Baharon Ke Sang By Fari Shah Readelle50314 Baharon Ke Sang (Episode 6 & 7)
Rate this Novel
Baharon Ke Sang (Episode 6 & 7)
Baharon Ke Sang By Fari Shah
وہ پورے کمرے میں اپنا سامان بکھیرے بیٹھی تھی سب سیٹ کرتی پھر بگاڑ دیتی۔
تنگ آکر اپنا سامان وہیں چھوڑ کر وہ کچن میں آئی تھی۔۔
فروٹ کھا کر وہ کمرے میں آئی تو معیز کو بیڈ پر بیٹھے دیکھا جو اس وقت اسکی ڈائری لئے بیٹھا تھا۔۔
معیز میری ڈائری واپس کرو۔۔ وہ وہی کھڑے کھڑے چلائی۔۔
اسکی بوکھلاہٹ دیکھ وہ ڈائری والا ہاتھ پیچھے کرگیا۔۔
تمہیں زرا بھی تمیز نہیں نا کسی کی پرسنل چیزوں میں گھسے ہوئے ہو۔۔ اسکے پاس آکر اسنے ڈائری چھیننے کی کوشش کی تھی مگر وہ دو قدم پیچھے ہوا تھا
معیز۔۔۔۔ میری ڈائری دو۔۔ اسکے پیچھے جاتی وہ پھر چلائی تھی
ارے اتنی بھی کیا جلدی ہے زرا ہم بھی تو دیکھیں کہ ہمارے چڑیل محترم کے کون کون سے راز اس میں موجود ہیں۔۔
اسکی پہنچ سے دور ہوتے اسنے ڈائری کو کھولا تھا
وہ ایسے ملا مجھے جیسے۔۔۔
معیز۔۔۔ وہ چلاتے ہوئے اس پر جھپٹی تھی وہ ایک دم گھوم کر باہر کی طرف بھاگا تھا
معیز کے بچے۔۔۔ چھوڑوں گی نہیں میں تمہیں میری ڈائری واپس کرو تم چلغوزے کی شکل والے چھچھوندر۔۔۔۔
اسکے پکڑ میں نا آنے پر اسنے کشن کھینچ کر اسکی طرف مارا تھا
تم ہاتھ لگو میرے پھر میں تمہیں دیکھاتی ہوں کہ میں کیا ہوں۔۔۔
اسکے پیچھے بھاگتے وہ روم میں آئے تھے۔۔
تم ایک سڑیل چڑیل ہو مجھے پتا ہے۔۔۔
اور اس چڑیل کی جان اس ڈائری میں بند ہے اترا کر کہتے اسنے ڈائری فضا میں لہرائی تھی۔۔
معیز۔۔۔۔ دانت پیستے وہ اسے پکڑنے کے لئے آگے بڑھی تھی مگر اچانک تبھی اسکا پیر کارپیٹ میں الجھا تھا اور وہ لہر کر پیچھے کی جانب گری تھی معیز اسے سنبھالنے کے لئے آگے بڑھا تھا
زوب۔۔ اس نے جلدی سے اسکا ہاتھ تھاما تھا مگر کوئی دائرہ نہیں ہوا تھا۔
اپنے ساتھ وہ اسے بھی لے کر ڈوبی تھی
وہ دونوں ساتھ بیڈ پر گرے تھے دونوں کی آنکھیں بند تھیں اور۔۔۔
معیز کے ہونٹ اسکے ہونٹوں پر تھے یہ سب اتنا اچانک اور غیر متوقع تھا کہ ان دونوں کو ہی کچھ سمجھ نہیں آیا اس نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تھا جو اس وقت اس پر چھایا ہوا تھا۔۔
وہ لمحہ جیسے ٹہر سا گیا تھا دونوں کی دھڑکنیں یک جا ہوگئی تھیں وہ ایک دوسرے کو دیکھنے میں محو تھے اس سحر انگیز ماحول کو ڈور بیل کی آواز نے توڑا تھا وہ دونوں جیسے ہوش میں آئے تھے اور اپنی پوزیشن دیکھ زوبیہ کا دل کیا وہ ڈوب مرے تبھی اس سے الگ ہوتی اسے سائیڈ دھکیل وہ بھاگ کر باتھ روم میں بند ہوئی تھی۔۔
دروازہ بند کرتے اس نے دیوار سے ٹیک لگا کر گہرے گہرے سانس لئے تھے اور خود کو پرسکون کیا تھا
ہولے سے اپنے ہونٹوں کو چھوتے اس نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپایا تھا
اوووو۔۔۔۔۔۔۔ ریلکس ریلکس۔۔ کچھ نہیں ہے ریلکس اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتی اسنے خود کو تسلی تھی
کچھ نہیں ہوا بس ایک ایکسیڈنٹ تھا ریلکس۔۔۔
افففففف یہ کیا ہوا۔۔۔ خود کو تسلی دیتے دیتے وہ جھنجھلائی تھی
کیسے سامنا کرونگی میں اسکا۔۔اففف اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپائے وہ منمنائی تھی۔۔۔
اسکے جانے کے بعد وہ بیڈ پر ڈھے گیا تھا چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی
شہ۔۔۔۔ یہ ایسے نہیں ہونا تھا کروٹ لیتے اسنے تکیے کو دبوچا تھا۔۔
اسکی آنکھوں میں چمک تھی دل مسلسل تیزی کے ساتھ دھڑک رہا تھا
اسے وہ دن یاد آیا جب اسنے پہلی بار اسے دولہن کے روپ میں دیکھا تھا وہ لمحے کو ٹھٹکا تھا
اتنا مکمل حسن۔۔۔ اس نے کئی خوبصورت چہرے دیکھے تھے مگر دولہن بنی وہ اسے بے انتہا پیاری لگی
وہ اسکے پاس جانا چاہتا تھا اس سے بات کرنا چاہتا تھا مگر اس سے پہلے ہی وہ نظروں سے اوجھل ہوئی تھی وہ اسے ڈھونڈتا ہوا آگے بڑھا تھا مگر وہ شاید جاچکی تھی وہ افسوس کرتا سر جھٹک کر آگے بڑھا تھا مگر یہ اتفاق تھا کہ وہ اس سے پھر ٹکرائی تھی
ان کے درمیان جھگڑا بھی ہوا تھا مگر اسے قریب سے دیکھ اسکا دل کیا اسے کہے کہ وہ کسی پری کی طرح دیکھتی ہے
مگر وہ تو شعلہ جوالہ بنی ہوئی تھی ان کی تیزی ملاقات فلائٹ میں ہوئی اسے لگا کہ قدرت کی طرف سے انکا بار بار ملنا۔۔
ان کی نوک جھونک اسے مزہ آیا تھا وہ کوئی دبو لڑکی نہیں ہے اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ ایک لڑکی کو لے کر اتنا پاگل ہوگا۔۔
قسمت میں ان کا ملنا لکھا تھا اور وہ مل کر رہے تھے اور آج وہ اسکی بیوی تھی وہ تو سرے سے کانٹریٹ مانتا ہی نہیں تھا جبھی تو اسکے نکاح کو ترجیح دی تھی
اور آج اس حسین حادثے نے اسکے سوئے ہوئے جذبات کو جگا دیا تھا۔۔
دونوں ہاتھوں سے سر کے بال سنوارتا وہ اٹھ کر بیٹھا تھا اور اسکی ڈائری دیکھ کر مسکرایا۔۔
بہت کام کی نکلی یار تم تو۔۔ اس ڈائری کو چومتا وہ ہنسا تھا۔۔
ابھی آگے بھی اسکے دل میں میرے لئے ایسے ہی فیلنگز آجائیں بس۔۔
ڈائری کو اچھے سے چھپاتا وہ اسکا سامان سمیٹنے لگا
جب وہ کمرے میں آئی تو اسے اپنا سامان رکھتے دیکھ اس نے اسے گھورا جو صبح سے تیرا میرا کر رہا تھا اور اب اسکا کام کر رہا ہے
یہ میرا کام ہے میں خود کرلوں گی۔۔
نظریں چراتے اس نے معیز کے ہاتھ سے اپنا سامان لیا تھا
اٹس اوکے جب یہ گھر ہمارا ہے تو یہ کام بھی ہمارا ہی ہوا نا۔۔ کہتے ساتھ معیز نے اسکے ہاتھ سے سامان واپس لیا تھا
اسکا نارمل بیہیو دیکھ اسنے بھی سکھ کا سانس لیا تھا
کل سے یونی جانا ہے تو صبح جلدی اٹھ جانا کیونکہ پھر میری ٹائمنگ شروع ہوجائے گی۔
اسے کہتے وہ اپنی بکس اٹھائے باہر کی جانب بڑھی تھی۔۔۔
معیز یہ میری ٹائمنگ ہے باہر نکلو۔۔۔ وہ کب سے باتھ روم میں گھسا ہوا تھا اور نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا
اس نے زور زور سے دروازہ پیٹا تھا
تم باہر آجاؤ ورنہ میں تمہیں یہی لاک کرکے چلی جاؤنگی۔۔
کیا مصیبت ہے اب بندہ سکون سے شاور بھی نہیں لے سکتا کیا۔۔۔ وہ اندر سے چلایا تھا
میں نے تمہیں کیا کہا تھا صبح پہلی باری تمہاری ہے مگر تمہیں تو عادت ہے نا مجھ سے پنگا لینے کی۔۔ نکلو باہر۔۔۔
دروازے کو ٹھوکر مارتے اسنے اپنا غصہ کنٹرول کرنا چاہا تھا مگر دروازہ خود کے ہی پاؤں کا زخمی کرگیا تھا
اففف۔۔۔۔۔
ارے یار آگیا نا بس۔۔ ٹاول سے سر پونچھتے وہ باہر آیا تھا زوب نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا تھا
تمہیں تو میں دیکھتی ہوں بعد میں۔۔ اسے دھمکاتی وہ واشروم میں بند ہوئی تھی
وہ فریش ہوکر باہر آئی تو وہ نک سک سے تیار ٹیبل پر بیٹھا تھا
آجاؤ پہلے بریک فاسٹ کرلو۔
ہمم بیگ میں بکس رکھتی وہ ٹیبل پر آئی تھی اور ایک بائٹ انڈے کا لے دودھ کا گلاس لبوں سے لگایا تھا
سکون سے ناشتہ کرو میں نیچے ویٹ کر رہا ہوں۔۔ ٹشو سے منہ صاف کرتا وہ اپنا بیگ اٹھا کر باہر نکل گیا۔۔۔
جلدی جلدی اپنا ناشتہ ختم کرتے وہ گھر لاک کرکے نیچے آئی تھی
سامنے ہی وہ بائی سائیکل پر بیٹھا اسکا ویٹ کر رہا تھا ساتھ میں ایک اور سائیکل بھی موجود تھی
یہ دیکھو۔۔ فری رائیڈ۔۔ سائیکل کا ہینڈل گھماتے اس نے زوبیہ کے گرد چکر کاٹا تھا
فری کی؟؟ کہاں سے چرائی ہے سچ بتاؤ۔۔
اس نے مشکوک نظروں سے معیز کو دیکھا تھا
جس پر وہ افسوس سے سر ہلا گیا
اب اتنا بھی کوئی گیا گزرا نہیں ہوں
یہاں سائیکل موجود ہوتی ہیں جو لوگ افورڈ نہیں کر سکتے ان کے لئے اینڈ یہ میں کرایے پر لایا ہوں اسکا کرایہ بس کی نسبت بہت کم ہے۔۔
اووو ٹھیک مگر یہ میرے کسی کام کی نہیں۔۔
معیز کے دوسری سائیکل اسکی طرف بڑھانے پر اس نے ہاتھ چھاڑے تھے
کیوں؟؟
کیونکہ مجھے سائیکل نہیں چلانی آتی۔۔
ارے تو اس میں کیا مشکل ہے یار ہوں سیکھ جاؤ گی۔۔
تم جاؤ اس پر میں بس سے آجاتی ہوں۔
کم آن یار آجاؤ یہاں۔۔ معیز نے سائیکل کے آگے جگہ کی طرف اشارہ کیا
نہیں تھینکس۔۔ اسے بائے کرتی وہ آگے بڑھ کر گئی جس پر وہ آنکھیں گھما کر رہ گیا۔۔
وہ روڈ پر آئی تو اسے حیرت کا شدید قسم کا جھٹکا لگا تھا کیونکہ بس نکل چکی تھی
شٹ۔۔۔ یہ سب معیز کی وجہ سے ہوا ہے نا ہو باتوں میں لگاتا نا میں لیٹ ہوتی۔۔۔
لفٹ چاہیے میڈم۔۔ ابھی تو کچھ سوچتی اس سے پہلے ہی وہ بوتل کے جن کی طرح نمودار ہوا تھا
مجھے نہیں بیٹھنا اس پر۔۔ اس نے چڑ کر گھڑی دیکھی تھی
آپ بہت لیٹ ہونے والی ہیں آج میں تو چلا۔۔ اس کے نا کرنے پر وہ مزے سے آگے بڑھا تھا تبھی وہ پیچھے سے اسے پکارا اٹھی
معیز۔۔۔ تم کیسے مجھے چھوڑ کر جارہے ہو شرم کرو بیوی ہوں تمہاری۔۔ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ اسکے منہ سے یہ کیسے نکلا مگر جو بھی تھا اب تو نکل چکا تھا
آجاؤ پھر۔۔۔ واپس آتے اسنے آگے کی طرف اشارہ کیا
ہونہہ۔۔ منہ بناتے وہ پیچھے کی طرف بیٹھی جس پر وہ گہرا مسکرایا تھا
تبھی ایک جھٹکے سے اسنے سائیکل چلائی تھی
آرام سے۔۔ جھٹکا لگنے پر اسنے ٹائٹ سے معیز کو پکڑا تھا اور وہ اپنی اس حرکت مسکراتا گنگناتا آگے بڑھتا چلا گیا
