No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
آج روحاء کے کیس کی مصالحتی پیشی تھی, اگر اس پیشی پر مصالحت نا ہو پاتی تو اس کا خلع جاری ہو جانا تھا, اس کی دوسری بیٹی ابھی صرف بیس دن کی تھی اور وہ ساجد مغل کے ساتھ کورٹ آئی تھی
مروان اور کاشف مرزا بھی آۓ ہوۓ تھے, روحاء کو اس پر ٹوٹ کے ترس آیا
اسے یاد تھا جب اس نے بی ایس کے دوران مروان کی اکیڈمی جوائن کی تھی, تب وہ بڑا عام سا بندہ لگا تھا اسے, نارمل سے قد کا, دبلا پتلا سا, انتہائی سادہ سے نقوش کا حامل انسان… جس میں اس کی ذہانت کے علاوہ اور کچھ بھی خاص نہیں تھا, تب اسے پہننے اوڑھنے کا بھی اتنا سلیقہ نہیں تھا, دیکھنے میں لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ ایک گزیٹیڈ آفیسر تھا
اور پھر وہ روحاء سے ملا… اس سے مل کر اسے اندازہ ہوا کہ روحاء مغل نامی اس شہزادی کو پانے کے لئے بہت پاپڑ بیلنے پڑیں گی, وہ اپنے آپ کو بدلتا چلا گیا,
اور جو بچ گیا وہ روحاء نے خود بدل دیا, روحاء کے ساتھ نے اسے اعتماد دیا تھا, وہ اس کے لئے خود کپڑے خریدتی تھی, اسے خود تیار کر کے گھر سے بھیجتی تھی, خود کہتی تھی کہ مروان یہ پہنیں…. یہ اچھا لگے گا
اور مروان کو اس پر پورا یقین تھا, روحاء کے ساتھ نے اسے نکھار دیا, اس کا چھوٹے قد کا احساس کمتری کہیں دفن ہی ہو گیا, اس کی شخصیت دن بدن پر اثر ہوتی چلی گئی تھی, وہ اپنے ڈپارٹمنٹ کا ایچ او ڈی تھا, اس کی اکیڈمی شہر کی ٹاپ کمپیوٹر سائنس اکیڈمی تھی, اسے پیسے کی کوئی کمی نہیں تھا, پورا شہر اسے جانتا تھا, اس کی عزت کرتا تھا, اور سب سے بڑھ کر اس کے پاس ایک انتہائی حسین بیوی تھی
بھلا اور اسے کیا چاہئے تھا… ؟؟؟
اور اب… ؟؟؟؟ روحاء نے اس کی طرف دیکھا
وہ ایک بار پھر سے زیرو پر آ گیا تھا, اسے شائد یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ گھر سے کیا پہن کر آیا ہے, جو کرتا اس نے پہنا ہوا تھا وہ پریس بھی نہیں تھا, سلوٹیں ہی سلوٹیں… چہرہ انتہائی پریشان, جوتے مٹی سے اٹے ہوۓ
وہ ایک بار پھر ہار گیا تھا, کندھے جھک گئے تھے, سارا اعتماد اڑنچھو ہو گیا تھا
بیساختہ روحاء کی آنکھوں سے آنسو نکلے تھے
شادی شدہ خواتین مجھ سے ہم خیال ضرور ہوں گی کہ شوہر کا سر ہمیشہ مان اور فخر سے اٹھا ہوا ہی اچھا لگتا ہے, وہ ناقابل تسخیر بن کر شان سے کھڑا ہو کر ہی اچھا لگتا ہے, ایک ہارا ہوا, شکست خوردہ شوہر جو سر بھی نہیں اٹھا پاتا… اسے دیکھ کر بیوی کے دل پر کیا بیتتی ہے… ؟؟ یہ روحاء کے علاوہ اور کون جان سکتا تھا
شوہر کی ہار سے پہلے بیوی خود ہار جاتی ہے… بظاہر چاہے پتھر بنی رہے
“کوئی بات بنی آپ کی مسٹر مروان ؟؟” جج نے پوچھا, مروان نے بڑی آس سے روحاء کی طرف دیکھا تھا
“سر میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہوں اور میں کبھی بھی اسے طلاق نہیں دینا چاہتا, یہ میری بچیوں کی ماں ہے… سر میرا سب کچھ اس کا ہے…. میں اپنی ہر غلطی ماننے کے لئے تیار ہوں… ہر گناہ پر شرمندہ ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ آئیندہ ایسا کچھ نہیں ہو گا… ” وہ بولا اور روحاء کی طرف مڑا
“جو یہ منوانا چاہے میں تیار ہوں, جو شرائط رکھے میں پوری کروں گا, گھر نام کروا لے, پلاٹ لینا چاہے, چیک لینا چاہے… جو چاہے گی میں کروں گا, بس خلع نا لے….” وہ انتہائی بے بسی سے بولا تھا
جج نے روحاء کی طرف دیکھا
“آپ کے شوہر آپ کو بسانا چاہتے ہیں محترمہ…. ” وہ بولا
“سر اس کی ساری باتوں سے قطع نظر… میں ساری زندگی اس تھپڑ کی بے عزتی کو نہیں بھول سکتی جو اس نے مجھے اپنے سارے گھر والوں کے سامنے مارا… اور میں مرتے دم تک اس تھپڑ کی تکلیف بھی نہیں بھول سکتی جو اس نے مجھے اکیلے میں مارا… میرے دل میں اس شخص کے لیے رتی برابر بھی جگہ نہیں ہے اور میری یہ بات یہاں کھڑے کسی شخص کی سمجھ میں نہیں آۓ گی… یہ معافی مانگ رہا ہے تو ٹھیک ہے… میں نے اسے معاف کیا… اس کا ہر تھپڑ, ہر زیادتی, ہر اذیت کو معاف کیا, لیکن میرے دل میں اس کے لئے نفرت کے سوا اور کچھ نہیں ہے, میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی… ” وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی تھی
“اور کچھ… ” جج نے دونوں وکیلوں کی طرف دیکھا
“سر پلیز… یہ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی بیشک نا رہے, واپس نہیں آنا چاہتی نا آۓ… لیکن خلع نا لے, اپنے ابو کے گھر رہتی رہے, وہاں نہیں رہنا تو میں اپنا گھر اس کے نام کر دیتا ہوں, وہاں رہ لے, لیکن طلاق نا لے, میری بیٹیوں کو باپ سے محروم نا کرے, میں بس اپنی بیٹیوں سے مل کر واپس چلا جایا کروں گا… بھلے ہی ساری عمر میری شکل بھی نا دیکھے… ” مروان نے کہا
“مجھے… اس شخص سے کوئی ناطہ نہیں رکھنا… اور رہ گئی بات بچیوں کی تو مجھے تا عمر افسوس رہے گا کہ اس جیسا بزدل انسان میری بچیوں کا باپ ہے” روحاء نے کہا
“سر مدعیہ کے سامان جہیز کا دعویٰ بھی ساتھ ہی دائر کیا گیا ہے… ” روحاء کے وکیل نے کہا تھا
“سر اسے کوئی کیس کرنے کی ضرورت نہیں ہے, میری وجہ سے یہ عدالتوں میں خوار ہو میں کبھی نہیں چاہوں گا, میں سارا سامان واپس کر دوں گا, میں تا عمر اس کا اور اپنی بچیوں کا خرچہ اٹھانے کو تیار ہوں, اسے اس کے لئے بھی کیس کرنے کی ضرورت نہیں ہے, میں ساری عمر ان تینوں کی ہر ضرورت پوری کروں گا… بس مجھ پر اتنا سا ترس کھا لے کہ طلاق نا لے… خدا کے لئے طلاق نا لے” وہ بھری عدالت میں رو پڑا تھا
جج نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے دونوں کی شہادت لی اور روحاء کا خلع ڈیکری کر دیا
“عدالت کے بعد یہ کیس مصالحتی کونسل کے پاس جاۓ گا جہاں سے نوے دن بعد روحاء مغل کو مؤثر سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا جاۓ گا, اگر مدعا علیہ چاہے تو ان نوے دنوں میں مصالحت کے لئے کوشش کر سکتا ہے اور اگر کوشش کامیاب ہو جاۓ تو عدالت اس خلع کو کینسل کر دے گی” جج نے فیصلہ سنا دیا تھا
……………………….
اس کے چار دن بعد مبرا کا خلع بھی جاری ہو گیا تھا, ولید بھی اس پیشی پر آیا تھا
مبرا کے ساتھ اس دن خباب اور زوہیب دونوں گئے تھے, ولید کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا, مصالحت کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی, وہ ہر قسم کا حربہ آزما چکا تھا
مبرا کا خلع بھی مصالحتی کونسل کے پاس چلا گیا تھا, اس کے سامان اور پیسوں کا کیس بھی بس ایک دو پیشیوں میں ختم ہونے ہی والا تھا
اس رات پہلی بار ان سب گھر والوں نے سکون سا سانس لیا تھا, مبرا عرصے بعد اسقدر مطمئن نظر آئی تھی اور اسے دیکھ کر عابدہ اور حسیب خان بھی دل سے مطمئن تھے
“ابو… میں سوچ رہی تھی کی پی ایچ ڈی کے لئے اپلائی نا کر دوں… جاب کے ساتھ ساتھ ہی ؟؟؟” مبرا نے اس رات کھانے کے دوران حسیب خان سے پوچھا
“رہنے دے…. نوکری مل گئی ہے نا… اب پی ایچ ڈی کر کے کیا کرے گی… ؟؟؟ اپنا کھا پی اور موج اڑا… ” عابدہ نے فوراً منع کر دیا, مبرا نے حسیب خان کی طرف دیکھا
“کہاں سے ؟؟؟”
“لاہور سے …” وہ بولی
“روز کیسے لاہور جاۓ گی ؟؟؟”
“ابو روز کہاں جانا ہوتا ہے…. اور ہو سکتا ہے ٹرانسفر ہی لاہور کروا لوں, شعیب بھائی بھی تو لاہور شفٹ ہونے کا سوچ رہے ہیں” مبرا نے کہا
“اگر حنا بھابھی اور شعیب بھائی اپنے ساتھ نہیں رکھیں گے تو میں کالج ریذیڈینسی لے لوں گی” وہ کن اکھیوں سے حنا کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی تھی
“تمہارا بھائی مجھے رکھے نا رکھے تمہیں ضرور رکھ لے گا… ” حنا نے ہنستے ہوئے کہا تھا
شعیب کی پروموشن ہو گئی تھی اور اگلے پانچ سال تک اس کا ٹرانسفر بین ہو گیا تھا, سو وہ ذرا سنجیدگی سے لاہور شفٹ ہونے کے بارے میں سوچ رہا تھا, فیملی بھی وہیں لے جاتا, پیچھے سے خباب کی شادی ہو جاتی تو حنا کی کمی پوری ہو جاتی
“چل دیکھ لے بیٹا… ” حسیب خان نے اسے اجازت دے دی تھی
“اس کی کوئی بات ٹالی نہیں جاتی آپ سے…. ” عابدہ کو غصہ آیا
“تمہاری کوئی بات ٹالی ہے کبھی ؟؟؟” حسیب خان نے بات کا رخ ہی موڑ دیا, خباب اور زوہیب نے قہقہہ لگایا تھا
کچھ ہی دنوں میں اس نے پنجاب یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے لئے اپلائی کر دیا تھا
……………………..
وہ اس دن کالج میں تھی جب اس کے لیب اٹینڈینٹ نے آ کر اسے مروان مرزا کے آنے کی اطلاع دی, وہ کافی حیران ہوئی تھی اور کھٹک بھی گئی تھی
مروان کے آنے کا ایک ہی مقصد ہو سکتا تھا
“ایم سوری مبرا اگر آپ کو میرا ایسے کالج آنا برا لگا ہو تو… دراصل کال پر اتنی تفصیل سے بات ممکن نہیں تھی اور… اکیڈمی آنا مجھے مناسب نہیں لگا” مبرا نے اسے اپنے آفس میں ہی بلوا لیا تھا
“اٹس اوکے سر… کوئی بات نہیں ” اس نے چاۓ منگوا لی تھی
“میں نے ایک بار پہلے بھی آپ کو کال کی تھی مبرا… شائد آپ کو یاد ہو… تب بھی میں آپ سے ملنے نہیں آ سکا تھا… ” وہ کہنا شروع ہوا
“جی مجھے یاد ہے… “
“میں نے تب بھی روحاء کے بارے میں بات کرنی تھی اور… میں نے اب بھی روحاء کے بارے میں ہی بات کرنی ہے” وہ سر جھکا کر بولا
“پلیز مبرا… میری اس بار بھی مدد کر دیں…. میں اسے کھونا نہیں چاہتا” وہ بولا
“میں نے ہر ممکن کوشش کر لی ہے, اسے منانے کا ہر جتن کر لیا ہے, اس سے ہاتھ جوڑ کر, اس کے پیروں میں گر کر معافی مانگ لی ہے لیکن…. وہ تو جیسے پتھر ہی ہو گئی ہے…. ” مروان نے کہا
“اسے کہیں بس مجھے ایک موقع اور دے دے… ” وہ بولا, مبرا نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“آپ اس دن تھے نا وہاں… اقراء واحدی کے اینول فنکشن میں… ؟؟؟” مبرا نے پوچھا
“جی بالکل…. “
“اس رات کیا کیا تھا ولید نے میرے ساتھ… ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا
“اس نے تھپڑ مارا تھا آپ کو…سب کے سامنے” مروان کا لحجہ مدھم ہو گیا
“تو آپ مجھے کہہ سکتے ہیں کہ مبرا… ولید احمد کو وہ تھپڑ معاف کر دو ؟؟؟” مبرا نے پھر پوچھا تھا, مروان خاموش رہ گیا
“نہیں نا مروان مرزا… صرف آپ ہی نہیں, مجھے کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں اسے وہ تھپڑ معاف کر دوں… ” وہ ذرا سا رکی
“بالکل ویسے ہی جیسے روحاء کو کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ آپ کو وہ تھپڑ معاف کر دے جو آپ نے اسے سب کے سامنے مارا… میں بھی نہیں ” وہ بولی, مروان شرمندہ سا سر جھکاۓ بیٹھا تھا
جب آپ نے شادی سے پہلے مجھے کال کی تھی تو میں آپ کی بے بسی پوری طرح سمجھ گئی تھی مروان… تب آپ کی محبت نئی نئی تھی اور آپ کو کسی بھی طرح اسے پانا تھا… میں خود تب انہی راہوں کی راہی تھی سو میں آپ کی کال کا مقصد بہت اچھے سے جان گئی تھی, آپ محبت میں مجبور تھے اور مجھے روحاء سے بات کرنے کا کہہ رہے تھے… ” وہ ذرا سا رکی
“اور میں آج بھی آپ کی بے بسی سمجھتی ہوں مروان, آج آپ شرمندہ ہیں, اپنی اسی محبت کے
مجرم ہیں, میں آپ کے آنے کا مقصد آج بھی سمجھ گئی ہوں لیکن….. ایم سوری مروان, میں اس بار آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتی, میں اسے نہیں کہوں گی کہ آپ کو معاف کر دے… ” وہ بولی
“کیونکہ آج میں اس کا درد بھی سمجھتی ہوں, میں نے دو سال یہ درد محسوس کیا ہے, دو سال اسی اذیت میں گزارے ہیں, دو سال یہی تھپڑ کھاۓ ہیں, دو سال ایسے ہی اس شخص کی زیادتیاں برداشت کی ہیں…. اور خود یہ سب برداشت کرنے کے بعد میں اسے کیسے کہہ دوں کہ روحاء مغل تم بھی یہ سب برداشت کرو… نہیں مروان, میں اسے کچھ نہیں کہوں گی, تھپڑ چاہے ایک بار مارا جاۓ یا بار بار… ایک رات مارا جاۓ یا ہر رات… تھپڑ, تھپڑ ہی ہوتا ہے…. اور زیادتی چاہے اپنی شرعی بیوی سے ہی کیوں نا کی جاۓ… زیادتی, زیادتی ہوتی ہے…” وہ کہتی چلی گئی
“جب میں ولید احمد کو معاف نہیں کر رہی… تو اسے کیسے کہوں کہ آپ کو معاف کر دے… ؟؟؟ جب میں خود اپنے شوہر کے تھپڑ معاف نہیں کر رہی تو اسے کیوں کہوں کہ آپ سے کھایا تھپڑ معاف کر دے… ؟؟؟ نہیں کہہ سکتی… ایم سوری لیکن اس بار میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتی” وہ ہاتھ کھڑے کر گئی تھی, مروان نے ایک لمبی سانس بھری
“چلیں ٹھیک ہے مبرا… تھینک یو مجھے اپنا وقت دینے کے لئے ” وہ بولا اور اس کی طرف دیکھا
“بہت عرصے سے ایک معذرت آپ سے بھی کرنا چاہ رہا تھا بس… موقع نہیں مل سکا, میں نے آپ کے رشتے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ مجھے روحاء سے شادی کرنی تھی, ایم سوری اگر آپ کو تب برا لگا یا دکھ ہوا… “وہ کہتے ہوئے کھڑا ہو گیا
“اٹس اوکے مروان… وہ انکار آپ نہیں کرتے تو میں کر دیتی کیونکہ… شادی تو مجھے بھی آپ سے نہیں کرنی تھی…” وہ بھی کھڑی ہو گئی
“ہم دونوں نے چناؤ کا اختیار اپنے ہاتھ میں لیا مروان… اور شائد ہم دونوں کا مقصد بھی ایک ہی تھا, آپ کو ایک خوبصورت بیوی چاہئے تھی اور مجھے ایک خوبصورت شوہر… میرا قصور یہ کہ میں نے اس غلط چناؤ کو بھی اپنا مقدر سمجھ کر زبردستی نبھانا چاہا… اور آپ کا قصور یہ کہ آپ نے اپنے درست چناؤ کو بھی اچھے طریقے سے نہیں نبھایا… اور آج ہم دونوں اپنی اپنی غلطیاں بھگت رہے ہیں” وہ اس کے برابر چلتے ہوئے باہر آئی تھی
“مبرا… میں مانتا ہوں اس لمحے مجھ میں اور ولید میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن…. میں شرمندہ ہوں, بہت شرمندہ… اور اسے یہ تو بتا ہی سکتی ہیں نا آپ ؟؟” مروان نے اس کی طرف دیکھا, اس کی بے بسی جان کر مبرا کی آنکھیں بھر آئی تھیں
اس نے بس اثبات میں سر ہلا دیا تھا
………………….
وہ آج دوپہر میں چکرا کر گر پڑی تھی, بی پی انتہائی لو ہو گیا تھا, گھر پر صرف کوکب ہی تھیں, انہوں نے جلدی سے ساجد مغل کو بلوایا اور اسے قریبی کلینک لے گئیں
“ڈپریشن اور ذہنی تناؤ… ” لیڈی ڈاکٹر نے دوائیں لکھ دیں, گھر آ کر بھی وہ خاموش ہی رہی, ڈلیوری کے بعد سے اس کا کھانا پینا بھی کم ہو گیا تھا, بے خوابی کی شکائت بھی ہونے لگی تھی, سارا دن وہ بس دونوں بچیوں کے ساتھ کمرے میں ہی گھسی رہتی تھی
اس دن رات کو کھانے کی میز پر بھی کوکب اسے زبردستی لے کر آئیں, مرحہ اور ماریہ دونوں سو رہی تھیں
“روحاء… بیٹے کیا پریشانی ہے اب ؟؟؟” ساجد مغل بے پوچھا, سعد اور عفراء بھی وہیں تھے, روحاء کے فوراً آنکھیں لبا لب بھر گئیں
“روحاء…. خلع تو ہو گیا ہے تمہارا, اب کیا ٹینشن ہے… ؟؟؟بس اب باہر کا معاملہ ہے وہ ہم ہینڈل کر لیں گے” سعد نے کہا, روحاء بے آواز رو رہی تھی
“روحاء… بچے ادھر دیکھ… ” کوکب نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا
“جب فیصلہ لے لیا ہے تو پھر اتنی ٹینشن کیوں لے رہی ہے ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“کوئی ٹینشن نہیں ہے…. ” وہ بمشکل بولی تھی, کہہ نا سکی کہ اسے ہارا ہوا دیکھ کر خود اس سے پہلے ہار گئی ہوں میں…
“روحاء… بیٹے بات سن, ہم سب یہاں موجود ہیں, پہلی بات… تم مجھ پر یا عفراء پر کوئی بوجھ نہیں ہو, تمہارے ماں, باپ ابھی زندہ ہیں اور جب نہیں ہوں گے تب بھی تمہارا بھائی زندہ ہو گا… تمہارے اور تمہاری بچیوں کے مقدر سے خدا مجھے نہ جانے کتنا اور دے دے گا… یہ میں خود بھی نہیں جانتا, ابو نے تمہارے لئے ایک پلاٹ دیکھ لیا ہے, بہت جلد ہم تمہارا گھر بنوا دیں گے, اس میں رہنا چاہو, یا اسے کراۓ پر دینا چاہو, تمہاری مرضی, ابو کی شاپ بھی تمہارے نام کر دی ہے, اس کا رینٹ بھی تمہارا ہی ہوا کرے گا, میرے لئے یہ گھر ہی کافی ہے, مزید جو بنانا ہوا میں خود بنا لوں گا… ” سعد کہتا چلا گیا
“مستقبل کی کوئی ٹینشن نہیں لینی روحاء… بیٹا تو اور تیری دونوں بچیاں ہمارے منہ سے نوالے چھین کر نہیں کھائیں گی, جب تک ہم زندہ ہیں, اس گھر میں رہو, اللہ سعد کو ہدائت دییے رکھے لیکن کل کلاں کو اگر یہ کہتا ہے کہ یہ گھر میرا ہے تو بیٹا چپ چاپ اپنے گھر چلی جائیں, دوکان کا کرایہ تجھے آتا رہے گا, زمینوں کا ٹھیکہ تم دونوں کو آدھا آدھا ملتا رہے گا, یہ نہیں سوچنا کہ میں کماتی نہیں ہوں, میری بچیوں کا کیا بنے گا… ؟؟؟ تو پڑھی لکھی ہے روحاء…. کل کلاں کو خود محنت کر کے اپنی بچیوں کو پال سکتی یے اور خدا خیر رکھے… سعد ہمیشہ تیرے ساتھ رہے گا… ” ساجد مغل اسے سمجھاتے ہوئے بولے
“باقی ہم میں سے کوئی تجھے فورس نہیں کر رہا, کوئی تجھے نہیں کہہ رہا کہ اس کی بات سن, اس سے بات کر, اسے معاف کر دے, کوئی تجھے ٹارچر نہیں کر رہا, کوئی تجھے تیری بچیوں کا طعنہ نہیں دے رہا… روحاء بچے وہ اگر باپ ہے تو ملتا رہے, اس کے علاوہ تیرے اوپر کوئی زور زبردستی نہیں ہے… ہم ہر طرح سے تیرے ساتھ ہے… “انہوں نے کہا
“اس سے الگ ہونے میں بھی ہم تیرے ساتھ ہیں… اور اگر تو اسے ایک موقع دینا چاہے گی تو بھی بچے ہم تیرے ساتھ ہیں, فیصلہ ہر صورت میں تیرا ہو گا, میں, تیرے ابو… یا سعد تجھے نہیں کہیں گے کہ اسے معاف کر دے, وہ شرمندہ ہے, اسے ایک موقع دے دے… یہ سب تیری اپنی مرضی ہو گی اور اس میں بھی ہم تیرے ساتھ ہوں گے” کوکب نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تھا
……………………..
وہ اوندھے منہ اپنے بستر پر پڑا تھا, آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر بستر میں جذب ہو رہے تھے, صبح سے اس سے کچھ نہیں کھایا تھا, گھر کباڑ خانہ بنا ہوا تھا
“مروان…. ” دفعتاً اسے کاشف مرزا کی آواز آئی, وہ یکدم سیدھا ہوا تھا, ان کے ساتھ فرحت بھی تھیں
“یہاں کیوں آیا… ؟؟ گھر آنے کو کہا تھا نا میں نے ” وہ اس کے پاس ہی بیٹھ گئے
“ابو وہ میرا گھر نہیں ہے… وہ آپ کے دو پرفیکٹ بیٹوں کا گھر ہے… فرحان مرزا اینڈ نعمان مرزا… کقشف مرزا کے دو پرفیکٹ بیٹے, جو اپنی میریڈ لائف میں بھی پرفیکٹ نکلے اور میں… میں تو شروع سے نکما ہوں ابو… امپرفیکٹ… میں کچھ بھی ٹھیک سے نہیں کر سکا… ” وہ آنسوؤں سے رویا تھا
“کل کو میں اپنی بیٹیوں سے کیا کہوں گا جب وہ پوچھیں گی کہہ… آپ ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہتے… ؟؟؟ آپ نے ماما کو کیوں چھوڑا… ؟؟؟ ” وہ بولا
“مروان… اپنا گھر خود بچانا پڑتا ہے بیٹے, فرحان اور نعمان تجھ سے بڑے تھے, فیملیز والے تھے, جب انہوں نے اپنا بوجھ تجھ پر ڈالا تو بولا کیوں نہیں ؟؟؟ رابعہ بھلے ہی تیری اکلوتی بہن سہی لیکن… اسے اور روحاء کو برابری کیوں نہیں دی ؟؟؟” غلطی تو کی ہے نا مروان مرزا… کسی اور کے بیوی بچوں کو اپنے بیوی بچوں پر فوقیت دی ہے تو نے… کیا ملا… ؟؟؟ ” وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے تھے
“ابو میں نے بس…. سب غلط کر دیا” وہ بلک پڑا تھا
“کچھ دنوں تک اس کا سامان بھی اٹھوا دوں گا… پھر یہ گھر بھی خالی ہو جاۓ گا” وہ بولا
“چل اٹھ میرا بیٹا… وہاں چل, یہاں رہ کر تو رو رو کر پاگل ہو جاۓ گا” فرحت اسے دیکھ دیکھ کر روۓ جا رہی تھیں
“امی وہ بری نہیں تھی… میں برا بن گیا” وہ ان کی گود میں سر رکھ کر رو دیا تھا
……………………..
وہ بھی عام سا ہی ایک دن تھا, مبرا اکیڈمی سے گھر واپس جانے والی تھی, ویسے تو وہ خود گاڑی چلا لیتی تھی لیکن موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے خباب ہی چھوڑ کر جاتا تھا اور وہی لینے آتا تھا
وہ اس دن آخری کلاس لیکر نکلی تھی, خباب کو اس نے کال کر دی, پانچ منٹ بعد اکیڈمی کے چوکیدار نے کسی لڑکے کو کہا کہ میڈم مبرا کو کہے کہ اسے لینے آ گئے ہیں
مبرا اپنی چادر ٹھیک کرتی ہوئی باہر نکلی اور گاڑی کی طرف آ گئی
خباب ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا, چہرے پر ماسک لگایا ہوا تھا
“ہیرو تمہیں کیا ہوا آج… ؟؟؟” اس نے بیٹھتے ہوئے دروازہ لاک کیا اور مسکراتے ہوئے خباب کی طرف مڑی
پھر ٹھٹھک گئی
“چلو تم ہیرو تو مانتی ہو مجھے ابھی تک… “
وہ ولید تھا
مبرا جیسی گاڑی, خباب جیسا حلیہ اور چہرے پر ماسک
“تم…. ” اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ نیچے اترتی ولید نے گاڑی زن سے آگے بڑھا لی تھی اور پچھلی سیٹ پر بیٹھے حماد نے اس کے منہ پر رومال رکھ دیا
گاڑی رفتار پکڑتی چلی گئی اور حماد نے اسے کھینچ کر پچھلی سیٹ پر منتقل کر دیا تھا
……………………..
جاری ہے
