Baharon Ke Sang By Fari Shah Readelle50314 Baharon Ke Sang (Episode 4)
Rate this Novel
Baharon Ke Sang (Episode 4)
Baharon Ke Sang By Fari Shah
وہ کمرے میں داخل ہوئی تو جگہ جگہ بیرئر کی بوتلیں پڑی تھیں یقیناً وہ تینوں پارٹی کرکے سوئی تھیں کیونکہ وہاں ٹیبل کے پاس تین چئیرز تھیں
جب پارٹی ہی کرنی تھی تو کتے کی طرح کیوں لڑ رہی تھیں۔۔
اسنے کوفت سے سوچا تھا اور قدم اپنے بیڈ کی طرف بڑھائے ہی تھے کہ کسی نے اپنے ہاتھ میں اسکا بازو دبوچا تھا
وہ ایک دم خوفزدہ ہوکر چیخی تھی۔۔۔
اے چیخ کیوں رہی ہے تیرے باپ کا گھر ہے کیا؟؟
یہ وہی لڑکی تھی جو دوسری لڑکی سے لڑ رہی تھی زوبیہ کو خوف محسوس ہوا تھا اس سے اور اسکی حالت سے۔۔
ایسے کیا گھور رہی ہے؟؟ اب کے وہ لڑکی زور سے چیخی تھی
اسکی ٹوٹی پھوٹی انگلش اور بیر کی اسمیل سے اسکا دماغ جھنجھنا اٹھا تھا
چل یہ سب صاف کر مفتے میں نہیں رکھا تجھے یہاں اور اگر تو نے زبان چلائی تو زبان کاٹ دونگی۔۔
سختی سے اسکا بازو دبوچے وہ غرائی تھی۔۔
چل لگ کام پر۔۔ اسے زور سے دھکا دیتی وہ اپنے جگہ پر جاکر بستر پر گھسی تھی
اسکی اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ اس سے سوال جواب کرتی ۔۔
بس غصے سے اسے گھور کر رہ گئی اگر مجبوری نا ہوتی تو اس لڑکی کا مار مار کر منہ لال کردیتی۔۔
جب تک رہنے کا بندوبست نہیں ہوجاتا تب تک برداشت کر۔۔ خود کو تسلی دیتے اسنے ڈرار سے گلوو نکال کر پہنے تھے اور ناک بند کرتے ان بوتلوں کو اٹھا کر ڈسٹ بین میں ڈالا تھا
آنکھوں میں آئے آنسووں کو پیچھے دھکیلتے اسنے جلدی جلدی ہاتھ چلائے تھے
اگر آپ مجھے پڑھنے کی اجازت دیتے بابا تو میں یوں ذلیل نا ہورہی ہوتی۔۔
اتنا گند اسنے کبھی صاف نہیں کیا تھا جتنا اس ایک رات میں کیا تھا سارا کام سمیٹتی وہ پانچ بجے فارغ ہوئی تھی جلدی سے شاور لے کر الارم لگا کر وہ سوئی تھی
حسب توقع صبح آنکھ کھلی تو وہ تینوں سب کچھ بیچ کر سو رہی تھیں اور اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔
مرتے مرتے تیار ہوکر اپنا سامان لاک کرکے وہ یونی آئی تھی
سر میں درد بھوک سے برا حال اس سے لیکچر کر توجہ دینا مشکل ہوگیا تھا
آج تو شیا بھی نہیں آئی تھی۔۔ لیکچر ختم ہوتے ہی اسنے سر دونوں ہاتھوں میں گرایا تھا
اسلام وعلیکم۔۔
معیز کی آواز پر اسنے نم آنکھوں سے اسے دیکھا تھا جس کی اپنی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔۔
وعلیکم اسلام۔۔ معیز آنکھوں میں کیا ہوا؟؟
اسکے پوچھنے پر وہ نفی میں سر ہلا گیا
آجاؤ باہر چلیں۔۔ اسے کہتا وہ آگے بڑھ گیا
اسے کیا ہوا ہے؟؟ خود سے پوچھتی وہ اسکی تقلید کرتی باہر آئی تھی
تمہیں کیا ہوا ہے معیز آئیز کیوں ریڈ ہورہی ہیں؟؟ چئیر پر بیٹھتے اس نے پھر پوچھا تھا
تم بتاؤ تم کیوں بیمار لگ رہی رات تک تو ٹھیک تھیں۔۔
میرا تو برا وقت چل رہا ہے۔۔ رات کا سوچ کر اسکا کیلجہ جل گیا تھا
بس میرا بھی یہی سمجھ لو۔۔
بولتے ہوئے اسے رات کا منظر یاد آیا تھا جب وہ ہوٹل میں داخل ہوا تھا وہاں پارٹی اپنے زوروں پر جاری تھی وہ اپنے کمرے میں آیا تھا مگر میوزک کی آواز شور چیخیں۔۔۔ اسکا دماغ پھٹنے کے قریب ہوگیا تھا ۔۔
ایک کام کرتے ہیں کلاس اب کوئی ہے نہیں تو بنک کر کے کوئی اور جگہ دیکھنے چلتے ہیں۔۔
زوبیہ کی بات سے ایگری کرتا وہ اپنا بیگ پہن کر اٹھا تھا۔۔
معیز سب سے پہلے بینک چلتے ہیں مجھے کارڈ ایکٹو کروانا ہے
ابھی نہیں ہوسکتا ہے۔۔ بس میں بیٹھتے اسنے زوبیہ کو بتایا تھا
کیوں؟؟؟
یہاں بینک اسٹرائیک چل رہی ہے۔۔
واٹ ؟؟ یار کیا مصیبت ہے یہاں بھی یہ سب ہوتا ہے۔
میں تو سمجھی تھی پاکستان میں ہی یہ سب ہوتا ہے
ہر جگہ کی اپنی کہانی ہوتی ہے ویسے بھی دور کے ڈھول سہانے ہی ہوتے ہیں۔۔۔معیز کی بات سے اس نے اتفاق کیا تھا
معیز نے اسکے آگے ایک پیپر رکھا تھا بیگ سے نکال کر۔
یہ کیا ہے؟
یہ ان تمام روم کے ایڈریس ہیں جو کم رینٹ پر ہیں میں نے سرکل بنا دیا ہے ہمیں ان سب جگہوں پر جانا ہے۔۔
معیز کو اسنے ستائشی نظروں سے دیکھا تھا وہ واقعی پوری تیاری سے آیا تھا
بس ان کی مطلوبہ جگہ پر رک چکی تھی۔۔
سب سے پہلے اس نے اسٹور سے اپنے لئے چپس اور بسکٹ کا پیکٹ لیا تھا۔۔
مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر معیز نے ڈور بیل بجائی تھی تبھی درازہ کھلا تھا اور ایک عجیب سی چینی نقوش کی حامل عورت نے درازہ کھولا تھا۔۔
اسے دیکھ کر زوبیہ نے معیز کو دیکھا تھا
روم ؟؟ اسنے ایشین ہونے کی وجہ سے انگلش میں پوچھا تھا
یس۔۔ معیز کے کہنے پر انہیں اندر لے کر آئی تھیں مگر سامنے کا منظر دیکھ زوبیہ کا دل کیا الٹیاں کردے۔۔
وہ روم تھا؟؟
اسکی شکل دیکھ معیز نے بمشکل اپنا قہقہ روکا تھا
وہ کوئی اسٹور ٹائپ چھوٹا سا کمرہ تھا جس کے کونے پر کموڈ اور شاور لگا تھا اور دوسرے کونے پر اسٹو اور سینک۔۔۔ سامنے ایک چھوٹا سا بیگ۔۔
چھت پر لگے جالے دیوار پر سیلن۔۔
وہ کہیں سے بھی رہنے کے قابل نہیں تھا
وہ معذرت کرتے باہر آئے تھے
یار ویسے تمہارے لحاظ سے تو بلکل آئیڈیل روم لگا مجھے۔۔۔
اسکی صورت دیکھ معیز نے اسے چھیڑا تھا جس پر اسنے ایک مکا اسے رسید کیا تھا ۔۔
پھر وہ ایک جگہ سے دوسری اور دوسری سے تیسری جگہ گئے تھے انہیں حیرت ہوئی تھی کہ اتنے بڑے شہر میں ایک ڈھنگ کا کم رینٹ کا گھر نہیں ہے یا شاید ان کی قسمت میں ہی نہیں ہے۔
پورا دن کی خواری کے بعد وہ رات گئے گھر واپس آئے تھے اور وہ بنا کچھ بھی سوچے سمجھے نیند کی گولی کھا کر سوگئی تھی کیونکہ ابھی وہ کوئی بھی تماشہ برداشت کرنے کے قابل نہیں تھی اگلا دن پھر شروع ہوا تھا اور ناکامی پر ختم ہوا تھا
مسلسل چار دن ان کے ایسے ہی گزر گئے تھے اس وقت وہ دونوں شدید مایوسی کی حالت میں بیٹھے تھے۔۔
زوبیہ۔۔ اسکی آنکھوں میں نمی دیکھ معیز کو جھٹکا لگا تھا
پاگل ہو رو کیوں رہی ہو ابھی تو اتنا طویل سفر ہے ابھی سے ہمت ہار جاؤگی تو کیسے چلے گا؟ اسکے ہاتھوں کو تھام کر اسنے زوبیہ کو دلاسہ دیا تھا
مگر چپ ہونے کے بجائے وہ مزید رونے لگی تھی
ایسا کیسی کے ساتھ نہیں ہوتا ہوگا جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے کوئی ایک کوئی ایک بھی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں ہمارے لئے آسانی ہو۔۔۔
مانتی ہوں میں نے غلطی کی مگر کیا اتنی بڑی ہے میری غلطی ؟؟ پڑھنا چاہتی تھی آگے بڑھنا چاہتی تھی ایک شرابی سے شادی کرکے کیسے زندگی گزارتی میں ۔۔
اور تمہاری کیا غلطی ہے تم بھی تو ظلم برداشت کیا تم بھی تو اپنے ماں باپ کو انصاف دلانا چاہتے ہو نا تو کیوں ہماری راہ میں اتنی رکاوٹیں ہیں۔۔۔ وہ تھک گئی تھی اس لئے پھٹ پڑی تھی
شیا نے اسے یوں روتے دیکھا تو جیسے اس کے دل کا کچھ ہوا تھا ان کی دوستی محض ایک ہفتے کی تھی مگر وہ اتنا تو جان گئی تھی کہ زوبیہ اور معیز دونوں کا طرح کے ہیں۔۔
زوب۔۔ پلیز رو نہیں ۔۔
میں تھک گئی ہوں شیا کوئی راستہ نہیں ہے روز روز ان چڑیلوں کی سنو آدھی آدھی رات باہر بیٹھ کر گزارو۔۔۔
کوئی تو ایسا راستہ ہو جو ہمیں اس جہنم سے نکال سکے۔۔
ایک راستہ ہے۔۔ اسکی بےبسی پر شیا نے بالآخر اسکی مدد کا فیصلہ کیا تھا مگر وہ نہیں جانتی تھی وہ قبول کرے گی بھی کہ نہیں۔۔
کیسا راستہ؟؟؟
معیز فوراً آگے ہوکر بیٹھا تھا
میری آنٹی ہیں ان کا گھر یہاں سے قریب بھی ہے اور خالی بھی جسے وہ رینٹ پر دینا چاہتی ہیں رینٹ بھی بہت کم ہے۔۔
تو تم نے ہمیں بتایا کیوں نہیں پہلے؟؟
اس لئے کیونکہ ان کی ایک کنڈیشن ہے۔۔۔
کیسی کنڈیشن؟؟ ہمیں ہر کنڈیشن ہر شرط منظور ہے۔۔ وہ بے صبری ہوئی تھی
معیز کو اسکی جلد بازی پر ہنسی آئی تھی جو بھی تھا وہ لڑکا تھا کیسے بھی کر کے سفر کر سکتا تھا وہ لڑکی تھی اسکو زیادہ مسئلہ تھا
وہ اپنا گھر میرڈ کپلز کو دینگی بس۔ کیونکہ وہ تھوڑی پرانے زمانے کی ہیں اور تمہیں بتا ہے یہاں سب لیو ان ریلیشن میں بھی رہتے ہیں
تو اگر تم لوگوں کو میں وہاں لے کر جاتی تو بھی تم لوگوں کے پاس میرج سرٹیفکیٹ لازمی ہونا چاہیے۔۔
شیا کی بات پر ان دونوں کو چپ لگی تھی
دیکھوں بس اسی وجہ سے میں نے نہیں بتایا تھا مگر میں یہی کہوں گی تم دونوں کے مسئلے کا ایک یہی ہے حل ہے میرے پاس تم دونوں میری سرٹیفکیٹ لے لو۔۔
اس طرح تم دونوں کے رہنے کا بھی بندوست ہوجائے گا اور پھر میری آنٹی کی بیکری میں تم جاب بھی کرسکتی ہو اور معیز انکل کے ساتھ ان کے کیفے پر جاب کرسکتا وہ بہت اچھی ہیں بہت پر۔۔
تم پاگل ہو شیا۔۔ میں کیسے میرج سرٹیفکیٹ۔۔
یہ ہمارے مسئلے کا حل نہیں ہے سوری۔۔ معیز نے بھی ہاتھ کھڑے کئے تھے
شیا نے افسوس سے ان دونوں کو دیکھا تھا
دیکھو اس طرح تم لوگوں کو کبھی ڈھنگ کی جگہ نہیں ملے گی میری بات مانو آج کل کانٹریک میرج تو بہت کامن ہے یار۔۔۔
جب تم لوگوں کے مسئلے حل ہوجائیں تو یہ کانٹریک ختم کردینا۔۔۔
شیا کی باتوں پر وہ دونوں ہی سوچ میں پڑ گئے تھے یہ ایک دو دن کے مسئلے نہیں تھے انہوں واقعی ایک ابھی جاب اور رہنے کے لئے جگہ کی ضرورت تھی ۔۔
ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا اور پھر شیا کو۔۔
مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے تم زوبیہ سے پوچھ لو۔۔
بہت دیر کے بعد ان دونوں کو معیز کی آواز آئی تھی
شیا کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھی تھیں۔۔
زوب کم آن۔۔
اسنے زوبیہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا تھا
اوکے۔۔ اگر یہ ہماری مشکلوں کو حل کرنے کا واحد راستہ تو مجھے یہ کرنا پڑے گا۔۔
اوکے پھر کل ہم میرج رجسٹرار کے پاس چلیں گے ہاؤس ہولڈ ریجسٹریشن میں کل لے آؤ گی اور ہم وہاں انہیں ساری بات بتادیں گے۔۔
نہیں اسکی ضرورت نہیں ہم اسلامیک پرئیر حال میں نکاح کریں گے۔۔
معیز نے جیسے کچھ سوچ کر اسے کہا تھا
مگر سرٹیفکیٹ لازمی ہے معیز۔۔ شیا نے اسے بتانا لازمی سمجھا تھا جس پر وہ سر ہلا گیا
نکاح کے بعد ہم سرٹیفکیٹ لینے جائیں گے۔۔
ہمم مگر اس سے پہلے ہمیں گھر دیکھنا ہے اور اگر آنٹی نے دینے سے منع کردیا تو؟؟
اففف ٹھیک ہے پھر ابھی چلو۔۔
شیا خوشی خوشی ان دونوں کو اپنے ساتھ لائی تھی
گھر واقعی کمال کا تھا اور سستا بھی۔۔
ان دونوں نے صرف کانٹریک میرج کا چھوڑ کر سب انہیں بتایا تھا یہ بھی کہ وہ کل شادی کر رہے ہیں
جس پر وہ بہت خوش ہوئی تھی۔۔
اور فوراً انہیں اوکے کردیا تھا ۔۔
اب بس ان دونوں کو کل کا انتظار تھا۔۔
