542.8K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Baharon Ke Sang (Episode 1)

Baharon Ke Sang By Fari Shah

لائٹس یہاں سے ٹھیک کرو۔۔

ارے یار یہ ڈریس میڈم کو دو۔۔

سنو میک اپ آرٹسٹ کو اندر بھیجو۔۔

ملی جلی کئی آوازیں اس وقت اس جگہ پر سنائی دے رہی تھیں ہر کوئی مصروف تھا کام پڑے آواز سنائی نہیں دے رہے تھے ایسے میں وہ پتھر کی مورت بنے چئیر پر بیٹھی تھی

شہر کی مشہور بیوٹیشن مہارت سے اسکے نقوش کو سنوار کر مزید دو آشتہ کر رہی تھی۔۔۔

ارے بارات آنے والی ہے تم نے ابھی تک تیار نہیں کیا دولہن کو۔۔ کوئی عورت کمرے میں آکر چلائی تھی اسکے چلانے کر بیوٹیشن کے ہاتھوں میں پھرتی آئی تھی جبکہ تیزی سے اسکے ہاتھ دولہن کے چہرے پر چلے تھے۔۔

اسکے سر پر دوپٹہ سیٹ کرتے اسنے ایک بار پھر اسے اچھے سے دیکھا تھا مبادہ کہیں کوئی کسر نا رہ گئی ہو۔۔

تمہارا ہوگیا؟؟ اسکی ماں کمرے میں آئی تھی اور بیوٹیشن سے سوال کیا تھا جس کر اس نے ہاں میں سر ہلایا تھا

ٹھیک ہے گھونگھٹ کردو تھوڑی دیر تک وہ لوگ آجائیں گے گھر کے قریب ہی ہیں بلکل بھی تاخیر نہیں کرنا ورنہ اسکے ابا پورا گھر سر پر اٹھا لیں گے۔۔۔ اس کی ماں کہہ کر واپس باہر بڑھی تھی اور اسکے جاتے ہی اس پتھر کے بت میں ہلکی سی جنبش ہوئی تھی

اس نے زرا کی زرا نظر اٹھا کر باہر جانے والی اپنی ماں کو دیکھا تھا آج اسکی بیٹی کی شادی تھی مگر اس سے بات کرنا تو دور اس دولہن بنی اپنی بیٹی کو اسنے ایک نظر تک نہیں دیکھا تھا

مگر وہ کیا افسوس کرتی یہی تو اس گھر کی ریت تھی روایت تھی۔۔

آج آپ اس دنیا کی سب سے پیاری دولہن لگ رہی ہیں۔۔ بیوٹیشن کے ساتھ آئی لڑکی نے اسکے نازک سے سراپے کو سراہا تھا مگر وہ کچھ بول بھی نہیں سکی۔۔۔

تھوڑی دیر بعد بارات آنے کا شور اٹھا تھا اور اسکا دل کیا یہ آس پاس کی لڑکیاں یہاں سے غائب ہوجائیں۔۔

چلو لڑکیوں بارات کا استقبال کرو شاباش۔۔۔ اسکی چاچی نے کمرے میں موجود لڑکیوں کو باہر دھکیلا تھا

اور دروازہ لاک کرتی اسکے پاس آئی تھیں اور اسکے ہاتھ میں چیک بک تھمائی تھی

اس میں اتنے پیسے ہیں کہ ہر خواہش پوری کر سکو۔۔ انہوں نے اسکے گال پر ہاتھ رکھا کر کہا تھا

اسنے تشکر بھری نظروں سے انہیں دیکھا تھا

یہ کچھ کیش ہے یہ بھی رکھ رہی بیگ میں۔۔۔ اسکا بیگ ریڈی کرتی وہ جلدی جلدی ہاتھ چلا رہی تھیں

اسنے جھک کر جلدی سے اپنے پیروں کو سینڈل سے آزاد کر جوگرز پہنے تھے۔۔

شال کو اچھے سے اپنے گرد لپیٹا تھا۔۔

وہ دولہن بنی بالکونی تک آئی تھی اور بالکونی سے نیچے اتر کر پچھلے لان کی طرف اتری تھی

ایک نظر پیچھے مڑ کر اس نے سفید سنگ مر مر سے بنے بنگلے کو دیکھا تھا جہاں اسکا بچپن گزرا تھا

آئی ایم سوری بابا مگر میں آپ کے بزنس کی بھینٹ نہیں چڑھ سکتی۔۔۔

خود سے بولتی وہ پچھلا گیٹ کھول کر اپنے گھر کی دہلیز عبور کر گئی تھی۔۔

وہ اس وقت گولڈن شیروانی پہنے مین روڈ پر کھڑا تھا چہرے پر شدید اضطراب تھا

اس نے کلائی پر بندھی کھڑی پر نظر دوڑائی تھی جو اس وقت رات کے آٹھ بجا رہی تھی

کہا رہ گیا کامی۔۔ بڑبڑاتے ہوئے اسنے موبائل نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا تھا

اس سے پہلے بیل جاتی ایک لگثری کار اسکے سامنے آکر رکی تھی اور اس میں سے کالے تھری پیس پہنے ایک لڑکا باہر آیا تھا۔۔

کہا رہ گئے تھے تمہاری وجہ سے میری فلائٹ مس ہوجاتی۔۔

وہ سخت جھنجھلاہٹ کا شکار تھا

سوری سر پر آپکی جگہ کسی اور کو بھی تو فکس کرنا تھا۔۔

اچھا اچھا ٹھیک ہے چلو اب ۔۔۔ اسے بول کر وہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھا تھا وقت کم تھا مقابلہ سخت۔۔۔

فل اسپیڈ میں چلتی گاڑی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی اسکے پاس چینج کرنا کا ٹائم بھی نہیں تھا جبھی اب گاڑی میں کپڑے چینج کر رہا تھا۔۔

گاڑی ائیرپورٹ ہی حدود میں داخل ہوئی تھی اس نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کیا اور باہر دیکھا تو جیسے اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا

اتنی رات میں دولہن کے لباس میں پور پور سجی وہ لڑکی اپنا بیگ گھسیٹتی تقریباً بھاگتی ہوئی جارہی تھی

تو کیا یہ بھی میری طرح شادی سے بھاگی ہے؟؟ اسنے سوچا تھا۔۔

میں بھاگ تو نہیں رہا میں تو بس اپنے کام کے لئے جارہا ہوں بھاگتے تو وہ ہیں جو کسی لڑکی کے چکر میں ہوتے ہیں ۔

اپنے شادی سے بھاگنے کے عمل کو اسنے اپنی مرضی کا رخ دیا تھا جبھی مطمئن ہوکر سر سیٹ پر ٹکایا تھا۔۔

بھاگتے بھاگتے اسکا سانس پھول چکا تھا ایک ایک کر ساری جیولری اتار کر اسنے بیگ میں رکھی تھی اور لہنگا اتار کر جلدی سے بیگ میں ڈالا تھا

وہ اس وقت پبلک ٹوائلٹ میں تھی وہ تو شکر تھا کوئی تھا نہیں یہاں

اپنا ڈریس چینج کر اسنے جلدی سے سارا سامان بیگ میں رکھا تھا اور منہ دھو کر میک اپ صاف کیا تھا

افف کیا ڈسٹمبر تھوپ دیا۔۔ منہ کو اچھے سے رگڑتے اس نے بیگ سے ٹاول نکال کر صاف کیا تھا

اس سب سامان پر وہ اپنی چاچی کی بڑی شکر گزار تھی۔۔

جلدی جلدی سب بیگ میں ڈال کر وہ تیزی سے اندر کی طرف بڑھی تھی تبھی اسکا موبائل رنگ ہوا تھا اسنے بیگ میں موبائل ڈھونڈنا چاہا تھا مگر سامنے سے آتے شخص سے بری طرح ٹکرائی تھی۔۔

آہ۔۔۔۔ وہ جو کسی مدد کی امید کر رہی تھی تب تکلیف سے دھری ہوئی جب سامنے والے نے بنا رحم کھائے اسے چھوڑ دیا تھا اور وہ دھڑام کے ساتھ زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔

اہہہ۔۔۔۔۔ یو ایڈیٹ۔۔۔وہ چلائی تھی کہنی پر بہت زور کی چوٹ لگی تھی

تم ہو ایڈیٹ اور اندھی سامنے ہی آتا ہوا اتنا بڑا لڑکا نظر نہیں آیا تمہیں۔۔ اس نے بھی اسی کی طرح جواب دیا تھا

شٹ اپ اوکے تمہیں نظر نہیں آرہا تھا کہ میں کچھ ڈھونڈ رہی ہوں کھلے سانڈ کی طرح گھوم رہے یہ ائیرپورٹ ہے تمہارے ابا کا علاقہ نہیں ہے

اے زبان سنبھال کر۔۔۔ اسنے انگلی دیکھائی تھئ اور پھر دیکھا کر پچھتایا بھی تھا کیونکہ انگلی اس محترمہ کی سخت گرفت میں آ چکی تھی۔۔

اےےے جاہل عورت۔۔

تم خود جاہل ہو۔۔ اس نے بولنے کے بعد اسکی انگلی چھوڑی تھی اور اپنا سامان اٹھا کر اندر کی طرف بڑھی تھی۔۔

اہہہ۔۔ اسنے درد سے اپنی انگلی سہلائی تھی۔۔

بورڈنگ کے بعد وہ اپنی سیٹ پر آکر بیٹھی تھی اور سکھ کا سانس لیا تھا بس چند گھنٹوں میں وہ اپنی پسندیدہ جگہ پر ہوگی

بیگ کھول کر اسنے کارڈ نکالا تھا سامنے ہی کارڈ پر بڑا بڑا معیز احمد لکھا تھا

اس سے ٹکر میں اسکا کارڈ گر گیا تھا جسے اس نے جاتے ہوئے اٹھا لیا تھا

بیگ سے اپنا چھوٹا پاؤچ نکال کر اسنے وہ کارڑ اس میں رکھا تھا جہاں اسکا اپنا کارڈ پہلے سے موجود تھا

زوبیا واجد۔۔

اناونسمنٹ ہورہی تھی تبھی کوئی اسکے برابر میں آکر بیٹھا تھا

اس نے چونک کر برابر میں دیکھا تھا

تم۔۔۔ معیز احمد کو دیکھ اسکا پارا ہائی ہوا تھا۔۔۔

تم جنگلی بلی۔۔۔ وہ اس سے زیادہ تیز لہجے میں بولا تھا کہ آس پاس کے کئی لوگوں نے انہیں دیکھا تھا

آہستہ بولو تمہارے خالو کا جہاز نہیں ہے یہ۔۔۔

ہاں لیکن تمہارے پھوپھا کا بھی نہیں ہے۔۔۔

میم سر۔۔ آپ لوگ پلیز آہستہ بولیں۔۔ ائیر ہوسٹس نے آکر ان سے گزارش کی تو وہ منہ پھلا کر سائیڈ ہوگئی

پتا نہیں کیوں اس کڑوے کریلے کو دیکھ اسکا دل جل گیا تھا۔۔

جہاز بادلوں سے باتیں کر رہا تھا اس نے بور ہوکر برابر میں گہری نیند سوئے معیز احمد کو دیکھا تھا

کتنی ایکسائیٹڈ تھی وہ اس سفر کے لئے مگر اب یہ سفر اتنا ہی بور گزر رہا تھا۔۔

دس گھنٹوں کی فلائٹ کے بعد وہ بالآخر شنگھائی پہنچ گئے تھے۔۔۔

ہاں شنگھائی۔۔ اور یہاں آنے کے لئے اس نے کئی پاپڑ بیلے تھے اس کے گھر والوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ وہ پوری دنیا کو چھوڑ کر اس جگہ کا انتخاب کرے گی

کچھ اسی طرح کی سوچ اسکے ساتھ کھڑی شخص کی بھی تھی ۔۔

یہاں کے لوگوں سے قطعہ انجان وہ دونوں کھڑے سامنے دیکھ رہے تھے

گھر سے بھاگ تو آئے تھے مگر اب آگے کیا کرنا ہے یہ سوچنا ان دونوں کا کام تھا

ٹی وی ڈراموں میں تو سب آسان ہی لگتا تھا مگر یہاں ایک ہی شکل جیسے لوگوں کو دیکھ وہ سچ میں کنفیوز ہوئے تھے۔۔

اسے آگے بڑھتا دیکھ وہ جلدی سے اسکے پاس آئی تھی

سنو معیز احمد۔۔

اپنے نام کی پکار پر وہ رکا تھا اور آئی برو آچکا کر اسے دیکھا تھا جیسے پوچھ رہا ہو اب کیا مصیبت ہے۔۔۔

مدد مانگنا تو جیسے اسکی توہین تھی مگر وہ گدھے کو باپ بنانے کے مصداق وہ اسکی مدد لینے والی تھی

دراصل میں۔۔ اسے سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا کہے اپنی بے وقوفی کی داستان سنائے تاکہ وہ ہنسے یا اپنی مدد آپ کے تحت سب کرے مگر انجان شہر میں وہ کس سے مدد لیتی۔۔

کیا ہوا بولو بھی۔۔

میں اپنا منہ کارڈ پتا نہیں کہا کھو بیٹھی ہوں اور میرے پاس اس وقت صرف کیش ہے اور یہاں کارڈ سے پے ہوتی ہے۔۔

اوو تو اس میں میرا کیا کام۔ ؟؟

مجھے مدد۔۔۔

سوری بھئی میں انجان لوگوں کی مدد نہیں کرتا۔۔ اپنے ہاتھ جھاڑتا وہ آگے بڑھا تھا تبھی اسنے اپنے بیگ سے مسکراتے ہوئے کارڑ نکالا تھا

اوکے پھر میں تمہارا کارڈ یوز کرلونگی۔۔

اسکی آواز پر وہ جھٹکے سے مڑا تھا اور اپنا کارڈ اسکے ہاتھ میں دیکھ اسکے طوطے اڑے تھے…