No Download Link
Rate this Novel
Episode Last
وہ ماریہ کو سلانے کی کوششوں میں تھی جب اس کے کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی
“آ جاؤ… ” اس کے کہتے ہی سعد اندر آیا تھا
“یہ انار دانہ سویا نہیں ابھی تک ؟؟؟” اس نے جھک کر ماریہ کے گالوں کو چوما تھا, مرحہ روحاء کے دوسری جانب بے خبر سو رہی تھی
“کل ہمیں ADLG آفس جانا ہے, آخری مصالحتی پیشی ہے, انشاءاللہ یہ معاملہ بھی ایک طرف لگ جاۓ گا کل… ” سعد اس کے پاس ہی بیٹھ گیا, روحاء بالکل خاموش تھی
“پھر اگر خود سامان واپس کر دے گا تو ٹھیک… ورنہ کیس دائر کر دیں گے…” سعد مسلسل اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا, کافی دیر وہ اس کے پاس بیٹھا باتیں کرتا رہا پھر اٹھ کھڑا ہوا
“چلو اب سو جاؤ… انار دانہ بھی سو گیا ہے” وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا
“تم کیا کہنے آۓ تھے ؟؟؟” روحاء نے دھیرے سے پوچھا
“جو کہنے آیا تھا کہہ تو دیا… ” وہ بولا, روحاء کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے
“مسئلہ کہاں پر ہے اب… ؟؟؟” سعد دوبارہ اس کے پاس بیٹھا تھا
“پتہ نہیں… ” وہ بے آواز رو رہی تھی
“واپس جانا ہے ؟؟؟” سعد نے پوچھا
“چلے جانا چاہئے ؟؟؟” اس نے جواباً پوچھا تھا
“دیکھو روحاء… کل کیا ہو گا ؟؟؟ کسی کو نہیں پتہ, وہ سدھرا یا نہیں… یہ صرف وہ اور اس کا رب جانتا ہے… پلس پوائنٹ یہ ہے کہ وہ سر عام اپنی غلطی کا اعتراف کر کے معافی مانگتا ہے… اور ایک مرد کی عزت نفس یہ بہت مشکل سے گوارہ کرتی ہے… ” سعد نے اسے اپنے کندھے سے لگایا تھا
“اب ہر ایک کو اپنی محبت کے واسطے یوں دے رہا ہے جیسے محبت بس اسی نے کی ہے… میں نے کی ہی نہیں…؟؟؟” وہ روتے ہوئے بولی تھی
“روحاء وہ تمہاری بیٹیوں کا باپ ہے… اگر دل کے کسی بھی کونے سے اسے ایک موقع دینے کی آواز آتی ہے تو دے کر دیکھ لو, بعد میں ساری عمر یہ کسک نا رہے کہ شائد وہ بدل گیا ہوتا… اور ایسا نہیں ہے کہ تم اب چلی جاؤ گی تو اس گھر کے دروازے تم پر بند ہو جائیں گے… نہیں, کبھی نہیں… وہ دوبارہ انگلی بھی اٹھاۓ تو واپس پلٹ آنا…” سعد کہتا چلا گیا
جانے انجانے میں کچھ لوگ ہمارے لئے فیصلہ لینا آسان کر دیتے ہیں… بہت آسان
ہمیں بس ایک ساتھی چاہئے ہوتا ہے جو ہمارا ہاتھ پکڑ کر سیدھے راستے کی طرف موڑ دے… بس پھر سب کچھ آسان ہو جاتا ہے
…………………..
اس دن مبرا کے اغواء کے کیس کی آخری پیشی تھی, مبرا کا وکیل پر یقین تھا کہ اس پیشی پر ولید احمد کو بھاری سزا اور جرمانہ ہو گا, عماد بھی ابھی تک زیر حراست تھا
چوہدری حمید اور شمیم کو حماد نے ہسپتال داخل کروا دیا تھا, پولیس کی مار کھا کر شمیم کی بوڑھی ہڈیاں بالکل ہی جواب دے گئی تھیں, وہ اٹھتے بیٹھتے کراہ رہی تھی اور چیخیں مار رہی تھی
چوہدری حمید کو دائمی دمے کا مسئلہ تھا جو جیل میں رہنے سے مزید شدت اختیار کر گیا تھا, الماس کبھی ماں کو دیکھتی, تو کبھی باپ کو, اس کے دونوں بچے بھی ہسپتال میں اس کے ساتھ خوار ہو رہے تھے
ارم اور انعم کے سسرالی حالات بھی کچھ زیادہ ٹھیک نہیں تھے, انہیں رات کے اندھیرے میں اٹھوا لیا گیا تھا, اس سے زیادہ ذلالت والی بات بھلا اور کیا تھی, ارم کے شوہر نے تو اس کی واپسی کے بعد اسے اچھی ہی پھینٹی لگائی تھی
اس پیشی پر مبرا بھی پیش ہوئی تھی, حسیب خان, شعیب اور خباب اس کے ساتھ تھے, کچھ ہی دیر میں ولید کو بھی لے آیا گیا, وہ ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا تھا, قیدیوں والے لباس میں ملبوس, ملگجا سا حلیہ, بڑھی ہوئی شیو… اور چہرے پر جا بجا پولیس کے تشدد کے نشان… اس کے ساتھ عماد بھی ہتھکڑیوں میں جکڑ کر لایا گیا تھا, ساتھ حماد اور اس کا وکیل تھے
ولید نے بس ایک نظر مبرا کو دیکھا تھا اور جا کر کٹہرے میں کھڑا ہو گیا, کاروائی شروع ہو گئی, ولید کے وکیل کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا, سارے ثبوت اس کے خلاف تھے, پولیس نے اسے سر عام مبرا کے ساتھ زیادتی کی کوشش کرتے ہوئے پکڑا تھا, اس کا بس چلتا تو اسے جان سے ہی مار دیتا
مبرا کے وکیل نے اس کے لئے سخت ترین سزا ڈیمانڈ کی تھی, اور عماد اس جرم میں اس کے ساتھ برابر کا شریک تھا, اس کا پاسٹ ریکارڈ بھی نہائت خراب تھا, جج کے لئے فیصلہ کرنا بہت مشکل نہیں تھا
“ولید احمد اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہو گے… ؟؟؟” جج نے فارمیلیٹی نبھائی تھی, ولید نے ایک نظر مبرا کی طرف دیکھا
وہ سیاہ رنگ کا بڑا نفیس سا ایمبرائیڈری والا سوٹ پہنے ہوئے تھی, سر پر سیاہ سکارف لپیٹ کر کنٹراسٹ آف وائیٹ شال کندھوں سے لپیٹ رکھی تھی, چہرے پر کوئی میک اپ نہیں تھا, لبوں پر بس ہلکی ہلکی سی گلابیاں تھیں, پیروں کو سیاہ بند شوز میں مقید کیا ہوا تھا, وہ شعیب کے ساتھ کھڑی تھی, اپنے پانچ فٹ تین انچ قد کے ساتھ اس کی شخصیت کے وقار میں کوئی کمی نہیں تھی, مانا کہ وہ بہت خوبصورت نہیں لگ رہی تھی لیکن خوبصورتی ہی سب کچھ نہیں ہوتی… اس لمحے کوئی ولید احمد سے پوچھتا کہ اس کا انتہائی خوبصورت چہرہ لمحوں میں کیسے مسخ ہو گیا تھا….
“و تعز من تشاء, و تزل من تشاء…. اور وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے”
مبرا حسیب خان کے مقدر میں لکھی وہ بے پناہ عزت اس کے پروردگار کی دین تھی, وہ عزت چھیننے والا آخر ولید احمد تھا ہی کون… ؟؟؟
ایک مٹی کا پتلا… اور بس
اس پاکباز لڑکی کی عزت ولید احمد کے تھپڑوں اور ٹھڈوں سے کم نہیں ہو گئی تھی, خدا نے اسے سرپرست بنایا تھا, مبرا جیسی انمول لڑکی کا محرم بنایا تھا… اور محرم سے بڑھ کر خوبصورت رشتہ اس دنیا میں اور کوئی نہیں ہے
“شوہر اور بیوی جب ایک دوسرے کو محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں تو خدا بھی انہیں محبت بھری نظروں سے دیکھتا ہے”
اور ولید احمد جیسے شوہر اس رشتے کی خوبصورتی کو مسخ کر دیتے ہیں
“ولید احمد… کچھ کہنا چاہو گے ؟؟؟” جج نے دوبارہ پوچھا تھا, ولید نے نفی میں سر ہلا دیا
“مجھے کچھ کہنا ہے جج صاحب… ” مبرا نے دھیرے سے کہا تھا
……………………..
وہ سعد اور ساجد مغل کے ساتھ مصالحتی دفتر آئی تھی, سعد نے اسے ایک کمرے میں بٹھا دیا, کچھ ہی دیر بعد آفیسر آ گیا تھا, وہ لوکل گورنمنٹ کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھا
کچھ دیر بعد ہی اس کے نام کی پکار آ گئی, سعد نے اسے آنے کا اشارہ کیا تھا, دفتر میں داخل ہوتے ہی اس کی پہلی نظر مروان پر پڑی تھی
وہ سفید رنگ کا کرتا شلوار پہنے ہوئے تھا, روحاء کو اسے دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیا کہ وہ کپڑے اس نے خود ہی جیسے تیسے استری کئے تھے, جوتوں پر سادہ برش ہی مار کر آ گیا تھا, چہرہ ایسے جیسے برسوں کا بیمار ہو, بڑھے ہوئے بال, بڑھی ہوئی ڈاڑھی, جھکے ہوئے کندھے… اس سے زیادہ اس سے دیکھا نا گیا
وہ خود بھی اتفاق سے وائیٹ پرنٹڈ سوٹ پہنے ہوئے تھی, پیروں میں سلیپرز اور سر پر سوٹ کے ساتھ کا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا, آنکھوں کی چمک, چہرے کی دمک, لبوں کی مسکان… سب غائب تھی
“مروان مرزا…. ؟؟؟” ڈائریکٹر نے سوالیہ انداز میں پوچھا
“جی سر… ” وہ دو قدم آگے کو آیا تھا
“روحاء مغل… ؟؟؟”
روحاء خاموشی سے اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی
“کوئی بات نہیں بنی آپ دونوں کی ؟؟؟” اس نے پوچھا, مروان نے بڑی آس سے روحاء کی طرف دیکھا, وہ سر جھکاۓ کھڑی تھی
“کیا یار پروفیسر صاحب… استاد لوگ تو بڑے شریف اور نرم دل ہوتے ہیں, پھر بیوی کا دل کیسے دکھا دیا ؟؟؟ ” ڈائریکٹر نے پوچھا
“سر استاد لوگ بھی تو انسان ہی ہوتے ہیں… ہو گئی غلطی… ” وہ پشیمان تھا
“تو معافی مانگ لیں… اس میں کیا مشکل ہے ؟؟؟” وہ بولا
“سر ہزاروں بار مانگ چکا ہوں… لاکھوں بار رو چکا ہوں, فقیر بن کر بھی دیکھ لیا ہے مگر… ” مروان نے کہتے ہوۓ روحاء کی طرف دیکھا, اس کی آنکھوں سے قطرے بس امڈنے کو تیار تھے, ساجد مغل اور سعد اس کے پیچھے بالکل خاموش کھڑے تھے
“کیوں مس روحاء ؟؟؟ آپ کے شوہر نادم ہیں, اپنی غلطی پر پشیمان ہیں, معاف کرنے میں کیا حرج ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہاتھ اٹھایا ہے اس نے… ؟؟؟زیادتی کی ہے میرے ساتھ ؟؟” وہ یکدم پھٹ پڑی تھی
“کیسے معاف کر دوں میں ؟؟؟” اس نے روتے ہوئے مروان کی طرف دیکھا, وہ بے بس سا کھڑا تھا
“یعنی انہوں نے وہ کیا جس کی اجازت نہیں ہے… ٹھیک مس روحاء ؟؟؟” ڈائریکٹر نے پوچھا
“کسی بھی طرف سے نہیں, نا اللہ کی طرف سے, نا اللہ کے رسول کی طرف سے, نا اللہ کی کتاب کی طرف سے, نا شریعت کی طرف سے, نا قانون کی طرف سے, نا معاشرت کی طرف سے… ایسا ہی ہے مس روحاء ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا
“جی سر… ” وہ بولی
“ہم دن میں کتنے جھوٹ بولتے ہیں مس روحاء… ؟؟؟ کیا اس کی اجازت ہے ؟؟؟ غیبت کرتے ہیں, ملاوٹ کرتے ہیں, ناپ تول میں کمی کرتے ہیں, غریبوں کا حق کھاتے ہیں, ناانصافی کرتے ہیں, دوسروں پر ظلم کرتے ہیں, چوری چکاری کرتے ہیں, اللہ کی بنائی حدوں کو توڑتے ہیں… ہم ہر وہ کام کرتے ہیں جس کی اجازت نہیں ہے… کہیں سے بھی نہیں… لیکن پھر بھی… اگر ہم نادم ہو کر اللہ کے آگے رو کر معافی مانگیں تو اس نے گارنٹی دی یے کہ میں معاف کر دوں گا… بشرطیکہ کہ معافی سچے دل سے مانگی جاۓ… اور یہاں آ کر ہمارے ایمان کا اصل امتحان ہوتا ہے کہ رب تو دلوں کے بھید جانتا ہے سو اسے پتہ ہوتا ہے کہ طلبگار کا دل سچا ہے یا نہیں… لیکن بندہ تو بس ایک مٹی کا پتلا ہے… اسے کیسے پتہ چلے گا کہ طلبگار کا دل سچا ہے یا نہیں… ؟؟؟ تو یہاں آ کر معاملہ خدا پر چھوڑ دیں, اگر آپ اس کی صفت کو اپنا کر کسی کو معاف کر رہے ہیں تو وہ آپ کا ساتھ کیونکر نہیں دے گا… ” ڈائریکٹر کہتا چلا گیا تھا
روحاء بس بے آواز رو رہی تھی
“چلیں پروفیسر صاحب… اپنی نیک اور پاکباز زوجہ سے معافی مانگیں… معافی مانگنے میں کوئی شرم نہیں ہوتی… ” ڈائریکٹر نے مروان سے کہا تھا
………………………
“جی محترمہ… ؟؟؟” جج اس کی طرف مڑا
“میں اسے معاف کرنے کے لئے تیار ہوں… بس ایک چھوٹی سی شرط پر… ” وہ بولی
“مبرا… ” شعیب نے اسے یوں دیکھا جیسے پاگل ہو گئی ہو لیکن حسیب خان نے اس کا ہاتھ دبا کر اسے خاموش کروا دیا
“محترمہ کٹہرے میں آئیں… ” جج نے کہا, وہ خاموشی سے کٹہرے میں چلی گئی
“جی کہیں.. ؟؟؟”
“اس نے اب تک میرے ساتھ جو بھی ظلم… جو بھی زیادتیاں کی ہیں… ان کی معافی مانگے, دو سال اس نے مجھے جوتے کی نوک پر رکھا ہے, صبح و شام تھپڑ, مکے, ٹھڈے… ہر رات کی زیادتی, ہر صبح کی مار…نوکرانی بنا دیا مجھے, فراڈ کیا میرے ساتھ, دھوکے سے پیسہ بٹورا, دو سال اس نے میری کمائی کھائی اور مجھے بدلے میں صرف ذلالت دی, اس کے گھر والوں نے کبھی اس کا اٹھا ہوا ہاتھ نہیں روکا, اس کی ماں نے کبھی اسے شرم نہیں دلائی, ان سب نے مل کر مجھے جانور سمجھ لیا… اس کی وجہ سے دو بار میں نے اپنا بچہ کھو دیا, اغواء کیا مجھے, تشدد کیا, زیادتی کا نشانہ بنایا… لیکن… ” وہ ذرا سا رکی
“میں اسے وہ سب معاف کر دوں گی اگر یہ مجھ سے معافی مانگ لے, آج یہاں سب کے سامنے میرے آگے ہاتھ جوڑ کر کہے کہ اسے میری زندگی برباد کرنے کا کوئی حق نہیں تھا, میرے پیروں میں بیٹھ کر گڑگڑاۓ اور کہے کہ اسے میری محبت کو میری سزا بنانے کا کوئی حق نہیں تھا.. سب کے سامنے روۓ, کہے کہ اس نے غلط کیا, کہے کہ یہ شرمندہ ہے… کہے کہ مجھے معاف کر دو… ” مبرا کہتی چلی گئی
ولید دم سادھے بت بنا کھڑا تھا
“ولید احمد… معافی مانگ لو گے تو بچ جاؤ گے ؟؟؟” جج نے اس کی طرف دیکھا
…………………….
“روحاء مجھے معاف کر دو, میں بہت شرمندہ ہوں, مجھے میری بیٹیوں کی خاطر معاف کر دو, آئیندہ کبھی بھی ایسا نہیں ہو گا… میں خدا کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ آئیندہ تم سے اونچی آواز میں بات بھی نہیں کروں گا… ” وہ فوراً ہاتھ جوڑ کر روحاء کی طرف آیا تھا
…………………….
“معافی مانگو ولید احمد…. ہاتھ جوڑ کر کہو کہ تم نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے… اور میں تمہیں معاف کر دوں… جوڑو ہاتھ… مانگو معافی… خدا کی قسم میں معاف کر دوں گی… ” مبرا نے ولید کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا
ولید نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا
سب اسے ہی دیکھ رہے تھے, عدالت میں کافی لوگ تھے, مبرا کے ساتھ اس کے دونوں بھائی کھڑے تھے, جج کے ساتھ اس کا ریڈر اور سٹینو بھی بیٹھے تھے
“معافی مانگ لینے میں کوئی شرم نہیں ہوتی ولید احمد… جبکہ معافی بھی اس گناہ کی ہو جو ہم سے سرزد بھی ہوا ہو… مانگ لو معافی” جج نے کہا
…………………..
روحاء کی آنکھوں سے زار و قطار آنسو بہہ نکلے, مروان یونہی ہاتھ جوڑے جوڑے اس کے سامنے اپنے گھٹنوں پر بیٹھا تھا
“روحاء میں تھک گیا ہوں… بہت تھک گیا ہوں… خدا کے لئے مجھے معاف کر دو” وہ رو رہا تھا
………………….
“کہو کہ مبرا مجھے معاف کر دو, جوڑ لو ہاتھ.. جھکا لو سر… ” مبرا کی آنکھیں بھر آئیں
ولید نے مسلسل اس کی طرف دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا اور سر جھکا لیا
“مجھے جو چاہے سزا دے دیں… معافی نہیں مانگوں گا” اس نے سپاٹ لحجے میں کہا تھا
……………………
یہاں یہ پیراگراف لکھنا تو نہیں چاہ رہی تھی کہ سارے سین کا flow خراب ہو جاۓ گا, لیکن اس کی جگہ یہیں بنتی ہے, بہت سارے ریڈرز نے کہا کہ روحاء کو طلاق لے لینی چاہئے… چاہے مروان نے پہلی بار ہی تھپڑ مارا.. لیکن کیوں مارا ؟؟؟؟
اور بہت سارے ریڈرز نے کہا کہ روحاء اوور ہو رہی ہے کیونکہ مروان شرمندہ ہے
اور بہت سارے ریڈرز یہ کہیں گے کہ جب آخر میں معاف ہی کر دینا تھا تو اسے اتنا ذلیل کیوں کیا… ؟؟؟
تو اس کا جواب بڑا سادہ سا ہے
اور چونکہ یہ جواب میری طرف سے ہے تو آپ چاہیں تو اختلاف کر سکتے ہیں
کہ شوہر اگر تھپڑ مار کے, گالی دے کے, زیادتی کر کے…شرمندہ ہو جاۓ, پلٹ کر آۓ, معافی مانگے, روۓ, گڑگڑاۓ… اور سارا جہان اسے سچا سمجھے… لیکن آپ کے دل میں آپ کی عزت نفس کا لیول اس شوہر کی محبت سے زیادہ ہو جاۓ تو بیشک اسے معاف نہ کریں…. بشرط یہ کہ آپ صرف ایک بیوی ہیں… ایک ماں نہیں ہیں
لیکن… اگر آپ ایک ماں بھی ہیں تو خدا کی قسم ایک ماں اپنی اولاد کی خاطر اپنی عزت نفس بھی وار دیتی ہے کیونکہ جو شخص سر عام ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہا ہے وہ صرف ایک شوہر ہی نہیں…. ایک باپ بھی ہے جس کا نعم البدل پوری کائنات میں نہیں ہوتا
………………………
روحاء بلک بلک کر روتی ہوئی اس کے ساتھ ہی نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی, دونوں ہاتھوں سے اس کے جڑے ہوئے ہاتھوں کو تھام کر ان پر اپنا ماتھا ٹکا گئی تھی
وہاں موجود ہر شخص کی آنکھ پر نم تھی
“ایم سوری… ” وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“سفید شرٹ کے ساتھ آف وائٹ شلوار پہن کر آ گئے ہو تم… ” وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بس اتنا ہی بولی تھی
“تمہارے پیچھے سارے رنگ مر گئے میرے روحاء… “
مروان نے بنا کسی کی پروا کئے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے اسے اپنے بازو کا سہارا دے کر اٹھایا اور کرسی پر بٹھا دیا, پھر خود اسے پانی کا گلاس بھر کر پکڑایا
“سر پلیز… یہ جو بھی ہے اسے ختم کر دیں اب… ” وہ بولا
“وہ تو میں کر دوں گا لیکن پہلے یہ بتائیں کہ شام کو میرے گھر کتنے کلو کا ٹوکرا آۓ گا مٹھائی کا ؟؟؟” ڈائریکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
…………………..
جج نے فیصلہ سنا دیا تھا
پانچ سال قید اور بھاری جرمانہ
جج کے اشارے پر پولیس کانسٹیبلوں نے ولید کو دونوں طرف سے جکڑ لیا
مبرا کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے
یہ اس کا انتخاب تھا جو اسے برباد کر کے بھی شرمندہ نہیں تھا
عماد کو ایک سال کی سزا ہوئی تھی
ظاہر ہے اتنا جرمانہ وہ لوگ کہاں سے ادا کرتے… ؟؟؟ گھر پہلے ہی ٹھکانے لگ چکا تھا
اس کے بعد جو تھوڑی بہت زمین تھی وہ بھی ولید کے دھڑ پر اتر گئی
ولید کو اس کی نظروں کے سامنے ہی پولیس کی گاڑی میں بٹھا کر جیل لے گئے تھے
…………………….
وہ بھی ایسی ہی ایک شام تھی… مبرا تقریباً ایک ہفتے بعد اکیڈمی آئی تھی, اپنی ہر کلاس کو اس نے آفیشلی گڈ باۓ کہہ دیا تھا
اب تو اس کے پاس مضبوط بہانہ تھا کہ اس کا پی ایچ میں ایڈمیشن ہو گیا ہے سو وہ مزید جاری نہیں رکھ سکتی, سعد بس خاموش سا تھا
سٹوڈنٹس کی زبانی ہی اسے پتہ چلا کہ سعد مغل نے اکیڈمی کے باقی معاملات بھی ایک بار پھر سے وائنڈ اپ کرنے شروع کر دیئے تھے
وہ آخری کلاس لیکر باہر نکلی تو شام کے ساۓ گہرے ہو رہے تھے, زیادہ تر سٹوڈنٹس جانا شروع ہو گئے تھے, اس سے پہلے کہ وہ واپسی کے لئے نکلتی, اسے سعد کی کال آ گئی
“ہو گئیں فارغ… ؟؟؟”
“جی… “
“ذرا آفس میں آئیے گا…. ” اس نے کہا, مبرا خاموشی سے اس کے آفس کی طرف آ گئی
“بیٹھیں مبرا… ” سعد نے کہا اور ایک لفافہ اس کے آگے رکھ دیا
“Your current month’s payment… “
وہ بولا
“میں اس مہینے آئی ہی کتنے دن ہوں… ؟؟” مبرا نے کہا
“جتنے دن آئی ہیں یہ اتنے دنوں کے ہی ہیں… ” وہ بولا, مبرا بس دھیرے سے مسکرا دی تھی
“کتنے دن جایا کریں گی لاہور ؟؟؟” سعد نے پوچھا
“فی الحال ویک اینڈ پر… پھر جیسے جیسے مینیج ہوا…” مبرا نے کہا
“چلیں… بیسٹ آف لک” سعد نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
“میں جاؤں اب… ؟؟؟” اس نے کچھ دیر بعد پوچھا
“بالکل… آئیں میں گیٹ تک چھوڑ آتا ہوں” وہ اس کے ساتھ ہی کھڑا ہو گیا
دونوں ایک ساتھ ہی آفس سے نکلے تھے, شام گہری ہو گئی تھی, بس اکا دکا سٹوڈنٹس ہی گیٹ کے پاس کھڑے تھے
وہ دونوں ایک دوسرے کے برابر میں روش پر ہو لئے
“شعیب کی فیملی شفٹ ہو گئی ؟؟” سعد نے پوچھا
“وہ اس ویک اینڈ پر آئیں گے تو حنا بھابھی اور دونوں بچوں کو ساتھ لے جائیں گے… گھر تو فرنشڈ ہو گیا ہے ان کا” وہ بولی
“میں بھی ایک, دو سال تک لاہور ہی ٹرانسفر کروا لوں گی… پی ایچ ڈی کے بعد تو شائد یونیورسٹی میں ہی ایڈجسٹمنٹ ہو جاۓ” مبرا نے کہا
“بڑے شاندار فیوچر پلانز ہیں… اللہ کامیاب کرے” سعد نے کہا
“سعد ایم سوری… میری وجہ سے آپ کو سب کچھ وائنڈ اپ کرنا پڑا… ” اس نے دھیرے سے کہا تھا, سعد اس کی بات کا مطلب سمجھ گیا تھا, وہ بس کندھے اچکا گیا
“میرا خیال تھا کہ میں بس ولید احمد کو ہی اچھی نہیں لگتی… لیکن… مجھے نہیں پتہ تھا کہ میں عفراء واحدی کی گڈ بک میں بھی شامل نہیں ہوں” وہ دھیما سا مسکرائی تھی
“کبھی کبھار ہمیں اپنی ذات پر وہ الزام بھی ہنس کر سہنا پڑتا ہے جو شائد ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا…” سعد نے کہا
“I’ll try my best to stay away…
مبرا نے دھیرے سے کہا تھا
“میں بھی… ” سعد کے کہتے ہی مبرا نے اس کی طرف دیکھا, وہ اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اسی کو دیکھ رہا تھا
“سعد آپ میری زندگی میں آنے والے چند بہترین لوگوں میں سے ایک ہیں… ایم سوری میں نے آپ کے سمجھانے اور راستہ دکھانے کے باوجود خود کو تباہ کر لیا, لیکن پلیز… میری وجہ سے سعد مغل کی فیملی اپ سیٹ ہو… یہ میں کبھی نہیں چاہوں گی” مبرا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے
“میں اس وقت آپ کے یہ آنسو ضرور پونچھتا لیکن… ایم سوری… It is not allowed” سعد نے مسکراتے ہوئے کہا تھا, مبرا خود ہی اپنی آنکھیں خشک کرتے ہوئے گاڑی کی طرف آ گئی, سعد نے اس کے لئے ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولا تھا
Good Bye… “
وہ دھیمے سے کہتے ہوئے اندر بیٹھ گئی تھی
سعد نے مسکراتے ہوئے اسے ہاتھ کے اشارے سے الوداع کہا تھا اور وہ بس گاڑی نکال لے گئی تھی
………………………
گاڑی میں ہر سو خاموشی چھائی ہوئی تھی, مروان ڈرائیو کر رہا تھا, روحاء دوسری طرف چپ چاپ بیٹھی تھی, ماریہ اس کی گود میں لیٹی سو رہی تھی, مرحہ پیچھے سیٹ پر لیٹی اونگھ رہی تھی
وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی انہیں لیکر ساجد مغل کے گھر سے نکلا تھا
“گاڑی کیسی ہے ؟؟؟” مروان نے اس سے پوچھا
“اچھی ہے… ” وہ بولی
“لے لوں… ؟؟؟” مروان نے پھر پوچھا
“اگر دو, ڈھائی ماہ بعد پھر سے بیچ دینی ہے تو مت لینا ” روحاء کے کہتے ہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی
رات کے نو بج رہے تھے جب وہ گھر پہنچے, مروان نے خود ہی اتر کے گیٹ کھولا اور گاڑی اندر کی, روحاء, ماریہ کو گود میں اٹھا کر باہر نکل آئی, مروان نے مرحہ کو اٹھا لیا تھا
ابھی کل ہی اس نے ایک کام والی کو بلوا کر سارا گھر صاف کروایا تھا, سارے برتن دھلواۓ, جالے اترواۓ, کچن صاف کروایا… روحاء سیدھی اندر آ گئی اور ماریہ کو بستر لٹا دیا, مروان نے مرحہ کو بھی اس کے برابر میں ہی لٹا دیا تھا
“دودھ پڑا ہے ؟؟؟”
“نہیں… دودھ والا صبح سے آۓ گا, میں لے آتا ہوں” وہ بولا
“تم کچھ کھاؤ گی ؟؟؟” مروان نے پوچھا
“نہیں… بھوک نہیں ہے, صبح ناشتے کے لئے بریڈ اور انڈے لے آنا, پھر میں دوپہر میں کچھ پکا لوں گی” وہ بالکل نارمل انداز میں بولی تھی, مروان سر ہلا کر واپس چلا گیا
روحاء نے دونوں بچیوں کے کپڑے, پیمپرز, فیڈرز اور باقی سامان سیٹ کیا تھا, مروان آیا تو اس نے چاۓ بنائی, اور بچیوں کا دودھ گرم کیا
“یہ تمہاری… میرا مطلب آپ کی چاۓ” وہ اسے کپ پکڑاتے ہوۓ بولی, مروان اپنے کپڑے استری کر رہا تھا, بس زیر لب مسکرا دیا
“تم ہی کہہ لو, کوئی بات نہیں…” وہ بولا
“لائیں میں کر دیتی ہو کپڑے پریس… ” وہ بولی
“میں کر لوں گا… اب کرنے آ گئے ہیں مجھے” مروان نے کہا
“ہاں دیکھا میں نے… کتنے اچھے کپڑے پریس کرتے ہیں آپ…جواب نہیں ہے… ” روحاء نے اسے گھورتے ہوۓ شرٹ اس کے ہاتھ سے پکڑی تھی, مروان اس کے پاس ہی کھڑا ہو کر چاۓ پینے لگا, اس کی نظروں کا ارتکاز روحاء جان گئی تھی
“اب ایسے کیا دیکھ رہے ہیں… ؟؟؟” وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
“اپنی بیوی کو دیکھ رہا ہوں جو دو بچوں کے بعد بھی اتنی ہی خوبصورت ہے… ” وہ بولا, روحاء مسکرا ہی دی
“یہ لیں… اب صبح سب کو پتہ چل جاۓ گا کہ آپ کی بیوی واپس آ گئی ہے” روحاء نے اس کا سوٹ ہینگ کرتے ہوئے اس کی طرف بڑھایا دیا, مروان نے ایک طرف سے ہینگر پکڑا اور ذرا زور سے اپنی طرف کھینچا, روحاء یکدم ہی اس کے سینے سے آن لگی تھی, مروان نے دوسرے بازو سے اس کے گرد حصار بنایا تھا, پھر سوٹ استری سٹینڈ پر رکھا اور اسے مزید اپنے قریب کر گیا, بہت محبت سے اس نے روحاء کے چہرے پر گرے بال اس کے کان کے پیچھے اڑس دیئے, پھر انتہائی نرمی سے اس کے گالوں پر اپنی انگلیاں پھیریں تھیں
“روحاء آئی لو یو…. بہت زیادہ… ” اس نے اپنا انگوٹھا روحاء کے لرزتے ہوۓ لبوں پر پھیرا تھا
“اور آپ کو لگتا ہے کہ روحاء کے سینے میں دل ہی نہیں ہے… ہیں نا… ؟؟؟” روحاء نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا
“ایک بیوی نے تو آپ کو اسی دن معاف کر دیا تھا مروان جس دن آپ روۓ تھے… بس ایک عورت کی عزت نفس آپ کو معاف نہیں کر پا رہی تھی” وہ بولی
“میرے دل سے پوچھیں کہ آپ کو روتا دیکھ کر میرے اوپر کیا بیتتی تھی… آپ کے جڑے ہاتھ, آپ کا جھکا سر… میرے ہزاروں ٹکڑے کر دیتا تھا مروان… ” روحاء کی خوبصورت آنکھوں میں یکلخت ہی پانی بھر آیا
“روحاء میری جان… مجھے میرے جگر کے ٹکڑوں کی قسم, میں آییندہ تمہیں کوئی تکلیف نہیں دوں گا… ” مروان نے باری باری اس کی نم آنکھوں کو اپنے لبوں سے چھواء تھا, پھر اس کے گالوں سے ہوتا ہوا اس کے لبوں پر اتر آیا
تا دیر وہ دونوں ایک دوسرے میں مگن, ایک دوسرے سے اپنا سکون کھینچتے رہے, پھر یکلخت ہی مروان نے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھایا تھا
“مروان… مجھے نیچے اتاریں, میں قطعاً قطعاً ایک اور بچہ افورڈ نہیں کر سکتی…. پہلے ہی یہ دونوں جڑواں بچوں کی طرح ہو گئی ہیں… ” روحاء نے اچھی خاصی مزاحمت کی تھی
“وہ جو تیسرا ہو گا وہ میں پال لوں گا… پکا پرامس, لیکن اس وقت تمہیں نیچے اتارنا میرے لئے قطعی affordable نہیں ہے…بس چپ کر جاؤ اب” مروان نے اسے بستر پر گراتے ہوئے اس کی ہر مزاحمت ختم کی تھی
……………………
عفراء اپنی اور سعد کی چاۓ لیکر آئی تھی, سعد کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے وہ بستر کے دوسری طرف آ گئی, سعد بس چپ چاپ چاۓ پینے لگا تھا
عفراء نے چاۓ پیتے ہوئے احد کو کو سلایا اور اسے اپنے دائیں طرف لٹا دیا
موسم اب تبدیل ہونے لگا تھا
کپ خالی کر کے اس نے ایک طرف رکھا اور لائیٹ مدھم کر دی, پھر دھیرے سے سعد کے قریب ہوئی تھی, وہ ہنوز اپنے موبائل میں مصروف تھا
“اب ناراض ہی رہنا ہے ؟؟؟” عفراء نے اس کے کندھے پر اپنا سر رکھا تھا
“میں تم سے کبھی ناراض ہو ہی نہیں سکتا…” سعد نے موبائل بند کر دیا
“پھر منہ کیوں بنایا ہوا ہے ؟؟” عفراء نے ایک بازو اس کی گردن میں ڈال کر دوسرے ہاتھ کی انگلیاں سعد کے چہرے پر پھیری تھیں
“میرا منہ ہی ایسا ہے… ” سعد کے کہتے ہی عفراء کی ہنسی نکل گئی, جبکہ سعد ابھی تک سیریس ہی تھا
“جی نہیں جناب… یہ اتنا ٹیڑھا بھی نہیں ہے جتنا اس وقت کر رکھا ہے… کروں سیدھا ؟؟؟” اس بے شرارت سے پوچھا
“کر دو… ” وہ بولا, عفراء نے مسکراتے ہوئے اس کے لبوں کو چھواء تھا, ایک بار… دو بار… اور تیسری بار میں سعد کی ہنسی نکل ہی گئی
“دیکھا… اب ٹھیک ہوا ہے” عفراء نے مسکراتے ہوئے کہا, سعد نے اسے اپنے دونوں بازوؤں میں بھر کر دوسری طرف گرایا اور اس پر جھک آیا
“اچھا تو ڈاکٹر صاحبہ… میرا باقی جسم بھی ٹیڑھا میڑھا ہو رہا ہے, اسے بھی سیدھا کر دیں پلیز… ” سعد نے دیوانہ وار اس کے چہرے کو گیلا کرتے ہوئے کہا تھا اور عفراء بس مسکراتے ہوئے اپنا آپ اس کے حوالے کر گئی تھی
…………………….
شعیب اور حنا دونوں بچوں سمیت لاہور شفٹ ہو گئے تھے, شعیب نے دونوں بچوں کا ایڈمیشن بھی وہیں کروا دیا, حنا نے کچھ ہی دنوں میں سارا سسٹم سیٹ کر لیا تھا, مبرا بھی ان کے ساتھ ہی آئی تھی
دو ہفتے بعد حسیب خان اور عابدہ نے خباب کی شادی طے کر دی تھی, گھر میں شادی کے ہنگامے جاگ اٹھے تھے, زوہیب کا ایل ایل بی کا لاسٹ ایئر چل رہا تھا
شادی کی زیادہ تر شاپنگ حنا اور مبرا نے لاہور سے ہی کی تھی, ظاہر ہے عابدہ اکیلی کیا کچھ کرتیں, خباب کی مہندی سے دو دن پہلے شعیب کی فیملی بھی واپس آ گئی, گھر کی اصل رونق تو اسامہ اور ارحہ تھے… عابدہ تو انہیں چوم چوم کر ہی بے حال ہو گئیں, زوہیب بھی آ گیا تھا
خباب کی شادی بخیر و عافیت انجام پا گئی, اس کی بیوی ایگریکلچر آفیسر تھی, اتنے عرصے بعد خباب کی شادی پر وہ گھر خوشیوں سے بھر گیا تھا
شادی کے ایک ہفتے بعد شعیب اور حنا واپس چلے گئے, تھے
دھیرے دھیرے مبرا کی روٹین بھی سیٹ ہو گئی, وہ ہر ویک اینڈ پر لاہور چلی جاتی تھی, پیچھے سے حسیب خان نے نچلا پورشن خباب کو دے کر اوپر والا پورشن زوہیب کے لئے سیٹ کروا دیا, مبرا نے بھی کمرہ اوپر ہی لے لیا تھا
ولید کو جیل گئے دو مہینے ہو گئے تھے لیکن اس کے ساتھ گزارا ہر ہر لمحہ مبرا کے لئے ابھی بھی کسی بھیانک خواب جیسا تھا, بیشک وہ راتوں کو ڈر کر نہیں اٹھتی تھی لیکن ولید احمد کا وہ مکروہ چہرہ جیسے ہمیشہ کے لئے اس کے ذہن کے پردے پر نقش ہو گیا تھا
یہ سچ تھا کہ اس رات کے بعد سے اس کی باقی کی زندگی خدا کی طرف سے عطا کردہ ایک تحفہ ہی تھی لیکن وہ چاہ کر بھی اس تحفے سے ولید احمد کی گھناؤنی یادیں ختم نہیں کر پائی تھی
اور ایسے ہی ہوتا ہے… ایک انتہائی برا وقت جھیل کر جب انسان پر خوشیوں کے در کھلتے ہیں تو اپنی ہر خوشی کے ساتھ اسے وہ برا وقت ضرور یاد آتا ہے… اور اس لمحے انسان کے لبوں سے نکلتا شکرانہ کچھ زیادہ ہی خالص ہو جاتا ہے
