میں ہی ہوتا ہے
ہمم بلکل ٹھیک کہہ رہے ہو مجھے بھی لگا تھا جیسے ناول اور ڈراموں میں ہیروئن بھاگتی ہے اور پھر صرف کامیابیاں اسکے قدم چومتی تھی ہر چیز اسکے حق میں ہوتی ہے۔۔
مگر یہاں تو میری ایک ہی دن میں بینڈ بج گئی۔۔
کیوں خیریت تم تو ہوسٹل میں رہ رہی ہو نا..
وہ ہوسٹل ہے۔۔۔؟؟ کل رات اور آج والی صورتحال سوچ اس کو جھرجھری آئی تھی۔۔
عجیب عجیب سی وہ روم میٹ جو کبھی ڈرنک کر کے آتی ہیں تو کبھی جنگلیوں کی طرح لڑتی ہیں۔۔
سستے کے چکر میں غلط جگہ پھنس گئی میں۔۔
میں ایگری کرتا ہوں تمہاری بات سے سستے کے چکر میں جس ہوٹل میں میرا اسٹے ہے وہ تو ہر وقت پارٹیز کا اڈہ بنا ہوا رہتا ہے۔۔
ہمیں یہاں لمبا عرصہ رہنا ہے کیسے کرینگے ہم۔۔۔؟؟
وہ وہی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھی معیز نے بھی اسکی تقلید کی تھی
ایک کام کرتے ہیں نا کل یونی کے بعد ہم دونوں مل کر کوئی سستا سا روم ڈھونڈتے ہیں۔۔
معیز نے اسے مشورہ دیا تھا
الگ الگ ڈھونڈیں گے تو مسئلہ ہوگا راستے بھی انجانے ہیں ساتھ ساتھ ڈھونڈیں گے پہلے تمہارے لئے پھر میرے لئے۔۔۔
اتنی مہربانی کیوں مجھ پر ویسے تو مجھے کچا چبانے والے تھے تم؟؟ موڈ فریش ہونے پر وہ واپس اپنے موڈ میں آئی تھی جس پر وہ آنکھیں گھما گیا تھا
ٹھیک کہا ہے بزرگوں نے نیکی کر اور سمندر میں ڈال۔۔ ایک تو مدد کر رہا اور میڈم مجھ پر ہی شک کر رہیں۔۔۔ ہونہہ
ہاں تو ظاہر نے ہے تمہارا کیا بھروسہ کارڑ والی بات پر تم مجھے کہیں دور پھینک آو۔۔۔
اووو بس بس تمہیں پھینکوں گا بھی تو جہاں پھینکوں گا وہ زمین بھی تمہیں وہاں سے اچھال کر پاکستان بھیج دے گی کہ جا بھی تو ہے ہی اسی جگہ کے قابل۔۔ وہ بولتے بولتے تھوڑا تھوڑا پیچھے کھسکا تھا۔۔
یو۔۔۔۔ تمہیں تو میں اس سمندر میں پھینک دونگی اور یہ بھی تمہیں الٹی کے زریعے باہر نکال دے گا۔۔۔۔ وہ چیختی اس کے پیچھے بھاگی تھی جو اسکی پہنچ سے دور کھڑا اب اسے چڑا رہا تھا۔۔
تم۔۔۔ معیز۔۔۔ وہ بھاگ کر اس تک پہنچی تھی اس سے پہلے وہ اسے پکڑتی اسکا پیر ایک دم مڑا تھا وہ لڑکھڑاتی ہوئی گرنے کو تھی تبھی کسی نے اسے اپنے مضبوط حصار میں لیا تھا
اس نے تیزی سے بچانے والے کی شرٹ کو مٹھیوں میں بھینچا تھا
معیز نے اسکی حرکت پر اسکے چہرے کو دیکھا تھا
سرخ و سفید رنگت۔ بڑی بڑی پلکیں اس وقت لزر رہی تھیں نازک ہونٹوں کو اسنے میچا ہوا تھا۔۔
وہ کسی کے بھی دل کے تار آسانی سے چھیڑ سکتی تھی
معیز نے اپنے لبوں پر زبان پھیری تھی اور ایک دم اسے جھٹکا دیا تھا کہ اسکی چیز فضا میں گونجی تھی۔۔
چھوڑ دوں گرا دوں میں؟؟؟ اسکی حالت سمجھتے وہ ایک بار پھر اسے گرانے کے لئے نیچے کرنے لگا تھا
ماں قسم معیز احمد تم مجھ سے مار کھاؤ گے اگر ایسا کیا تو۔۔ اسکے حصار سے نکلنے کو وہ پھڑپھڑائی تھی۔۔
اچھا اچھا قسم نا کھاؤ میں ویسے ہی ڈر گیا۔۔ اسے ٹھیک سے کھڑا کیا تھا۔۔
پیر ٹھیک ہے تمہارا؟؟؟
ہاں ہاں ٹھیک ہے اب چلو رات ہوگئی ہے بہت۔۔۔
ہمم چلو میں تمہیں ہاسٹل چھوڑ دوں۔۔
لیکن تمہارا ہوٹل؟؟
تھوڑا ہی دور ہے وہاں سے۔۔
اوکے پھر چلو ۔
رات کے پہر اسٹریٹ لائٹ کی روشنی کے حصار میں چلتے وہ دونوں باتیں کرتے آگے بڑھ رہے تھے
وہ اجنبی بن کر ملے تھے اور اب پہلا مرحلہ طے کرگئے تھے۔۔
جاؤ اب۔۔ اسے ہاسٹل کے دروازے پر چھوڑ کر وہ آگے بڑھا تھا تبھی وہ واپس گیٹ تک آئی تھی۔۔
معیز۔۔۔۔
اسکی پکار کر وہ مڑا تھا
کیا ہوا ؟؟
کل ساتھ چلیں گے گھر ڈھونڈنے۔۔۔ اینڈ تھینکس فار ہیلپ۔۔ اسکو ہاتھ کے اشارے سے بائے کرتی وہ چھپاک سے اندر غائب ہوئی تھی جس پر وہ بےاختیار مسکرایا تھا
کل سے ٹینشن بھرے ماحول سے آج اسنے خود کو ریلکس محسوس کیا تھا۔۔
