Baharon Ke Sang By Fari Shah Readelle50314 Baharon Ke Sang (Episode 8)
Rate this Novel
Baharon Ke Sang (Episode 8)
Baharon Ke Sang By Fari Shah
میں نے بولا تھا آپ کو اسکی لگامیں کس کر رکھیں مگر نہیں دیکھیں بھاگ گیا نا اور جاتے جاتے میری بیٹی کی زندگی برباد کرگیا۔۔ رقیہ بیگم نے اپنے شوہر کو سنایا جو سر پکڑے بیٹھے تھے
ان کے لالچ نے آج ان کی بیٹی کو رسوا کردیا تھا
مجھے کیا پتا تھا وہ یوں عین شادی کے وقت بھاگ جائے گا اگر پتا ہوتا تو دس پہرے لگا دیتا اس پر۔۔
اتنی مشکل سے تو یہ سب حاصل کیا تھا۔۔
مجھے تو آپ پر غصہ آرہا ہے اتنے عرصے سے ایک ناگ کو پالتے رہے کیسے ڈس کر بھاگا ہے اب کون کرے گا میری بیٹی سے شادی۔۔
تمہیں شادی کی پڑی ہے یہاں مجھے یہ ٹینشن ہورہی ہے اگر وہ اپنی مرضی سے شادی کرکے آگیا تو ہم کیا کریں گے اگر وہ یہاں سے بھاگا ہے تو ضرور اسے ہماری حقیقت بتا چل گئی ہوگی۔۔
اللّٰہ نا کرے ایسا ہو اگر ایسا ہوا تو ہم تو کہیں کے نہیں رہیں گے۔۔
یہی تو سارا مسئلہ ہے بس دعا کرو وہ اب کبھی واپس نہیں آئے کچھ ٹائم لگے گا لوگ سب بھول جائیں گے تو ہم خود اپنی بیٹی کی شادی اچھی جگہ کردینگے۔۔
ہمم۔۔ رقیہ بیگم راضی ہوگئی تھیں وقت گزر رہا تھا اور معیز واپس نہیں آیا تھا جو دل میں خوف تھا کہ وہ واپس آکر سب کچھ ان سے واپس لے لے گا وہ بھی کہیں دور جا سویا تھا مگر انہیں کیا پتا تھا وہ ایک ہی بار آئے گا مگر ابھی ان کا وقت تھا مگر جلد یہ وقت ختم ہونے والا تھا۔۔۔
دوسرا سمسٹر شروع ہوئے بھی کافی وقت ہوگیا تھا وہ لوگ جین اور زی آنٹی کے ساتھ جانا چاہتے تھے مگر زوب کی طبعیت کی وجہ سے اسنے معذرت کرلی تھی اور نیکسٹ ٹائم کا پرامس بھی کیا تھا
روٹین پھر سے اسٹارٹ ہوگئی تھی وہ دونوں اکثر ہی گھر لیٹ آتے تھے اور آتے ہی اپنے اسائمنٹ گھر کے کام۔۔۔
ایسے میں یونی کی طرف سے ٹریپ ارینج کیا گیا تھا اور کیمپنگ کے لئے سی سائیڈ کا پروگرام بنا تھا
میں تو لازمی جاؤنگی تھک گئی ہوں اس روٹین سے۔۔شو ریک میں شوز رکھتے اسنے معیز کو اطلاع دی تھی
اچھا۔۔ اپنا کورٹ ہینگ کرتے اسنے اچھا کہنے پر اکتفا کیا تھا
کیا اچھا؟؟؟ تم بھی ساتھ چل رہے ہو آئی سمجھ۔۔۔ اسے انگلی دیکھاتے اسنے وارن کرنا ضروری سمجھا تھا
اچھا نا بابا دیکھتے ہیں۔۔ معیز نے صاف اسے ٹالا تھا
دیکھتے ویکھتے نہیں ہیں پرسوں جانا ہے تو کل یونی سے شاپنگ پر چلے گیں۔۔
اچھا میری بیوی چلیں گے اب کچھ کھلا دو یار بھوک لگ رہی۔۔ وہ بچارگی سے منہ بنا کر بولا تھا جس پر وہ قہقہ لگا کر ہنسی تھی
اچھا بھئی کھلاتی میں مظلوم کو کچھ۔۔
ہاں اور کچھ اچھا بنانا۔۔ صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھتے اسنے ہانک لگائی تھی
اسکیوز می۔۔۔ کہنا کیا چاہتے ہیں آپ؟؟؟ اس کی بات پر وہ واپس پلٹی تھی اور دونوں ہاتھوں کو کمر پر ٹکائے لڑاکا عورتوں کی طرح اسنے ہاتھ نچایا تھا
میں نے کہا ڈھنگ کا کچھ بنانا۔۔
اوو مطلب میں اچھا کھانا نہیں بناتی؟! آئی برو آچکا کر اس نے معیز کو گھورا تھا
اسنے معصومیت سے سر ہاں میں ہلایا تھا اور اسے بچنے کے لئے چھلانگ لگا کر صوفے کے پیچھے غائب ہوا تھا
ادھر آؤ میں کھلاتی تمہیں کچھ اچھا۔۔۔
وہ غصہ ہوتی اسکے پیچھے بھاگی تھی ادھر رکو زرا ایک تو میرا سارا کھانا کھاتے ہوں اور بول رہے اچھا نہیں بناتی۔۔۔ ٹھروں زرا آج میں بتاتی تمہیں۔۔
اچھا اچھا معافی نا میں تو مذاق کر رہا تھا نا اسکی اسپیڈ دیکھ وہ اس سے پنگا لے کر پچھتایا تھا
جب کر اسکے چہرے کے زاویہ دیکھ وہ قہقہ لگاتی اس پر حملہ کر چکی تھی پورے گھر میں ان کے قہقہے گونج رہے تھے اور دونوں ایک دوسرے کے آگے پیچھے گھوم رہے تھے۔۔
یار ٹھنڈ دیکھو زرا۔۔ سردی سے کانپتا وہ اسکی تیاری دیکھ رہا تھا جو کیمپ کے لئے سب سے زیادہ ایکسائیڈڈ تھی
اگر تم نے اس سڑے ہوئے منہ سے کوئی فضول گوئی کی نا میں نے کچا چبا ڈالنا ہے تمہیں۔۔۔
ارے بھئی میں نے کیا کہا میں تو سردی دیکھا رہا ہوں نا۔۔ آج محترم کی معصومیت عروج پر تھی
میں نے دیکھی ہوئی ہے اب بس آنے والی ہے اس لئے شرافت کا مظاہرہ کرو اور اٹھو فوراً ورنہ ۔۔۔
اچھا نا دھمکی کیوں دے رہی ہو اٹھ رہا ہوں نا میں۔۔
سڑے سڑے منہ بناتے وہ تیار ہوا تھا اور پھر چند گھنٹوں کے سفر کے بعد وہ شام کے قریب مخصوص جگہ پر پہنچے تھے
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں اور ٹھنڈا ٹھار پانی وہ تو دیوانی تھی ایسی جگہوں کی۔۔
تبھی معیز کا ہاتھ تھام پانی کی طرف بڑھی تھی
شیا جیکسن۔۔۔ کم آن یار دور بیٹھے شیا اور جیکسن کو بھی اسنے بلایا تھا جو اسکے بلانے پر اسکے ساتھ شامل ہوئے تھے سب نے الگ الگ کیمپ بنائے تھے
بورن فائر کے گرد بیٹھ کر پاسنگ دا پارسل کھیلنا ٹرتھ ڈئیر۔۔
اففف کتنا مزہ آرہا ہے نا۔۔ معیز کے کان میں بولتی اسنے چکن کا بائٹ لیا تھا
ہاں بہت۔ سردی سے بجتے دانتوں کی نمائش کرتا وہ جل کر بولا تھا جس پر وہاں سب نے قہقہ لگایا تھا
ہے زوب کم آن۔۔ جینگ کے بلانے پر وہ اٹھ کر ان کے پاس آئی تھی کیونکہ اس نے انہیں کہا تھا کہ وہ انہیں کچھ پاکستانی اسٹائل کھلائے گی اور اب وہ باربی کیو ریڈی کر رہی تھی
ان دونوں کی وجہ سے ان لوگوں نے جوس اور سوڈا رکھا تھا۔۔
سارا سامان ریڈی کرکے وہ بورن فائر کے گرد بیٹھے تھے
ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا اس رات کے گاؤں خیز ماحول میں یوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہنا کتنا انوکھا احساس تھا۔۔
چلو چلو ڈانس ڈانس۔۔۔۔ ابینگ کے کہنے پر وہ سب ایک ساتھ کھڑے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما تھا
مجھے نہیں آتا یہ ڈانس وانس۔۔ معیز نے فوراً سے ہاتھ کھڑے کئے تھے
مجھے آتا ہے میں سیکھاتی ہوں نا۔۔ زوب نے مسکرا کر اسکا ہاتھ تھاما تھا
ایک پاؤں پیچھے ایک پاؤں اگے۔۔ اسٹیپ کرتے اسنے معیز کو بتایا تھا
بس اتنا ایزی؟؟؟
یس بہت ایزی۔ اسنے دانتوں کی نمائش کی تھی
ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بورن فائر کے گرد رقص کرتے وہ کسی فیری ٹیل کا حصہ لگ رہے تھے ہاتھوں میں ہاتھ تھامے کبھی نا جدا ہونے کی دعائیں مانگتے۔۔۔
ان کی آنکھوں میں خوشیوں کی چمک تھی
صبح سورج کی روشنی اسکے چہرے پر پڑی تو وہ کسمسا کر اٹھی تھی اسکے ٹینک سے روشنی ڈائریکٹ اسکی آنکھ پر پڑی تھی اس نے مندی آنکھوں سے چھت کو گھورا تھا جہاں سے زپ تھوڑی سی کھلی تھی۔۔
بھرپور انگڑائی لیتی وہ بال سمیٹتی باہر آئی تھی باہر سوائے پانی کے شور کے کوئی دوسری آواز نہیں تھی
سب گہری نیند میں گم تھے دور تک گہرا سمندر اسکا دل للچا رہا تھا
وہ آہستہ آہستہ چلتی پانی میں آئی تھی
اففف اتنا ٹھنڈا۔۔ پاؤں پر پانی پڑتے ہی وہ خوشی سے چلائی تھی۔۔
اوئے زو۔۔۔ کیا کر رہی ہوں پانی کی رفتار تیز ہے واپس آو۔۔
وہ جو مزے سے پانی سے کھیلنے میں مصروف تھی شیا کی آواز پر پلٹی تھی
آتی ہوں یار اتنا مزہ آرہا تھا ویسے۔۔ منہ بناتے اسنے آگے بڑھنا چاہا تھا مگر تبھی اچانک پیچھے سے آتی تیز لہر سے اسکا توازن بگڑا تھا
وہ لڑکھڑاتی پانی میں گری تھی اور لمحوں میں پانی کے اندر غائب ہوئی تھی
زو۔۔۔۔۔۔ سب کچھ اتنا اچانک ہوا تھا کہ انہیں کچھ بھی سوچنے کا وقت ہی نہیں ملا تھا
شی۔۔۔۔۔۔ بچاؤ۔۔۔ وہ پانی میں ہاتھ پیر مارتی چلا رہی تھی کئی بار اس نے اٹھنے کی کوشش کی تھی مگر پانی کا بہاؤ بہت تیز تھا
معیز۔۔۔۔۔ معیز۔۔۔۔۔۔۔ بچاؤ۔۔۔۔۔ اسکی ناک میں منہ میں پانی گھس رہا تھا آنکھیں بند ہونے کو تھی
معیز بچاؤ مجھے۔۔۔ ہاتھ پیر مارتے ہوئے ڈوبنے لگے تھی
زو۔۔۔۔۔۔۔ زوووبب۔۔۔
معیز۔۔۔ بند ہوتی آنکھوں سے اسنے معیز کی آواز سنی تھی
نہیں وہ کیوں آئے گا اسے کیسے پتا میں یہاں ہوں
زوب۔۔ ہاتھ پیر چلاؤ۔۔
ایک بار پھر اسکی پکار پر وہ ہوش میں آئی تھی اور اپنی پوری طاقت سے چلائی تھی
معیز۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکی آنکھیں بند ہورہی تھیں اسکا جسم ساتھ چھوڑ رہا تھا
اسے لگا آج کے بعد وہ کبھی اسے نہیں دیکھ پائے گی اسکا خواب اسکی محبت سب ادھوری رہ جائے گی
وہ پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہنے لگی تھی تبھی اسکی کمر کے گرد کسی نے بازو حائل کئے تھے
اور اسے مضبوطی سے تھامتا تیزی سے باہر کی طرف آیا تھا
سب ان کے اردگرد جمع تھے
وہ گہری نیند میں تھا جب شیا کی چیخ نے اسے بیدار کیا تھا وہ تیزی سے باہر آیا تھا اور اسے ڈوبتا دیکھ اسے لگا زمین اسکے پیروں سے نکل گئی ہو
معیز۔۔ اسے بچاؤ۔۔ شیا نے اسکا بازو ہلایا تھا
معیز۔۔۔ زوبیہ کی پکار پر وہ تیزی سے بھاگتا پانی میں گم ہوا تھا
اسے بانہوں میں لئے وہ باہر آیا تھا اور زمین پر لٹایا تھا جینگ نے جلدی سے اسے ٹاول دیا تھا مگر وہ تو جیسے پاگل ہوا تھا
زو۔۔۔ آنکھیں کھولو زو۔۔ اسکے پیٹ پر دباؤ ڈالتے اسنے پانی نکالنے کی کوشش کی تھی مگر دوسری طرف وہ ہوش و ہواس سے بیگانہ پڑی تھی
معیز اسے سی آر پی دو۔۔۔ جیکسن کے کہنے پر اسنے ایک نظر اس بےہوش وجود کو دیکھا تھا
زو۔۔۔ اسکے ہونٹوں کھولتا وہ اسکے ہونٹوں پر جھکا تھا تاکہ اسے مصنوعی سانس دے سکے ایک بار دو بار تین بار۔۔۔
چوتھی بار پھر سے کرنے پر وہ ایک دم ہوش میں آتے بری طرح کھانسی تھی
زو۔۔ اسنے جلدی سے اسے سہارا دے کر بیٹھایا تھا اور اسکی پیٹھ سہلانی تھی
طبعیت بہتر ہونے پر اسنے آنکھیں کھول کر معیز کو دیکھا تھا جو پریشانی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
معیز۔۔ وہ روتے ہوئے اسکے سینے سے لگی تھی
اٹس اوکے کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے
میں مرنے والی تھی مجھے۔۔ ہچکیوں سے روتے وہ مزید اس سے چپکی تھی
اٹس ہوکے نا جان کچھ نہیں ہوا ریلکس۔۔۔ اسکو خود میں بھینچے وہ اسے بہلا رہا تھا مگر سچ تو یہ تھا ڈر تو وہ بھی گیا تھا اسے کھونے کا ڈر اتنا تھا کہ اسے لگا اگر اسے کچھ ہوا تو وہ پاگل ہو جائے گا۔۔
اہمم اہمم۔۔۔ ان سب کے ہنکارنے پر وہ دونوں ہوش میں آئے تھے
اٹھو آجاؤ اندر چلیں اسے سہارا دے کر اٹھاتے وہ ٹینٹ میں آئے تھے
ایک کام کرتے ہیں ہم اب چلتے ہیں شیا کے کہنے پر سب نے اتفاق کیا تھا
نہیں میں ٹھیک ہوں پلیز تم لوگ اپنا پلان خراب نہیں کرو۔۔
آئی سوئیر میں ٹھیک ہوں نا۔۔ معیز کے گھورنے پر وہ منمنائی تھی
میں یہاں ہوں گائز کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔معیز نے بھی تقلید کی تھی
ان دونوں کی ضد پر وہ لوگ رکے تھے پھر شام کو انہوں نے گھر واپسی کی تھی
معیز کی بانہوں کے حصار میں اسکے کندھے پر سر رکھے اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اب اس سے مزید اپنی فیلنگز نہیں چھپائے گی آج کے واقعے نے اسے ہولا کر رکھ دیا تھا
