Baharon Ke Sang By Fari Shah Readelle50314 Baharon Ke Sang (Episode 12)
Rate this Novel
Baharon Ke Sang (Episode 12)
Baharon Ke Sang By Fari Shah
کیا ہوا سب اوکے نا؟؟؟ وہ نیچے اتر کر آئی تو وہ بیتابی سے اسکی طرف تھا
اسکی بات پر زوبی نے سر جھکایا تھا
اٹس اوکے اگر سلیکشن نہیں ہوئی واٹ آ بگ ڈیل۔۔ اسکو چئیر اپ کرنے کے لئے اسنے کہتے اس ساتھ کے گرد حصار باندھا تھا
معیز آئی ائم سوری۔۔۔
سوری کیوں میری جان۔۔
کیونکہ تم غلط ہو میں سلیکٹ ہوگئی ہوں اسکے کان کے قریب چیختی وہ قہقہ لگا کر ہنسی تھی
زو کی بچی۔۔ اپنا کان سہلاتا وہ اسکے پیچھے آیا تھا
مجھے ہلکے میں نہیں لینے کا مسٹر۔۔ کالر کھڑے کرتے وہ اترائی تھی جس پر وہ ہنس دیا
پاگل لڑکی۔۔
کوئی پاگل واگل نہیں چلو اب مال مجھے کانوکیشن کے لئے اچھا سا ڈریس لینا ہے
اسکے بازو میں بازو ڈالتی وہ مسکراتے آگے بڑھی تھی
فائنلی پڑھائی مکمل ہوئی تھی اور انٹرن شپ کے بعد فائنلی جاب ملی تھی اور آج اسے اپنا فائنل تھیسس یہاں پریزنٹیشن کے طور پر دینا تھا جس میں وہ سلیکٹ ہوئی تھی
اس کی وجہ سے اسے کسی بھی کمپنی میں جاب مل سکتی تھی
آئی ایم سو ہیپی معیز۔۔ اسکے کندھے سے لگی وہ چہکی تھی
می ٹو میری جان۔۔۔
اسکے گال کھینچتے معیز نے اسے تنگ کیا تھا جس پر اسنے منہ پھلایا تھا
موٹو چلو اب۔۔ اسکا ہاتھ پکڑتے وہ اسے مال میں لے کر گیا تھا
اور اسکی پسند کی شاپنگ کروائی تھی
یہ دو سال جیسے پلک جھپکتے ہی گزر گئے تھے وہ دونوں چھ مہینے سے ایک کمپنی سے وابستہ تھے اور اب انکا ارادہ پاکستان واپس جانے کا تھا
یہ دیکھو معیز۔۔ وہ ایک جگہ رکی تھی اور پھر معیز کو بھی بلایا تھا
کیا ہوا؟؟ وہ جو آگے بڑھ رہا تھا اسکی پکار پر واپس آیا تھا
اگر ہم بھی آن لائن کوئی بزنس کریں تو پاسیبل ہے کہ ہمیں اس سے فائدہ زیادہ ہو کیونکہ فکس پرائز اور نو بارگننگ۔۔۔
اسنے بورڈ کو دیکھتے معیز کو بتایا تھا
جس پر اس نے ہاں میں سر ہلایا تھا
آئی نو مگر ہمیں یہاں رہنا نہیں ہے مگر ایک بار سب ٹھیک ہو جائے پھر ہم مل کر اپنا ایک برینڈ لاؤنچ کرینگے
جس کی مالکن ہوں گی آپ۔۔ اسکی ناک دباتے وہ اسکا ہاتھ مضبوطی سے اپنی گرفت میں آگے بڑھا تھا
میں سیریس ہوں نا معیز۔۔
میں بھی سیریس ہوں میری جان اور میں نے سوچ لیا ہے ڈگری حاصل کرنے کے بعد میں سب سے پہلے پاکستان جاؤگا اور تم یہی رہو گی جب تک میں واپس نہیں آجاتا۔۔
اسکی بات پر وہ ایک دم چونکی تھی اسکے قدم تھمے تھے
کیا ہوا؟؟؟
میں بھی ساتھ جاؤنگی میں یہاں اکیلی نہیں رہوں گی
انجانے خوف سے اسکے چہرے پر ہوائیاں اڑی تھیں
زو۔۔۔ اسکے دل کا ڈر وہ سمجھ گیا تھا اسے افسوس ہوا تھا کہ وہ اسے کوئی سینس آف سیکیورٹی نہیں دے سکا تھا
میں تمہیں یہاں چھوڑ ۔۔
مجھے پتا ہے میں تم پر شک نہیں کر رہی میں بس اپنے گھر والوں سے ملنا چاہتی تھی۔۔
اسکی بات کاٹتے وہ جلدی سے بولی تھی
تم پر تو میں مر کر بھی شک نہیں کرسکتی آئی سمجھ بدھو۔۔ اسکا کان پکڑتے وہ ہنسی تھی اور اسکے ہاتھ کو مضبوطی سے تھاما تھا
چلو اب مسٹر کل کے لئے تیاری کرنی ہے میں نے۔۔پیار سے اسے پچکارتے وہ آگے بڑھی تھی
گھر پہنچ کر اسنے سب سے پہلے کھانا کھایا تھا
تم صاحب کپڑے پریس کرو زرا ہم اپنا کام کرلیں۔۔
اسکے آگے کپڑے رکھتے اسنے حکم جاری کیا تھا
میڈم فیس کو چمکانا کسی کام میں نہیں آتا یہ آپ کی ذاتی مصروفیات ہے
اسی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے تم لڑکے لڑکیوں پر فلیٹ ہوتے ہو۔
اسکے بال خراب کرتے وہ اسکو پیچھے سے قید کرگئی تھی
خیریت کچھ زیادہ پیار نہیں آرہا آج؟؟اسکے گال پر پیار کرنے پر وہ شرارت سے گویا ہوا تھا
کیوں تم میرے شوہر ہو مجھے تم پر پیار نہیں آسکتا؟؟
بلکل آسکتا ہے مگر میرے جتنا نہیں ۔۔ بولتے ساتھ اسنے اچانک اسے کھینچ کر اپنی گود میں گرایا تھا اور اسکے لبوں کو اپنی سخت گرفت میں لیا تھا
زوبیہ نے گھبرا کر اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑا تھا
اسنے پھڑپھڑاتے ہوئے اسکے کندھے پر مکے برسائے تھے مگر وہ تو جیسے ہٹنا بھول گیا تھا
اسکے لبوں کی نرمی محسوس کرتے اسنے ایک ہاتھ سے اسکی کمر کو اپنی گرفت میں لیا تھا
اور ہونٹوں سے ہوتا وہ اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو شدت سے چوم گیا تھا
معیز۔۔۔ اپنی شہہ رگ پر اسکا لمس محسوس کرتی وہ تڑپی تھی
معیز۔۔ اسکی گھبراہٹ حد سے سوا تھی وہ اسے روکنا چاہتی تھی مگر اسکی ناراضگی کا ڈر میں دل میں تھا
اپنے دل کے مقام پر اسکے لب محسوس کر وہ مرنے جیسی ہوگئی تھی
آنکھیں سختی سے میچے اسنے بیڈ شیٹ کو مٹھیوں میں جکڑا تھا
تبھی وہ ایک دم اس سے الگ ہو کر اسکے سامنے آیا تھا
پیار کرنا ہو تو ایسے کرتے ہیں وائفی مجھے بچوں والا پیار پسند نہیں ہے۔۔اسکے لبوں کو نرمی سے چھوتے وہ اٹھ کر بیٹھا تھا
زوبیہ نے مشکل سے اپنا تنفس بحال کیا تھا
معیز نے مڑ کر اسکی سرخ رنگت دیکھی تو لب دبا گیا
اسکی حرکت پر زوبیہ نے کھینچ کر کشن اسے مارا تھا اور بھاگ کر کمرے سے غائب ہوئی تھی
اسکی زرا سی قربت نے دل دہلا دیا تھا
اگر وہ حد سے گزر جاتا تو کیا ہوتا۔۔
تیزی سے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھتے اسنے گہرے سانس بھرے تھے
چھچھورا آدمی ساری توجہ کام سے ہٹا دیتا ہے۔۔
کلینزنگ کریم سے مساج کرتی وہ بڑبڑائی تھی
میں کچھ مدد کروں وائفی۔۔ معیز کی پکار پر اسنے دانت کچکچائے تھے
اپنی مدد آپ کرلو وہ زیادہ اچھا ہے مجھ سے تو دس فٹ دور رہو تم۔۔ وہ وہیں سے چلائی تھی باہر اسکا قہقہ بلند ہوا تھا جیسے اسنے یہ بات بہت انجوائے کی ہو۔۔
دیکھ لونگی تمہیں میں لوفر آدمی۔۔
اپنے ہاتھ تیزی سے چلاتی وہ فریش ہوکر روم میں آئی تھی
جہاں وہ بیڈ پر لیٹا اپنا کام کرنے میں مصروف تھا
ڈریسنگ کے سامنے کھڑے اسنے کن اکھیوں سے اسے دیکھا تھا
اسکا لمس یاد کرتے اسکی ہتھیلیاں بھیگی تھیں۔۔
دل کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھیں
آجاؤ میڈم کل اٹھنا بھی ہے جب تک یونہی جاگتی رہو گی۔۔ بک سائیڈ ٹیبل پر رکھتے اسنے زو کو پکارا تھا
اب کوئی راہ فرار تو تھی نہیں جبھی مرے قدموں سے وہ بیڈ پر آکر بیٹھی تھی
معیز نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے اپنے قریب کیا تھا اور اسے اپنے سینے پر گرایا تھا
وہ ایک بوکھلائی تھی
ریلکس جانا کچھ نہیں کرتا میں سوجاؤ۔۔
اسکا ماتھا چومتے معیز نے دونوں کے اوپر بلینکٹ ٹھیک کیا تھا اور اسے سختی سے اپنے حصار میں لئے آنکھیں موندی تھیں
اسکے لمس پر زو نے آسودگی سے آنکھیں موندی تھیں ۔۔
پوری یونیورسٹی اس وقت بہت خوبصورت طریقے سے سجی ہوئی تھی
وہ سب ایک قطار میں سر پر کیپ پہنے کھڑے تھے
ان سب کے ہاتھ میں ڈگریاں تھیں یہ وقت ان سب کے لئے بہت خاص تھا
کیمرہ مین کے تین تک گنے پر ان سب نے ایک ساتھ ٹوپی کو ہوا میں اچھالا تھا
یاہو۔۔۔۔۔۔ پرجوش سے نعرے قہقہے خوشی۔۔
اس وقت اگر کوئی ان سے پوچھتا کہ سب سے بہترین وقت کونسا ہے تو وہ سب بلاجھجک کہتے کہ آج کا دن۔۔
مختلف انداز میں تصویریں بناتے پوری یونی کے ہر ایک کونے کو دیکھتے محسوس کرتے وہ یہاں کی یادیں سمیٹ رہے تھے
کوئی اپنے دوستوں کے گلے لگ کر رو رہا تھا تو کوئی آنے والے سالوں کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ کا وعدہ کر رہے تھے
کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اپنی محبت کو حاصل کرنے کے لئے آج کے دن کا انتخاب کئے بیٹھے تھے
مختلف لوگ مختلف نسل رنگ زبان کے مگر آج ان سب کے جذبات الگ تھے
ان سب کو مسکرا کر دیکھتے اسنے پلر سے ٹیک لگائی تھی
ہم لوگ کبھی کبھی بہت حارش ہوجاتے ہیں ہم لوگوں کو ان کے رنگ نسل زبان سے جج کرتے ہیں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کھاتے ہیں کیا پیتے ہیں انکا اسٹائل کیسا ہے ہم ان کا دل نہیں دیکھتے۔۔ہم ان کے جذبات نہیں سمجھتے
اس نے شیا جیکسن اور جنگجنگ کے ساتھ رہ کر جانا تھا دوستی نبھانا کسے کہتے ہیں
آرمین افریقی تھا مگر کوئی اسکی نسل یا رنگ پر کبھی اسکا مذاق نہیں بناتے تھے وہ سب کا دوست تھا
اور ہمارے یہاں اگر ایک لڑکی ہائی کلاس جگہ پر پردے میں چلی جائے تو وہاں کے لوگ اسے ایکسیپٹ نہیں کرتے ان میں اتنا ظرف ہی نہیں ہوتا
یہاں اسے کبھی کپڑوں کے اوپر تنقید کا نشانہ نہیں بننا پڑا وہ شلوار قمیض بھی پہنتی تھی اسکارف بھی لیتی تھی وہ اپنے طریقے سے رہتی تھی کیونکہ اسے یہ ڈر نہیں تھا کہ کوئی اسکو لے کر بات کرے گا
اگر وہ کسی لڑکے سے بات بھی کرے تو کوئی الزام لگانے والا یہاں نہیں تھا
ایسی تبدیلیاں وہ اپنے وطن میں بھی چاہتی تھی
کہ کسی کو اس کے لباس پر تنقید کا نشانہ نا بنایا جائے اگر وہ پردہ کرتا ہے اگر وہ لڑکوں سے دوستی نہیں کرتا تو اسے مڈل کلاس بیک ورڈ نا سمجھا جائے
کیا سوچ رہی ہو زو۔۔ اپنے کندھے پر معیز کے ہاتھ کا لمس محسوس کرتی وہ سوچوں سے باہر آئی تھی
نہیں کچھ نہیں بس یونہی۔۔ اسنے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا تھا
اوکے پھر آؤ آج آخری بار ہم سب ساتھ اس وقت کو دھرائیں جو ہم نے یہاں گزرا۔۔
اسکا ہاتھ تھامتا وہ گراؤنڈ میں آیا تھا جہاں سب لالٹین لئے یونی کی چھت پر آئے تھے
اور سب نے اپنی خواہشات کی وہ لالٹین آج اس جگہ سے فضا میں آزاد کی تھی
