Baharon Ke Sang By Fari Shah Readelle50314

Baharon Ke Sang By Fari Shah Readelle50314 Baharon Ke Sang (Episode 15) Last Episode

542.8K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Baharon Ke Sang (Episode 15) Last Episode

Baharon Ke Sang By Fari Shah

انکے برینڈ نے جیسے آن لائن مارکیٹ میں آگ لگا دی تھیں ان کی کامیابی پر سب کی آنکھیں پھٹی تھیں وہی خرم صاحب پر اسکی آمد کی خبر بم بن کر گری تھی

واجد صاحب کو وہ پہلے سے ہی جانتے تھے اور ان کی بربادی میں انکا حصہ بھی شامل تھا

وہ بے چین اور مضطرب اپنے کمرے میں مسلسل ٹہل لگا رہے تھے

کیا ہوا ہے آپ کو کیوں ایسے ٹہل رہے ہیں۔۔ ٹیبل پر چائے کا کپ رکھتے رقیہ بیگم نے ان سے سوال کیا تھا

وہ واپس آگیا ہے رقیہ اور پوری تیاری کے ساتھ مضبوط ہوکر آیا ہے

ان کی بات پر بیڈ شیٹ کر چلتے رقیہ بیگم کے ہاتھ ساکت ہوئے تھے

یہ آپ کیا بول رہے ہیں اچانک اتنے ٹائم بعد وہ کیسے آسکتا ہے آپ نے تو کہا تھا وہ اب کبھی نہیں آئے گا

مین غلط تھا وہ آگیا ہے اور ناصرف آیا ہے بلکہ اسنے اور اسکی بیوی نے ہمارے سرکل میں دھوم مچا دی ہے واجد صاحب کے بزنس کے ساتھ وہ اپنا کام بھی شروع کرچکے ہیں

یعنی اب وہ ہمارے اوپر وار کرے گا۔۔ بولتے ہوئے رقیہ بیگم سر پکڑ کر بیٹھی تھیں

اب کیا کریں گے خرم صاحب اگر وہ آگیا تو کچھ کریں ورنہ سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا

نکل جائے گا کیا نکل گیا ہے امی یہ دیکھیں کورٹ سے نوٹس آیا ہے

شائستہ کی بات خرم صاحب پہلے چونکے تھے پھر اچانک تیزی سے اسکے پاس آکر اس کے ہاتھ ست نوٹس چھینا تھا

کیا ہوا کیا ہے نوٹس میں؟؟ جیسے جیسے وہ نوٹس پڑھتے جارہے تھے ان کے چہرے کی رنگت متغیر ہوتی جارہی تھی

اسکی بیوی اور اس نے کیس دائر کیا ہے نا صرف پراپرٹی کے لئے بلکہ اپنے ماں باپ کے مرڑر کیس کے لئے بھی ۔۔

یہ بولتے انکا لہجہ کانپا تھا کیونکہ یہ وہ راز تھا جو سوائے ان کے کوئی نہیں جانتا تھا

کیسے انہوں نے گاڑی کے بریک فیل کروا کر ان میاں بیوی کو اپنے راستے سے ہٹایا تھا گاڑی تباہ ہوگئی تھی بری طرح سے کوئی اس ایکسیڈنٹ کی وجہ معلوم نہیں کرسکا تھا

ییی۔ یہ آپ کک۔۔کیا کہہ رہے ہیں خرم۔۔ آخری بات پر انکا لہجہ کپکپایا تھا

شائستہ تم جاؤ اور وکیل صاحب کا نمبر لا کر دو مجھے

جی بابا۔۔ اپنے دل میں اٹھتے سوالوں کو دباتی وہ اپنے باپ کی پریشانی دیکھ وہاں سے باہر آئی تھی

یہ سب کیا ہورہا ہے یہ اتنا بڑا الزام۔۔

وہ بہت کچھ سوچ سمجھ کر آیا ہے رقیہ اس نے پولیس سے نہیں ڈائریکٹ عدالت سے رجوع کیا ہے مجھے اب یہ سوچنا ہے کہ اسکا مقصد کیا ہے

تو جیسے پتا چلے گا آپ کو کہ اسکا کیا مقصد ہے؟؟

یہ تو اس سے مل کر ہی پتا چلے گا اب اس سے بات ہوگی اور اب آمنے سامنے ہوگی

خیال سے خرم کچھ ایسا مت کریئے گا جو مصیبت کھڑی کردے۔۔

ان کے لہجے اور چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رقیہ بیگم کو خطرہ محسوس ہوا تھا

بے فکر رہو اب جو ہوگا سب کچھ ٹھیک ہی ہوگا۔۔ انہیں بولتے وہ باہر کی طرف بڑھے تھے

کیا ہوا سب ٹھیک ہے ؟؟ اسے بیڈ پر سر جھکائے بیٹھے دیکھ زوبیہ نے پوچھا تھا جو اب ہاتھ میں موجود پیپر کو رول کر رہا تھا

معیز کیا ہوا ہے؟؟؟

خرم انکل کی طرف سے نوٹس ملا ہے ان کے وکیل کی کال آئی تھی وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں

ڈیٹس گریٹ۔۔ اس کی بات کر وہ پرجوش ہوکر بولی تھی

معیز واٹس اپ یار۔۔۔ اسکا لٹکا منہ دیکھتے اس نے پوچھا تھا

وہ جانتی تھی کہ وہ پریشان ہے اندرونی خلشار سے وہ پریشان ہے

جبھی کچھ سوچ کر وہ ڈریسنگ روم میں بند ہوئی تھی

اسنے چونک کر ڈریسنگ کے بند دروازے کو دیکھا تھا اور پھر سر جھٹک کر واپس پہلے والی پوزیشن میں چلا گیا

پتا نہیں کتنی دیر وہ یونہی بیٹھا رہتا اگر چوڑیوں کی آواز اسکے کانوں میں نا پڑتی۔۔

اسنے سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو جیسے نظریں پلٹنا پھول گیا تھا

ڈیپ ڈیڈ ساڑھی میں وہ ڈیپ ریڈ لپ اسٹک لگائے آنکھوں میں کاجل کی گہری لکیر ڈالے اسکا امتحان لینے آئی تھی

وہ بے خود سا اس بے داغ حسن کو دیکھ رہا تھا

اسکی نظروں سے انجان وہ کھلکھلاتی اسکے پاس آئی تھی

یہ دیکھیں معیز میں ایسے جاؤ گی اپنے سسرال۔۔ ساڑھی کا پلو لہراتے وہ ہنسی تھی

اور پھر ماتھے پر بندی لگائے میں نے خوب ظلم ڈھانے ان پر۔۔

اے لڑکی میرے معیز سے شادی کرنے کا سوچا بھی کیسے۔۔ آنکھیں بڑی بڑی کئے اسنے آئینے میں اپنے عکس کو مخاطب کیا تھا

بڑی بہو وہ۔۔ وہ ہم سے غلطی ہوگئی ہمیں معاف کردیں۔۔ اسنے اب بیچاری لڑکی کی نقل اتاری اور اپنی ایکٹنگ پر خودہی ہنس پڑی

چلو نقلی ساسو ماں میرے لئے کھانا گرم کرو۔۔

انگلی کے اشارے سے غائبانہ ساس کو مخاطب کرتی وہ اسکے چہرے پر مسکراہٹ لے آئی تھی

اچھا اور پھر ساس منع کرتی تو؟؟ معیز نے تھوڑی کے نیچے ہاتھ ٹکائے فرصت سے بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائی تھی

پھر۔۔ ٹھوڑی پر انگلی رکھتے اس نے پرسوچ انداز میں آسمان کی طرف دیکھا تھا اور پھر شرارت سے مسکرائی تھی

جنوری فروری مارچ اپریل مئی اور جون جولائی ساسو سارا کام کرے بہو رانی کھائے ملائے۔۔۔ گول گول گھومتے اسنے پرانے زمانے کا گانا گنگنایا تھا

اسکی ادائیں اسکا انداز معیز کا قہقہ بے ساختہ تھا

وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے پاس آیا تھا اور اس جھومتے وجود کی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اسے اپنی بانہوں کو گہرے میں لیا تھا

اسکے یوں پاس کرنے پر زوبی نے مسکرا کر اپنے دونوں بازو اسکی گردن کے گرد حائل کئے تھے اور اسکی ناک سے ناک ملائی تھی

کیوں ہو اتنی پیاری تم؟؟ اسکے بکھرے بال سنواتے معیز نے اسکے کان میں سرگوشی کی تھی جس پر وہ کھل کر مسکرائی تھی

کیونکہ میری زندگی بہت خوبصورت ہے۔ اسکے پیروں پر اپنے پیر رکھتے اسنے آچک کر معیز نے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے

میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ میں کسی سے اظہار الفت کروں گی مگر آج میں۔۔ وہ لمحے کو رکی تھی اور نظریں اٹھا کر اپنے شریک سفر کو دیکھا تھا

میرا دل کرتا ہے اس پوری دنیا کی خوشیاں آپ کے قدموں میں ہوں اور میں ان زندگی میں آپ کے بہت خاص ہو جسے آپ اپنے پاس ہمیشہ کے لئے رکھ لیں مجھے روز سنواریں بگاڑیں مگر کبھی خود سے الگ نا کریں

اسکے گال سے گال مس کرتے اسنے ہلکے سے اسکے گالوں کو چھوا تھا

میں اپنی زندگی آپ پر وار دوں اور بدلے میں صرف محبت کی طلبگار رہوں

معیز کیا آپ مجھے اپنی زندگی کا سب سے خاص حصہ بنا کر رکھیں گے؟؟ اسکے چہرے کو تھامے اسنے امید سے ان چمکتی آنکھوں میں جھانکا تھا جو ایک ان کہی اور خوبصورت داستان بسائے ہوئے تھی

معیز کی زندگی ہی تم ہو معیز کا دل دماغ روح سب معیز کی زو کی ہے۔۔

اسکے ماتھے پر لب رکھتے اسنے جذب سے کہا تھا

اور اسے بانہوں میں بھرے بیڈ پر لاکر لٹایا تھا

میری زندگی کہ روشنی ہو تم ہمیشہ یونہی میرے ساتھ رہنا۔۔ اسکی آنکھوں پر لب رکھتے اسنے جھک کر اسکی ناک سے ناک ملائی تھی اسکی سانسوں کی تپش سے اسکا چہرہ جھلسا تھا

معیز اپنی کمر پر اسکی سرکتی انگلیاں اسکے رگ و پے پر عجیب سا احساس پیدا کر گئی تھیں۔

اپنی گردن پر اسکی شیو کی چبھن محسوس کرتے اسنے سختی سے اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑی تھی

اسکی مزاحمت پر اسنے گردن اٹھا کر اسے دیکھا تھا

جو آنکھیں میچے گہری گہری سانس لے رہی تھی

آنکھیں کھولو زووو۔۔ اسکی کان کی لو کو لبوں میں دباتے اس نے محبت سے اسے پکارا تھا

اسکی پکار پر اسنے مندی مندی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جس کی آنکھوں میں محبت نا خمار دیکھ اسنے نظریں جھکائی تھیں

یوں کر کے ایسے نے ستم ڈھایا کرو مجھ پر بندہ بشر ہوں بہک جاتا ہوں

اسکے نازک لبوں کو دیکھتے اسنے سرگوشی کی تھی اور پھر پوری شدت سے اسکے چہرے پر جھکا تھا

اسکی شدت پر وہ ایک دم بوکھلائی تھی مگر معیز نے اسکی کمر سہلاتے اسے ریلکس کیا تھا اور آہستہ سے شرٹ اسکے کندھے سے سرکاتے وہاں اپنے لب رکھے تھے

اسکی شہہ رگ پر ہونٹ رکھتے وہ آہستہ سے اسے خود میں سمیٹ گیا تھا

کمرے میں معنی خیز خاموشی چھائی ہوئی تھی

وہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے تھے ایک کے چہرے پر سخت قسم کا اضطراب تھا تو وہیں دوسرے کے چہرے پر بے تحاشہ سکون۔۔

کیوں آئے ہو اور اس کیس کا کیا مطلب ہے اب۔۔ ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتے خرم صاحب نے بات کا آغاز کیا تھا

معیز نے ایک تعجب بھری نظر ان کر ڈالی تھی کہ وہ نظر چرا گئے

یہ بات شاید میرے وکیل نے آپ کو کھل کر بتا ہی دی ہوگی لیکن اگر آپ کے سمجھ میں نہیں آئی تو میں رپیٹ کردیتا ہوں

میں اپنے بابا کی پراپرٹی کا اکلوتا وارث اب شادی شدہ ہوں تو وصیت کے مطابق آپ مجھے میرا حق واپس دیں

معیز یہ بات تم ہمیں آکر بولتے ہم منع تھوڑی نا کرتے

رقیہ بیگم کے شیریں لہجے کر پاس بیٹھی زوبیہ نے داد دیتی نظروں سے انہیں دیکھا تھا

بلکل مگر کیا ہے نا آپ کے ہسبینڈ پر ابھی بہت سے اور بھی حساب باقی ہیں جو عدالت کے تھرو ہی حل ہوسکتے ہیں

جتنی جلدی آپ معیز کا حق انہیں دینگے اتنی ہی کم آزمائش اور مشکلات ہونگی آپ کے لئے۔۔

معیز بیٹا ایسے ہم کہاں جائیں گے تمہارے انکل نے تو اپنی ساری زندگی اس کاروبار کو دے دی ہے

آپ اسکی فکر مت کریں میڈم میرے کلائنٹ آپ کو آپ کا حصہ بھی دینگے

وکیل کے کہنے پر کب سے چپ بیٹھے خرم صاحب نے ایک چبھتی نظر اس کر ڈالی تھی

اور کوئی بات جو آپ کو کرنی ہو؟؟ گھڑی میں ٹائم دیکھتے اسنے سوال کیا تھا

جواب نا ملنے پر وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا اس کی تقلید میں زوبیہ اور وکیل صاحب بھی اٹھے تھے

جائداد کے حوالے سے آپ کو گھسیٹنا نہیں چاہتا تھا مگر اپنے ماں باپ کا قتل آپ پر معاف نہیں کرونگا میں تیار رہیے گا۔

اپنی بات کہتے وہ جیسے ہی باہر نکل کر آیا اس سے پہلے کہ خرم صاحب جو کچھ کرنے کا موقع ملتا پولیس نے آکر ان کو اپنی گرفت میں لیا تھا

لاکھ چیخنے چلانے کے باوجود ان کا کوئی داؤ چل نہیں سکا تھا

ایک کیس کھلا تو پہ در پہ کئی کیس کھلتے چلے گئے کچے چٹھے سامنے آنے پر خرم صاحب پر زندگی تنگ ہوگئی تھی

چند سماعتوں میں ہی فیصلہ ان کے حق میں آیا تھا

کیونکہ وہ اب کمزور نہیں تھے ان کے پاس طاقت تھی سپورٹ تھا

وہ خوش تھا بے حد خوش۔۔۔

اسے خوش دیکھ کر زوبیہ خوش تھی کہ ان کی زندگی تھی جس میں انہوں نے کئی چیزیں برداشت کی تھیں مگر اب وقت ان کے ہاتھ میں تھا اور کر چیز ان کے حق میں تھی

اسکا سب کچھ اسے واپس مل گیا تھا مگر خرم صاحب کے جیل میں جانے کے بعد وہ رقیہ اور شائستہ کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑ سکتا تھا

ان دونوں کو ایک گھر دلایا تھا تاکہ ساری زندگی وہ سکون سے گزار سکیں ان کے لئے مہینے کا خرچ ہر چیز ان دونوں نے مہیا کی تھی۔۔

اتنا کچھ ہونے بعد بھی اسکے رویے پر وہ دونوں جی بھر کر شرمندہ ہوئی تھیں۔۔

سب کچھ ٹھیک ہورہا تھا اور سب کچھ ٹھیک ہوگیا تھا

واجد صاحب نے واپس نے اپنی سیٹ سنبھالی تھی مگر اب ان کے ساتھ ان کی بیٹی بھی تھی جو ہر قدم پر ان کے ساتھ تھی

وہ اکثر سوچتے تھے کہ یہ دنیا بیٹوں کی دعائیں کرتی ہے بیٹیوں کو دھتکار دیتی ہے مگر ہمیشہ برے وقت میں بیٹی ہی کام آتی ہے

انہوں نے اپنے روئیے پر شرمندہ تھے وہ بیٹیاں تھی وہ کب اپنے باپ کا جھکا سر برداشت کرسکتی تھیں

ان کو واپس سے جگہ سنبھالتے دیکھ ان کے بھائی ان کے پاس آئے تھے اور انہوں نے معاف بھی کردیا تھا مگر اب وہ اپنے بچوں کا حق کسی کو نہیں دینا چاہتے تھے

سب ایک بار پھر پہلے جیسا ہوگیا تھا آخر میں سب ٹھیک ہو ہی جاتا ہے سب تھوڑا صبر انتظار۔۔۔

وہ ٹیرس پر کھڑی گزرے ماہ وسال کو سوچنے میں گم تھی جب وہ اسکے پاس آیا تھا اور اسے اپنے حصار میں قید کیا تھا

ایک نظر اسے دیکھتے اس نے مسکرا کر اپنا سر اسکے کندھے سے ٹکایا تھا

دور افق پر موجود چاند نے ان کی دائمی خوشیوں کی دعا کی تھی

ختم شد