542.8K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Baharon Ke Sang (Episode 2)

Baharon Ke Sang By Fari Shah

میرا کارڈ۔۔۔ اسنے ادھر ادھر اپنی جیب میں ہاتھ مارا تھا مگر کارڑ ہوتا تو ملتا نا

مجھے کارڈ واپس کرو میرا۔۔

اہان ایسے کیسے مجھے تو اللّٰہ کی زمین سے ملا ہے۔۔ سینے پر ہاتھ باندھتے وہ ہنس کر بولی تھی اس سڑے کریلے کے چہرے پر ہوائیاں دیکھ الگ ہی مزہ آیا تھا

دیکھو میں ہیلپ کررہا ہوں نا تمہاری۔۔

اچھا واقعی مگر ابھی تو کوئی منع کر رہا تھا

کون منع کر رہا تھا تم نے غلط سنا ہے۔ ۔

اچھا پھر ٹھیک ہے۔۔ مگر جب تک ہم منزل پر نہیں پہنچ جاتے یہ میرے پاس رہے گا۔۔

اچھا۔۔۔ دانت پیس کر اسنے اپنا غصہ ضبط کیا تھا یہاں تو وہ حال تھا کہ چوری اوپر سے سینہ زوری۔۔

چلو اب کیب کرو۔۔ اسے آرڑر دیتے اسنے اپنے بند موبائل کو دیکھا تھا

اور بیگ میں دیکھا تھا جہاں اسکا کارڑ موجود تھا

وہ فلحال اپنا کارڑ نہیں استعمال کرسکتی تھی اور کیش ایسے استعمال کرکے وہ ختم کرنا نہیں چاہتی تھی عجیب پاگل سوچ تھی مگر یہ بھی سچ تھا کہ اسکے بابا کی اتنی پہنچ تو تھی کہ یہاں اسکا کارڈ ایکٹو ہوتا وہیں اسکے بابا کو پتا چل جاتا وہ کہا ہے چاچی کا دیا ہوا کارڈ اسے بینک جاکر ایکٹو کروانا پڑتا۔۔

اب جب موقع خود چل کر اسکے پاس آیا تھا تو وہ کیوں فایدہ نہیں اٹھاتی۔۔ اپنی سوچوں میں مگن وہ چلتی جارہی تھی کہ اچانک معیز نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا تھا وہ لہراتی اسکے بازوؤں میں سمائی تھی۔۔۔

اہہ۔۔۔ خوف سے اسکی چیخ نکل گئی تھی اسنے مضبوطی سے اسے تھاما تھا

دھیان کہا ہے تمہارا تمہارے چاچا کا روڈ نہیں ہے یہ۔۔

وہ جو اسکے حصار میں قید اپنی دھڑکنوں پر قابو پارہی تھی اسکی ڈانٹ پر چٹخ کر اس سے دور ہوئی تھی۔۔

اور کوئی رشتہ دار رہ گیا ہے میرا تو اسے بھی کچھ بول دو۔۔

مجھے ضرورت نہیں ہے اب یہ بتاؤ جانا کہا ہے؟؟

کیا مطلب؟؟ اس نے ناسمجھی سے معیز کو دیکھا تھا

کیا مطلب سے مراد ؟؟ جب اس جگہ آئی ہو تو کہی تو جانا ہوگا نا؟؟

اووو شٹ۔۔۔

اب کیا مصیبت ہوگئی ہے؟؟ اسے سر پکڑے دیکھ وہ دانت پیس کر بولا تھا

ٹائم بتاؤ جلدی سے۔۔

نو بج رہے ہیں کیوں؟؟

شٹ شٹ ڈورمیڑی بند ہو جائے گی دس بجے مجھے جلدی وہاں پہنچنا ہوگا

تم یہاں پڑھنے آئی ہو؟؟

ہاں تو کیب آچکی تھی وہ دونوں جلدی سے اس میں بیٹھے تھے۔۔

تو دولہن کے لباس میں کون پڑھنے آتا ہے یہاں؟ وہ اس پر جتا کر بولا تھا کہ وہ اسے دیکھ چکا ہے۔۔

اس کی بات پر اسنے دانتوں تلے لب دبایا تھا

ہاں تو تم بھی تو شیروانی پہن کر روڈ پر کھڑے تھے میں نے کچھ پوچھا؟؟ وہ کہاں کم تھی فوراً بدلہ چکایا تھا

ہونہہ۔۔۔ وہ منہ بنا کر رخ موڑ گیا تھا

گاڑی رخ موڑ کر ڈورم کے پاس رکی تھی۔۔

اپنا سامان گاڑی سے نکال کر کھڑی کر جھکی تھی اور کارڑ اسکی طرف بڑھایا تھا

امید ہے اب ہم دوبارہ نہیں ملیں گے۔۔

اسے کہہ کر وہ اندر کی طرف بڑھی تھی جب کہ اسنے سر جھٹک کر ڈرائیور کو چلنے کا کہا تھا۔۔۔۔

آفس سے اپنے روم کی ڈیٹیل اور کی لے کر وہ اپنے روم تک آئی تھی پورا ڈورم سنسنان پڑا تھا اسے حیرت ہوئی تھی شنگھائی جیسے شہر جہاں رونق پر اتنی رونق تھی یہاں اتنا سناٹا کیوں۔۔

لیکن پھر اسے یاد آیا کہ یہ کوئی عام ہاسٹل نہیں بلکہ یونیورسٹی کا ہاسٹل ہے۔۔

اپنے روم کا ڈور کھول کر وہ اندر آئی تھی

بے حد حسین اور صاف ستھرا کمرہ۔۔

دونوں طرف دیوراوں سے ڈبل بیڈ اٹیچ تھے ایک اوپر ایک نیچے اور بیچ میں ڈیسک تھی جہاں اسکی روم میٹس کے سامان موجود تھے اپنی کبڈ میں سامان سیٹ کرتے اس نے شاور لیا تھا

خود کو ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں اس نے کافی حد تک ریلکس محسوس کیا تھا۔۔

بھوک تو اسے لگ نہیں رہی تھی کیونکہ پلین میں ہی وہ اچھا خاصا کھا چکی تھی جبھی فوراً سے اپنے بیڈ پر آکر لیٹ گئی تھی

طویل سفر کے باوجود نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی

دل میں کہیں گلٹ بھی تھا اپنوں کو چھوڑ کر آنے کا مگر اسکے پاس آپشن بھی تو نہیں بچا تھا۔۔

اسنے آنکھیں بند کر کے گزرے لمحوں کو سوچا تھا جو اسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر گئے تھے۔۔

واجد حسن۔۔۔ شہر کے جانے مانے شخص تھے انکا اپنا قالین کا بڑے پیمانے پر کاروبار تھا اور سیاست سے منسلک ہوگئے تھے تو ان کے ٹھاٹھ باٹ ہی بدل گئے تھے ان سے چھوٹے دو بھائی واحد اور ساجد۔۔۔

ان کے دائیں اور بائیں بازو تھے۔ گھر میں شروع سے روایتی سا ماحول ملا تھا اسے لڑکیوں پر پابندیاں، ان کے یہاں لڑکیوں کو زیادہ پڑھانا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا یہ اس کے پڑھے لکھے باپ کی سوچ تھی اور گھر میں کسی کی ہمت نہیں تھی اس بات سے اختلاف کرنے کے سوائے اس کے۔۔۔

زوبیہ واجد۔۔ واجد صاحب کی پانچویں اولاد تھی خدا نے انہیں چار بیٹوں سے نوازہ تھا اور ایک اولاد نرینہ۔۔

حاضر جواب ذہین۔۔ اسکی جان جلتی تھی اس ماحول کو دیکھ دیکھ کر چھوٹی عمروں میں بہنوں کی شادی اور انہیں جس حال میں وہ دیکھتی تھی اسکا دل جلتا تھا وہ یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ جلدی شادی غلط ہے مگر شادی کرتے وقت کچھ سوچا سمجھا بھی تو جاتا ہے نا یا ایسے ہی اپنے مفاد کے لئے بیٹیاں قربان کردی جاتی ہیں؟

اسکے جنون کی حد تک شوق تھا پڑھنے کا آگے بڑھنے کا اوپر سے کورین اور چائنیز ڈراموں میں خود مختار ہیروئن دیکھ اسکا دل کہیں وہی اٹک گیا تھا۔۔

بڑی مشکلوں سے اسنے ایف سے کیا تھا اور وہ بھی سب سے ہائیر مارکس سے۔۔

آگے پڑھنا اسکی خواہش تھی مگر اس بار اسے سختی سے روک دیا گیا تھا

اسکی اس گھر میں واحد اپنی چاچی سکینہ سے ہی بنتی تھی دونوں کی عمروں میں ضرور فرق تھا مگر سوچ میں نہیں۔۔

گھر میں اسکی شادی کی باتیں چلنے لگی تھیں اسکا رشتہ واجد صاحب نے اپنے دوست کے بیٹے سے طے کیا تھا ایک نمبر کا کھڑوس اور گوار جو اسے ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا اسی وجہ سے تنگ آکر اسنے گھروالوں سے بغاوت کا فیصلہ کیا تھا اور چپکے چپکے مختلف یونیورسٹیز کا فارم فل کیا تھا اور بالآخر شنگھائی یونیورسٹی سے اسے کال آئی مگر اب مسئلہ ویزہ کا تھا۔۔

ایسے میں اسکی چاچی اور دوست نے اسکی مدد کی تھی۔

شادی سے دس دن پہلے اسکا ویزہ آیا تھا اسے جلد از جلد وہاں پہنچنا تھا کیونکہ نیو سیشںن اسٹارٹ تھا

اسے فلائٹ بھی اپنی شادی والے دن کی ملی تھی

وہ سب کی مرضی سے جانا چاہتی تھی اس لئے ہمت کر کے اپنے بابا سے اجازت مانگی تھی اور نتیجتاً اسکا گھر سے باہر نکلنا بند کردیا گیا۔۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بھاگ آئی تھی اسے خود پر ہنسی آئی کہ لوگ تو محبت کے لئے بھاگتے ہیں اور وہ پڑھائی کے لئے بھاگی تھی۔۔۔

اپنے گھر چھوڑ کر وہ اب اس انجان شہر میں موجود تھی اپنے خوابوں کی خاطر۔۔

دوسری طرف وہ اس وقت ہوٹل کی بالکونی میں کھڑا تھا ماتھے پر بکھرے سیاہ بال رف سی بلیک شرٹ اور ٹراؤزر۔۔

ہاتھ میں بھاپ اڑاتا گرم کافی کا مگ تھا

شنگھائی شہر پورا روشن تھا یہاں سے دور کھڑی بحری جہاز نمایاں تھا روشن رات۔۔۔

اس نے گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا تھا

اس دنیا میں ہر انسان کی کوئی نا کوئی کہانی ہوتی ہے اسکی بھی تھی اسے لگتا تھا اسکی زندگی بہت آسان ہے اچھی فیملی گھر آسائش۔۔۔

مگر سب چیزیں ویسی کہاں رہتی ہیں جیسے پہلے تھیں اچانک ماں باپ کا ایکسیڈنٹ میں انتقال بھائی بہن کوئی تھا ہی نہیں وہ انٹر میں تھا جب اسکے ماں باپ اس دنیا سے گئے تھے۔۔

اس ٹائم کچھ سمجھ نہیں تھی اتنی اسکے بابا کا کاروبار ان کے دوست نے ٹیک اوور کیا تھا وہ اسے پڑھا رہے تھے ہر طرح سے اسکا خیال رکھ رہے تھے مگر وہ جب بھی آفس جوائن کرنے کی بات کرتا وہ بھڑک جاتے۔۔

اتنی ساری جائیداد کا مالک ہونے کے باوجود بھی وہ خودمختار نہیں تھا وصیت کے مطابق اسے یہ جائیداد تب ملتی جب اسکی شادی ہوجاتی۔۔

وصیت کا پتا لگتے ہی خرم صاحب نے اسکی شادی اپنی بیٹی سے طے کردی وہ شائستہ جو پڑھنے کی چور تھی مگر جھوٹ مکاری میں اسے کمال حاصل تھا۔

اسے سخت چڑ تھی اس سے ایک تو اس کی جائداد پر قبضہ دوسرا یہ شادی۔۔ اسے شک تھا اسکے ماں باپ کی موت کے پیچھے بھی یقیناً کوئی کہانی تھی وہ کیس کرنا چاہتا تھا لڑنا چاہتا تھا مگر یہاں آکر وہ رک جاتا تھا

کیونکہ کچھ جانتا بھی نہیں تھا اور دوسرا یہ سب کرنے کے لئے بھی پیسہ چاہیے جو اس کے پاس اتنا نہیں تھا اس لئے وہ یہاں آیا تھا پاکستان میں رہ کر وہ کبھی بھی آگے بڑھ نہیں سکتا تھا

گھر کے گارڈ کی مدد سے وہ بھاگا تھا جتنے پیسے اسکے پاس تھے اس سب کو ایک الگ اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیا تھا اور یہاں آگیا تھا کیونکہ یہاں آنا اسے آسان لگا تھا۔۔ اسنے بزنس ڈپارٹمنٹ میں ایڈمیشن لیا تھا

وہ کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر یہاں آگیا تھا مگر اب یہاں رہنا گزارا کرنا اسکے لئے مشکل ثابت ہونے والا تھا ۔۔۔

اسے آگے کا سوچنا تھا اسے سب سے پہلے اپنے رہنے کا بندوبست کرنا تھا

یہ کام اور سوچیں کل پر چھوڑ کر وہ اندر اکر بستر پر گرا تھا۔۔۔